حکمران نہیں چاہتے لیکن روسی انقلاب اب بھی حاوی رہے!

حکمران نہیں چاہتے لیکن روسی انقلاب اب بھی حاوی رہے!

انٹرویو ڈیو شیری، ترجمہ روزا خان

سیلی کیمبل نے روس ۱۹۱۷ء نامی نئی کتاب کی مصنف ڈیو شیری سے بات چیت کی کہ کس طرح روسی انقلاب آج کے سماج سے مطابقت رکھتا ہے اور کیوں اس انقلاب کی عوامی جمہوری فطرت اب بھی مین اسٹریم کے بیانہ میں مخفی ہی نظر آتی ہے۔
سوال: کئی ایک سوشلسٹوں کے لیے روسی انقلاب تاریخ کا سب سے اہم واقعہ ہے۔ البتہ کئی ایک نوجوانوں کے لیے یہ تاریخ کا ایک اور قدیم واقعہ ہے۔ آپ کیا کہیں گے ایک نوجوان کارکن سے کہ جو آج انقلاب کی اہمیت کو اتنا اہم نہیں سمجھتا؟
جواب: آج کی دنیا اُتنی ہی گھمبیر اور دہشت زدہ کردینے والی ہے کہ جتنی روسی مزدوروں، فوجیوں اور کسانوں کیلیے تھی اور انہی حالات کے خلاف یہ لوگ فروری ۱۹۱۷ء میں باغی ہو گئے تھے۔ آپ اگر یہ دیکھیں کہ اس دور میں لینن کیا لکھ رہا تھا تو آپ کو لگے گا کہ آج کے دور میں یہ باتیں فٹ نظر آئیں گی۔ ۱۹۱۸ء میں لینن نے ’امریکن مزدودروں کے نام ایک خط‘ لکھا۔ یہی خط آج کے ٹرمپ کے امریکہ کی بابت بھی لکھا جا سکستا ہے ۔ لینن نے ذکر کیا تھا ’چند مٹھی بھر اکڑ فون ملٹی ملین ڈالر مالکان کا جو دولت اور عیاشیوں میں ڈوبے پڑے ہیں اور کروڑوں مزدور عوام مسلسل مفلوک الحالی کی زندگی گزار رہے ہیں‘۔
۱۹۱۷ء سے اب تک کافی کچھ بدل چکا ہے۔ سب بہتری کے لیے بھی نہیں بدلا۔ البتہ اس بحران میں جس کا ہمیں سامنا ہے اور اس بحران میں کہ دنیا جس سے ۱۹۱۷ء میں دوچار تھی کافی کچھ ملتا جلتا ہے۔ روسی انقلاب نے پورے یورپ میں انقلابات کے دھماکے بپا کردئیے تھے۔ اس کے نتیجے میں پہلی عالمی جنگ ختم ہوئی کہ جو ساڑھے تین سال سے جاری تھی۔
اسی نے نوآبادیاتی دنیا میں بغاوت کو جلا دی۔ عظیم یورپی سلطنتیں اور امریکہ کے ذیر اثر دنیا تب بھی تھی اور اب بھی ہے۔ روسی انقلاب عوام کے نیچے سے کھڑے ہونے اور ناقابل تسخیر آمریتوں کو چیلنج کرنے کا سبب بنا۔ اس کا بے پناہ اثر چین ، آئیرلینڈ، عراق اور دیگرجگہوں پر ہوا۔ یہ کوئی تاریخ کس سبق نہیں، یہ تو اس بات کا اشارہ ہے کہ کس طرح لوگ اس دنیا سے نمٹ سکتے ہیں کہ جہاں آج آٹھ لوگوں کے پاس اتنی دولت ہے کہ جو دنیا کی آدھی آبادی کے پاس دولت سے بھی زیادہ ہے۔
سوال: ۱۹۱۷ء کے بعد سے کئی ایک انقلابات آئے ۔ پھر کیا بات ہے کہ جو روسی انقلاب کو منفرد بنا دیتی ہے؟
جواب: روسی انقلاب کی کئی خصوصیات ہیں کہ جو انقلابات کے ایک لمبے سلسلے میں ملتی بھی ہیں۔ حکمران تو نہیں چاہتے مگر روسی انقلاب آج بھی حاوی ہے۔ روسی انقلاب از خود یورپ بھر میں انقلاب ابھارنے کا سبب بنا اور یہ سلسلہ ۱۹۲۰ء کی دہائی میں جاری رہا اور پھر ۱۹۳۰ء کی دہائی موجود رہا۔ بیسویں صدی کے دوران ہر پانچ چھ سال بعد انقلابات آتے تاآنکہ ایران میں ۱۹۷۹ء کا انقلاب آیا۔
اکیسیویں صدی کا آغاز بھی بغاوتوں سے ہوا۔ ایک دیو قامت عالمی جنگ مخالف تحریک ابھری جو بش اور ٹونی بلئیر کی افغانستان اور عراق پر جنگ کے خلاف تھی۔ اسی تحریک کی بدولت برطانیہ کی تاریخ کا سب میں بڑا مظاہرہ ہوا۔ ابھی حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ پوری عرب دنیا میں بغاوتوں کی ایک لہر آئی جس نے عرب حکمرانوں کو دہشت زدہ کر دیا اور مغربی حکمران طبقہ اور صیہونیت پسند اسرائیلی ریاست تک کو دہشت زدہ کر دیا کیونکہ یہی نہ صرف مصر میں تبدیلی کی غماز تھی بلکہ فلسطین میں تبدیلی کی خواہش اور جنگوں اور جبر سے نجات کی تلاش بھی تھی کہ یہی مشرقِ وسطیٰ پر پہلی عالمی جنگ کے بعد سے اثر انداز ہے۔
فرق یہ ہے کہ روسی انقلاب میں مزدور طبقہ اور کسانوں نے حقیقتاً اقتدار سنبھالا اور ایک وقت تک سماج کو تبدیل کرنے میں کامیاب بھی ہوئے۔ یہ ملک اس وقت نیم جاگیردارانہ تھا جہاں صرف ۵۵ لاکھ مزدور تھے جبکہ آبادی ۱۵ کروڑ تھی۔
عالمی جنگ کا اثر دھماکہ خیز تھا۔ یہ مطالبات تھے کہ جنگ ختم کی جائے، زارشاہی کی سلطنت سے قوموں کو آزاد کیا جائے، عورتوں کے حقوق دئیے جائیں۔ یہ بغاوتیں لینن اور بولشویکوں کے بغیر بھی ہو جاتیں البتہ روسی انقلاب کی اہمیت یہ ہے کہ لینن نے ایک طویل مدت کے عرصے میں ایک ایسی سیاسی تنظیم تیار کر لی تھی کہ جو مزدور طبقہ میں اپنی جڑیں رکھتی تھی اور اس کے کارکنان مسلح افواج تک میں پھیلے ہوئے تھے اور یہ بہت ساری جدوجہدوں کو جوڑنے کا سبب بنتی۔
جب فروری ۱۹۱۷ء میں انقلاب آیا تو یہ بولشویکوں کے لیے بھی سرپرائیز ہی تھا۔ انہوں نے اس انقلاب کی پیش گوئی نہ کی تھی کہ یہ یوں شروع ہو جائے گا۔ لیکن جب یہ بپاء ہوا تو یہ انقلاب کے دوران
بڑھ کر آگے آئے اور ایک مزدوروں ، فوجیوں اور کسانوں کی عوامی پارٹی بن گئے۔
بالشویکوں نے تمام جبر کا شکار اور استحصال زدہ کی جدوجہدوں کو متحد کر دیا ۔ عورتوں، قومی اقلیتوں، مزدوروں اور کسانوں کو جوڑ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ روسی انقلاب کامیاب ہوا اور باقی ناکام۔
کچھ کہتے ہیں کہ لینن اور بالشویک آج اتنے اہم نہیں۔ لیکن آپ یہ دیکھیں کہ یونان میں گزشتہ تین سالوں میں کیا ہوا۔ یہ خیال کہ آپ ایک ایسی پارٹی بنا سکتے ہیں جو اصلاح اور انقلاب دونوں کو ملا لے ، یہ کوشش کرے کہ چیزیں محض منتخب ہونے سے یونہی بدل جائیں گی، یہ ناکام ہو گئیں۔ اسی طرح سے کئی ایک پارٹیاں ۱۹۱۴ء تا ۱۹۱۷ء کے درمیان ناکام ہو کر بکھر گئیں۔
سوال:جب روسی انقلاب پر بحث ہوتی ہے مین اسٹریم میڈیا میں ایک عام سا بیانیہ یہ ہوتا ہے کہ لینن تو ایک ڈکٹیٹر تھا اور اسٹالن سے مختلف نہ تھا۔ آپ کی کتاب اس کا جواب دینے کی کوشش کرتی ہے؟
جواب: جی ہاں میری کوشش یہی ہے کہ لینن اور بالشویک کے حقیقی روایت کو بچایا جا سکے کیونکہ یہی بتایا جاتا ہے کہ وہ دور ایک آمرانہ اور ایک پارٹی ریاست کا تھا۔ ایک چینل پر روسی انقلاب سے متعلق دو حصوں پر مشتمل فلم چلتی ہے اور آپ محسوس کر سکتے ہیں کہ جیسے یہ اچھی ہے کیونکہ یہاں انقلاب کی تصاویر ہیں جو یہ دکھاتی ہیں کہ یہ ایک عوامی، مقبول انقلاب تھا۔ لیکن اچانک یہ ایک چھلانگ لگا کر یہ دکھاتی ہے کہ مزدور اکتوبر ۱۹۱۷ء میں اقتدار سنبھال لیتے ہیں اور پھر کرونسڈاٹ کی ۱۹۲۱ء کی بغاوت پر پہنچ جاتی ہے جہاں جا کر یہ دعوا کرتی ہے یہ فلم کہ لینن ایک پارٹی کی ریاست اور آمریت کا ہمیشہ سے ہی حامی تھا!یہ نتیجہ حیران کن ہے کیونکہ یہ نتیجہ اس پس منظر سے تعلق ہی نہیں رکھتا کہ جو کچھ ۱۹۲۱ء میں ہوا۔ کس طرح روسی انقلاب پر حملہ ہوا، کس طرح امریکی حکمران طبقہ صدر وڈرو ولسن کی قیادت میں اپنے برطانوی اور فرانسیسی حکمران طبقوں کے ساتھ مل کر انقلاب کو کچل ڈالنا چاہتا تھا ، ویسے ہی جیسے یہ آج کچل ڈالنا چاہتا ہے۔ یہ فلم یہ بتانے میں ناکام ہے کہ کیسے ۱۹۲۱ء میں روس مکمل طور پر گھیراؤ میں تھا اور کمزور ملک تھا کیونکہ کچھ تو یہ ایک پسماندہ ملک تھا اور یوں اسے انقلاب کے پھیلاؤ کی ضرورت تھی ،لیکن دنیا بھر کے حکمران طبقے یہ طے کر بیٹھے تھے کہ انقلاب نہیں پھیلنے دیں گے۔
اور انقلاب پر آجکل بحث کچھ یوں ہی تو ہو رہی ہے، یعنی پس منظر کے بغیر۔ حالیہ ریسرچ یہ کنفرم کرتی ہے کہ ۱۹۱۷ء کا انقلاب عوامی نوعیت کا تھا۔ انقلاب کے مخالفین بھی یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ یہ ایک مزدور انقلاب تھا اور ایک چھوٹی سی اقلیت کی جانب سے سازش نہ تھا۔ یہاں سوویت تھیں، یعنی حقیقی مزدوروں، فوجیوں اور نیوی کے جوانوں کی کونسلیں جو پورے روس میں پھیلی ہوئی تھیں ۔ ان سوویتوں نے ہی انقلاب کی حمایت کی اور اس کی قیادت کی اور اسی وجہ سے مزدوروں کی حکومت قائم ہوئی۔ لیکن یہ انقلاب دنیا سے کٹا ہوا تھا اور یہی وہ تنہائی تھی کہ جس کا نتیجہ انقلاب کی شکست میں سامنے آیا۔ یہ سب کچھ نہیں بتایا جاتا اور میری کتاب کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ یہی تاریخ بتائی جائے۔
حال ہی میں ایک ریڈیو پروگرام میں جرمن انقلابی روزا لگژمبرگ اور روسی انقلاب پر بات ہوئی۔ یہاں جو رحجان تھا وہ یہ کہ لگژمبرگ ایک جمہوریت پسند تھی جبکہ لینن ایک آمر۔ جس کا بات کا ذکر ہی نہ ہوا وہ یہ تھی کہ اپنی آخری چیزوں میں لگژمبرگ نے لینن اور بالشویکوں کے دفاع میں خطوط لکھے۔ اس نے دلیل دی کہ روسی انقلاب نے پہلی عالمی جنگ کا خاتمہ کر دیا اور پہلی بار مزدوروں کی حکومت قائم کر دی جس نے دکھایا کہ مزدور طبقہ واقعی اپنے طور پر چیزیں چلا سکتا ہے اور اپنے مالکان سے بہتر چلا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روزا نے کہا کہ مستقبل بالشویک ازم کا ہے۔
یہ سب کچھ مخفی ہے۔ اور میری کتاب کی کوشش ہے کہ انہی باتوں کو سامنے لایا جائے۔ اس لیے نہیں کہ یہی کرنا ضروری ہے بلکہ یہ دکھانا ضروری ہے کہ ہم آج جس دنیا میں رہتے ہیں یہاں بھی بغاوتیں ہوں گی لیکن ان کی کامیابی کے لیے ہمیں روسی انقلاب سے سیکھنا ہو گا اور یہی کچھ لینن کی پارٹی کر بھی پائی تھی۔ وہ ایک عوامی پارٹی تھی جو کہ چند افراد پر نہیں بلکہ نیچے سے ابھرتی تحریک پر مشتمل تھی۔
روس ۱۹۱۷: ورکرز روولوشن اینڈ فیسٹویل آف دی آپریسڈ، ڈیو شیری۔ آپ bookmarksbookshop.co.uk سے خرید سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *