امریکی جاسوس

امریکی جاسوس

تحریر: سرتاج خان

بالاآخرامریکی جاسوس اورلاہورمیں دوپاکستانیوں کے قاتل، ریمند ڈیوس کی کتاب ’’دا کنٹریکٹ‘‘ کے نام سے سامنے آگئی۔ کتاب کے نام کے نیچے سرورق پرہی مختصرالفاظ میں لکھاہے کہ ’’کیسے میں ایک پاکستانی جیل پہنچااوراس نے ایک سفارتی بحران کوچنگاری دکھائی‘‘۔ریمند ڈیوس، امریکی ادارے سی آئی اے کے لئے خفیہ مشن پرکام کرتا تھااوریہ پاکستان میں خدمات انجام دیتے ہوئے لاہورکے مزنگ چوک پر27جنوری 2011کودوپاکستانیوں کوگولی مارکرقتل کرنے کے الزام میں گرفتارہوا۔ اس نے جلدی میں بھاگنے کی کوشش کی توایک موٹرسائیکل سوارکوبھی کچلا۔ یوں اس نے ایک ہی آن میں بھرے بازارمیں تین پاکستانیوں کودن دھاڑے سرعام قتل کیا۔لیکن بعدازاں امریکی دباؤ کے تحت پاکستانی ریاستی اداروں نے اس کے رہائی کے لئے راہ ہموارکی۔ یہ واقعات کس طرح پیش آئے اورکن کن قوتوں نے اس میں کیا کردار ادا کیا، یہ سب اس کتاب کاموضوع ہے۔ لیکن کتاب میں اس کے علاوہ دیگرموضوعات کوبھی چھیڑا گیاہے۔ ریمنڈڈیوس کی کتاب نے پاکستانی میڈیاپرایک بحث چھیڑدی ہے۔ 27جون کوشائع ہونے والی کتاب،32موضوعات پرمشتمل ہے۔ جس میں تین ابواب مزنگ چوک کے واقعہ پرہیں، جبکہ کوٹ لکھپت میں اسیری اورلاہورپولیس ٹریننگ کالج پرکئی ابواب شامل ہیں۔ کتاب جنگل کی آگ کی طرح لوگوں نے شئیرکی۔ اس خطے میں ریمنڈڈیوس کے کام آغاز2004میں افغانستان سے ہوتاہے۔
ریمنڈڈیوس کے کیس نے پاکستان میں سی آئی آئے کے خفیہ مشن اوربلیک واٹرکے کام کوطشت ازبام کردیا۔ امریکی میں سابقہ پاکستانی سفیرحسین حقانی کے بارے میں کہاجاتاہے کہ اس نے پیپلزپارٹی کے دورحکومت میں بلیک واٹرجیسے اداروں کے لئے ویزوں کے اجراء4 میں مرکزی کردار اداکیاتھا۔ حسین حقانی نے کااستدلال ہے کہ اس نے زرداری حکومت کے باہمی مشورے اورپالیسی کے تحت ایسا کیاتھا۔ اس سلسلے میں سابق صدرآصف علی زرداری اورسابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے نام بھی سامنے آئیتھے۔ حسین حقانی پرامریکہ کے لئے کام کرنے کاالزام لگتارہاہے۔
ریمنڈ ڈیوس کے واقعہ کے بعد اسی سال اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں امریکی حملہ میں 2مئی کوقتل سے واضح ہواکہ بلیک واٹرجسے اداروں کی جڑیں پاکستان میں کس قدرگہرائی تک پیوست ہیں۔ اس کے لئے کام کرنے والوں میں علمی حلقوں اورڈاکٹرز سے لے کراین جی اوزتک کام کرنے والے سب شامل ہیں۔ حالانکہ کتاب میں وہ ملٹری کنٹریکٹرکوکرایہ کاسپاہی (مرسرنری) کہنے کوغلط فہمی پرمبنی مفروضہ قراردیتاہے۔ اورلکھتاہے کہ کرایہ کے سپاہی محض رقم کے لئے کام کرتے ہیں۔ لیکن ہم لوگ اس کام کو دوسرے نقطہ نظرسے دیکھتے ہیں۔ اوراسے فوجی شکل کی توسیع قراردیتے ہیں کیونکہ ان کا کام امریکی مفادات کاتحفظ ہے۔ ڈرونز حملوں کے لئے یہی یا اس جیسی تنظیم خاص کرپاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرگرم عمل ہے جواپنے ٹارگٹ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ڈرونزحملوں کے لئے چپ رکھنے والے کوپانچ تا دس ہزارڈالرز دئے جاتے ہیں۔
ریمنڈ ڈیوس کواسلامی شرعی قانون قصاص ودیت کے مطابق رقم (دیت) مقتولین کے ورثاء کوادا کرکے چھوڑدیا گیا۔ اس نے یہ پوری روداد اپنی کتاب میں لکھی ہے۔ جب اس کواسلامی شرعی قانون کے تحت سزا کاعلم ہواتووہ یہ سمجھ لیتاہے کہ گویااس کوسنگسارکرکے ماراجائے گا۔ جس پرایک خاتون اس کووضاحت کرکے بتاتی ہے کہ یہ دراصل رقم کی ادائیگی کامعاملہ ہے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ عدالت میں تسلیم کرتاہے کہ وہ ایک کنسلٹنٹ کے طورپرلاہورکے امریکی قونصل خانہ میں کام کرتاہے اورامریکی ہے۔
اوریہی پروہ ڈرامہ ہے جس پراب میڈیا میں بحث ہورہی ہے۔ یعنی ایک غیرملکی جاسوس کاپاکستان میں کھلے عام قتل وغارت گری اورپھراس میں ریاستی اداروں اورحکومت کاکردار ادا کرکے اس کوملک سے فرارکرانے میں مدددیناہے۔ اس میں خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ کانام شجاع پاشاسرفہرست ہے جس نے اس معاملہ کوحل کرنے میں کلیدی کردار اداکیا۔ اس میں ایک کرنل کابھی ذکرہے جو امریکی سفیرکے ساتھ اس کوجہازتک چھوڑنے آتاہے۔یہ جہازاس کوسیدھا افغانستان پہنچاتاہے۔ اوریہ اس لئے بھی اہم ہیکہ نیویارک ٹائمزکا مضمون نگارلکھتاہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی کیکئی سنیئرافسران اس وقت سمجھتے تھے کہ سی آئی اے نے پاکستان میں بہت سارے مسلح خفیہ افراد بھیجے ہیں اورانہی افراد نے ملک میں تشدد اورافراتفری خفیہ طریقے سے پھیلانے کا بیڑااٹھایاہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی نائن الیون کے بعد سے امریکی جنگ کے طریقہ کارکوبھی سامنے لاتاہے کہ کس طرح سی آئی اے نے اپنے بہت سارے نازک اورخفیہ کام پرائیوٹ کنٹریکٹرزکو ٹھیکے پردیئے ہیں۔
لیکن مضمون نگارکے مطابق ریمنڈ ڈیوس کا بلیک واٹرنامی بدنام زمانہ تنظیم کے لئے کام کے بارے میں کم ہی پتہ ہے۔ البتہ اس نے 2006میں اس کوخیربادکہااوراپنی بیوی کے ساتھ مل کر اپنی فرم لاس ویگاس میں قائم کی۔ تب اس کوسی آئی اے نے ایک پرائیوٹ کنٹریکٹرکیطورپرخدمات کے لئے ٹھیکے پرلیا۔ 2008میں اس کی تعیناتی سی آئی اے کے لئے پشاورمیں کی گئی تو اسے سالانہ دولاکھ ڈالرزعلاوہ دیگراخراجات کے دئے گئے۔ وہ لکھتاہے کہ پاکستان میں ریمنڈڈیوس کاکام ابھی اندھیرے میں ہے۔ اوراس کی تحقیقات سے سی آئی اے اورآئی ایس آئی کے درمیان باہمی تعلقات پرروشنی پڑسکتی ہے۔ لیکن دونوں اداروں میں کچھ مفادات کی جنگ بھی تھی کیونکہ سی آئی اے ہی لشکرطیبہ کے بارے میں شواہداکھٹے کررہاتھا اورظاہرہے یہ کام لاہورمیں ہی ممکن تھاجہاں ریمنڈڈیوس 2010 میں تعینات ہوا۔
امریکی صدرابامہ نے اسے پاکستان میں اپنا سفارت کار قراردے کرجلد رہائی کامطالبہ کیاتھا۔ ریمنڈڈیوس پاکستان میں سفارتی پاسپورٹ پرہی داخل ہواتھا دوسری طرف سی آئی اے کے سربراہ پینٹا نیپاکستانی آءِی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشاکوبتایاکہ ریمنڈ ڈیوس سی آئی اے کے لئے کام نہیں کررہاتھا بلکہ امورخارجہ کی وزرات کے لئے خدمات انجام دے رہاتھا۔
پاکستان اورامریکہ دونوں کیلئے تشویش ناک امریہ تھاکہ عوام میں غم وغصہ بڑھ رہاتھا۔ اگرچہ آءِی ایس آئی نیعدالتی کارروائی سے پہلے ہی معاملات طے کرلئے تھے اورصرف کارروائی باقی تھی جس میں مقتولین کے ورثاء کو چوبیس ملین ڈالرزاداکئے جانے تھے۔ اس سے پہلے مقتولین کے ورثاء نے انکارکیاتوآئی ایس آئی نے زبردستی سب کواغواء کرکے جیل میں ڈال کرزورزبردستی ان سے دیت کی رقم کے عوض خون بہا معاف کروانے پرراضی کیا۔ لیکن پھربھی مقدمہ کی نزاکت کی وجہ سے جنرل پاشاخود کورٹ کی عمارت میں موجودتھے اورامریکی سفیرکوپل پل کی روداد اپنے فون سے بھیج رہے تھے۔
ریمنڈڈیوس کی کتاب امریکہ کے پاکستان جیسے ممالک میں سفارت کاری کے نام پرخفیہ کام، پاکستان میں خفیہ امریکی مشن، سی آئی اے اورپاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے باہمی تضاد وتعاون، پاکستان کے نظام انصاف پرروشنی ڈالنے میں مددگارہے۔(بشکریہ تجزیات)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *