دھرتی کا میڈیم، اپنا میڈیم

دھرتی کا میڈیم، اپنا میڈیم

تحریر: ولید احمد

ہندی میڈیم نے دو ہفتوں میں ۳۷ کروڑ روپے کا بزنس کر لیا۔ مئی کی آخری اتوار کو اس نے ۵ کروڑ روپے کمالیے۔ موضوعاتی فلم کے لیے جس میں نہ مرچ مصالحہ ہو نہ ناچ گانا اتنا بڑا بزنس کر نا کمال ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ ہندی میڈیم میں کچھ خاص بات ہے جو لوگوں کو اس کی طرف کھینچتی ہے۔ ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ فلم سچائی پر مبنی ہے۔ہندی میڈیم کا موضوع یہ ہے کہ نو دولتی ماں باپ بچے کی پرائیویٹ تعلیم کو مستقبل سمجھتے ہیں ، بڑھیا اسکول میں داخلے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں۔ بڑے نجی اسکول میں داخلے کا مطلب بچے کا مستقبل محفوظ کیونکہ اب وہ پروفیشنل ڈگری سے ملٹی نیشنل کا ملازم بن جائے گا۔مڈل کلاس کواس کے بغیر اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔اس کااحساس عدم تحفظ انتہاء پر ہے۔نجی تعلیم نہیں تو مستقبل نہیں۔ تعلیم نہیں خرید پائے تو مستقبل نہیں خرید پائے۔ بڑے سرمایہ داروں نے سرمایہ داری کا غلام مڈل کلاس کو ہی بنایا ہے۔ یہی وہ سچ ہے جو بے کراچی میں بھی مڈل کلاس کے ہزاروں افراد کو ہندی میڈیم دیکھنے پر کھینچ لایا۔ ورڈ آف ماؤتھ، یعنی ایک نے دوسرے سے کہا فلم کو دوسروں کو دیکھنے کاکہنے کا سبب بنا۔ مڈل کلاس والدین جو کراچی جیسیبڑے شہروں کے سینما گھروں میں فلمیں دیکھنے جاتے ہیں یہی ہندی میڈیم اس لیے دیکھنے گئے کہ یہ ان کی اپنی تصویر تھی۔ ہندی میڈیم جن والدین کو بچوں کے اسکول میں داخلے کے لیے سب کچھ قربان کرتا دکھاتی ہے یہ حقیقی والدین ہیں۔ سچائی اسکرین پر آجائے تو کیا لوگ اسے دیکھنے چلے آتے ہیں؟
نہیں۔ سچائی اسکرین پر لانا کافی نہیں۔ اس سچ میں حقیقی انسانی کردار، ان کرداروں کی زندگی میں تبدیلی، ان کے اطراف کی زندگی میں تبدیلی، کل حقیقت میں تبدیلی اور پھر اس کا اسکرین پر آنا یہ ہے وہ ڈھلتا بدلتا، اجلا میلا سچ جواسکرین پر آئے تو لوگ اسے دیکھنے آتے ہیں۔ سچ سفید نہیں، صاف و شفاف نہیں۔ سچ بدلتا، رنگ بدلتا، روپ بدلتا،اندر سے باہر بدلتا سچ ہوتا ہے۔ ہندی میڈیم ایک بدلتا سچ ہے۔انڈیا میں نئی مڈل کلاس کے سو مسائل ہیں، یہی پاکستانی مڈل کلاس کے بھی ہیں۔ سب میں بڑا مسئلہ معیارِ زندگی برقرار رکھنے کا ہے۔ مڈل کلاس یا تو دفتر میں پروفیشنل کام کرتی ہے یا پھر چھوٹا کاروبار۔ راج بترا (عرفان خان) ایسا ہی ایک درزی کا بیٹا ہے جو محنت سے چاندنی چوک دلی میں شادی کے ملبوسات کی بڑی دکان کا مالک بن جاتا ہے۔ یہ چار جماعت فیل ہے۔ اس کی بیوی میتا(صبا قمر، ہم سب امید سے ہیں کی سابقہ ہوسٹ) پڑھی لکھی۔ دونوں کی ایک اولادپیا جس کو یہ دلی کے بڑے پرائیویٹ اسکول میں داخل کرانا چاہتے ہیں۔ یہ رہتے پرانی دلی میں، گھر میں ہندی بولتے، عرفان کو انگریزی نہیں آتی، طور طریق اس کے سڑک چھاپ دکاندار جیسے۔ البتہ عرفان اور صباء ہیں دھن کے پکے۔ یہ روتے دھوتے رشتہ داروں کو چھوڑ کر پرانی دلی سے وسنت وہار جیسے پوش علاقے میں شفٹ ہوتے ہیں، عرفان کلچرل شاک سے گزرتا ہے کیونکہ نہ انگریزی نہ وہ رکھ رکھاؤ،داخلوں کے لیے ماں باپ اور بچے کی تربیت کے سینٹر میں بڑی فیس بھرتے ہیں۔ مگر ناکام۔ داخلہ نہیں ہوتا۔ پھر انہیں پتہ چلتا ہے کہ غریبوں کے کوٹے پر داخلہ ہو سکتا ہے۔ انٹرول کے بعد پوری فلم عرفان اور صباء کے غریبوں کی بستی منقتل ہونے اور وہاں بسنے کی داستان ہے۔ یہ بڑی تکالیف اٹھاتے ہیں، مچھر اور چوہے ، پانی کے لیے لڑائی، بجلی کی لوڈ شیڈنگ، گندگی، فیکٹری میں سخت کام سب کچھ۔ لیکن انہیں اسی بستی میں حقیقی انسان بھی مل جاتے ہیں۔ ایک پڑوسی تو فیس کے لیے اپنا حادثہ کرالیتا ہے، اسی کا بچہ داخلے سے محروم رہ جاتا ہے اور عرفان اور میتا کی پیاکا داخلہ ہو جاتا ہے۔ داخلہ ہوتے ہیں یہ غریب محلہ چھوڑ کر وسنت دہار شفٹ ہو جاتے ہیں۔ یہ جانتے ہیں کہ انہوں نے ایک غریب کی سیٹ مار کر اپنی بچی کا داخلہ لیا۔ یہی احساس جرم فلم کا انجام ہے۔
مڈل کلاس مسائل ہندی فلموں کے موضوع باربار بنتے ہیں۔ پاکستان اور انڈیا میں مڈل کلاس ایک ہی دور میں پروان چڑھی ہے۔ کراچی کی بہار کالونی، مہاجر کیمپوں سے ناظم آباد شفٹ ہونی والی نسل پروفیشنل مڈل کلاس بنی، ان کی اولاد امریکہ اور یورپ منتقل ہو گئی۔ یہی کچھ انڈیا میں بھی ہے۔ البتہ ایک فرق یہ ہے کہ وہاں جہاں مڈل کلاس تیزی سے بڑھی تو اس سے قبل ریاست کا تعلیم اور صحت میں کردار بھی تیز تر تھا۔ اب اس ریاستی کردار کی باقیات میں کوٹہ برقرار ہے ۔ مڈل کلاس اسکول میں غریب کوٹہ۔ اور یہ کوٹہ اس لیے رکھا گیا تھا تا کہ پھیلتی ہوئی سرمایہ داری جہاں ریاست کو تعلیم کے میدان سے باہر کر رہی تھی وہاں عوام کو مطمئن کرنے کے لیے اس نے پرائیویٹ اسکولوں میں غریبوں کے لیے۲۵ فیصد کوٹہ رکھ دیا تھا۔ یوں غریبوں میں مڈل کلاس بننے کی امید انہیں مڈل کلاس کی بالادستی کو چیلنج کرنے کے بجائے اس میں اپنے حصہ کی تلاش میں سرگرداں کر دیتی۔ فلم ہندی میڈیم میں یہ ایک تلخ سچ دکھایا گیا ہے کہ غریبوں کا محلہ جہاں اس کوٹہ کو اپنا حق سمجھتا ہے وہیں یہ نہیں دیکھتا کہ مڈل کلاس اسکول میں ۷۵ فیصد تو ہمیشہ امیر ہی رہیں گے۔ سرمایہ داری جہاں طبقاتی فرق پیدا کرتی اور اسے گہرا کرتی ہے وہیں یہ اس فرق کو دھندلا بھی دیتی ہے۔
ہندی میڈیم کی اچھائی یہ ہے کہ اس نے مڈل کلاس کی امنگوں کو تصویر یعنی فلم بنایا ہے، غریبوں کی تلخ زندگی میں بھائی چارگی ، دوستی اور انسانیت کو اجاگر کیا ہے۔ اس کا پیغام یہی ہے کہ انگریزی میڈیم سے ہندی میڈیم یعنی نجی اسکول سے پرائیویٹ اسکول اچھا ہے۔ اور یہی ایک بہت بڑا سیاسی بیان ہے۔ ایک بڑی تبدیلی کی علامت۔ پاکستان کی طرح انڈیا میں بھی نجی اسکول فیل ہو چکے ہیں۔ یہ مڈل کلاس میں بھی ایک چھوٹی سی اقلیت کے لیے مستقبل دیتے ہیں۔ ان اسکولوں میں بچوں کو تعلیم نہیں بلکہ پروفیشنل بنایا جا رہا ، ایک کاروباری ذہن کا، مطلب پرست ، خود غرض اور بے رحم انسان۔ جبکہ سرکاری اسکولوں کی حالت تباہ ہے ، ان میں ڈیسک اوربورڈ تک نہیں۔ لیکن پھر بھی سب کے لیے یکساں تعلیم ہی حل نظر آتا ہے۔ کچھ کے لیے بہتر مستقبل اور اکثریت کے لیے اندھیرے یہ وہ فراڈ ہے جو نجی تعلیمی اداروں کو آگے لاتا ہے۔ نجی اسکول ناکام ہو چکے ہیں، یہ طبقاتی ناہمواری کو جواز فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی نجی اسکولوں کے خلاف ایک تحریک کی ضرورت ہے، یہ تحریک کام کرنے والے غریبوں اور مڈل کلاس کے لوگوں کو شروع کرنی ہو گی، طلبہ اور اساتذہ کو ساتھ ملانا ہو گا۔ تب ہی میڈیم بدلے گا، اپنا میڈیم ،اپنی دھرتی کا میڈیم۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *