گوڑانو ڈیم ہٹاؤ ۔ تھر بچاؤ

گوڑانو ڈیم ہٹاؤ ۔ تھر بچاؤ

نوٹ: ضلع تھرپارکر میں تحصیل اسلامکوٹ سے 37 کلومیٹر دور اور تھرکول فیلڈ کے بلاک 2 سے 26 کلومیٹر دور سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کوئلے کی کھدائی کے دوران کھارے پانی اور کول پاور پلانٹ کے ذھریلے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ایک ڈیم تعمیر کررہی ہے جسے گوڑانو ڈیم کہا جارہا ہے۔اس ڈیم کی تعمیر سے 12 گوٹھ جو بلاک 2 میں آتے ہیں سرے سے ہی مٹ جائیں گے اور یہاں کی ساری آبادی کو نقل مکانی کرنا پڑے گی۔جبکہ اس علاقے کے سارے درخت، زرعی زمین، چراگاہیں اور مال مویشی بھی تباہ ہوجائیں گے۔تھرکول فیلڈ میں کل 14 بلاک ہیں اور سب سے پانی نکالنے کے لئے ایسے ڈیم بنانے کی ضرورت پڑے گی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر گوڑانو گوٹھ کے قریب سائٹ ہی واحد دستیاب سائٹ ہے تو باقی بلاکس سے پانی کے اخراج کے لئے ڈیم کی سائٹس کہاں سے دستیاب ہوں گی؟ اور 14 ڈیم کے لئے کم از کم مزید ہزاروں ایکٹر زمین درکار ہوگی وہ کہاں سے آئے گی؟ یہ منصوبہ پورے تھر کی ماحولیات کو تباہ کردے گا، ہزاروں تھری باشندے بے دخل ہوں گے۔اور اس علاقے سے ہزاروں سالوں میں سامنے آنے والی نباتات اور درخت بھی تباہ ہوں گے اور یہ سب کچھ ملٹی نیشنل کمپنی کے منافع پہ کیا جارہا ہے۔رسالے سوشلسٹ کے نمائندے کامریڈ رشید آزاد اور عامر حسینی نے ضلع تھرپارکر کا دورہ کیا۔وہ ڈیم کی سائٹ پہ گئے۔اور اس حوالے سے ایک رپورٹ مرتب کی۔جو اس شمارے میں شامل ہے اور ساتھ ساتھ “دی وائس آف تھر فورم ” کی ایک خصوصی رپورٹ کا ترجمہ اور تلخیص بھی شایع کی جارہی ہے۔

گوڑانو ڈیم ایشو اور اس کا حل

رپورٹ: تھر وائس فورم

ترجمہ و تلخیص : عامر حسینی

تھرپارکر ضلع انیس ہزار چھے سو اڑتیس مربع کلومیٹر پہ پھیلا ہوا دنیا کا سب سے برا اور واحد زرخیز اور سرسبز شاداب صحرا پہ مشتمل ہے۔اور یہ سندھ پاکستان کے تمام اضلاع میں سب سے نچلی سطح کا ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس ( انسانی ترقی کا اعشاریہ ) رکھنے والا ضلع بھی ہے۔اور اس ضلع میں 46 فیصد علاقہ صحرا پہ مشتمل ہے۔اور اس ضلع کی 80 فیصد آبادی ہندؤ ہے جبکہ 20 فیصد آبادی مسلم ہے جس میں 95 فیصدی آبادی صوفی سنّی اور شیعہ ہے جبکہ پانچ فیصد دیوبندی اور اہلحدیث ہیں اور یہ دیوبندی اور اہلحدیث گزشتہ 20 سالوں میں ایک فیصد سے 5 فیصد ہوئے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد باہر سے آنے والوں کی ہے۔صحرائی علاقے میں دنیا کے چند بڑے کوئلے کے ذخائر میں سے ایک یہاں موجود ہے جس کا اندازہ 170 بلین ٹن لگایا گیا ہے۔اور ایک واحد علاقے میں یہ شاید دنیا کا واحد اتنا بڑا کوئلے کا ذخیرہ ہے۔

موجودہ صورت حال یہ ہے کہ تھر میں جہاں پہ کوئلے کے ذخائر موجود ہیں اس کو تھر کول فیلڈ کہا جاتا ہے اور اسے 14 مختلف بلاک میں تقسیم کیا گیا ہے۔اور ان چودہ مختلف بلاکوں سے کوئلے نکالنے کا کام مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاس ہے۔سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی – ایس ای سی ایم سی کو بلاک 2 الاٹ کیا گیا گیا ہے جو کہ 95اعشاریہ 5 مربع کلومیٹر پہ مشتمل ہے۔اور یہ تھر کول فیلڈ کے کل رقبے کا ایک فیصد بنتا ہے۔اور اس الاٹمنٹ کے لئے بظاہر کھلے عام نیلام رکھا گیا تھا۔

جب سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی نے 2009-10 میں یہ پروجیکٹ شروع کیا تو لوگوں نے مزاحمت نہیں کی تھی بلکہ مزاحمت اس وقت شروع ہوئی جب ایس ای سی ایم سی /حکومت سندھ نے اس پروجیکٹ کے متاثرین کی دوبارہ آبادکاری کے لئے کوئی فریم ورک پالیسی نوٹی فائی کرنے کی بجائے مقامی لوگوں سے زمین خردنے کے لئے 100 سالہ پرانے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کا استعمال کیا۔یہ واضح طور پہ انٹرنیشنل کنونشن برائے اقتصدی ، سماجی اور کلچرل حقوق –آئی سی ای ایس سی آر اور ان بین الاقوامی ضمانتوں کی خلاف ورزی ہے جس پہ پاکستان نے دستخط کئے ہوئے ہیں۔

ایس ای سی ایم سی اور سندھ حکومت کا مشترکہ وینچر

سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی حکومت سندھ اور اینگرو پاور جین لمیٹڈ (ای پی ایل) کے درمیان الترتیب چالیس ،ساٹھ کی شراکت داری کی بنیاد پہ بنائی گئی۔اس جوائنٹ وینجرر انتظامات کے تحت حکومت سندھ نے انفراسٹرکچر کی تعمیر اور سیکورٹی کی فراہمی ، سائٹ تک رسائی ، زھریلے پانی کی نکاسی اور اس کا ذخیرہ اور اس حوالے سے جو لوگ بے دخل ہوں گے ان کی دوبارہ آبادکاری کرنا ہے۔جبکہ ایس ای سی ایم سی چینی مشینری انجئیرنگ کارپوریشن کے ساتھ ملکر کوئلے کی کانوں سے کھدائی کرکے کوئلہ نکالے گی۔

This story starts from here when the

ایس ای سی ایم سی اور اس کی شراکت دار چینی کمپنی نے 2009-10ء میں بیس لائن بنانے ، ڈیٹا کلیکشن اور فیزیبلٹی کے لئے درکار اقدامات اٹھانے کا کام شروع کیا۔اس کام بلاک 2 میں مقیم تھر کی آبادی نے بالکل مزاحمت نہیں کی اور وہ اسے اپنی ترقی اور خوشحالی کا منصوبہ خیال کررہے تھے۔لیکن اس سال جون 2016ء کے آتے آتے ایس ای سی ایم سی کی غلط کاریوں اور حکومت سندھ کی غفلت کے سبب مقامی لوگوں کی سب امیدیں دم توڑنے لگیں۔

کان سے پانی نکالنے اور اس کے ذخیرہ کرنے کا ایشو

زیرزمین پانی کی تین تہیں ہیں۔اور کانوں کو کھودنے کی شروعات کرنے کے لئے پہلی تہہ سے پانی کو باہر نکالنا ضروری ہے۔ہیگلر بیلے کی ای ایس آئی اے رپورٹ کے مطابق جو اوپر والی سطح اور نچلی سطح پہ پانی ہے اس کی مقدار کا اندازہ لگایا جاچکا ہے-جو اوپر والی پہلی سطح ہے اس کا پانی سب مرسیبل پمپوں کے زریعے سے نکالا جائے گا۔پانی کے نکالے جانےکی شرح 990 لٹر فی سیکنڈ لگائی گئی ہے اور کھدائی کے دوران کسی خرابی سے بچنے کے لئے گراؤنڈ واٹر جدول کو نیچے لانے کے لئے پانی نکالنے کا مکمل سسٹم بروئے کار لایا جائے گا۔اس مقصد کے لئے 28 ڈی واٹرنگ ویل کھدائی کی جگہ کے اردگرد نصب کئے جائیں گے۔کھدائی کی جگہ کے بدلاؤ پہ ہر دو بعد سال 4 نئے ڈی واٹرنگ ویل کی ضرورت ہوگی اور جبکہ کچھ پہلے سے موجود کنوؤں کو بھی بدلنا پڑے گا۔ان کنوؤں سے پانی پائپ لائنوں کے زریعے سے پانی ذخیرہ کرنے کی جگہ پہ پہنچایا جائے گا۔اور یہ حکومت سندھ کرے گی۔

ہیگر بیلے جرمن کمپنی کی اسسمنٹ رپورٹ سے صاف پتا چلتا ہے کہ گوڑانو گوٹھ کی سائٹ کو اس مقصد کے لئے انہوں نے دیکھا ہی نہیں تھا۔نچلے نقشے میں ہمیں سالٹ لیک کا فاصلہ کانوں کی جگہ سے صاف نظر آرہا ہے۔

ایس ای سی ایم سی نے ایک دعوی یہ بھی کیا کہ کنسلٹنٹ آر ای ڈبلیو اور این ای ڈی یونیورسٹی نے اسسمنٹ کی جس میں ڈکر چھو (جھیل ڈکر شاہ ) اور گوٹھ گوڑانو والی سائٹ بھی شامل تھیں۔آر ای ڈبلیو کی رپورٹ سے تو صرف یہ پتا چلتا ہے کہ اس نے اوورآل فیزبیلٹی کی اسٹڈی کی اور اس نے پانی کی نکاسی اور ذخیرہ میں سوائے سالٹ لیک اور رن کچھ کے اور کسی سائٹ کا زکر نہیں کیا۔اور ایس ای سی ایم سی کے خرچے پہ بلاک 2 سے باہر فیزبیلٹی کی منطق بھی نہیں بنتی جبکہ اوپر زکر کیا  جاچکا کہ یہ زمہ داری حکومت سندھ کی ہے۔

این ای ڈی یونیورسٹی کی انجئیرنگ ایسوسی ایٹ فرم سے جو فزیبلٹی تیار کرائی گئی وہ ڈکر شاہ جھیل میں زھریلا پانی ڈالنے کی ہے اور اس میں بھی گوڑانو گوٹھ والی سائٹ کا زکر نہیں ہے۔

گوڑانو ڈیم ایشو

اس وقت سندھ اینگرو کول مائننک کمپنی جس جگہ بلاک دو کا ذھریلا پانی ذخیرہ کرنے کے لئے جس جگہ ڈیم تعمیر کررہی ہے وہ تحصیل اسلام کوٹ میں یونین کونسل گرایانچو کا دیہہ مٹھارو چھوٹو میں واقع ہے اور یہ بلاک 2 سے 26 کلومیٹر دور ہے۔اور اس جگہ پہ نہ صرف کوئلے کی کھدائی کے دوران نکلنے والے پانی کو ذخیرہ کیا جائے گا بلکہ یہیں پہ کول پاور پلانٹ سے نکلنے والا ذھریلا پانی بھی جمع کیا جائے گا جیسا کہ فیزبیلٹی رپورٹ سے ظاہر ہے۔اس مقصد کے لئے 1500 ایکٹر زمین لی جارہی ہے۔اور 1500 ایکٹر زمین میں صرف532 ایکٹر زاتی ملکیت ہے جبکہ باقی کی کی زمین کمیونل ہے اور مویشیوں کی چراگاہوں پہ مشتمل ہے۔اس منصوبے سے 12 گوٹھ براہ راست اور بالواسطہ متاثر ہوں گے، 15000 لوگ بے گھر ہوں گے ، 26 میٹھے پانی کے کنويں اور 5 قبرستان متاثر ہوں گے۔

ایشو اس حوالے سے یہ ہے کہ اینگرو کمپنی پہ وفاقی حکومت کا دباؤ ہے کہ کم از کم 2018ء سے پہلے پہلے وہ ایک کول پاور یونٹ کو تیار کردے تاکہ اس کو الکشن سٹنٹ کے طور پہ استعمال کیا جاسکے۔اور اس جلدی جلدی میں حکومت سندھ نے یہ کیا کہ ایس ای سی ایم سی کو کہا کہ وہ اپنے طور پہ پانی کی نکاسی کا منصوبہ بروئے کار لے آئے اور اس پہ جو خرچہ اٹھے گا وہ بعد میں سندھ حکومت ادا کردے گی ۔اب ایس ای سی ایم سی اسے اپنے طور پہ تیار کررہی ہے۔

سٹریٹجک انوائرمینٹل اور سوشل امپیکٹ اسسمنٹ

حقیقت میں حکومت سندھ کو چاہئیے تھا کہ وہ سٹریٹجک انوائرمینٹل اینڈ سوشل امپیکٹ اسسمنٹ تھر کول مائننگ اور اس سے متعلقہ پروجیکٹس کے لئے کرانی تھی۔لیکن اس حوالے سے حکومت سندھ نے آج تک کوئی معلومات بھی فراہم نہیں کیں۔

حکومت نے 6000 ایکڑ یعنی 24 ربع کلومیٹر رقبہ ری سیٹلمنٹ ایکشن پلان کو سامنے لائے بغیر حاصل کی۔سول سوسائٹی کے کارکنوں اور مقامی لوگوں نے مختلف فورموں کے زریعے سے آواز اٹھائی اور ری سیٹلمنٹ کے حوالے سے مختلف تجاویز اور سفارشات بھی دیں لیکن ایک بھی نہ مانی گئی۔یہاں تک کہ کسی ایک ممبر پارلیمنٹ نے 9100 مربع کلومیٹر کے اندر رہنے والے مقامی لوگوں کی نوآبادکاری جیسے اہم ایشو پہ اسمبلی میں کوئی ایک بل تک لانے کی تکلیف گوارا نہیں کی۔اتنے اہم اور سنجیدہ ایشو پہ اراکین پارلیمنٹ کا اس قدر برا رویہ ان کی اہلیت پر بھی سوالیہ نشان ہے۔اس طرح ری سیٹلمنٹ کا جو ایشو تھا وہ سارا کارپوریشن کے منافع کے مقابلے میں نظر انداز کردیا گیا۔

نوآبادکاری پلان پہ اسقدر زور دینے کی وجہ وہ پوٹنشل رسک ہے جو اس پروجیکٹس کی وجہ سے مقامی آبادی کو درپیش ہوں گے اور ان میں زمینوں سے بے دحلی ، بے روزگاری ، بے گھری ، مارجنلائزیشن ، خوراک کا عدم تحفظ ، اجتماعی پراپرٹی ریسورسز تک رسائی کے نقصانات وغیرہ شامل ہیں

بلاک 2 اور بلاک 5 کے اندر آنے والی زمینوں میں روڈ اور ائرپورٹ کی تعمیر کے دوران ہونے والی زیادتیوں کے باوجود تھر کی عوام نے ایس ای سی ایم سی اور دوسری کمپنیوں کا کشادہ دلی سے سواگت کیا اور ان کو کہا گیا کہ یہ کمپنیاں ان کی زندگیاں بدل دیں گی۔لیکن گزرتے سالوں میں یہ ظاہر ہوگیا کہ یہ جو سارا ترقی کا شور ہے اس کا مقصد تھری عوام کا استحصال کرنا ، ان کو بے دخل کرنے اور ان کو بے عزت کرنے کے ساتھ ساتھ تھری لینڈ کی خصوصی لینڈ اسکیپ کو بے شکل کرنا اور ان کی ایکولوجی اور کلچر کو تباہ کرنا ہے

http://engropowergen.com/wp-content/uploads/2012/PDF/R2M03THP-Final_Report-ESIA_of_Thar_Coal_Block_II_Mining.pdf

http://engropowergen.com/wp-content/uploads/2012/PDF/R2M03THP-The_Appendices-ESIA_of_Thar_Coal_Block_II_Mining_Pr.pdf

جس فرم سے ای ایس ای اسسمنٹ کروائی گئی اس کی دوجلدوں میں  رپورٹ کی پی ڈی ایف فائل اینگروپاور جین کی ویب سائٹ پہ موجود ہے اور اس رپورٹ میں حکومت سندھ کی جانب سے بدین سے لیکر اسلامکوٹ تک رسائی کے لئے روڈ ، واٹر سپلائی چینل کی تعمیر ، پائپ لائن انسٹالیشن ، اس سے جڑا انفراسٹرکچر کانوں سے پانی جو نکلے گا اس کی نکاسی اور پانی کی سپلائی جیسے منصوبوں کی ای ایس آئی اسسمنٹ شامل نہیں تھی

سندھ ایگرو کول مائننگ کمپنی نے کبھی بھی ای ایس ای اے رپورٹ گوڑانو ڈیم پر کبھی شئیر نہیں کیا اور مختلف مواقع پہ جو ڈیٹا کمپنی حکام نے شئیر بھی کیا تو ایک دوسرے سے ٹکراتا ہے اور صاف تصویر پیش نہیں کرتا

حکومت سندھ اور سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے پاس اس پروجیکٹ سے براہ راست یا بالواسطہ متاثر ہونے والے گوٹھوں اور آبادی کے لئے کوئی ری سیٹلمنٹ پلان موجود نہیں ہے۔اور یہاں تک ان کی زمین کے استعمال ، فصلوں کے نقصان ، درختوں کے کاٹے جانے جیسے اقدامات پائپ لائن بچھاتے ہوئے اور ڈیم کی تعمیر کے دوران گاڑیوں اور مشینری کی نقل و حرکت سے ہوگا اس کا معاوضہ دینے کا پلان بھی نہیں ہے اور اسلام کوٹ کے 20 گوٹھوں کو باہم ملانے والا اور ان کو اسلام کوٹ سٹی سے ملانے والا واحد روڈ بھی اس ڈیم کی زد میں ہے

متاثرین یہ دیکھ رہے ہیں

سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کو اپنے منافع سے غرض ہے اور اس کے لئے اسے مقامی آبادی کا جس طرح سے بھی استحصال کرنے کا موقعہ ملے یہ کررہی ہے۔اور یہ انتہائی قابل مذمت ہے

زھریلا پانی یقینی بات ہے ماحولیاتی تباہی لے کر آئے گا جو یہاں پہ سٹور ہوگا

یہ پانی زیرزمین پانی کو بھی ذھریلا کردے گا اور اس سے زرعی زمینوں کی تباہی ہوگی

اس پروجیکٹ سے یہان کے لوگوں کا کوئی خوشحال مستقبل نہیں ہوگا،وہ بے زمین ہوں اور اپنی آبائی زمین سے محروم ہوجائیں گے

مقامی آبادی کا کلچر ، روائیت اور اقدار سب خطرے سے دوچار ہوں گی

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *