پاناما کیس: حکمران طبقہ کا کچا چٹھا

پاناما کیس: حکمران طبقہ کا کچا چٹھا

تحریر: روزا خان

نواز حکومت کا عدالتوں اور تحقیقاتی ٹیم پر سخت اعتراضات کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ ان سے ان کے اثاثوں کا حساب مانگا جا رہا ہے۔نواز خاندان اور پارٹی اسی بوکھلاہٹ میں کبھی لعن طعن ، کبھی رحم کی اپیل اور دھمکیاں دیتی نظر آرہی ہے۔گزشتہ دن سعد رفیق کا میڈیا پر بیان آیا جس میں نوازخاندان کو پاک دامن ثابت کرنے کی غرض سے خوب رونا دھونا کیاگیا۔ اپوزیشن لیڈر اور پی ٹی آئی کے لیڈر عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر عمران خان ہمیں اپنی مدت پوری نہیں کرنے دے گا تو ہم بھی چپ نہیں رہیں گے۔ مزید کہا کہ پانامہ کیس کے ذریعے ہماری ٹانگیں کھینچی جا رہی ہیں۔ اس کے بعد لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے کہا کہ ہم پاکستان کو قبرستان نہیں بننے دیں گے۔ جے آئی ٹی میں مریم نواز کے بلانے پر وزیر خزانہ اسحاق ڈاراور مریم نواز کے چچا شہباز شریف میڈیا پر آ کر کہتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے کہ ہماری ماں بہنوں کا کورٹ میں بلایا جا رہا ہے۔دوسری طرف مریم نواز اپنے والد نواز شریف کو حوصلہ دینے کے لئے کہتی ہے کہ میں آپ کی بہادر بیٹی ہوں اور عدالت کے سامنے بناء کسی دباؤ کے پیش ہوں گی ۔2016کے پانامہ پیپرز میں برطانیہ کے وزیراعظم ڈیون کیمرون کا نام بھی آیا ۔ اس کے بعد کیمرون نے بھی نواز خاندان کی طر ح ہی خود کو معصوم ثابت کرنے اور ان آف شو کمپنیوں سے لاتعلقی ظاہر کرنے کے کوشش کی۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کیمرون نے پانامہ پیپرز کے بعد کہا کہ میرے پاس ایسا کچھ بھی نہیں ہے جومجھے چھپانے کے ضرورت ہو۔ میرے پاس جو کچھ بھی ہے سب میرے باپ دادا کی جائیداد ہے۔
جہاں عام عوام کے کندھوں پر ہر سال بجٹ کے بعد مختلف اشیاء پر ٹیکس لگا کرمہنگائی کا بوجھ رکھا جاتا ہے وہی حکمران طبقہ اس بوجھ سے بالکل آزاد اپنی عیاشی کی زندگی گزارتا ہے۔جس نظام میں عام آدمی کو قانون کی پاسداری کا درس دیا جاتا ہے وہی سرمایہ دار اسی قانون کی دھجیاں اُڑاتے نظر آتے ہیں۔ عدالتوں کا احترام ہر شہری پر لازم ہے۔عدالت کی توہین کرنے کی صورت میں کڑے سے کڑے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عدالت انصاف کے ادارے ہیں۔ کوئی بھی ملک بنا ء عدلیہ یعنی عدل کے چل نہیں سکتایہ تمام اصول اور ضابطے محض ایک عام عوام کے لئے ہے اور پانامہ کیس اس حقیقت کو سامنے لے آئی۔
نواز خاندان پانامہ لیکس کے بعد باقی سرمایہ داروں سے بالکل کٹ گیاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پانامہ اسکینڈل نے نواز حکومت کی ٹیکس چوری اور ملک کا پیسہ باہر بھیجنے کا پول کھول کر رکھ دیااور اسے عوام کے سامنے لا کھڑا کردیا۔ اب اگر باقی سرمایہ دار ان کا ساتھ دیں کو ان کے ساتھ ساتھ وہ بھی چور کہلائے ۔دوسری طرف پی ٹی آئی تمام مسائل کی جڑ کرپشن کرپشن کے نعرے سے کرپشن کو قرار دینے میں جی اور جان کا زور لگا رہی ہے اور عوام کو سہانے خواب دکھا نے میں مگن ہے۔پی ٹی آئی کے لیڈر عمران خان نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں کارکنان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب پاکستان کا مستقبل بدل جائے گا۔ ایک اور بیان میں ان کا کہنا تھا کہ بڑے لوگوں کا احتساب ہونے کا عمل شروع ہوگیا ہے اس لئے اس حال کی تاریک راتیں مستقبل کی روشنیاں بن کر سامنے آئیں گی۔ان تمام باتوں کا مقصد عوام کو یہ باور کروانا ہے کہ اصل مسئلہ نظام کا نہیں بلکہ نظام چلانے والوں کا ہے۔ اور اگر یہ نظام میرے ہاتھوں میں آجائے گا تو مستقبل روشن روشن۔ اس کا برملہ اظہار انہوں نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں یہ کہہ کر کیا کہ کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد الیکشن کی تیاریاں شروع کر دیں گے۔
دنیا کی کُل دولت کا بہت بڑا حصہ چند امیر ترین لوگوں کے پاس ہے۔تحقیق کے مطابق دنیا بھر کی43ہزار 60بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں۔ان میں سے 13 ہزار18کمپنیاں ایسی ہیں جو کہ کاروباری امور میں ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور ان کے مالکان کے تعداد صرف بیس ہے۔ پھر ان کمپنیو ں میں 147ایسی کمپنیاں ہیں جوکہ ان میں بھی سب سے زیادہ دولتمندہیں۔یہ13ہزار18کمپنیاں کُل جتنی دولت پیدا کرتی ہیں اس کے 40 فیصددولت صرف یہ 147 کمپنیاں پیدا کرتی ہیں۔ یوں اگر دیکھا جائے تو دنیا کی کُل دولت کا 40%ان بڑے سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں ہے۔ پانامہ پیپرزاسکینڈل بتاتاہے کہ عالمی امراء ، بینک، اورکارپوریشنیں اورنوازشریف جیسے طاقتورسیاستدان کس طرح کروڑوں عوام کی قیمت پراپنی دولت کوتحفظ دے رہے ہیں۔پنامہ پیپرزمحض یہ نہیں بتاتاکہ ایک بہت اقلیت پرمبنی طبقہ امراء کرپشن میں ملوث ہیں بلکہ یہ ظاہرکرتاہے کہ عالمی طبقہ امراء کس بڑے اورمنظم طریقے سے یہ لوٹ کررہے ہیں۔ اس میں دولاکھ چودہ ہزارسے زائد کمپنیوں آف شورکمپنیوں کے بارے میں معلومات ہیں جس میں دکھایاگیاہے کہ کس طرھ دوسوممالک اورعلاقوں کااستحصالی طبقہ آپس میں منظم طریقے سے کام کررہاہے۔
نوازشریف جیسے حکمران ہرآن ہمیں باورکرارہے ہوتے ہیں کہ عوام کودینے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ عوام پرٹیکسوں کابوجھ لاداجاتاہے ۔لیکن ان کی چوری کی دولت کاکوئی حساب نہیں۔لیکن اس کی وجہ کیاہے؟ سرمایہ داری کی بنیادی سرمایہ کے ارتکازپرہے۔ یہ ہردم آپ کومقابلے کے ہاتھوں مجبورکرتاہے کہ آپ چوری کریں، ٹیکس چھپانے کے طریقے ڈھونڈیں تاکہ اپنے مقابل کے سرمایہ دارسے زیادہ دولت اکٹھاکرسکیں۔ یہ لالچ کوئی اخلاقی مسئلہ نہیں۔ بلکہ یہ سرمایہ داری کے ساتھ جڑاہواہے۔ سرمایہ داری مقابلہ کانام ہے جوا س دوڑمیں پیچھے رہ جائے اس کے لئے تباہی کے سواکوئی راستہ نہیں۔ یوں ایک دوڑلگی ہوئی ہے۔ ریاستیں اوران کی عدالتیں اس مقابلہ کی مخالفت نہیں کرتیں۔ کیونکہ یہ ریاستیں اوران کے قوانین میں یہ گہرائی تک پیوستہ ہیں۔ یہ اس مقابلہ کولاگوکرتی ہیں اوریہ مقامی اوربین الاقوامی سطح پراس کوپروان چڑھاتے ہیں۔ یہی پرسارامسئلہ ہے۔ یہی وہ محدودیت جوعمران خان جیسے سیاستدان سامنے نہیں لاتے   کیونکہ یہ نظام بدلنے کی نہیں بلکہ پر اس میں کچھ اصلاحات ہی کرسکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بتانے سے قاصرہیں کہ سرمایہ داری میں اتنی بڑھی دولت کی جڑکہاں ہے؟ ا س کی جڑاستحصال میں ہے۔
سرمایہ داری کابحران ،سرمایہ داروں اوران کے اداروں کے مابین تضادات اوراختلافات کوسامنے لاتاہے۔ بظاہر بہت مضبوط نظر آنے والا یہ نظام اس قدر بُھر بُھرا ہے کہ جب اسے ہلکا سے دھچکا لگے ہے تو یہ ڈھولنے لگتا ہے۔اس کی مثال تاش کے پتوں کے اس محل کی طرح ہے جس کو ہوا کا ایک جھونکا بھی تتربتر کر سکتا ہے سرمایہ داروں کا کاروبار ایک دوسرے سے منسلک ہونے کی وجہ سے ہی کارل مارکس حکمرانوں کو ایک طبقے کے طور پر دیکھتا ہے۔دوسری طرف مزدور طبقہ ہے جو اس تاش کے محل کے لئے ہوا کا جھونکا کی سی ہے۔۔سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد چوری اور استحصال ہے۔اسی لئے جب کسی ایک سرمایہ دارکا اصل چہرہ سامنے آتاہے تو وہ باقیوں کی طرف یہ سوچ کر دیکھتا ہے کہ ہم سب ہی چور ہیں کیونکہ ہم سب مل کر ہی تو چوری اور لوٹ پر کھڑے اس نظام کو چلا رہے ہیں۔ تو پھر میں ہی کیوں؟
سرمایہ داری سے کرپشن کاخاتمہ نہیں کیاجاسکتا۔ یہ نظام ہی دراصل سرمایہ کے مفاد میں منظم ہوکرچلایاجاتاہے۔ ہمیں اس کے برعکس ایک ایسانظام وضع کرناہے جوعام آدمی کے مفادمیں چلے۔ اس مقصدکے لئے ہمیں اس گلے سڑے نظام کاایک سوشلسٹ متبادل آگے لاناہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *