ضیاء دور اور سرمایہ داروں کے مفادات کی جنگ

ضیاء دور اور سرمایہ داروں کے مفادات کی جنگ

تحریر: روزا خان

5 جولائی 1977 وہ دن تھا جب ضیاالحق نے مارشل لا نافذ کیا اور اس سال ۵ جولائی چالیس سال پورے ہوگئے۔ اسی حوالے سے ڈان اخبار نے 2جولائی 2017بروز اتوار کا شمارہ ضیاء الحق کے نام کر دیا۔ اخبار میں تاریخی حوالوں کی مدد سے آئی آر رحمان لکھتے ہیں کہ تقسیم ہند کے وقت سے ہی دوطرح کی سوچ موجود تھی ایک مذہبی اور دوسری جمہوری۔ قائداعظم کی سوچ جمہوری تھی لیکن مذہبی اور جمہوری سوچ رکھنے والے سیاستدانوں کا ہمیشہ سے جھگڑا رہا ہے۔ عقلمند سیاستدانوں نے اس سوچ کو غالب آنے سے روکے رکھا ۔ لیکن ضیاالحق کے دور میں مذہبیسوچ غالب آئی اور جمہوری نظام پارہ پارہ ہوگیا۔ اس مضمون کی روشنی میں اگر سماجی مسائل کی طرف دیکھا جائے تو اس کی وجہ انسانی سوچ کی دقیانوسیت ہے اور ان کا حل سوچ کی تبدیلی میں ہے۔اگر اس بات کو بنیاد بنا کر غور کیا جائے تو سماج کی یہ شکل سامنے آتی ہے کہ لوگوں کے حالات کے ذمہ دار لوگ خود ہیں یعنیسماج کی خرابی دراصل سوچ کی خرابی کا دوسرا نام ہے ۔ اگر اس سوچ کی خرابی کی وجہ کا سوال اُٹھایا جائے تو سرمایہ دار وں کے وکیل تعلیم کی کمی کو مسائل کی جڑ قرار دیتے ہیں۔ اور یوں دوبارہ سوئی کا کانٹا پیچھے جا کر لوگوں کی اپنی ہی خرابیوں پر کھڑا ہوجائے گا۔
سماج میں پائے جانے والے دانشوارانہ دلائل کا ایک گول دائرہ بنتا ہے جو گول گول گھمانے کا کام تو کر سکتا ہے لیکن کسی نتیجے پر نہیں پہنچا سکتا۔دائرے کی ساخت کچھ یوں ہوگی سماج کی خرابی کی وجہ؟لوگوں کی سوچ ۔ لوگوں کی سوچ کی خرابی کی وجہ؟تعلیم کا بحران۔تعلیم کے بحران کی وجہ؟لوگ خود!اسنقطہ نظر کے تحتلوگوں کے خراب حالات کی وجہ اور کوئی نہیں بلکہ لوگخود ہی ہیں۔یعنی تیل میں آگ لگنے سے جتنے لوگ مرے یہ بھی ان کی اپنی کم علمی کا ہی نتیجہ تھا اس میں کسی کا کوئی ہاتھ نہیں۔ اس نقطہ نظر میں لوگوں کے مادی حالات کا کوئی ذکر نہیں ملتا ۔ لوگوں کے معاشی حالات کا ،ان کی زندگیوں میں کردار، کا ذکر بالکل غائب نظر آتا ہے ۔ معاشی اور مادی حالات کو مسائل کی وجہ کے طور پر پیش نا کرنے کے پیچھے ایک خاص سوچ کارفرما ہوتی ہیکہ ان وجوہات کا ذکر کیا گیا توگھوم پھر کر ذمہ داری سرمایہ دارانہ نظام پر ہی عائد ہوگی جیسے چھپانا آئی آر رحمان جیسے نظام کے وکیلوں کا کام ہے۔
یہی حربہ استعمال کرتے ہو ئے نسل پرستی کو بنیا د بنا کر لوگوں کے مسائل کی توجیح کی جارہی ہے اور ساتھ ہی ان مسائل کا حل نظام میں ڈھونڈنے کے بجائے نسلی بنیادوں کو مدعا بنا کر پیش کیاجاتا جب سرمایہ دارانہ نظاہوتا ہے اور اس کی کڑیوں میں ایک خلاء بنتا ہے تو تب مذہب اور اس جیسے دوسرے نظریات اس خلا ء کو پُر کرنے کا کام کرتے ہیں۔ مذہب بنیادی طور پر لوگوں کو سہارا فراہم کرتاہے۔ اس سوچ کے پھیلاؤ کا دارومدام کمزور ر کسی انفرادی سوچ پر نہیں بلکہ معاشی حالات پر ہے۔ یہ نظام معشیت میں بحران پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے اور اس کے ساتھ ہی مذہب کو لوگوں کے سامنے لاکھڑا کرتا ہے ۔کیونکہ نظام کے وکیل سماجی مسائل کی اصل وجہ جو کہ سرمایہ دارنہ نظام کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال ہے،کو پس پشت ڈال کر وقتی وجوہات کو سامنے لانے کا کام بخوبی جانتے ہیں۔ انسانی مسائل کی اصل جڑکبھی تعلیم کی کمی، کمی سوچ کی خرابی تو کبھی مذہب کو قرار دے کر سماج کو ایک پوشیدہ معمہ بنا کرہے۔لیکن حقیقت میں سارے حالات،سوچ،مسائل،خرابیاں ،جنگ یہ سب سرمایہ داری کے پیٹ ہی میں پل پل کر پیدا ہوتے ہیں۔جو سرمایہ دار ممالک بحران کا شکار ہوتے ہیں وہاں لوگوں میں بے چینی ،احساس کمتری اور سہارا تلاش کرنے جیسے جذبات از خود جنم لیتے ہیں اور سرمایہ دار ان کا استعمال کرتے ہیں۔ بے چینی اور بے قراری کایہ ماحول دقیانوسیت کو لوگوں کے سامنے حل کی طور پر لا کھڑ ا کرتا ہے۔ لوگ اپنے مسائل کا حل خود سے کمزورلاچارلوگوں، اقلیتوں ،چھوٹی قومیتوں پر جبر کی صورت میں تلاش کرنے لگتے ہیں۔مذہب کی بنیاد پر منافرت لوگوں کے معاشی حالات کا عکاس ہوتی ہے نا کہ ان کی سوچ کا ۔
آئی آر رحمان بھی سرمایہ دارانہ نظام کے بحران کو پس پشت ڈال کر لوگوں کی سوچ کو خرابی اور ان کے اسلاموفوبیا کو اس خرابی کے اساس کے طور پر دیکھتا ہے۔ انداز بیان کچھ یوں ہے جیسے سب کچھ کسی قدرتی اصول کے تحت بنا کسی وجہ کے بس ہوئے جا رہا ہے ۔بالکل اسی انداز میں جیسے سورج مشرق سے نکل کر مغرب میں غروب ہورہا ہے۔ لوگوں کے حالات کی وجہ اسلام کو قرار دینا بھی نسل پرستی کی ایک شکل ہے جس کی بنیاد نفرت ہے۔ جان مالینو کا کہنا ہے کہ نسل پرستی کا انحصار نظام پر ہے۔ یہ کوئی اوپر سے اُتارا گیا اصول نہیں ہے کہ سیاہ فام کم عقل اور وحشی ہوتے ہیں۔ یہودی چالاک اور عیار۔ مسلمان دہشت پسند اور اپنی مرضی مسلط کرنے والے۔معاشی بحران لوگوں میں غربت کو بڑھا دیتی ہے۔ اسی کے ساتھ امیر غریب کا فرق بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔ لوگوں کو اس فرق کی وجہ سمجھنے نہیں دی جاتی۔ سوچ کا معیار پستی کی طرف جانے لگتا ہے تو لوگ اس احساس سے نجات حاصل کرنے کے لئے متبادل کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔ مذہب اس متبادل کے طورپر سامنے آتا ہے۔ مسائل کی جڑ یہ سوچ نہیں بلکہ وہ نظام ہے جو اس سوچ کو جنم دیتا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام ایک طبقاتی سماج جنم دیتا ہے۔ایک استحصالی طبقہ جس کی پاس سماج کی دولت  کا کنٹرول ہے وہی تمام قوانین کے بننے کا مرکز بھی ہے یوں ان قوانین کا مقصد اس کے مفادات کی حفاظت ہی ہوگا۔ضیاء الحق بھی ان ہی سرمایہ داروں کے نمائندے سے مختلف نہیں ہے بس فرق محض اتنا سا ہے کہ اس نے یہ سب آمریت نافذکر کے ڈنکے کی چوٹ پر کیا اور باقی حکمران طبقہ وہی سب برائے نام جمہوریت کے نام کو استعمال کرتے ہوئے کرتا ہے۔
بہت سارے لبرلز کا یہ ماننا ہے کہ آج بھی جو مذہبی انتہا پسندی برقرار ہے یہ سب ضیاء کے لگائے گئے بیج کا پودا ہے۔ لیکن سوال یہ اُٹھتا ہے کہ کیا آج ضیاء ہے؟نہیں۔ کیا آج آمریت ہے؟ نہیں۔کیا آج میڈیا پر پابندی ہے؟ کافی حد تک نہیں۔لیکن دوسری طر ف فوج کے پاس اختیارات ہیں اور یہ اختیارات ضیاء کی طرح انہیں چھیننے نہیں پڑے بلکہ حکومت نے خود دیئے ہیں۔ آج بھی لوگوں کی جانیں محفوظ نہیں ہیں۔کھلے عام غائب کرنے کا عمل جاری ہے۔جب بلاگرز کے غائب ہونے کے خلاف احتجاج کیا جاتا ہے تو اسی حکومت کے مفادات کی حفاظت پر تعنات سپاہی ملاوں کے ساتھ مل کر پُر امن احتجاجیوں پر پتھراؤ شروع کر دیتے ہیں۔ اسٹوڈنٹس یونینز غائب ہیں۔ تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کے نام پر بندوقوں والے کھڑے ہیں۔تدریسی اداروں میں دفع 144نافذکر دیا جاتا ہے ۔ایک اسی سالہا بوڑھے شخص کے لئے پریس کانفرنس کرنے والے جامعہ کے معزز استاد کو بنا کسی جرم کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔ ان تمام باتوں سے ایک بات تو ثابت ہوتی ہے کہ آج کے دور کی خرابیوں کا وجہ ضیاء نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ سرمایہ داروں کا مفاد ہے۔ مفاد کل بھی تھا، مفاد آج بھی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ کل مفاد کا محافظ ضیاء تھا آج مفاد کا محافظ یہ حکمران طبقہ ہے۔ کل مفاد کی اس جنگ میں ضیاء کا کوئی شریک کار نہیں تھا آج مفاد کی یہ جنگ سسٹمیٹک ہے۔
سماجی حالات کا دارو مدار نظام پر ہے۔ نظام کے تحت ہی سوچ بنتی ہے صرف اور صرف سوچ کے تحت نظام نہیں بنتے۔ اصل جنگ سوچ کی نہیں مفاد کی ہے اسی لئے تبدیلی کا دارومدار سوچ سے زیادہ نظام پر ہے۔ مزدور طبقہ جو کہ سماج کی دولت پیدا کرتا ہے ۔ جب اُٹھ کھڑا ہوگا اور اپنی پیداوار پر کنٹرول حاصل کر لے گا تب نظام بھی بدلے گا، سوچ بھی بدلے گی اور حالات بھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *