ترناب فارم پرایکسپورٹروں کا قبضہ

ترناب فارم پرایکسپورٹروں کا قبضہ

تحریر :ولید احمد

ایگری کلچرل ریسرچ انسٹیٹوٹ ترناب پشاور شہر سے ۱۵ کلومیٹر پر جی ٹی روڈ پر واقع ہے۔ ۱۹۰۸ء میں قائم ہونے والا یہ فارم زرعی تحقیق و ترویج کے لیے خیبر پختونخوا کے اعلیٰ ترین اداروں میں سمجھا جاتا ہے۔ اس میں ہونے والی تحقیق اور سہولیات میں پھلوں کی نرسریاں، معیاری بیج، زیتون کے باغات، مٹی اور پانی کی ٹیسٹنگ، کیڑوں اور بیماریوں پر کنٹرول اور پھلوں کی پروسسنگ شامل ہیں۔ ترناب فارم ایک آسٹریلیائی نے ۱۹۳۱ء میں باضابطہ تشکیل دیا۔اس کے لیے دو سو ایکڑ زمین مختص کروائی ۔
اب ۲۰۱۷ء میں آجائیے۔ ماحولیاتی تباہی کا ایک پاگل پن کی حد تک مظاہرہ کیا جارہا ہے جس کا مقصد ہر سرسبز انچ پر قبضہ کر کے ، درخت کاٹ کر ، ہر طرح کی جھاڑیوں کو رول کر ہر طرح کے پودے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ باغات کی جگہ کانفرنس ہال اور فوڈ کورٹ بنائے جا رہے ہیں۔ فروٹ نرسریوں کی جگہ نمائشی ہال اور کنونشن سینٹر قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان آڈیٹوریم، کانفرنس روموں اور ہالوں کو شادیوں اور وی آئی پی دعوتوں کے لیے کرائے پر دیا جا رہا ہے اور اب ہیلی پیڈ نے زرعی تحقیق کی جگہ لے لی ہے۔ اجلت میں مٹی اور سیمنٹ کے ڈھانچے کھڑے کر کے مال بٹورا جا رہا ہے۔ کل کس نے دیکھا ہے!
یہ تو تھی ترناب فارم کی تباہی کی داستان کی پہلی قسط۔ اب ۲۴ مئی ۲۰۱۷ء سے ۲۵ ایکڑ زمین پر پرانے فارم پر ہر پودے کو کاٹ ڈالا گیا اور اسے بھی بلڈرز اور ٹریڈرز کے حوالے کر دیا گیا کہ یہاں پشاور ایکسپو سینٹر قائم کر دیا جائے۔ کیا وہ تمام لوگ جو ماحول بچانا چاہتے اور انتہائی ضروری زرعی تحقیق کی اہمیت سمجھتے ہیں اپنی آواز بلند کریں گے تا کہ اس پاگل پن کو روکا جا سکے۔
ڈان اخبار کے مطابق خیبر پختونخوا کی حکومت نے تمام تر تحفظات کے باوجود پشاور ایکسپو سینٹر اسی ترناب فارم کی جگہ پر قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ۲۵ مئی کو وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر خان نے ۲۵ ارب روپے سے قائم ہونے والے اس سینٹر کا سنگ بنیاد بھی رکھ ڈالا۔ یوں ترناب فارم کی مزید ۲۵ ایکڑ زمین پر قبضہ ہو گیا۔
۲۰۱۵ء تک یہ زمین اب تک ایگری کلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی ملکیت تھی۔ اس زمین کو محکمہ زراعت سے محکمہ صنعت منتقل کیا گیا جبکہ ایگری کلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا۔ تب ایک میمو رینڈم وفاقی وزارت تجارت اور خیبر پختون حکومت کے بیچ سائن ہو اجس میں یہی زمین صوبے نے فراہم کرنی تھی اور وفاق نے تعمیرات کا خرچہ اٹھانا تھا۔ انسٹیٹیوٹ کا اعتراض تھا کہ اس طرح اسکی زمین پر تعمیرات تحقیق اور نرسریوں کی سرگرمیوں کو متاثر کرے گی۔ جبکہ ادارے کو اپنے منصوبوں پر کام کرنے کے لیے مزید زمین کی ضرورت تھی نہ کہ رہی سہی بھی چھین لی جاتی۔ خیبر پختون حکومت نے اپنی مرضی چلائی اور ادارے کو احکامات بجا لانے کے لیے زور ڈالا۔ نوکرشاہی نے زمین کی کمی کا بہانہ بنا کر ایکسپو سینٹر کے قیام کو زرعی یونیورسٹی پشاور سے منتقل کرا کر ترناب فارم پر مسلط کر دیا۔ ان کا مقصد یہی تھا کہ یہاں کی بیش قیمت زمین پر ہاتھ صاف کیا جائے۔پھر یہ کوشش ہوئی کہ ترناب کی جگہ رشکئی صنعتی زون میں ۱۰۰ ایکڑ زمین پر ایکسپو بنایا جائے اور اس پر وفاقی نوکر شاہی متفق بھی تھی لیکن پھر صوبے کی نوکر شاہی غالب آگئی اور ترناب پر تیر چل گئے۔ یوں زرعی زمین کو صنعتی زمین میں منتقل کرنے پر پابندی کے قانون کی بھیخلاف ورزی کی گئی۔
سیکریٹری صنعت فرح حامد خان نے سرمایہ داروں کی ترجمانی کرتے ہوئے ڈان اخبار کو بتایا کہ بزنس کمیونٹی نے موجودہ جگہ پر ایکسپو قائم کرنے کی مانگ کی تھی۔
ترقی کے نام پر زمینوں پر قبضہ سرمایہ داری کے پھیلاؤ کا لازمی جز ہے۔ سرمایہ دارانہ ترقی کے لیے پہلے سے بنے ڈھانچوں اور عوامی سہولیات کے اداروں کی تبدیلی بھی ضروری ہے۔ یہ تمام تر تبدیلیاں ترقی نہیں بلکہ سرمایہ داروں کی ترقی لاتی ہیں۔ خیبر پختونخوا کی حکومت سرمایہ داروں کی ترجمان ہے۔ اسے یہ دیکھنا ہے کہ سرمایہ داروں کے منافع اور انکی سہولیات میں کس طرح اضافہ ہو۔ترناب فارم بچانے کے لیے سرمایہ داری کے پھیلاؤ کو نشانہ بنانا ہو گا، یہ بات واضع کرنی ہو گی کہ ترقی سرمایہ داروں کی ہو رہی ہے عوام کی نہیں۔
بقیہ:مہاجر سیاست
ناکام رہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی سندھ حکومت کاحصہ ہے جس کے تمام وزراء4 صوبے کے دیہی علاقوں سے منتخب ہیں اورانہیں شہرکے مسائل کا ادراک تک نہیں ہے۔ کراچی میں بھی پیپلزپارٹی سندھی اوربلوچی آبادیوں تک محدودہے جبکہ مہاجرآبادیوں کی نمائندگی کے نام پرچند مخصوص پرانے چہروں کوسامنے لایاجاتاہے جومہاجرآبادیوں سے کونسلربھی منتخب نہیں ہوسکتے۔ مسلم لیگ(ن) بھی شروع ہی سے سندھ کی سیاست سے لاتعلق رہی ہے اوریہی وجہ ہے کہ پارٹی کے کراچی سے منتخب ایم این اے اورایم پی ایزپارٹی چھوڑکرپی پی پی میں شامل ہوگئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اورجماعت اسلامی بھی مہاجرآبادیوں میں اپنی حمایت پانے میں برح طرح ناکام ہوئی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پچھلے کافی دنوں سے ایم کیوایم کے دھڑوں میں اتحاد اورانضمام کی خبریں ذرائع وابلاغ میں آرہی ہے کیونکہ ایم کیو ایم کی ابتدائی قیادت اس وقت تین جماعتوں میں موجود ہے۔البتہ تینوں مہاجر جماعتوں کے رہنما اتحاد اورانضمام کی خبروں کو رد کررہے ہیں۔ مبصرین کاکہناہے کہ آئندہ سال متوقع عام انتخابات ہی سے ‘‘مہاجر’’سیاست کے نئے رخ کااندازہ لگایاجاسکتاہے۔
( بشکریہ تجزیات)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *