نواز شریف کی برطرفی سے حکمران طبقہ کا اقتدار بچایا گیا!

نواز شریف کی برطرفی سے حکمران طبقہ کا اقتدار بچایا گیا!

تحریر: ریاض احمد

پاکستان میں جمہوریت کی میچورٹی، یعنی پختگی کا مسئلہ پاکستان کے حکمران طبقہ کے مسائل سے تعلق رکھتا ہے۔ نواز شریف مقامی اور بیرونی بڑے سرمایہ داروں کے لیے بحیثیت مجموعی کارآمد نہیں رہے۔ ایکسپورٹ، رئیل فارن انسوسٹمنٹ، روپیہ کی قدر، ترقیاتی پروجیکٹوں کے مسائل، بجلی وغیرہ میں نواز حکومت بڑے سرمایہ داروں کے لیے ناکارہ ہو چکی تھی۔ اس لیے چہرہ اور حلقہ بدلنا ضروری تھا تا کہ عوام کا جمہوریت پر اعتماد برقرار رہے اور غیر جمہوری ادارے جیسے فوج، عدلیہ، انتظامیہ جو دراصل سرمایہ داروں کے مفاد میں تمام تر فیصلے کرتے ہیں یہ فیصلہ کرتے جائیں اور عوام اپنی تقدیر کا رونا جمہوری حکمران کی کرپش کو ٹھراتے رہیں۔ اسی میں مڈل کلاس لیڈران جیسے عمران اور جماعت کا بھی فائدہ ہے کہ یہ بڑے سرمایہ داروں یاسرمایہ دارانہ لوٹ مار کو نہیں بلکہ کرپشن کو مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ پاکستان میں عوامی مسائل دراصل حکمران طبقہ کے پیدا کردہ ہیں۔ حکمران طبقہ مشترکہ اور غیر ہموار ترقی کے پروگرام پر چل کر ہی دولت بٹور سکتا ہے۔ بیرونی سرمایہ اور مقامی سرمایہ مل کر پاکستانی سماج کی ناہموار ترقی کرتے جا رہے ہیں۔ اور یہی ناہموار ترقی کو سرمایہ دارانہ جمہوریت تک پہنچنے کا زریعہ ہمارا جمہوری لیفٹ قرار بھی دیتا ہے۔ تب ہی تو یہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ داری نہیں بلکہ نیم سرمایہ داری اور نیم جاگیرداری ہے اور یہ کہ تمام دنیا میں سرمایہ دارانہ ترقی اسی عمل سے یعنی نیم جاگیرداری سے مکمل سرمایہ داری تک چلنے کے عمل سے ہی ممکن ہوئی۔ یہ کہتے ہیں کہ جمہوریت کا یہ رفتہ رفتہ سفر کرپشن، لوٹ مار کے بغیر ممکن نہیں نہ ہی سرمایہ داری کی یہ ناہموار ترقی سے ہٹ کر کوئی اور ترقی ممکن ہے۔
المختصر یہ کہ سرمایہ داروں کی لوٹ مار کی کٹھن سڑک پر چل کر ہی مکمل سرمایہ داری ممکن ہے اور جب یہ ہو جائے گی تو مکمل جمہوریت بھی آ جائے گی۔ اس کے ثبوت کے طور پر لبرل، لیفٹ ڈیموکریٹ انگلستان، امریکہ، یورپ کی مثال دیتے ہیں کہ یہاں بھی فوج کی مداخلت اور جمہوری حکومت کا خاتمہ ہو تا رہا ہے لیکن آج انگلستان میں دیکھ لیں حکومت پارلیمان سے ہی بدلتی ہے۔ یوں ہمارے لبرل لیفٹ کو جمہوریت کا یہ کٹھن سفر ترقی کا سفر نظر آتا ہے۔ یہ ان کا سفر نہیں سرمایہ داروں کے مال دار ہونے اور غریب کے غریب تر ہونے کا سفر ہے، اس کا انگسلتان، امریکہ ، یورپ سے کوئی میل نہیں۔ ہمارے لبرل دوست اپنی اسی کھوٹی دلیل کو استعمال کر کے نام نہاد جمہوری پارٹیوں یعنی پیپلز پارٹی سے لے کر ن لیگ اور اے این پی سے لے کر ایم کیو ایم تک کی چھتری تلے کھڑے ہو جاتے ہیں، کسی کو سیکولر، کسی کو ڈیموکریٹک کا سرٹیفیکیٹ تو ان کے ہاتھ ایسے ہی ہے جیسے ملاں کے ہاتھ میں فتویِ۔ لیکن ان لبرل لیفٹ کے دوستوں کی دلیل دراصل سرمایہ داری کو مسلط کرتے رہنے کی دلیل ہے اور یہ کھلم کھلا ریاست کے ہر جبر کے موقع پر اپنے انہی جمہوری پارٹیوں کو ہی کم نقصان دہ قرار دینے کے کلمہ پر چل رہے ہیں۔ اسی لیے یہ لوٹ مار کرنے والے زرداری، نواز، الطاف، اسفندیار، سردار کے دم چھلا ہیں۔
لبرل لیفٹ جانتے ہیں کہ ہر سیاسی تبدیلی کے پیچھے کوئی نہ کوئی معاشی و سماجی تبدیلی ہوتی ہے۔ سیاست تو محض ظاہر ہے، باطن میں تو سماج کی تبدیلی کی حرکیات ہیں۔ مثال کے طور پر موجودہ مسئلہ کہ نواز شریف کو اب کیوں برطرف کر دیا گیا یا اس سے پہلے یہ معزول کیوں کیا گیا یا اس سے پہلے یہ خود مستعفی کیوں ہوا اس کے پیچھے معاشی اور سماجی عوامل کیا ہیں یہ لبرل دوست نہیں بتاتے۔ ان کے پاس اگر کچھ بتانے کو ہے تو وہ ہے رویہ۔ فوج کا غیر جمہوری رویہ، عدلیہ کا مرکز پسند رویہ، رویہ ، رویہ، رویہ۔ مارکسی طرز تجزیہ تو چھوڑیں یہ سطحی سائنسی تجزیہ بھی پیش کرنے کو تیار نہیں۔ اس کے بجائے یہ ایسے تجزیوں کے پیچھے چپھتے ہیں جو ایکسکیوزز ہیں جیسے فوج سرمایہ داروں سے بھی طاقتور ہے، یا یہ کہ فوج ریاست سے بھی بڑی ہے اور یا یہ کہ عدلیہ کو فوج اور بیرونی قوتیں استعمال کر رہی ہیں، فوج پاکستان کو چینی طرز کی ریاست بنانا چاہتی ہے۔ فوج میں وہ محرک یا عدلیہ میں وہ محرک کہاں سے آیا اس کا جواب صرف یہ دیا جاتا ہے۔۔۔۔رویہ۔ اور رویہ کو کھوجیں تو نکلے گی جاگیرداری۔ بس سر نہ پیٹیں تو کیا کریں؟ جب جمہوری پارٹیوں کے ہاتھوں لوٹ مار کی بات کی جائے تو ان کے پاس فٹ سے معاشی نظام کی دلیل آجاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ پاکستان میں سرمایہ داری ابھی پختہ نہیں ہوئی ہے۔ گو کہ یہ غلط توجیح ہے لیکن پھر بھی یہ معاشی ہے۔ لوٹ مار کا جواب سرمایہ داری کی عدم پختگی، جمہوری حکومت کا تختہ الٹنا تو یہ ریاست کی ضرورت سے زیادہ ترقی جس میں فوج سازشی اور اسکی وجہ جاگیرداری کی سازش!!
المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے کم اسٹالنسٹ لیفٹ کے ایک عظیم دانشور حمزہ علوی نے بھی ریاست کے ضرورت سے زیادہ ترقی کر جانے اور عوام کے پسماندہ رہ جانے کا جواز استعمال کیا اور ایک وقت تھا کہ ان کے خیالات کو ایک تھیوری کے طور پر بھی سمجھا جانے لگا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ نواز جیسے لیڈران انہی مقاصد کے لیے مسلط کیے جاتے ہیں جن مقاصد کیلیے کیمرون یا ٹرمپ یا تھریسا مئے یا مودی۔ نواز اس لیے مسلط تھا کہ یہ عوام الناس کی نظر میں جمہوریت کو کم ازکم کارآمد بنا کر پیش کرتا اور اسے اس لیے ہٹا دیا گیا کہ یہ سرمایہ دارانہ طبقہ کے بحیثیت مجموعی مفاد میں نہ رہا تھا اور اس کا اپنے اطراف میں لوٹ ماریوں کو چلائے جانا اور اس لوٹ مار کو چھپا نہ پانا پورے طبقہ کے لیے نقصان دہ ہو چکا تھا۔ نواز کو اس لیے برطرف کیا گیا اور یہ بات سپریم کورٹ کے فیصلے میں بھی درج ہے کہ اس کی قربانی دے کر مقامی اور بیرونی سرمایہ داری نظام کو قابل قدر رکھا جا سکتا تھا۔ نواز کی قربانی نے دیگر سرمایہ داروں کو یہ موقع دے دیا ہے کہ یہ عوام الناس کو باور کرا سکیں کہ جمہوری نظام پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ عدلیہ آزاد ہے۔اور یہی بات عمران خان کرتا ہیا ور اس کے ساتھ ترین، علیم اور شاہ اطمینان سے بیٹھے ہیں۔
پاکستان میں لیفٹ کو منتخب پارلیمانی حکومتوں کے ہٹائے جانے پر ایک جامع توجیح پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسی توجیح جو حقیقی معاشی اور سماجی جواز میں اپنی جڑ رکھتی ہو نہ کہ لوٹ مار کرنے والے طبقہ کے ایک یا دوسرے حصے کے بچاؤ کی جگالی کرتی نظر آئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *