لینن کا اپریل تھیسس اور روسی انقلاب

لینن کا اپریل تھیسس اور روسی انقلاب

تحریر: عامر حسینی

میں اس طوفانی تقریر کو کبھی بھلا نہیں پاؤں گا جس نے نہ صرف میرے اندر جوش بھرا اور حیرت ذدہ کیا ( میں جو کہ ایک منکر تھا اور حادثاتی طور پہ اس کے ماننے والوں میں گھرگیا تھا) بلکہ اس نے اس کے سبھی سچے پیروکاروں کو حیران کردیا۔مجھے یقین ہے کہ وہاں جو ہوا اس کا کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا۔ایسا لگ رہا تھا جیسے معبدوں سے تمام قوتیں اٹھ آئی ہوں اور تباہی کی عالمگیر روح جو کہ کوئی روکاوٹ، کوئی شک ، کوئی مشکل اور کوئی بھی حساب کتاب آڑے آنے نہیں دیتی بدروح شاگردوں کے سروں پہ منڈلا رہی ہو۔
نکولائی سخاکوف 1984
یہ تین اپریل 1917ء کی رات تھی جب لینن فن لینڈ اسٹیشن سے ریل کے زریعے طویل جلاوطنی کاٹ کر پیٹروگراڈ ریلوے اسٹیشن پہنچا۔اس گی آمد فروری انقلاب سے 6 ہفتوں قبل ہوئی۔وہ انقلاب جس نے زار نکولس کی بادشاہی کو اٹھاکر پھینک دیا تھا اور اس سے جو خلا پیدا ہوا تھا اسے ایک عبوری حکومت نے پر کیا تھا۔اس حکومت میں دائیں بازو کی جماعت کیڈٹ پارٹی کے لوگ اکثریت میں تھے۔اور اسی دوران سوویٹ ( مزدور کیمٹیاں) جو کہ 1905ء میں انقلابی ابھار کے دوران بنی تھیں پھر سے ظاہر ہونے لگ گئی تھیں۔یہ وہ لمحہ تھا جب لینن نے پہلی بار وہ چیز پیش کی جسے بعد میں اپریل تھیسس کہا گیا۔اس تھیسس کا خلاصہ اگر کیا جائے تو وہ یوں ہوگا:
صرف عبوری حکومت کے خاتمے اور مزدور راج کی کمیٹوں کے لئے لڑائی کے زریعے سے یہ ممکن ہے کہ ایسیحالات پیدا ہوں کہ جس سے مزدروں کو روٹی ملے،کسانوں کو زمین ملے اور سامراجی جنگ کے خاتمے سے امن کا قیام ہو۔ایک مرتبہ یہ اہداف حاصل ہوں تو موجودہ پولیس، فوج اور بیوروکریسی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے،بینکوں، زمینوں کو قومیایا جاسکتا ہے اور پیداوار پہ محنت کشوں کا مکمل کنٹرول حاصل کیا جاسکتا ہے۔
مزدور کمیٹیوں ( سوویٹ ) کا کردار اور عبوری حکومت کا معاملہ ہی اپریل تھیسس کے دو بنیادی اور مرکزی پہلو تھے۔محنت کشوں کی کیمٹیوں کو تمام اختیارات سونپنے کے مطالبے نے ریاستی پاور کے ایشو کو اچھی طرح سے نکھار دیا اور یہ وہ بنیادی مطالبہ تھا جس پہ دوسرے تمام مطالبات کا انحصار تھا۔یقینی بات ہے جب تک لینن پیٹروگراڈ نہیں پہنچا کسی بالشیویک لیڈر نے یہ نہیں کہا تھا کہ سب اختیارات مزدور کمیٹوں کو دو۔اور جب اس نے یہ نعرہ دے دیا تو اس نے ریاست کے بارے میں سارے پرانے بالشیویک خیالات کو ترک کردیا تھا۔یہ خیالات اس نے 12 سال پہلے پیش کئے تھے۔
بالشیویک رہنماء الیگزینڈر بوگڈانوف اور پیوٹر کراسیکوف 1905ء4 میں روس میں پیترس برگ کے اندر جب مزدور کیمٹیاں بنی تو ان کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اس کے بارے میں کیا رویہ اپنائیں۔انہوں نے اس موقعہ پہ اگر کچھ خیال کیا تو وہ یہ تھا کہ ان کو ڈر تھا کہ مزدوروں کی یہ کیمٹیاں سرمایہ دار پارٹیوں کے زیر اثر نہ آجائیں تو انہوں نے ان کیمٹیوں کو بالشیویک پروگرام اور پارٹی قیادت کو تسلیم کرنے اور ان کو پارٹی کے اندر تحلیل ہونے کو کہا تھا۔
جلاوطن لینن نے اس اپروچ پہ تنقید کی تھی۔لیکن اس نے یہ تسلیم کیا کہ اس کی تنقید سینٹ پیترس برگ کے بالشیویک کے لئے حیران کن تھی۔اس تنقید کو دیکھ کر بالشیویک کو یوں لگا جیسے وہ 1902ء میں اپنے ہی تاریخی پمفلٹ ” کیا کیا جائے ” میں لکھے کی تردید کررہا ہے۔اس کتابجے میں اس نے ” اچانک ہیجان خیزی سے پیدا صورتحال ” کی اندھا دھند پیروی سے خبردار کیا تھا۔اصل میں لینن نے جب 1905ء کے انقلاب کی اصل زندگی سے بھرپور چیزوں کو کھنگالا تو اس نے پایا کہ یہ مزدور کمیٹیاں تھیں جس کے نتیجے میں عبوری حکومت قائم ہوئی۔اور یہ فرض کرلیا گیا کہ مودور کمیٹی ہی ایسی حکومت کا قیام کرنے کی ذمہ داری لے گی۔یہ مزدور تحریک میں مرکزیت لائے گی اور اس کو باہم مربوط کرے گی جو کہ بلاشک ایک انقلابی ترتیب سے ایسے جینل کے طور پہ کام کرے گی جو مستقبل کے انقلاب کی جانب لے کر جائے گی اور یہ زار شاہی کو پھینکنے کے لئے ازحد ضروری ہے۔کوئی سوشل ڈیموکریٹ ( اس وقت انقلابی مارکس واد اپنے آپ کو سوشل ڈیموکریٹ کہلاتے تھے ) اس وقت بشمول لینن 1905 کے انقلاب میں مزدور کمیٹوں ایک الگ آزاد تاریخی کردار کی ادائیگی کے قابل ادارے خیال نہیں کررہا تھا۔بلکہ انہوں نے اسے ایک عبوری،لمحاتی ، وقفے کے دوران ظہور میں آنے والا سماجی مظہر سمجھے تھے۔ان کا خیال تھا کہ ایسے مظہر زار شاہی کے خلاف جدوجہد میں مصروف قوتوں کے درمیان توازن میں بدلاؤ کے ساتھ ابھرتے اور زوال پذیر ہوجاتے ہیں۔ایک وقت وہ بھی آیا جب لینن نے 1905ء کے واقعات اور ” اج متروک ہوئے پمفلٹ کیا کیا جائے کے درمیان کنٹراسٹ دکھانے کے لئے حوالہ بھی دیا۔
لینن اور بالشیویک رہنماء جو پیترس برگ میں تھے ان کے درمیاں 1905ء میں مزدور کمیٹوں کی ٹھیک ٹھیک نوعیت پہ اختلاف تھا ،جبکہ سب اس بات پہ متفق تھے کہ مرکزی مقصد ایک انقلابی عبوریحکومت کا قیام تھا جو کہ زار کو بادشاہت سے الگ رسکے اور معاشرے کو یورپ اور شمالی امریکہ جیسے معاشروں کے قریب تر لاسکے۔
عبوری حکومت پہ بالیشویک کا جو اصل موقف تھا وہ لندن میں 1905ء میں ہوئی ان کی کانفرنس کے دوران سامنے آیا۔یہاں پہ آنے والے مندوبین نے کسی بھی پیش آمد عبوری حکومت میں شرکت پہ اتفاق کیا۔اس وقت مطلق العنان حکومت پہ فتح عین سر پہ آنے کی توقع کی جارہی تھی اور بالشیویک اس وقت جاری سرمایہ دار جمہوری انقلاب پہ “پرولتاریہ۔مزدور ” مہر لگانے کے آرزومند تھے۔ایک مقبول عوامی ابھار کو نیچے سے رہنمائی کرنے سے ان کو بہت زیادہ سیاسی قبولیت مل سکتی تھی۔اور وہ سرمایہ دارانہ ملکیتی رشتوں کے اندر اپنی طاقت و قوت اور اثر کی سماجی بنیادیں بڑھاتے ہوئے انقلاب کو زیادہ سے زیادہ بائیں جانب دھکیل سکتے تھے۔عبوری حکومت کا حصّہ بنکر بالشیویک اوپرسے بھی قائدانہ کردار ادا کرسکتے تھے جیسے وہ نیچے سے وہ نیچے سے ادا کررہے تھے۔بدقسمتی سے حقیقت اس سے الٹ ہوگئی جیسا کہ اکثر ہوتا ہے۔یہ پرسپیکٹو/تناظر جو بالشیویک نے سوچا تھا سامنے نہ آسکا اور 1905ء کے انقلاب کے نتیجے میں عبوری حکومت نہ بن سکی۔پیترس برگ میں مزدور کمیٹی 50 دن زندہ رہ سکی اور نومبر 1905ء میں اسے زار شاہی نے ختم کردیا اگرچہ اس کی باقیات بہرحال باقی رہی۔اور 1905ء میں 12 سال بعد اس طرح کی مزدور کمیٹوں کے دوبارہ سامنے آنے کی پیشن گوئی نہیں کی جاسکتی تھی۔
لینن کے اپریل تھیسس کے سامنے آنے میں 1905ء کے انقلاب کی یاد اور نئی تفہیم جو کہ لینن کی جنوری۔فروری 1917ء میں بلیو نوٹس بک میں دیکھی جاسکتی کے اشتراک نے کردار کیا۔ان نوٹس میں مارکسزم کے تصور ریاست پہ بات کرتے ہوئے لینن نے دکھایا ہے کہ فروری انقلاب سے پہلے وہ سوویٹ کے دوبارہ سامنے آنے کی توقع نہیں کررہا تھا۔ان آئیڈیاز کے ساتھ لینن فن لینڈ سے ٹرین سے آیا جس نے اپریل تھیسس کو ممکن بنایا۔مارکس واد لیفٹ خاص طور پہ ٹراٹسکائٹ روایت کا خیال یہ رہا ہے کہ یہ تھیسس پہلے سے غالب بالشویک آرتھوڈوکسی سے ایک دم سے بریک کا اظہار تھا۔بالشویک آرتھوڈوکسی کو پرانا بالشویزم بھی کہا جاتا ہے۔اور اس تھیسس نے بالشویک پارٹی کو ازسرنو نظریات اور عمل سے مسلح کیا جس نے اکتوبر انقلاب کو ممکن بنایا۔جبکہ عام تاریخی بیانیہ یہ تھا کہ بالشویک اپریل تھیس میں لینن کی پیش کردہ تجاویز سے حیران رہ گئے اور انہوں نے اسے لینن کے زمینی حقائق سے واقف نہ ہونے سے تعبیر کیا۔دو ماہ بعد وہ اپریل تھیسس سے اپنے کامریڈز کی اجنبیت کو دور کرنے میں کامیاب ہوا ساری پارٹی کو اپنے پیچھے لگالیا۔اور بنیادی طور پہ اگر اپریل تھیسس نہ ہوتا تو اکتوبر انقلاب بھی نہ ہوتا۔اکثر مین سٹریم مورخین نے یاد داشتوں پہ مبنی لٹریچر یا معاصر ریکارڈ کو پڑھا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بالشویک پارٹی کے حلقوں میں اپریل تھیس کے جائزے اور اپریل مباحثوں نے ان کو لینن کی بات سے اتفاق کرنے کی جانب راہ دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *