سندھ نیب قوانین: پیپلز پارٹی کا کرپشن

سندھ نیب قوانین: پیپلز پارٹی کا کرپشن

تحریر: روزا خان

 

پاکستان پیپلز پارٹی نے گذشتہ دنوں میں سینٹ میں صوبائی سطح پر قومی احتساب آرڈیننس (نیشنل اکاؤٹیبیلٹی آرڈیننسNAB )کا قانون ختم کرنے کا بل پیش کیا ۔جس پر اپوزیشن جماعتوں اور اخبارات نے سندھ حکومت کو آ ڑے ہاتھوں لیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔میدان کی گرمی کو محسوس کرتے ہوئے اسے ٹھنڈا کرنے کے لئے وزیر اعظم سندھ مراد علی شاہ کو کہنا پڑا کہ ہم سندھ میں اس سے بہتر قانون نافذ کریں گے ۔
پی پی پی حکومت کے اس ایکشن کے بارے میں ڈیلی ٹائمز میں سبح الحسنین کا کہنا تھا کہ کسی بھی حکومت کو یہ اختیا ر نہیں کہ وہ کسی قانون کو اپنی مرضی سے ختم کر دے کیونکہ قانون نافذ کرنے کا کام وفاق کر تی ہے اس لئے اسے ختم کرنے کا ذمہ بھی وفاق کا ہے۔
مختلف ماہر ین قوانین نے بھی پی پی پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر اسی طرح سے حکومتیں اپنی من مانیاں کرتی رہیں گی تو پھر قانون کی اہمیت ہی کیا رہ جائے گی۔اس طرح سے تو آئے دن لوگ اُٹھ اُٹھ کر قانون توڑتے رہیں گے۔
اپنے آرٹیکل میں سبح نے پی پی پی حکومت کے اس ایکشن پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا کہ اصل میں پی پی پی کے اس ایکشن کا بڑافائدہ تو ان کے ساتھیوں ڈاکٹر عاصم اورشرجیل میمن کو ہوگا جن پر کرپشن کے الزامات ہیں کیونکہ سندھ میںیہ قانون ختم ہوجانے کی وجہ سے ان کو نیب کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔
ڈان اخبار نے بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے پی پی پی حکومت کے اس ایکشن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
۱۹۹۹ء آٹھارویں ترمیم کے بعد نیشنل اکاؤ ٹیبیلٹی آرڈیننس کو آئین کا حصہ بنایا گیا اور اس قانون کے اطلاق کے لئے نیب کا ادارہ بنا۔ یہ ادارہ اپنی ساخت میں خود مختار یعنی کسی کو جوابدہ نہیں ہے ۔اس کا کام کرپشن کے ملزمان کے خلاف تفتیش کرنا ہے ۔

قوانین کیوں بنائے جاتے ہیں؟
جس کی لاٹھی اُس کی بھینس،جس کا نظام اس کا قانون
کوئی بھی قانون بنانے کے پیچھے سرمایہ داروں کا اپنا مفاد چھُپا ہوتا ہے کیونکہ اس نظام کی روح ہی سرمایہ داروں کا مفاد ہے۔
قوانین بنانے میں سماج کے عام شہریوں کا کوئی کردار نہیں ہوتا کیونکہ عام آدمی تو آخرکار عام ہی ہوتا ہے۔ قوانین عام آدمی یا اگر کارل مارکس کی زبان میں بولا جائے تو پرولتاریوں مطلب مزدورں کی طاقت سے نظام یا بڑے سرمایہ دارو ں کے مفا د کی حفاظت کے لئے بنائے جاتے ہیں۔
کرپشن بڑے سرمایہ داروں کا ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے کیونکہ جیسے جیسے وسائل میں کمی ہوتی جائے گی ویسے ویسے بنیادی حق یعنی جینے کے لئے مختلف راستوں کا سہارا لیا جائے گاجس میں کرپشن بھی ایک راستہ ہے۔
کرپشن کا تعلق دراصل طبقے سے ہے۔ ایک طر ف بظاہرطاقتورحکمران طبقہ ہے جس میں بڑے سرمایہ دار شامل ہے اور دوسری طرف مزدور۔سرمایہ دارانہ نظام میں پیداوارپر کنٹرول سرمایہ داروں کا ہوتا ہے۔ اسی لئے تمام ادارے بھی انہی کے ہوتے ہیں اور یہ کام بھی ان کے لئے ہی کرتے ہیں۔ یہ صرف ایک جھانسہ ہے کہ قوانین تو عام عوام کی حفاظت کے لئے بنائے جاتے ہیں ۔
سرمایہ دار جو کہ مزدوروں کی پیداوار کے بل پر پیسہ بٹور رہے ہوتے ہیں، اس پیسے کی حفاظت کے لئے مزدور کی بچپن ہی سے تربیت شروع کر دیتے ہیں جیسے درسی کتابوں میں لالچ بُری بلا ہے اور ایمانداری میں برکت وغیرہ جیسے اسباق پڑھائے جاتے ہیں۔ ان اسباق میں اگر دیکھا جائے تو جو لالچی کیریکٹر ہوتا ہے وہ کُتا ، بلی، بندر جیسا کوئی جانور ہوتاہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ تمام جذبات تو کم عقل اور بیوقوف جانوروں کے ہوتے ہیں ۔ اور ان کے مقابلے میں انسان وہ ہے جو کہ ان تمام جذبات سے پاک ہوگا۔دوسری طرف زندگی ہے جو گزارنی اس سرمایہ دارانہ سماج میں مہنگائی، پرائیویٹ اسکولوں کی آسمان کو چھوتی فیسیں ،مارکیٹ کا ذیادہ دو اچھا پاؤ کا اصول جیسے مسائل میں گھری ہوئی ہے۔ایسے میں جب اپنے حالات اور امیر غریب کے ایک بہت بڑے فرق سے انسان اُکتاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے تو سرمایہ داروں کی اس دی ہوئی تربیت کو گلا گھونٹ کر چھیننے کی ٹھانتا ہے۔ جب ایسے میں پانی سر سے اُٹھ جاتا ہے تو تب یہ قوانین ہی سرمایہ داروں کی دولت بچانے اور مزدور کی اس جرات کو دبانے کے لئے بنا دیا جاتا ہے۔ لیکن کبھی کبھار کھیل اُلٹ بھی سکتا ہے جو کہ آج کل ہو رہا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام آج کل کافی ڈگمگاہٹ کا شکار ہے۔ ایک بڑے سرمایہ دار نواز شریف کا گلا کرپشن کے پھندے میں پھنسا ہوا ہے اور وہ دوسرے سرمایہ داروں کو یہ دھمکیا ں دیتا نظر آرہا ہے کہ میرا منہ نہ کھُلوانا۔عوام کا سامنے ایمانداری اور لالچ بُری بلا ہے جیسا درس دینے والوں کا چہرہ سامنے ہے۔ ایسے میں پی پی پی حکومت کو اپنی ٹینشن کھائی جارہی ہے کہ ا ب ہمارا کیا ہوگا۔ نواز کے بعد اب ہمارا نمبر ہے۔ پبلک اب اچھے سے واقف ہے کہ ہم سرمایہ داروں کی اصلیت کیا ہے ایسے میں اگر ہمارے ممبر ان پرجو کہ کرپشن کے الزام میں قید ہیں ،کرپشن ثابت ہوگئی تو ہمارا حال بھی نوازیوں کی طرح ہوجائے گا۔نیب کا قانون جو کہ اپنے مفاد کو سیکیور کرنے کے لئے بنایا تھا اب اپنے ہی گلے کو آدبوچے گا۔بس پھر عوام کو یہ بول کر کہ اس سے بھی بہتر قانون متعارف کروائیں گے ،بل جمع کروا دیا۔یعنی یہ قانون بُرا ہے۔ایک لحاظ سے سوچا جائے تو ہاں مراد علی شاہ کی بات بھی ٹھیک ہے یہ قانون بُرا تو ثابت ہو گیا ان کے حق میں اور اب انہیں اس لحاظ سے اچھے قانون کی ضرورت ہے جس میں سرمایہ داروں کا گلا دبوچنے جیسی طاقت نہ ہو بلکہ وہ صرف مزدور کے گلے تک ہی رہے۔
یہ بات بالکل حقیقت ہے کہ جھوٹ کی عمر بہت کم ہوتی ہے۔ یہ نظام جس کی بنیاد جھوٹ ہے کب تک چل سکتا ہے۔آخر کب تک دوسرے کو بیوقوف بنایا جا سکتا ہے۔ سرمایہ داروں کا یہ کہنا کہ قوانین عام عوام کے لئے بنائے جاتے ہیں جھوٹ ہے اور کیوں جھوٹ ہے میرے خیال سے موجودہ حالات میں مجھے اس بات کی مزید وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں۔
سوشلسٹوں اور وہ لوگ جو کہ کسی بھی انداز میں اس نظام کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں یا بدلنا چاہتے ہیں کو مل کر اس سماج کی جڑیعنی طبقات کے خلاف لڑائی کو تیز کرنا ہوگا۔ اس گھٹیا نظام کا متبادل یہی ہو سکتا ہے کہ جو پیدا کریں وہی اس پر اختیار رکھے اور ایسا سرمایہ دارانہ نظام میں ممکن نہیں ہے۔ دوسری جانب اصلاحات کی ایک لمبی فہرست بھی موجود ہے۔ جو کہ آدمی کو نیک تو بنا سکتی ہے لیکن سماج کو تبدیل نہیں کر سکتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *