مارکس ازم کیوں سیکھا جائے؟

مارکس ازم کیوں سیکھا جائے؟

تحریر: ولید احمد

اتوار ۱۶ جولائی ۲۰۱۷ء کو کوئٹہ میں انقلابی سوشلسٹ کی جانب سے ڈے اسکول کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ یہ پروگرام انقلابی سوشلسٹ کوئٹہ منعقد کر رہی ہے۔ آج کے اس خون آشام دور میں کہ جب آئے دن بم دھماکوں، فوجی آپریشنوں اور ڈرون حملوں میں معصوم شہری نشانہ بن رہے اور ایسا نظر آتا ہے کہ یہ خونریزی کسی صورت ختم نہ ہو گی۔ حکومت، فوج، سامراجی پیش رفتیں ، داعش کی جنگ یہ سب ہی ایسا لگتا ہے اس خونریزی اور تباہی و بربادی کو تھما دینے کے بجائے اسے بڑھانے کے ہی منصوبے بیان کرتی رہتی ہیں۔
کیا وجہ ہے کہ حکمران طبقہ اور اسکی ریاستیں امن قائم کرنے میں ناکام ہیں؟ اس سوال کا جواب ہمیں اس نظام کو سمجھنے میں ملے گا کہ جسے ہم مارکسسٹ سرمایہ داری کا نام دیتے ہیں۔ ہمارے خیال میں موجودہ نظام سرمایہ داروں کے کنٹرول کا نظام ہے۔ اس نظام میں اہمیت سرمائے کو ہے۔ سرمایہ داری جیسے امریکی، چینی، پاکستانی حکومت روزانہ ہی اعلان کرتی ہے کہ جتنا زیادہ سرمایہ لگایا جائے گا اتنی ترقی ہو گی۔ سی پیک کو ہی لے لیں ۔ ہمارا پورا حکمران طبقہ اس کا حامی ہے۔ عمران خان، نواز،زرداری، اچکزئی، فضل الرحمان، یہ سب یک زبان ہو کر سی پیک کو پاکستانیوں کے روشن مستقبل کے لیے لازمی قرار دیتے ہیں۔ لیکن سی پیک چینی سرمائے کو پاکستان منتقل کرنے کا ہی نام نہیں، نہ ہی سڑکیں اور پل تعمیر کرنے کا نام ہے۔ سی پیک دراصل ایک بہت بڑی عالمی طاقت جیسے چین کا پاکستان کے کاشتکار، زمیندار، مزدور، ملازمت پیشہ کو اپنی دسترس میں لینے کا نام ہے۔ جیسے پہلے ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف اپنے قرضوں کا بوجھ پاکستانی عوام سے کھینچتے تھے اب چینی سرکار قرض کے ساتھ ساتھ عام زندگی پر بھی حاوی ہوتی جائے گی۔ لیکن پاکستان کی سالمیت کے علم بردار سی پیک کی دل و جان سے حفاظت کر رہے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ بہت بڑے سرمایہ دار سی پیک میں کھربوں روپے کمائیں گے۔ ان میں کچھ اختلافات بھی ہیں لیکن یہ اختلافات اپنے منافع میں کمی بیشی پر ہیں نہ کہ سی پیک پر۔ اسی لیے سی پیک کو عوام کا روشن مستقبل قرار دیا جاتا ہے۔ سی پیک کے ساتھ مقامی آبادی جیسے بلوچ و پشتون کی زمین پر ریاستی دسترس بڑھانے کے لیے جو فوجی کاروائی کی جا رہی ہے وہ اسی سرمایہ دارانہ پیش رفت کا لازمی جز ہے۔ بلوچستان کی اسمبلی میں یہ طے نہیں ہوتا کہ سی پیک عوام کے کس فائدے یا نقصان میں ہے۔ یہ فیصلے فوج اور پولیس کے زریعے کروالیے جاتے ہیں۔ بڑے سیاست دان جیسے عمران ، نواز، زرداری جو عام طور پر سیاست میں اداروں کی مداخلت کے مخالف نظر آتے ہیں سی پیک کے نام پر قید و بند اور آپریشنوں پر خاموش ہی نہیں بلکہ اس کے حامی ہیں۔
یوں بڑی سیاسی پارٹیاں بڑے سرمایہ دارانہ مفاد پر ایک ہیں۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو مارکس ازم واضع کرتا ہے۔ سیاسی پارٹیاں اسی سرمایہ دارانہ نظام کو آگے بڑھانے کو عوام کی ترقی قرار دیتی ہیں۔ اس ترقی کے رستے میں رکاوٹ کے لیے فوج کشی کی جاتی ہے۔ جب ایک سے زیادہ قوتیں کسی ایک علاقے پر قبضہ کرنا چاہیں تو پھر جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ مشرق وسطیٰ، افغانستان، پاکستان میں یہ جنگ ہی تو ہے جس میں سالانہ ہزاروں افراد بم باری اور بم دھماکوں میں مارے جا رہے ہیں اور معمولی انسانی حقوق مختلف قوانین جیسے دہشت گرد ایکٹ کے تحت معطل ہیں۔ اس طرح سرمایہ داری کے پھیلاؤ اور جنگ کا ساجھا ہے۔ جہاں سرمایہ داری وہاں جنگ۔ جہاں جنگ وہاں عوام کی تباہی و بربادی۔ اس تباہی وبربادی سے نجات ایک سوشلسٹ انقلاب میں ہے۔ ویسا ہی سوشلسٹ انقلاب جو ۱۹۱۷ء میں روسی مزدور طبقہ لے کر آیا تھا۔ اسی لیے کوئٹہ ڈے اسکول کو روسی انقلاب کی سو سالہ تاریخ سے جوڑا جا رہا ہے۔
انقلابی سوشلسٹ ڈے اسکول میں آپ کی شرکت اس جنگ و جدل سے نجات کے ایک رستے سے آپ کو روشناس کرے گی۔ اب یہ آپ پر ہے کہ آپ سرمایہ داروں کے ساتھ چلیں یا پھر ایک مزدور طبقہ کے ساتھ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *