کیا پاکستان میں گیارہ جمہوری وزیر اعظم اس لیے برطرف کیے گئے کہ فوج کو جمہوریت پسند نہیں؟

کیا پاکستان میں گیارہ جمہوری وزیر اعظم اس لیے برطرف کیے گئے کہ فوج کو جمہوریت پسند نہیں؟

تحریر: ریاض احمد

میرا مشورہ ہے کہ جہاں تاریخ پیش کی جائے وہاں یہ خیال رکھا جائے کہ ۰۷ سالوں کی تاریخ کو پارلیمانی جمہویرت کے تسلسل کے طور پ دیکحنے کے بجائے یہ دیکھا جائے کے تاریخ میں موڑ کہاں کہاں آیا، کہاں سرمایہ داری کی نوعیت بدلی اور کہاں سامراج اس خطے میں آیا اور کیسے یہاں کے سرمایہ داروں نے جھولی بھر بھر کر دولت سمیٹی اور معصوم فوجی جوانوں اور عوام کو جنگوں کی بھِنٹ جھونک دیا۔ تاریخ پر لیکچر دینا میری عادت نہیں مگر کیا کروں مشورہ بھی تو دیتا ہوں اس لیے فرمائش پوری کر رہا ہوں۔
جناح کا پاکستان خالصتا غیر جمہوری تھا۔ اس میں نہ کشمیر تھا نہ بلوچستان اور نہ ہی سرحد۔ بلکہ دیکھا جائے تو اس میں سہی معنوں میں پنجاب بھی نہ تھا۔ مسلم لیگ یوں اس ملک پر پارٹیشن کی صورت میں مسلط ہو گء اور یہی وجہ ہے کہ ابتدائی سالوں میں کوشش کی گئی کے پارٹیشن سے پیدا شدہ مسائل اور علاقائی تسلط کی دوڑ جو انڈیا بھی اپنے اندر اور باہر مختلف ریاستوں پر قبضوں کی صورت لڑ رہا تھا اسی طرح پاکستانی ریاست بھی کشمیر کا بٹوارا، بلوچستان اور سرحد پر قبضہ جما کر ہی قابض رہ سکتی تھی۔ پھر پارٹیشن نے لاکھوں کو ہجرت پر مجبور کیا اور اس سے شہری اشرافیہ نے جنم بھی لیا جو بعد مِں کراچی میں مسائل کی صورت اور سندھ میں کراچی کی بالادستی کے خلاف سامنے آئی۔ البتہ صورتحال ایران میں امریکی تسلط کے بعد یعنی ۵۵۹۱ کے بعد بدلی اور پھر اندرونی خلفشار کے ساتھ بیرونی ماسٹرز کے ساتھ گٹھ جوڑ یعنی پہلی مشترکہ اور غیر ہموار ترقی کا دور شروع ہوا۔ اس غیر ہموار ترقی کا تسلسل صرف آمریت سے ممکن تھا کہ یہی پارٹیشن کے بعد کے دس سالوں کے جمہوری تجربہ سے ظاہر تھا۔ مغربی پاکستان مرکز پسندی کے نام پر ہی مشرق کو پسماندہ رکھ کر ریاست کے زیر سایہ سرمایہ داری کو فروغ اور ایگری کلچر اصلاحات کر سکتا تھا۔۔
یوں ناہموار ترقی کے اس پروسس کو سب میں بڑا جھٹکا ۲۶۹۱ کی طلبہ تحریک اور پھر ساٹھ کے آخیر میں عالمگیر جنگ مخالف، طلبہ اور مزدور تحریک کے ابھار سے لگا جو پھر بنگال میں علیحدگی کی تحریک کی صورت ابھرا۔ یعنی یہ کہ جمہوری اور فوجی حکومتوں کے تسلسل نے ریاست کے وجود کو بکھیر دیا۔ ریاستی سرمایہ داری، سامراجی کاسہ لیسی حل نہ تھی مگر اسی دور میں ۲۲ خاندان بھی بنے۔ پھر لیفٹ ٹرن ہوا اور ۲۲ خاندانوں کا حساب بھی ہوا مگر طلبہ اور مزدور تحریک ایک موئثر انقلابی شکل اختیار نہ کر سکی۔ اسی لیے لوئر مڈل کلاس اور دیہی اشرافیہ جنرل ضیاء4 کے ساتھ ابھریں اور ساتھ ہی ایرانی انقلاب اور افغان ثور انقلاب جو یہ بتاتا ہے کہ جہاں جہاں لوءِر مڈل کلاس یا کسانوں کی تحریکیں منظم تھیں وہاں گلی سڑی نجی سرمایہ داری کا درہم تختہ ہو گیا۔
پاکستان میں ضیاء دور دائیں بازو کے ابھار کا اسلیے سبب نہ بنا کہ ریاست کا رویہ دائیں بازو کی طرف تھا۔ بلکہ اس لیے کہ لیفٹ بھٹو دور مِں پٹ پٹا کر بہت کمزور ہو چکا تھا اور مزدور تحریک اب پیشہ ور ٹریڈ یونینوں کے ہاتھ میں تھی جس کے خلاف بڑے سرمایہ دار متحد تھے۔ ضیاء4 دو ر میں ایک اور سامراجی غلبہ کی جنگ میں پاکستان بخوشی گحستا چلا گیا کہ یہاں کے سرمایہ داروں کو بیرونی فوج کے شانہ بشانہ چلنے میں کوئی عار نہ تھا اور یوں افغان جنگ پاکستان مِں پہنچ گئی۔ ریاستی سرمایہ کی سرپرستی جاری رہی لیکن اب بیرونی قرضوں کا بوجھ بہت بڑے پیمانے پرایک شکنجے کی صورت اختیار کر گیا۔ ضیاء4 دو ر کا خاتمہ ساتھ ہی اسٹالن ازم کے دور کے خاتمے کے ساتھ آیا اور یوں لیفٹ کا رہا سہا نظریاتی اثر طلبہ، مزدور اور شہری سیاست پر ختم ہو گیا۔ سرمایہ داری نے ایک نیا ٹرن لیا۔ اب وہی پیپلز پارٹی جس نے صنعتوں کو ۰۷ کی دہائی میں قومیایا تھا اب ۰۹ کی دہائی میں کھل کر عالمی سرمائے کی ترجمان بن کر نجکاری کر رہی تھی۔ شہری سہولیات جیسے ٹرانسپورٹ، پانی، سیوریج ، صفائی، ہسپتال، اسکول سب ہی ۰۹ کی دہائی میں نجی شعبہ کی لوٹ مار کا بازار بن گئے اور یوں کاروباریوں کی ایک نئی پرت سامنے آئی جس کی اولادیں اب پروفیشنل کلاس کی قائد بن کر ابھررہی تھیں۔ ن لیگ کا ابھار اسی دور میں تیزی کیساتھ ہوا اور ۷۹۹۱ میں نواز شریف ایک بھاری مینڈیٹ یعنی پنجاب کی نئی شہری اشرافیہ کے ترجمان کے طو رپر ابھرا۔ عالمی سرمائے کے ساتھ اشتراک کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ کوریا کے ساتھ موٹر وے، اندرون خانہ ایٹمی ہتھیاروں کا فروغ اور فوجی بجٹ میں بے لاگ اضافہ یہ سب کچھ مڈل کلاس کو مطمئن، مقامی سرمایہ دار کی جیب بھرنے اور قرضوں کے بوجھ تلے عام آدمی کو لانے کا سبب بنا۔ اسی دور میں انکم ٹیکس کم کر کے جنرل سیلز ٹیکس جیسا خوفناک ٹیکس ہر شئے پر لگانا شروع کر دیا گیا جس کی شرح اب ۷۱ فیصد ہو چکی ہے۔ یوں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوا اور نواز شریف جیسے کمیشن ایجنٹ سرمایہ دار جمہوریت کے چمپئین بن کر ابھرے۔ البتہ کارگل کی چڑھائی نے عالمی سطح پر ہزیمت کروا دی اور یوں پھیلاؤ کی یہ ریاستی کوشش نواز دور کے خاتمے کا سبب بنی۔ وہی کرونی سرمایہ دار اس دور میں کمیشن ایجنٹ سیف اللہ کی شکل میں ابھرے اور پحر ایک طویل عرصے کے لیے اس نظام سے نکال باہر کیے گئے۔
اسی طرح کے فکسر جیسے شوکت عزیز اور پھر زرداری کی حکومت میں رحمان ملک بھی سامنے آتے اور پھر نکال باہر کیے جاتے۔
جنرل مشرف کے دور حکومت کا خاصہ جنر?ل ضیا کے دور حکومت کی طرح ایک سامراجی جنگ تھی۔ یعنی پاکستانی سرمایہ دار جیسے ہی یہ دیکھتے ہیں کہ سامراج کو خطے میں جنگ مسلط کرنے کے لیے ان کی ضرورت ہے یہ فوری طور اقتدار کی باگ ڈور فوج کے ہاتھ جانے دیتے ہیں کیونکہ بصورت دیگر یہ ممکن نہیں کہ پارلیمانی جمہوریت میں جنگ کو جواز کے طور پر قابل قبول بنایا جا سکے۔ فوج کے لیے شہری آزادیوں پر قدغن لگانا اور یوں جنگ کے خلاف مزاحمت کو بلا روک ٹوک کچلنا آسان ہوتا ہے اور دوسری جانب بے لاگ اربوں ڈالر اور مارکیٹیں سرمایہ داروں کو بیرون ملک مہیا ہو جاتی ہیں۔ جب جنگ تھمنے لگتی ہے تو نئے ارینجمجٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور عوام کو ٹھنڈا کرنے اور کچھ حقوق بحال کرنے کے لیے جمہوریت آجاتی ہے۔ اب میگا پروجیکٹوں پر کمیشن کا دور شروع ہوتا ہے۔ زرداری دور میں سرمایہ دارون کو بجلی کی کمی کا سامنا تھا۔ لاہور جیسے شہر میں صنعتی اور کمرشل بجلی ۰۸ فیصد اور گھریلو صارفین کے زیر استعمال ۰۲ فیصد بجلی تھی۔ اس لیے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی مزید پیداوار کو بنا دیا گیا۔ پہلے ایوب دور میں پانی ایک قومی مسئلہ تھا تو ڈیم بنائے گئے تھے۔ زرداری دور میں بجلی کے ٹھیکوں میں کمیشن اور ذوالفقار آباد می جس پیمانے پر کرپشن سامنے آیا اس نے زرداری کو سرمایہ داروں کے لیے ناقابل قبول بنا دیا۔ عوام میں بے چینی اپنی جگہ پر تھی۔ اسی لیے شفاف سرمایہ داری کے لیے نواز شریف پھر سے ابھرے۔ البتہ ان کے موٹر ویز کے اسکینڈل تو پہلے ہی تھے کہ ان میں چار سو ملین ڈالر کی کرپشن ہوئی تھی۔ اسی لیے اب کی قطر سے ایل این جی ڈیل اور میڑو اور بجلی کے کئی ناکارہ منصوبوں میں کرپشن کھل کر سامنے آنے لگی۔ البتہ اب سرمایہ داری اور سامراج کی شکل بدل رہی تھِی۔ چینی سرمایہ بہت بڑے پیمانے پر درآمدات کی صورت میں صنعتی شعبے پر چھا چکا تھا اور اب یہ سی پیک کے ساتھ زرعی شعبہ پر تسلط قائم کرنے کے لیے آرہا ہے۔ اس کے خیر مقدم میں چھوٹے کاروباری اور بڑے سرمایہ داروں کے اندر تقسیم بھِی ہے اور یہ اسے اپنے لیے بہت بڑا موقع بھی گردانتے ہیں۔ یعنی یہ کہ سی پیک میں چین کے ساتھ کیسے چلا جائے اور امریکہ کے ساتھ سعودی کے ہاتھوں عرب دنیا کی بربادی میں کیسے ہاتھ ڈالا جائے اس پر پاکستانی حکمران طبقہ تقسیم ہو گیا۔ نواز شریف باوجود کوشش اس تقسیم پر قابو نہ پا سکا۔ معیشت گراوٹ کا شکار ہوئی، ایکسپورٹ ۸۰۰۲ کی سطح پر آگئی اور چینی سرمائے کی درآمد نے امپورٹ میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔ یوں سرمایہ داری کی تبدیلی نے سامراجی دوڑ میں جدت پیدا کر دی یعنی چین اس میں شامل ہوا اور پاکستان جیسا چھوٹا ملک اب سامراجوں کے بیچ ہچکولے کھا رہا ہے۔ موجودہ کشمکش سرمایہ داروں کی اس کوشش کا اظہار ہے کہ کیسے توازن قائم کیا جائے۔ ایسا کرنے میں ان کا اپنا میگا کرپشن بھی ایکسپوز ہو رہا ہے اور یہی مڈل کلاس کی بے چینی مین کئی گنا اضافہ کر رہا ہے جس کی نمائندگی عمران خان کر رہا ہے۔ عمران ایک جانب کرپشن کے خلاف ہے تو دوسری جانب پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں بدترین کرپشن کا شکار موقع پرست سرمایہ داروں کو گلے لگا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جانتا ہے کہ بڑے سرمایہ دارون کے مفاد کی حفاظت کی ضمانت اسی قسم کے سرمایہ دار نمائندوں سے کی جا سکتی ہے۔ ترین، علیم، اسی لیے شانہ بشانہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *