فیشن۔۔۔۔مارکیٹ کے دباؤ تلے تخلیقی عمل اب تخلیقی نہ رہا

فیشن۔۔۔۔مارکیٹ کے دباؤ تلے تخلیقی عمل اب تخلیقی نہ رہا

تحریر: اینتھنی سلیوان، ترجمہ روزا خان

مارکس اپنے تجزیے میں جہاں پیداوار کے پوشیدہ مقام کو بیان کرتا ہے کہتا ہے کہ فیشن کو سمجھنے کے لئے پیداری قوتوں کے دباؤ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔اپنے تجزیے میں مارکس مزدوروں کی تخلیقی صلاحیتوں کو پیش کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ کیسے یہ تخلیقی صلاحیتیں انسان کو باقی جانوروں سے مختلف بناتی ہیں۔سرمایہ داری محنت کرنے والوں کو کام سے بے گانہ بناتی ہے۔ مایوسی اور بیگانگی سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے طبقاتی رشتوں کو میں پنہاں ہے۔یہی پہلو فیشن اور دوسرے ثقافتی اظہار کے درمیان تضاد کو واضح کرتا ہے۔آج کے فیشن میں سرمایہ داری کی خوشیاں اور غم کی جھلک ہے۔ جبکہ انسان اگر سرمایہ داری سے نجات حاصل کر لے تو اسے فیشن میں بھی اس کے مسائل سے نجات مل جائے گی۔ آج کا فیشن بظاہر بڑا تخلیقی نظر آتا ہے ، اس کے لیے کام کرنے والے بھی اپنے آپ کو کریٹو ہی قرار دیتے ہیں۔ جبکہ مارکس کے مطابق انسانی تخلیقی صلاحیت اس گھٹیا پن سے کہیں بڑھ کر ہے۔
کتاب’سرمایہ‘(The Capital) کے پہلے مجموعے میں مارکس لکھتا ہے کہ مکڑی کا جالا بنانے ،شہد کی مکھی کا چھتا بنانے اور جولاہے کے کام کرنے کا انداز مختلف نہیں ہے۔لیکن تخلیقی انسان کو جو شے مکھی سے مختلف بناتی ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنی تخلیق کو پہلے اپنے دماغ میں تشکیل دیتا ہے۔مارکس مزید کہتا ہے کہ انسان اور جانور میں فرق یہی ہے کہ جانور یک طرفہ ہوکر اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کا سوچتا ہے جب کہ انسان عالمگیر انسانوں کا سوچتا ہے۔ لیکن یہ عالمگیری سوچ حقیقت کا روپ تب ہی دھار پائے گی جب انسانی ضرورت کے بوجھ سے آزاد ہو جائے۔ اسی لئے مارکس کے لئے مزدور کی پیداوار ضرورت کے تحت نہیں بلکہ تخلیقی ہونی چاہئے اور یہی وہ خاصیت ہے جو ہما ری ثقافت کو منفردبناتی ہے کیونکہ یہ خوبصورتی کے قانون کے عین مطابق ہوتی ہے(یعنی اس کی بنیاد تخلیق ہوتی ہے، اس کی ضرورت نہیں)۔
تصورات:
دی کیپیٹل کے پہلے مجموعے میں مارکس مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ انسان کو اشیاء سے یا تو اس کی ضرورت یا پھر اس کے تصورات جوڑتے ہیں۔مارکس کے یہ الفاظ فیشن کی بنیاد کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔ہم جوتے محض اپنے پاؤ ں کی حفاظت کے لئے ہی نہیں پہنتے بلکہ اس کے اسٹائل اور ڈیزائن کی وجہ سے بھی پہنتے ہیں۔مارکس اور اینگلز دونوں سرمایہ دارانہ نظام کو سراہتے ہیں کہ جاگیرداری اور پتھر کے زمانے کی نسبت سرمایہ داری نے انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کو آگے بڑھا یا۔ لیکن ساتھ ہی وہ سرمایہ دار طبقے پر شدید تنقید بھی کرتے ہیں ۔انہی سرمایہ داروں نے فیشن کو غریبوں کی اکثریت کے ہاتھوں سے چھین کر امیروں کی اقلیت کے ہاتھوں میں تھما دیا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام جس آزادی کا دعوے دار ہے وہ آزادی ما ل اور دولت کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔آج بھی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی چند امیر امراء ہیں جو بغیر کسی پریشانی کے نت نئے فیشن کر سکتے ہیں۔ باقی اکثریت اس کی قیمتوں کے احساس کے بوجھ تلے دب کر اپنی فیشن کرنے جیسے خواہشات کا گلاخود گھونٹتی رہتی ہے۔
تضاد:
مارکس کی نظر میں مزدور اور اس کے تخلیق کے درمیان فاصلہ اس میں بیگانگی کا احساس پیدا کرتا ہے۔مزدور پیداوار تو کرتا ہے لیکن اس پیداوار پر اس کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ بلکہ سرمایہ دار پیداوار لے کر فروخت کر دیتا ہے اور منافع اپنی جیب میں رکھ لیتا ہے ۔ یوں محنت مزدور کرے اور منافع سرمایہ دار لے جائے۔ اسی لیے محنت کرنے والے کو اپنی ہی پیداوار یعنی تخلیق سے دلچسپی نہیں رہتی۔ بیگانگی کا احساس اسی لیے کام کی جگہ پر پیدا ہوتا ہے۔ اس بیگانگی کے خاتمے کے لئے مارکس کہتا ہے کہ یہ تب ہی ممکن ہے جب مزدور کی اپنی پیداوار سے بے گانگی اورسرمایہ داروں کی ذاتی ملکیت کا نظام ختم ہوجائے۔ یعنی سوشلسٹ انقلاب آجائے۔سوشل ازم میں فیشن تورہے گا لیکن تاریخ دان الیزبتھ کی زبان میں سرمایہ دار کے بچھڑے بچے کی طرح۔البتہ فیشن کی باکمال مثال تو تب قائم ہوگی جب فیشن میں سے ضرورت کا پہلو نکل جائے گا۔
آج کے ڈیزائنرز کی تخلیقات مارکیٹ کی گندگی میں بوسیدہ ہوچکی ہیں۔جیسے مزدور اپنی پیداوار سے بے گانہ ہے اسی طرح فیشن ڈیزانر بھی ایک مزدور ہے جسے مارکیٹ کے رحجان پر چلنا پڑتا ہے ، یہ اپنی تخلیقی صلاحیت کو ہمیشہ مارکیٹ کے بوجھ تلے ہی استعمال کر سکتا ہے۔ کمرشل ضرورت آج کے آرٹسٹ کو یہ بتا تی ہے کہ اسے کیا بنا نا ہے اور کیا نہیں ، کب بنانا ہے اور کیسے بنانا ہے۔گذشتہ چند برسوں میں عالمی سطح پر فیشن انڈسٹری میں جس طرح کی تیزی آئی ہے اس نے فروخت میں اضافے کے ساتھ ہی مزدوروں کو جی وجان سے سخت محنت کو بھی ضروری بنا دیا ہے۔پہلے ڈیزائن ایک چھوٹا کام تھا، اب یہ پھیل کر ایک صنعت کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ جس نے اپنی تیزی کے باعث تخلیقی صلاحیتوں کو کچل کر رکھ دیا ہے۔سرمایہ دارانہ صنعتی نظام اپنا منافع بنانے کے لئے مزدور کا خون چوس کر کام کرواتا ہے جس کی وجہ سے تخلیقی عمل پیچھے اور بوجھ کو احساس بڑھ کر بیگانگی کو جنم دیتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *