حکمران طبقہ اور خواتین کی حرمت

حکمران طبقہ اور خواتین کی حرمت

تحریر: ریاض احمد

مریم نواز شریف پاناما جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے ۵ جولائی ۲۰۱۷ء کو پہنچیں۔ صبح سے دن گیارہ بجے تک میڈیا پر ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے مریم کو جیل بھیجا جا رہا ہے اور وہ بے گناہ ہے۔ مریم کی ٹوئیٹ تو ایک دن پہلے سے ہی کبھی باپ نواز شریف کی آنکھوں میں تشویش ، جے آئی ٹی جانے سے قبل ماں کے ساتھ تصویر جیسے رخصتی ہو رہی ہو،جے آئی ٹی آمد کے وقت بھائیوں کا ساتھ۔ یہ مناظر بتا رہے تھے کہ بے قصور مریم کو عدالتوں میں گھسیٹا جا رہا ہے۔ مشرقی روایات کا پاس تو خیر ہر طرح کے ن لیگی لیڈر نے دیا۔
مشرقی روایات کا جس بھرپور طور پر ن لیگ نے استعمال کیا ہے اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں مشرقی روایات زندہ ہیں۔ مشرقی روایت میں یقیناًحرمت، پاسداری، خواتین پر زیادتی سے اجتناب، انہیں رسوائی سے دور رکھنا اولین اخلاقی پیمانے سمجھے جاتے ہیں۔
البتہ یہ معاملہ عورت کا نہیں یا مریم کے عورت ہوے کا نہیں بلکہ طبقاتی ہے۔ عورت اگر مالدار طبقے سے ہے تو مشرقی روایت اس کی حافظ و ضامن۔ عورت اگر نچلے اور غریب طبقہ سے ہے تو یہی مشرقی روایت اس پر جابر۔ انہی روایات کی وجہ سے مشرق میں خواتین کو مسلسل دوسرے درجے کا شہری بنائے رکھنے کا جواز بھی گڑھ لیا جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے قوانین کو اسلامی بنانے کا جب کبھی بھی کام کیا گیا تو اسی مشرقی روایت کا سہارا لے کر خواتین کو آدھا گواہ، زناء کے الزام میں گواہ لانے کا ذمہ دار، کارو کاری اور زبردستی مذہب کی تبدیلی میں اغواء ہونے کے باوجود خاندان کو واپسی سے انکار جیسے مسائل میں جڑ دیا گیا۔ عورت کمزور ہوتی ہے کا جواز گڑھ کر حکمران طبقہ نے کمزور، غریب، بے سہارا عورت پر جبر بڑھا دیا۔
ن لیگ کی حکومت جس روز مریم کے بیٹی ہونے پر جے آئی ٹی میں طلب کیے جانے پر تشویش کا اظہار کر رہی تھی اسی روز یعنی ۴ جولائی کی رات اسلام آباد کے گرینڈ ہوٹل میں اسسٹنٹ کمشنر نے چھاپا مار کر پچاس لڑکے لڑکیوں کو ڈانس کرنے اور شیشہ پینے پر گرفتار کر لیا۔ ان لڑکیوں اور لڑکوں کی پولیس حراست میں تصاویر اور ویڈیوز بھی پولیس نے میڈیا میں پہنچا دیں۔ مریم نواز کی بیٹیوں جیسی عمر کی یہ لڑکیاں اور لڑکے یقیناًاسی مشرق زدہ پاکستان کے اسی اسلام آباد شہر میں رہتے ہیں جہاں مریم خود رہتی ہیں اور ان کی عدالت طلبی پر رسوائی ہو رہی تھی۔ لیکن ان پارٹی کرتی لڑکیوں کی تصاویر اور ویڈیوز میڈیا میں دینے والے افسر شاہی کو مشرقی روایات نہیں یاد آئیں۔ دیگر کی طرح اسلام آباد میں رہنے کے باوجود ان بچوں کے والدین اس قدر اثر رسوخ نہ رکھتے تھے کہ پولیس کو روک سکتے۔ جن قوانین کے تحت پولیس نے بچوں کو حراست میں لیا یہ وہی تھے کہ جن کے حقوق نسواں بچانے کے لیے قوانین بنائے گئے تھے۔
دوسری جانب جب معاملہ مالدار طبقے کی عورت کا ہو تو انہی مشرقی روایات کو استعمال کر کے سرمایہ دار اپنا جرم چھپاتے ہیں۔ مریم نواز شریف کے معاملے میں یہی ہو رہا ہے۔ نواز شریف کی سیاست کا ایک اہم کردار گزشتہ پانچ سال سے مریم نواز شریف ہی ہیں۔ میڈیا کو کنٹرول کرنے سے لے کر اربوں روپے کے پروجیکٹوں کی نگران بھی یہی ہیں۔ طبقہ اعلیٰ کی عورت ہوتے ہوئے مریم نواز شریف ہر وہ پبلسٹی مہم اپنے پروفائل کو بڑھانے کے لیے چلاتی ہیں جو کے ایک عیار مرد سیاست دان چلاتا ہے۔ پروجیکٹوں میں من پسند افراد اور یوں کمیشن کمانا اور اسے ٹھکانے لگانے کا کام بھی یہی طبقہ اعلیٰ کی عورت کرتی ہے۔ ملک سے باہر دولت منتقل کرنے کے ثبوت ان ہی تمام لوگوں کے پاس ہیں جو نواز شریف کی کمیشن میں لوٹی دولت کو ملک سے باہر لے جانے اور اسے ٹھکانے لگانے میں ملوث ہیںیعنی ہم ذلف ڈار، داماد صفدر، بیٹے حسین اور حسن اور بیٹی مریم۔ اس لیے مریم نواز کا عورت ہونا اسے گھر میں محکوم نہیں کرتا، نہ ہی عورت مخالف قوانین کی زد میں کبھی لائی جا سکتی ہیں۔ یہی صورت بے نظیر بھٹو کی تھی۔ زرداری کے کرپشن کی ہم پلہ وہ ہم نوالہ اپنے مشرقی عورت ہونے کے امیج کو شلوار قمیض، سر پر آدھا ڈوپٹا ، مزاروں اور پیروں کی حاضری سے ظاہر کرتی ۔شہید جمہوریت عورت تو تھی لیکن حکمران طبقہ کی عورت تھی۔
ن لیگ کے مشرقی روایات کا پاسدار ہونے کے دعوے نہ صرف جھوٹے ہیں بلکہ پورا حکمران طبقہ مشرقی روایات کا نام اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ درحقیقت یہی وہ ن لیگ ہے جس نے پاکستان پروٹیکشن آرڈیننس، اینٹی ٹیرر ازم ایکٹ جیسے سیاہ قوانین بنائے، کراچی، سندھ، بلوچستان، پختونخوا میں فوجی آپریشن کروائے اور کمزور اور بے بس کو تشدد، گرفتاریوں، ٹارچر، ماورائے عدالت قتل کی بھینٹ چڑھا دیا۔ طبقہ اعلیٰ کے مفاد کا وقت آیا تو گیلانی کو وزیر اعظم سے ہٹا دیا گیا مگر کوئی سزا نہ ہوئی، راجہ رینٹل بھی آزاد ہے، زرداری پر تو کیس ہی نہ چلا اور عاصم حسین تو حراست میں ہوتے ہوئے ضیاء الدین ہسپتال سمیت اربوں کا کاروبار چلاتے رہے۔
حکمران طبقہ کے نزدیک معیار دہرا ہے۔ امیر کے لیے الگ اور باقی کیلیے الگ۔ ان کی چوری جب پکڑی جانے لگتی ہے اور موجودہ نظام میں رہتے ہوئے اسے چھپایا نہیں جا سکتا تو یہ حیلے بہانے،انتقامی کاروائی ، روایات کا رونا روتے ہیں۔ لیکن طبقہ بحیثیت مجموعی عوام الناس کو اپنے جبر سے آزاد نہیں کرتا۔ آج بھی ہزاروں خواتین جیلوں میں قید ہیں کیونکہ انکے مقدمات نہیں چل رہے، سینکڑوں عورتیں زناء بالجر کا شکار ہیں لیکن ان کے مجرموں کو یہ نظام ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ اور حکمران طبقہ کی عورت چاہے بے نظیر ہو یا مریم نواز ان جبر کا شکار عورتوں پر جبر ختم کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کرتی۔ بلکہ عمومی طور پر اقتدار بچانے کے لیے ہر طرح کے آہنی قوانین، فوجی آپریشن، ماورائے عدالت ہتھکنڈوں کے استعمال کو قانون کی بالا دستی، ریاست کی رٹ اور ملک کی ترقی و خوشحالی کی ضامن قرار دیتی ہے۔ سرمایہ دارانہ جمہوریت میں مشرقی روایات کا تڑکہ صرف ایک تڑکہ ہی ہے۔ ویسا ہی تڑکہ جیسا قانون کی بالا دستی، عدالتوں کا احترام ، ترقی و خوشحالی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *