بات تو بدلنے میں ہے

بات تو بدلنے میں ہے!

تحریر: جان مولینو ، مترجم: روزاخان

باب دوم: مارکسی فلسفہ کہاں سے آیا
مارکس نے اپنے دوست فریڈرک اینگلز کی مدد سے1843 سے 1846یعنی تین سال کے مختصر سے عرصے میں اپنے فلسفہ کی بنیاد رکھی جو کہ ایک حیرت انگیز کارنامہ ہے۔ آخر ایساکیسے ممکن ہوا؟اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ بیشک یہ ماضی کے عظیم فلسفیوں اور مفکرین کے کام کی مدد سے ممکن ہوا۔یقیناًاس فلسفے پر جرمن کلاسیکی فلسفے کا اثر رہا ہے جیسے ہیگل اور اس پر تنقید کرنے والا فیورباخ،فرانس کی روایتی سیاسی سوچ جو انقلاب فرانس کے بعد پروان چڑھی خاص کر برائے نام یوٹوپیائی سوشلسٹ، فیورئراور سینٹ سائمن اورایڈم سمتھ اور ڈیوڈریکارڈوکی کلاسیکی سیاسی معشیت جس نے برطانیہ میں ترقی پائی۔
لیکن جب مارکس نے کھل کر یہ سب تسلیم کیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا تو وہ ان نظریات کو پوری طرح اپنا نہیں پایا۔ نہ ہی ان میں ربط پیدا کر پایا۔نئی ترکیب جو اُس نے بنائی وہ ہر لحاظ سے ان نظریات پر تنقید اور ان میں تغیر تھی۔پس سمتھ اور ریکارڈو سے اس نے نظریہ قدر لیا جس کے مطابق شے کی قدر(ویلیو) اس میں شامل مزدور کی اُس محنت سے طے ہوتی ہے جو اس کو بنا نے میں لگتی ہے۔سمتھ اور ریکارڈو چونکہ اس نظریے کو زمین مالکان کے ’ناپیداواری ‘ ہونے کے مقابلے فیکٹری مالکان کے ’پیداواری‘ ہونے کے لئے استعمال کرتا ہے،مارکس نے اس کااطلاق شے میں مزدور کی محنت پر کیا ۔ سرمایہ دارانہ صنعت میں مزدور طبقے کا استحصال وراثت میں ملتا ہے۔یوٹوپیائی سوشلسٹوں کے لئے سوشلزم ایک معزز عقلی نمونہ تھا جس کی طرف حکمرانوں کو راغب کرنے کے اُمید رکھی جائے لیکن مارکس کی نظر میں سوشلزم ایک طے شدہ حصول تھا جو کہ مزدور طبقے کے اقتدار کے لئے جدوجہد کے نتیجے میں آئے گا۔مارکس کے فلسفے میں جدلیات اس نے ہیگل سے لیا لیکن اس پر فیورباخ کا اثر بھی ہے۔مارکس فیورباخ کی مادیت پسندی کے جامد فلسفے کوانسان کے عمل کے فلسفے کی جانب لے گیا( اصطلاحات جدلیات اور مادیت پسندی کی وضاحت باب چہارم اور پنجم میں کی جائے گی)۔
مارکس نے اپنی اعلیٰ ذہانت سے نہ صرف نظریات میں اس انقلاب کو ممکن بنایا بلکہ فلسفے اور سوشل تھیوری کے تمام مسائل کو دیکھنے کے لئے ایک نیا موقف لے کر آیایعنی مزدور طبقہ۔
مزدور طبقے کا یہ موقف جو کہ مارکس نے 1843-44میں پیش کیا تھا،مزدوروں سے ہمدردی رکھنے سے کئی آگے کی بات کرتا ہے(جبکہ مارکس کی تحریروں میں کئی جگہ بورژ وا کے ہاتھوں مزدوروں پر ستم کا مارکس پر گہرے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں)۔اس سے مراد ہے کہ مزدوراپنی قوت کو سمجھ کر سرمایہ دارانہ نظام کا تختہ اُلٹ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ مزدورنہ صرف عامل ہے بلکہ انقلاب کا سپاہی ہے لیکن سربراہ کے طور پر۔دوسرے الفاظ میں مزدور اپنے موجودہ حالات سے نجات اپنے ہی عمل سے پا سکتا ہے۔یعنی اپنی آزادی کو سمجھتے ہوئے مزدورکو پوری انسانیت کی آزادی کے در کھولنے ہوں گے۔
ماضی کی تمام تحریکیں اقلیتوں کی تحریکیں تھی یااقلیت کے مُفاد کے لئے تھیں۔پرولتاری تحریک خود آگاہی،ایک بڑی اکثریت کی آزادی اور ان کے مفاد کی تحریک ہوگی۔پرولتاری، موجودہ سماج کی ایک نچلی پرت،اس میں خود تب تک کوئی ہلچل پیدا نہیں ہوسکتی جب تک کہ یہ پورا سماج مل کر ان ہواؤ ں میں اُڑان بھرنا نہ شروع کر دے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ مارکس ایک فلسفی اور نظریہ دان ہونے کی حیثیت سے مزدورطبقے کا سماجی درجہ،اس کی زندگی،اس کے مفادات اور اس کی جدوجہدکے آغاز کیلئے سیاسی عمل اور سرمایہ داری ، تاریخ اور فلسفے کے تجزیے کو اہم سمجھتا تھا۔ یہ کام مارکس نے کیااور اسی لئے اس نے خود کو اور اینگلز کو بارہا’پرولتاریوں کے نظریہ دان‘ کہا۔
ایسا صرف مارکس ہی کر پایا کہ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے کے باوجود بھی اس نے مزدور طبقے کی طرفداری کی کیونکہ مزدوروں کی تاریخ بنانے والی تحریک کا آغاز ہوچکا تھا۔مارکس کی زندگی کے دو تجربات فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں: ایک 1843میں اس کا پیرس کے کمیونسٹ مزدوروں کا حصہ بننا اور دوسرا اینگلز سے ملنا جو کہ مانچسٹر میں اس کے والد کے فرم میں کام کرتا تھااورمارکس کو چارٹسٹ سے وابستگی کی رپورٹ کرتا تھا جو کہ دنیا کی پہلی بڑی تحریک تھی جس نے اس وقت ایک ڈراؤ نی کزارش(آزادی)،ماس میٹنگ،ہڑتال، مظاہرے اور اُبھار وغیرہ منظم کیا تھا۔
پس مارکسزم کی 1840میں شمالی مغربی یورپ میں پھیلاؤ کوئی حادثاتی نہیں تھا۔یہ وہ جگہ اور وقت تھا جہاں صنعتی انقلاب آ رہا تھا،جدید مزدور طبقہ قائم ہورہا تھا اور اپنے بازو ؤں کو خم دے رہا تھا۔مارکسزم اور مارکسسٹ فلاسفی مزدور طبقے کی جدوجہد کی نظریاتی اصول سازی کر رہا تھا۔
(جاری ہے)

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *