پاراچنارقتل وغارتگری کوکیوں نظراندازکیاگیا؟

پاراچنارقتل وغارتگری کوکیوں نظراندازکیاگیا؟

تحریر: سرتاج خان

پاڑاچنارمیں دودھماکوں میں سترسے زائد افرادکے قتل کے بعد شدیدردعمل دیکھنے میں آیاہے۔ یہ چھ ماہ کے دوران یہ 11واں دھماکہ تھا۔ یوں عوام غم وغصہ بھرپورتھا۔ سب سے اہم وہ احتجاج ہے جوپاراچنارکوباقی ملک سے ملانے والی مین شاہراہ پرآٹھ دن تک جاری ہے، جس میں دسیوں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ شروع میں میڈیا نے اسے نظراندازکیالیکن مسلسل دھرنے اسلام آباد اورکراچی میں دھرنوں اوراحتجاج نے صورتحال بدل دی ہے۔ سماجی رابطے کے ویب سائٹس پراس کواس قدرپھیلایاگیاکہ روزنا مہ جنگ کے مطابق پاکستانی فوج نے پاراچنارکے واقعات اوراس پرہونے والے ردعمل کے پس منظرمیں فوج کوکہناپڑاکہ ‘موجودہ واقعات کو دانستہ فرقہ وارانہ اور نسلی منافرت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، یہ گمراہ کن مہم پاکستان کے دشمنوں کی جانب سے شروع کی گئی ہے اور اس مہم کا پھیلنا افسوسناک ہے، پاک فوج دشمن خفیہ اداروں اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے حالیہ واقعات کو فرقہ واریت اور نسلی منافرت کا رنگ دینے کو قریب سے دیکھ رہی ہے۔’ فوج کواحتجاجیوں کے کئی مطالبات مانتے ہوئے علاقہ کے فوجی کمانڈرکوتبدیل کردیاجس کے حکم پرآٹھ مظاہرین کوماردیاگیاتھا۔ اس کے خلاف تحقیقات کاحکم دیاگیاہے۔
فوج کایہ بیان اس پس منظرمیں دیاگیاہے کہ سوشل میڈیا پریہ شئیرہونے لگاکہ پاڑا چنار اورکوئٹہ، پنجاب نہیں اس لیے میڈیا اورحکومت کے لئے اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔ سوشل میڈیا پراسے اتھنک پشتون اورشیعہ فرقہ ہونے کیعلاوہ فاٹامیں ہونے والے واقعہ کے طورپرپیش کیاگیا۔ اوراس کاموازنہ احمد پورشرقیہ، بہاولپورمیں تیل کے جلنے کے واقعہ سے کیاگیا۔ نوازشریف نے اپنا دورہ مختصرکیااوربہاولپورپہنچے، دیگرریاستی اداروں نے بھی بظاہرایساہی کیا۔ ایک عام تاثریہ ہے کہ نوازشریف کی حکومت کے لئے پنجاب ہرلحاظ سے اہم ہے۔ اس کے علاوہ نوازفیملی اوراس کے خاص افراد جیسے پنجاب کے اہم ترین وزیرراناثناء4 اللہ پرسپاہ صحابہ سے قربت کاالزام لگتارہاہے۔ نوازشریف خاندان پنجاب کے شہروں میں سنی سپاہ صحابہ کیووٹوں کی طاقت سے بخوبی آگاہ ہے۔ اس لئے یہ خود کونسبتاً پاراچنارکے معاملے سے دوررکھے ہوئے ہے۔ پاکستانی فوج کہتی ہے کہ یہ واقعہ ایک طرف نسلی (پشتون) اورفرقہ ورانہ (شیعہ ) رنگ دے کرمنافرت پھیلانے کی کوشش ہے۔ سوشل میڈیاپرایک اعلیٰ افسرکی تصویربھی شئیرکی جارہی ہے، یوں فوج پرسائیڈ لینے کابھی الزام ہے۔ اس لئے فوج نے اسے پاکستان دشمنوں کی سازش قراردیاہے۔
پھرپاکستانی ریاست اب واقعی میں سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی طاقت سے پریشیان بھی ہے۔ اوریہی حال مین اسٹریم میڈیاکی ہے۔ اسی پس منظرمیں سوشل میڈیاپرقدغن لگانے کی منصوبہ بندی حکومتی اورریاستی اداروں کی پالیسی میں اب مرکزی حیثیت اختیارکرتی جارہی ہے۔ حکومت کی کوشش ہیکہ خوف وہراس، مقدمات اورپکڑدھکڑسے اس کوکنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے۔
یہ امرقابل ذکرہے کہ پاراچنارکی شعیہ کمیونٹی ایک طرح سے محصورہی ہے۔ لیکن حکومت نے یہاں عوام کی طرف سے اپنی حفاظت کے لئے کوششوں کورد کیا۔ عوام کی بڑی تعداد باربارکے طالبان حملوں اوردھماکوں کے پس منظرمیں اس طرف متوجہ ہوئی۔ کرم ایجنسی ایک بہت نازک علاقہ بھی ہے۔ ایک طرف یہاں شیعہ اقلیت ہے تودوسری طرف یہ افغانستان کی ملحقہ پٹی بھی ہے۔ جون 2011میں الجزیرہ پرمجیب مشال کی ایک رپورٹ شائع ہوئی جس میں شمال مغرب کی پاراچنارکی شیعہ آبادی کوایک محصورکمیونٹی قراردیاگیا۔ جو راستہ (ٹل۔پاراچنار روڈ) اس کوباقی ماندہ پاکستان سے ملاتاہے اسے طالبان نے2007میں بندکردیاتھا۔ طالبان اس روڈ پرسفرکرنے والی گاڑیوں کوروک کراس میں سے شیعہ کواتارکرقتل کردیتے۔ اس وجہ سے عوام نے اسے ترک کیا اورافغانستان کا طویل چکرکاٹ کراپنیعلاقہ کوپہنچتے۔ پاراچنارتک پہنچنے کے لئے پشاورسے افغانستان میں داخل ہوکرپیچھے سے پاراچنار تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی، جبکہ یہاں بھی جنگ جاری تھی۔ کرم ایجنسی تین اطراف سے افغانستان میں گھری ہوئی ہے۔ اوریہاں 1980سے شیعہ سنی تنازعہ نے اس وقت زورپکڑاجب روس نے افغانستان پرقبضہ کیا۔
سنی شیعہ تنازعہ نے اس خطے میں دوحوالوں سے زورپکڑا۔ ایک توجنرل ضیاء4 دورمیں اسلام کے نام پرسنی شریعت نافذکرنیکی پالیسیاں تھیں، دوسرا افغانستان میں جہادی پالیسی تھی، جوامریکی سی آئی اے کی مدد سے ترتیب دی گئی تھی۔ دیگرقبائلی علاقوں کی طرح یہاں بھی جہادیوں کومسلح کرنے کی طرف توجہ دی گئی توسنی مسلح تنظیموں نے زورپکڑا۔ طالبان کمانڈرحکیم اللہ محسود جوخاص کرشیعہ مخالف بھی تھے اورجوکرم ایجنسی میں کمانڈر رہے، اس تنازعہ کوبڑھاوادینے میں اہم گردانے جاتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں پاکستان ایران تنازعہ میں شدت اورخطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظرحکومت نے کئی اقدامات کئے۔ لیکن سب سے اہم اس علاقہ کے لوگوں کوغیرمسلح کرنے کی پالیسی ہے۔ اس خطے کے عوام کی حکومتی کوششوں اورپالیسیوں پرتنقید اورناکامی کے پس میں خود کومسلح کی کوششوں کوحکومت شک وشبہ کی نظرسے دیکھتی ہے۔ حکومت کسی ایسی فورس اورکوشش کوپسندنہیں کرتی۔ البتہ کئی مقامات جیسے سوات اوردیگرعلاقوں میں یہ کمیونٹی کی سطح پرعوامی لشکروں اورمسلح دستوں کی کوششوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتی رہی ہے اوریہ اس کی باقاعدہ پالیسیوں کاحصہ رہاہے کہ طالبان کے حملوں کوعوام کی مددسے روکنے کی پالیسی کوآگے بڑھائے۔ مگرکرم ایجنسی کے عوام حکومتی کوششوں کوشک وشبہ کی نظرسے دیکھتی ہے۔ اس لئے حکومت نے اس سال جنوری میں اعلان کیاکہ ایجنسی کے عوام کوغیرمسلح کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ جس پرعوام نے تشویش کااظہارکیا۔ روزنامہ ڈان کی ایک خبرکے مطابق پاراچنارکے علاقائی مشران نے ایسی کوششوں کوپسندنہیں کیا۔ ان کامؤقف تھاکہ اس طرح یہ حملہ آوروں کے کے سامنے نہتے کئے جارہے ہیں۔ ان کااستدلال تھاکہ حالیہ تاریخ اورافغانستان کے غیرتسلی بخش حالات میں ایسی کوششیں سمجھ سے بالاقراردیں گئیں۔ایک اورسب سے اہم خطرہ خطے میں داعش کاابھرناہے، جواپنی اصل میں طالبان سے بڑھ کرشیعہ کمیونٹی کے خلاف ہے۔
مشران کہتے ہیں کہ داعش کاہیڈکوارٹرقریب ہی افغان صوبہ ننگرہارمیں ہے۔ اس پس منظرمیں طوری اوربنگش قبائل سے اپراورلوئرکرم ایجنسی میں اسلحہ جمع کرنا غیرمناسب ہے۔ مقامی فوجی کمانڈر ملک امیرمحمدخان نے قبائلی مشران کے ساتھ ایک جرگہ میں ان پرزوردیاکہ قبائلی اپنابھاری اسلحہ رضاکارانہ طورپر 45دنوں کے اندراندرجمع کرادیں۔ دوسری طرف حکام عوام سے کہتے بھی ہیں کہ وہ افغان علاقوں خوست اورپکیتا سے ممکنہ حملوں کوروکنے کے لئے سرحد کے ساتھ چوکیاں قائم کرکے نگرانی کریں۔ اس پرلوگ حیران بھی ہوتے ہیں کہ جوحکومت ان سے بیرونی حملوں آوروں کے خلاف چوکیاں قائم کرکے روکنے پرزوردیتی ہے وہی ان سے بھاری اسلحہ جمع کرنے پربھی بضدہے۔ لوگوں کویہ متضاد پالیسی نظرآتی ہے۔یوں حکومت بیرونی حملوں کے تدارک میں تومقامیوں کی مدد چاہتی ہے لیکن یہ عملی طورپرخود اندرونی طورپرکوئی سیکورٹی فراہم کرنے میں ناکام نظرآتی ہے۔پاراچنارمیں جبروقتل وغارتگری کے خلاف ہزاوروں کی تعدادمیں عوام سات دن کے احتجاج نے حکومت کوہلادیاہے۔ اورمیڈیا بھی توجہ دینے پرمجبورہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *