مشرق وسطیٰ میں گھمبیر ہوتا ہوا بحران

مشرق وسطیٰ میں گھمبیر ہوتا ہوا بحران

تحریر: سائمن اصاف، ترجمہ ولید احمد

مشرق وسطیٰ میں بیرونی مداخلت اسے جنگوں کے ایک تسلسل میں دھکیل رہی ہے اور اس کا کوئی اختتام ہوتا نظر نہیں آتا۔ شام اور عراق کے بیچ جنگ اب سعودی اور ایران کے بیچ جنگ میں بدلنے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ادھر ترکی کردوں کو کچل ڈالنے کی تیاریوں میں لگا ہے ۔ جبکہ داعش کی شکست کے امکانات اس کے سابقہ مضبوط گڑھوں میں ایک گہری اور خونی جنگ کے پیش خیمہ دکھا رہا ہے ہیں۔
ان معرکوں کے مرکز پر عراق کا شہر موسل اور شام کا شہر رقعہ ہیں جو تباہ و برباد ہو چکے ہیں۔ داعش کے گرد پھندا سخت ہوتا جا رہا ہے لیکن جب اسے رقعہ سے نکال باہر نہیں کر دیا جائے گا تو پھر مشرقی شام اور مغربی عراق پر کنٹرول کی اصل جنگ شروع ہو گی۔
یوں ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغی ، امریکہ کے حمایت یافتہ کردش فورسز اور شامی فوج کا بچا کچا حصہ اور اس کے روسی اتحادی ، یہ سب ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ء ہیں۔ ہر قوت کوشش کر رہی ہے کہ دوسرے کو ہٹا کر داعش کی شکست کے بعد کے دور کے لیے اپنی جگہ تیار کر لے۔ شام اور عراق کے اوپر یہ سپر پاوروں کا معرکہ بہت تیزی کے ساتھ روس اور امریکہ کے بیچ براہِ راست ٹکراؤ لا سکتا ہے اور یوں ایک وسیع جنگ کا خطرہ ہے۔
روس نے عملا ایک لکیر کھینچ دی ہے کہ کہاں تک امریکی اتحادی ہوائی جہاز یوفریٹس دریا کے مغرب تک آ سکتے ہیں۔ یہ لکیر تب کھنچی جب امریکہ نے ایک شامی جٹ طیارہ مار گرایا جو امریکہ کے حواریوں پر بمباری کر رہا تھا۔ ایران نے جواباً ایک طویل فاصلے کا میزائیل شام پر گرایا ہے جس کا مقصد اپنی طاقت دکھانا ہے (چھ میں سے پانچ میزائل نشانہ چوک کر گئے)۔ جبکہ روس اب اتحادی ہوائی جہازوں کو ’روشن ‘ کر دیتا ہے (یعنی ریڈار پر انہیں ٹریک کر لیتا ہے قبل اس کے کہ انہیں مار گرائے)۔ ہر کوئی ہر کسی کے ڈرونوں کو مار گرا رہا ہے۔
شام اور عراق کے بیچ اس جنگ کے ساتھ خلیج فارس کے آر پار تناؤ بڑھ رہا ہے جس کا ایک نتیجہ ایک بھونڈے پن سے قطر کا حقہ پانی بند کیا جانا ہے۔ قطر جو کہ خلیج تعاون کونسل کا ایک اہم رکن ہے اور اس کونسل کو خلیجی عرب ممالک کی بادشاہتوں کا اہم اتحاد مانا جاتا ہے۔ قطر اور سعودی کے بیچ تنازعہ جس میں سعودی کے ساتھ امارات، بحرین اور مصر اتحادی ہیں یہ ایک اور اشارہ ہے کہ کس رفتار سے ماضی کی طے شدہ حقیقتیں پانی کی طرح بہہتی جا رہی ہیں۔
قطر ایک عرصے سے خلیجی ممالک میں غیر معمولی ملک بنتا جا رہا ہے۔ یہ باضابطہ طور پر وہابی مسلم بادشاہت ہے جیسے سعودی عرب ۔ البتہ قطر کے حکمرانوں نے کوشش کی ہے کہ اپنی بادشاہت کو عرب دنیا میں ایک غیر جانبدار پارٹی کے طو ر پیش کریں۔ قطر فلسطین کی حماس کی حمایت کرتا ہے لیکن اس کے اسرائیل سے تعلقات بھی ہیں۔ یہ خلیجی کونسل کا رُکن بھی ہے جبکہ اس کے ایران سے اچھے تعلقات بھی ہیں۔ قطر نے ۲۰۰۶ء میں اسرائیل کے خلاف جنگ میں حزب اللہ کی حمایت کی ، مصر میں اخوان المسلمین کا ساتھ دیا اور شامی بغاوت کے کچھ سیکشنوں کا ہم پلہ بھی رہا۔ یہ اب ترکی کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں بھی کر رہا ہے جبکہ خلیجی کونسل کے اتحادی اس مشق کے سخت خلاف ہیں۔ قطر ہی میں خلیج میں امریکی کا سب میں بڑے اور سب میں اہم فوجی اڈہ ہے۔ یہ یمن پر سعودی قیادت میں جنگ کا حصہ تھا اور یہ ’دہشت گرد مخالف‘ اتحاد کا کلیدی علاقائی اتحادی بھی ہے۔ لیکن اب یہ ایران پر انحصار کر رہا ہے کہ یہ اسے کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرتا رہاے کیونکہ امارات اور سعودی نے یہ سپلائیز بند کر دی ہیں۔ قطر ہی میں الجزیرا چینل ہے جو مشرق وسطیٰ میں سب میں آزاد نیوز چینل ہے جب تک کہ یہ قطری بادشاہت پر تنقید نہیں کرتا۔ عرب حکومتوں کے لیے ایک عرصے سے یہی چینل کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے۔
قطر کے خلاف غم و غصے کا مطلب ہے کہ اس کے شہری اب خلیجی ریاستوں سے نکال باہر کیے جا رہے ہیں اور جو کوئی بھی قطر کی حالتِ زار سے ہمدردی کا اظہار کرے اسے امارات میں ۱۵ سال قید کی سزا ہے۔ ایک دور تھا کہ خلیجی کونسل سب میں مستحکم اتحاد سمجھا جاتا تھا اور اب یہ منہدم ہو رہا ہے۔
اس افراتفری کا الزام مشرق وسطیٰ کی ’ٹرمپ آئیزیشن‘ پر لگایا جا رہا ہے ۔ یعنی طے شدہ کا وبال اور بحران میں تبدیل ہو جانا۔ صدر بننے کے بعد ٹرمپ نے فوجی معاملات کا کنٹرول زمینی کمانڈروں کو دے دیا ہے۔ اب شام سے لے کر عراق تک کے جنگی میدانوں میں پیچیدہ اور تبدیل ہوتے ہوئے اتحادات میں یہ کنٹرول تباہ کُن ثابت ہوا ہے۔ امریکی کمانڈروں نے شامی جٹ طیارے کو ہواؤں میں مار گرانے کا حکم دیا اور واشنگٹن میں سیاسی لیڈران سے مشورہ بھی نہیں کیا۔ یہ ایسا اقدام تھا کہ اس نے روس کے ساتھ فوجی تنازعے کو بہت زیادہ بڑھا دیا۔ ایک اور عجیب و غریب بات یہ ہوئی کہ امریکی محکمہ خارجہ اور امریکی فوجی قیادت پنٹاگون دونوں ہی صدارتی دفتر وائٹ
کی مشرقِ وسطیٰ پر حکمت عملی (یا اس حکمت عملی کی عدم موجودگی) کے متضاد کھڑے نظر آتے ہیں۔
قطر کو تنہاء کرنے کے لیے سعودیوں کو اشارہ کر دینا ایک ایسا فیصلہ تھا کہ جس سے امریکی انتظامیہ ہل کر رہ گئی ہے۔ امریکہ رقعہ پر سفید فاسفورس بموں سے حملہ آور ہے، فرقہ پرست شیعہ قتل دستے نوجوان سنی مردوں کو موسل میں قصائیوں کی طرح قتل کر رہے ہیں، یمن میں بھوک اور خوفناک ہیضے کی وباء پھیلی ہوئی ہے، عرب کردوں پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ نسلی صفائی کر رہے ہیں، شامی باغیوں کا جو کچھ بچا ہے ۔یہ عدلب میں پھنسے اپنے قتل عام کا انتظار کر ہے ہیں، ڈیرا جو شامی انقلاب کی جائے پیدائش تھا اس پر روسی اور شامی جنگی جہاز بمباری کر کے اسے ریزہ ریزہ کر رہے ہیں اور موسل ایک دیو قامت قبرستان بن چکا ہے۔
ہر بیرونی مداخلت نے اس خطے کو ایک اور گہرے سے گہرے عذاب میں ڈال دیا ہے اور فل حال بہتر مستقبل کے امکانات بہت کم ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *