انقلابی امکانات اور ریلوے ڈرائیوروں اور آ ئل ٹینکر مالکان کی ہڑتالیں

انقلابی امکانات اور ریلوے ڈرائیوروں اور آ ئل ٹینکر مالکان کی ہڑتالیں

تحریر: ریاض احمد

آپ اگر سوشلسٹ ہیں تو آج کے دور میں سب سے مشکل کام اپنے کسی دوست کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ مزدور انقلاب ممکن ہے، مزدور ہی سرمایہ داری کا راج ختم کر سکتے ہیں اور یہ کہ انصاف، مساوات اور طبقات سے پاک سماج کا قیام ممکن ہے۔ آپ کو اکثر مزدور انقلاب کے امکانا ت کے سوال پر ہی سوشل ازم کی بات کرنے سے روک دیا جائے گا۔ یہ کہا جائے گا کہ مزدور تو کچھ کر ہی نہیں رہے، اب مزدور کہاں رہے ان کی تو یونین ہی نہیں کوئی سیاسی تنظیم ہی نہیں۔ اس دلیل کے آگے اچھے اچھے مارکسسٹ بھی چپ ہو جاتے ہیں۔ مزدور تو متحرک نہیں ہیں اور نہ ہی یونینز ہیں اور نہ ہی کوئی مزدوروں کی پارٹی۔ ہاں اگر کوئی متحرک ہے تو مڈل کلاس عمران خان کے ساتھ یا نواز شریف کے ساتھ، لوئیر مڈل کلاس اے این پی یا ایم کیو ایم کے ساتھ۔ لیکن جسے آپ سوشل ازم پر قائل کر رہے تھے وہ یہ بات ضرور مانے گا کہ پاکستان کے حالات یقیناًبہت غیر یقینی ہیں۔ یہاں مصر میں حسنی مبارک مخالف بغاوت بھی ہو سکتی ہے، کروڑوں عوام احتجاج پر بھی نکل سکتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کوئی فوجی یا ملاں اقتدار پر قابض ہو جائے اور ہر طرح کی آزادی کا خاتمہ کر دے۔ لیکن کسی بھی گفتگو میں آپ کو یہ تاثر ضرور ملے گا کہ کسی بہتر، معاشی عدم مساوات سے پاک سماج کا خواب لوگوں کے ذہنوں میں نہیں ہے۔ یہ یا تو خونریزمستقبل دیکھ کر کسی ایک یا دوسری آمریت کے ساتھ چلنے کو تیار نظر آتے ہیں یا پھر یہ چپ چاپ جو ہو رہا ہے اس رو میں بہنے کو تیار ہیں۔وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ لوٹ مار، فوجی آپریشنوں، جنگوں، ریاستی سرپرستی میں اقلتیتوں کا جتھوں کے ہاتھوں قتل عام ، سرمایہ داروں کی پاناما کیس کی طرح لوٹ مار کے اس ماحول میں طاقت ور طبقہ کے خلاف کوئی عوامی جدوجہد جو اصل میں سرمایہ داروں سے جان چھڑا سکے وہ نظر نہیں آتی۔
کارل مارکس نے کہا ہے کہ کسی بھی دور میں حکمران طبقہ کے خیالات حاوی خیالات ہوتے ہیں۔ مطلب یہ کہ حکمران طبقہ میڈیا، نصاب، پارلیمانی سیاست پر کنٹرول رکھتا ہے کہ یہ سب سرمایہ داروں کی منشاء سے چلتے ہیں اس لیے عام لوگوں کے ذہنوں میں عام حالات میں جو خیالات ہوتے ہیں وہ حکمران طبقہ کی سوچ کا عکس ہوتے ہیں۔ مثلا یہ کہ لوگ لالچی اور خودغرض ہیں، کوئی کسی کا ساتھ نہیں دیتا، سماج میں امیر نہ ہو ں تو سماج ترقی نہ کرے ، حکومت کا کام ملک کی ترقی کرنا ہے، فوج کا کام ملک کا دفاع کرنا ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ خیالات حاوی تب ہی رہتے ہیں کہ جب تک حکمران طبقہ متحد ہو۔ جب حکمران طبقہ متحد نہ رہے تو اس کے اندر کاجھگڑا سب میں پہلے حکمران طبقہ کے حاوی خیالات کی جکڑ کمزور کر دیتا ہے۔ لوگ سوالات کرنے لگتے ہیں، جواب مانگتے ہیں۔ لیکن کیا سب لوگ سوال کر کے جواب حاصل کر کے اس زندگی سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جس سرمایہ دارانہ جکڑ میں وہ عام طور پر پھنسے ہوئے ہوتے ہیں؟ ایسا نہیں ہے۔ سرمایہ دار حاوی ہیں جب تک یہ متحد ہیں۔ یہ بالائی پرت کے لوگ ہیں، ارب پتی، بڑے جرنیل، بڑے جج اور بڑے بیوروکریٹ۔ ان کے نیچے مڈل کلاس ہے، کاروباری، پروفیشنلز، اپنا کام خود کرنے والے۔ ان کے بعد مزدور ہیں جو براہِ راست بڑی فیکٹریوں، بڑے مالیاتی اداروں، سروس کے ادارے جیسے انشورنس، تعلیم، صحت سے وابستہ ہیں۔ ان کے بعد بڑی تعداد بے روزگاروں اور ناچار لوگوں کی ہے۔ یوں دیکھیں تو سماج میں طبقات تو دو ہیں یعنی سرمایہ دار ااور ان کے لیے دولت پیدا کرنے والے۔ لیکن پرتیں چار ہیں یعنی بالائی، مڈل، مزدور اور لاچار۔
جب حکمران طبقہ میں اتحاد نہ رہے تو اس کا اثر مڈل کلاس، مزدور اور لاچار پر بھی پڑتا ہے۔
جولائی کے تیسرے ہفتے میں جب سپریم کورٹ میں دلائل شروع ہوئے تو یہ واضع ہو گیا تھا کہ مسلم لیگ نواز شریف کی اقتدار پر گرفت کمزور پڑ چکی ہے۔پاناما پیپرز میں چار سو بڑے پاکستانی سرمایہ داروں کا نام آیا ہے جنہوں نے نواز سے کہیں زیادہ دولت لوٹی ہے لیکن گرفت نواز کی ہو رہی تھی۔ یوں نواز خاندان اکیلا رہ گیا اور باقی سرمایہ دار اس کی قربانی دے کر اپنے سسٹم کو بچا رہے تھے۔ نواز خاندان تو ٹی وی پر روزانہ ہی اپنا دفاع کرنے میں لگا تھا۔اب تمام وزیرروزانہ ہی چار چار پانچ پانچ کی ٹولیوں میں نواز کی بے گناہی اور جے آئی ٹی اور ججوں کی سازش کا رونا رو رہے تھے۔ ایک جانب یہ کہتے کہ سپریم کورٹ کا ہر حکم مانیں گے اور دوسری جانب یہ اسی سپریم کورٹ کی بنائی جے آئی ٹی پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے۔ خود نواز شریف نے باربار کہا کہ صرف انہی کا احتساب کیوں ہو رہا ہے باقی نے بھی تو دولت مشکوک طور پر کمائی ہے۔ اب اگر ملک کا وزیر اعظم ملک کی سب سے بڑی عدالت پر شبہ کرے گا ، جے آئی ٹی میں ایجنسیوں کے کردار پر ناراض ہو گا اوراسکے وزیر جیسے اسحاق ڈار اور دیگر نیب، سیکورٹی ایکسچینج کمیشن، ایف آئی اے اور اسٹیٹ بنک کو نواز شریف کو بچانے میں استعمال کرتے نظر آئیں گے تو پھر کیسے ممکن ہو گا کہ عام آدمی ججوں سے ڈرے، فوج سے خائف ہو، قانون کی گرفت کو جائز تصور کرے۔ یوں حکمران طبقہ کی گرفت مزید کمزور ہو گئی۔
حکمران طبقہ تقسیم ہو تو اس کے خٰیالات بھی حاوی نہیں رہتے۔ اور یوں دیگر پرتیں جیسے مڈل کلاس، مزدور اور لاچار جو عام حالتوں میں حکمران طبقہ کے خوف میں رہتے ہیں یہ اپنے مطالبات سامنے لانے لگتے ہیں۔ انہیں نظر آنے لگتا ہے کہ حکمرانوں سے کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یوں سب میں پہلے ریلوے انجن ڈرائیوروں نے ملک بھر میں پہیہ جام کرنے کی کال دی۔۲۳ جولائی کو ڈرائیوروں نے ٹرینیں چلانے سے انکار کر دیا۔ خواجہ سعد رفیق جو نواز شریف کے بچاؤ میں سب میں پیش پیش اور گھن گرج کے ساتھ سرگرم تھا اسی کی وزارت میں ریلوے ڈرائیورں نے قدم بڑھا دیا۔ سکھر میں لیڈران کو گرفتار کر لیا گیا، شام تک واضع تھا کہ ریٹائرڈ اور غیر تربیت یافتہ ڈرائیوروں سے ریل نہیں چل سکتی اور یوں سخت گیر خواجہ نے مذاکرات کر کے مطالبات تسلیم کر لیے۔ ۲۵ جولائی کو آئل ٹینکر مالکان نے اوگرا کے نافظ کردہ سیفٹی کے نئے قوانین کے خلاف ملک بھر میں ہڑتال کر دی، چند گھنٹوں میں ہڑتال کے اثرات ملک بھر میں نمایاں ہونے لگے اور اگلے ہی روز ہڑتالی مالکان کے مطالبات مان لیے گئے۔
یہ دو ہڑتالیں بتاتی ہیں کہ اول تو یہ کہ ریلوے جیسے بڑے ادارے کا پہیہ ڈرائیور مزدور جام کر سکتے ہیں۔ دوئم یہ کہ تیل جیسی اہم شئے کی سپلائی چھوٹے مالکان روک سکتے ہیں۔ ایک ہڑتال مزدوروں کی تھی اور دوسری کاروباریوں کی۔ یوں بالا دست حکمران طبقہ یعنی بڑے سرمایہ داروں کا نمائندہ طبقہ اگر تقسیم ہو جائے تو اس کی اقتدار پر گرفت کمزور پڑ جاتی ہے۔ گرفت کمزور ہو تو مزدور اور مڈل کلاس اپنے مطالبات کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے۔
سرمایہ داروں کے لیے دولت ہم مزدور پیدا کرتے ہیں۔ ہم استاد، ڈاکٹر، انجنئیر، بنک ملازم، سیلز مین، فیکٹری ورکر سب مزدور ہیں۔ سرمایہ دار سرکاری اداروں اور نجی کمپنیوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ اگر نواز شریف کو درپیش بحران کے وقت ہماری سیاسی پارٹی ہوتی تو ہم ایک بڑی قوت ہوتے۔ ریلوے ڈرائیوروں کی ہڑتال پھیل کر پورے ریلوے مزدور اور پھر پورے مزدور طبقہ کی ہڑتال بن جاتی ۔ سرمایہ داروں کے ایک وزیراعظم کے ہاتھ سے اقتدار نہ جاتا بلکہ تمام بڑے سرمایہ داروں کو فارغ کرنے کے لیے تحریک چلتی۔ عمران خان کی قیادت میں مڈل کلاس اور کاروباری جیسے اوگرا اسی نظام کے اندر رہ کر سرمایہ داری کا پہیہ چلاتے رہنا چاہتے ہیں۔ یہ مزدوروں کو منظم نہیں کرتے نہ ہی طلبہ کو تحریک کی طرف لاتے ہیں۔ یہ بس سرمایہ داری کے ناکارہ لیڈران کو فارغ کرکے عمران، ترین، علیم ، شاہ جیسوں کو مسلط کرنا چاہتے ہیں۔
سرمایہ داروں کا جھگڑا بڑے پروجیکٹوں، سعودی امریکی پالیسیوں پر چلنے، چین کی بات من و عن ماننے پر ہے۔ان میں انتشار جاری رہے گا۔ یہ عوام کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پارلیمانی سیاست کا سرکس چلائے رکھیں گے۔ لیکن سرمایہ داروں کا کنٹرول قائم رہے گا۔ایک سال قبل جنوری ۲۰۱۶ء میں پی آئی اے کے چھ ہزار مزدوروں نے چار روز تک ہوائی جہاز نہ اڑنے دئیے۔ اس کے نتیجے میں نواز شریف کی نجکاری پالیسی کا درہم تختہ ہو گیا اور سرمایہ دار مزدوروں پر وار کرنے سے خوفزدہ ہو گئے۔ تب بھی مزدور طبقہ کے دیگر سیکشنوں میں سرمایہ داری سے جان چھڑانے اور مزدور ریاست قائم کرنے کی تحریک کمزور تھی۔ ہم مزدور اگر منظم ہوں، ایک انقلابی پارٹی کی تعمیر کریں تو ہم اس گلے سڑے نظام اور اس کے چور سرمایہ داروں سے مستقل نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ سوشل ازم ممکن ہے لیکن اس کے لیے گھر سے نکل کر ریلوے مزدوروں ، پی آئی اے مزدوروں، اساتذہ، طلبہ کی تحریکوں، فیکٹری مزدوروں میں یونین سازی کے کام کو تیز تر کرنا ہو گا۔ اگر ہم مزدور وں کو منظم نہیں کریں گے تو مڈل کلاس سرمایہ داری کو مسلط رکھنے کا کام جاری رکھے گی، اور یہ نچلی بیٹھی بھی نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *