احمد پور شرقیہ : ۲۱۴ ٹینکرہلاکتوں کی ذمہ دار Shell!

احمد پور شرقیہ : ۲۱۴ ٹینکرہلاکتوں کی ذمہ دار Shell!

تحریر: ریاض احمد

احمد پور شرقیہ کے مقام پر ٹینکر الٹ گیا، تیل پھیل گیا اور لوگ جمع ہو گئے۔ دھماکہ ہوا اور فوری طو رپر ۵۰ اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لا کر ۲۱۴ افراد جلنے سے ہلاک ہو گئے۔
حکومت ، میڈیا نے ٹینکر حادثہ میں ہلاکت کی ذمہ داری تیل جمع کرنے والوں کی لالچ قرار دی۔ نواز شریف، شہباز، آرمی چیف سب ہی پہنچے ۔ یوں کئی روز تک احمد پور شرقیہ حادثہ واور اس کے ساتھ یہ پراپیگنڈہ کے حکومت کیا کرے لوگ لالچی ہیں یا پھر یہ کہ قریبی برنس سینٹر نہ تھا وغیرہ چلتا رہا۔ صاف ظاہر تھا کہ اتنا بڑا حادثہ یہ بتا رہا ہے کہ برنس سینٹر ہوتا بھی تو ۴۰ فیصد سے زائد جلے ہوئے لوگ دنیا بھر میں کہیں نہیں بچتے تو احمد پور میں کیسے بچتے۔ حکومت ، سیاسی پارٹیوں اور میڈیا کی کوشش یہی تھی کہ عوام کو حادثہ کا ذمہ دار ٹہرایا جائے۔ یوں کسے بچایا جا رہا تھا؟ آئل ٹینکر مالکان، آئل مارکیٹنگ کمپنی شیل اور یوں بڑے سرمایہ داروں کو بچایا جا رہا تھا۔ ناقص سڑکیں، بڑھتی ہوئی تجارت جس کی وجہ سے خوفناک حادثے، حکومت کی جانب سے مارکیٹنگ کمپنیوں کو بے پناہ چھوٹ کہ وہ منافع بنانے میں ٹینکروں کی سیفٹی پر کچھ خرچ نہ کریں اور بڑے ٹینکر مالکان جو غریب ڈرائیوروں کو ہی تختہ دار پر چڑھانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ امیروں کو بچانے کے لیے غریبوں کی لالچ کو سامنے لایا جا رہا تھا۔
ان ۲۱۴ افراد کی موت کی ذمہ دار انکی لالچ نہیں تھی۔ بلکہ انکی موت کی ذمہ دار تیل بیچنے والی بین الاقوامی کمپنی Shellپاکستان تھی ۔ شیل کمپنی نے منافع کمانے کی ہوس میں ناقص ٹینکروں میں تیل بھرے اور آج بھی اسکے ہزاروں ٹینکرز ملک کے طول و عرض میں تیل کے بم لیے گھوم رہے ہیں۔ اور یہ صرف شیل نہیں تمام تیل بیچنے والی کمپنیاں اس خوفناک کاروبار میں کھلے عام کما رہی ہیں۔
شیل کمپنی نے فوری طور پر اپنے آپ کو احمد پور شرقیہ حادثہ سے بری الزمہ کر لیا۔ اپنے بیان میں ڈائرکٹر جاوید چیمہ کہتے ہیں کہ ’ٹینکر مروت انٹرپرائیز کی ملکیت ہے جو شیل ٹرمینل کراچی سے وہاڑی لے جا رہا تھا۔۔۔روڈ سیفٹی شیل کی ترجیحات میں سے ہے‘۔ بعد ازاں کمپنی نے حادثہ کا ذمہ دار اس بس کو قرار دے دیا جو اورٹیک کرنے کے بعد ٹینکر کے آگے آئی اور پھر بریک لگا دیا جس کی وجہ سے ٹینکر الٹ گیا۔
حکومت کی جانب سے آئیل ٹینکروں کے معیار کے لیے قوانین موجود ہیں جن میں ٹینکر کا سائز، وزن اور ہجم، ایکسل لوڈ، انجن کارکردگی، بریک، گئیر کا تناسب، سسپنشن، ویل اور ٹائر تک کے لیے احکامات اور سائز موجود ہیں۔ حکومت کہتی ہے کہ ٹینکروں کے معیار کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری آئل مارکیٹنگ کمپنی کی ہے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنی کہتی ہے کہ یہ ذمہ دار ٹینکر مالکان کی ہے۔ ٹینکر مالکان کہتے ہیں کہ اخراجات اور ٹیکس اتنے زیادہ ہیں کہ وہ معیار پر چلیں تو دیوالیہ ہو جائیں۔ ایسے میں جو کما رہے ہیں وہ یقیناًبڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیاں جیسے شیل، بڑے ٹرانسپورٹرز جیسے مروت انٹرپرائیز ہی ہیں۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی ، اوگرا، نے واقعہ کے ۱۴دن بعد اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں ۸۵ فیصد تیل کی ترسیل کرنے والے ٹینکرز کا معیار ناقص ہے۔ اوگرا ان کمپنیوں کو گزشتہ سالوں میں ہونے والے حادثوں پر بھی وارننگ اور جرمانہ کر چکی ہے۔ اس سے قبل ننکانہ سہی بند ملتان میں ۲۰۱۶ء حادثہ میں بھی جرمانہ کیا گیا تھا۔ لیکن یہ جرمانہ نہ ہونے کے برابر ہے اور دراصل اوگرا بھی اس خونی کھیل میں ملوث ہے۔
اوگرا نے احمد پور شرقیہ حادثہ پر شیل کمپنی کو ایک کروڑ روپے کا جرمانہ کیا گیا ہے۔ اب اندازہ لگائیں کے ۲۱۴ افراد کی موت کی قیمت ایک کروڑ روپے ۔ یعنی فی ہلاکت شیل پر جرمانہ ۵ لاکھ روپے۔ شیل کمپنی نے سال ۲۰۱۶ء میں سالانہ منافع ۷ ارب روپے یعنی ۷۰۰ کروڑ روپے کمایا تھا۔ یوں ایک دن کا منافع ۲ کرروڑ سے زائد ہے۔ اس طرح شیل کو ۲۱۴ افراد کی جان لینے کے بدلے میں صرف ایک دن کے منافع کا نقصان ہوا۔ اوگرا بھی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں جیسے شیل، ٹوٹل، پی ایس او کے ہاتھوں میں ایک کھلونا ہے۔
پاکستان میں تجارت کا ہجم گزشتہ سات سال میں بڑھا ہے اس کا ایک مختصر اندازہ یوں لیجیئے کہ ۲۰۱۰ء میں درآمد اور برآمد ہونے والا کارگو ۴۰کروڑ ٹن تھا ۔ ۲۰۱۶ء تک یہ بڑھ کر ۷۳ کروڑ ٹن ہو گیا۔آئل ٹینکروں کی تعداد ۱۰ ہزار تھی اور اب یہ بڑھ کر ۱۳ ہزار ہو چکی ہے۔اس دوران سڑکوں اور ہائی ویز کے نظام میں کچھ پیش رفت تو ہوئی مگر واضع ہے کہ موجودہ انفرااسٹرکچر اس بڑھتے ہوئے بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتا۔ اسی سبب ہائی ویز پر رش ہے اور حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اور جب شیل جیسی کمپنیاں منافع کی دوڑ میں ٹینکروں کے معیار اور سیفٹی کا خیال نہیں رکھتیں تو حادثات خوفناک سطح اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی احمد پور شرقیہ میں ہوا۔
تیزی سے پھیلتی ہوئی تجارت بڑے حادثات کا سبب ہے۔ اوگرا، ملٹی نیشنل آئل کمپنیاں اور بڑے ٹینکر مالکان حادثات کے ذمہ دار ہیں۔ لیکن اوگرا یا حکومت انہی بڑے سرمایہ داروں کے مفاد میں کام کررہی ہے۔ یہ پہلو قانون سازی سے ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ نہ ہی اچھی حکومت آجائے تو ان کمپنیوں کی منافع خوری کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ سرمایہ داری میں پارٹیاں، حکومتیں، کمپنیاں، قوانین یہ سب کچھ بڑے سرمایہ داروں کے کنٹرول میں ہے۔ سرمایہ داروں کے خلاف مزدور طبقہ کو منظم کر کے سرمایہ داری کی حولناکی کا پردہ چاک کرنے کی ضرورت ہے۔ تیل مہنگا ہے اس لیے کے اسی سے سرمایہ داروں کا منافع ہے۔ تب تک شیل جیسے سرمایہ دار عوام کو اپنی آگ کی بھینٹ چڑھاتے رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *