Khaadi کروڑ پتی سے ارب پتی اور اب کھرب پتی بننا چاہتا ہے! مزدور اپنا حق مانگتے ہیں!

Khaadi کروڑ پتی سے ارب پتی اور اب کھرب پتی بننا چاہتا ہے! مزدور اپنا حق مانگتے ہیں!

تحریر: اینتھنی سلیوان، ترجمہ روزا خان

مشہور ملبوسات کے برانڈ کھاڈی نے ۲۲ مئی کو ۳۲ مزدوروں کو برطرف کر دیا۔ اس برطرفی کے بعد سوشل میڈیا پر احتجاج شروع ہوا اور چند ہی دنوں میں کراچی اور لاہور میں کھاڈی کی دکانوں کے باہر اور پریس کلبوں پر احتجاجات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ احتجاجات اور سوشل میڈیا پر نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کی جانب سے مہم اس قدر موٗثر ثابت ہوئی کھاڈی کو اخبارات میں جوابدہی کرنا پڑی۔ ۳۰ مئی کے ڈان میں خبر چھپی کے سوشل میڈیا احتجاج کے بعد کھاڈی انتظامیہ نے کہا ہے کہ کمپنی کے خلاف منفی پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کھاڈی مزدوروں کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ اجرتیں حکومت کی مقرر کردہ ۱۴ ہزار روپے ماہوار سے بھی کم ہیں اور کام کے حالات کچھ یوں ہیں کہ مزدوروں کو سانس لینے کی مہلت نہیں دی جاتی۔لنچ بریک پر بھی پابندیاں ہیں ، سختیاں اس قدر ہیں کہ ایک خاتون ورکر خودکشی بھی کر چکی ہے۔
کھاڈی کا ملک سلطان شمون کئی ارب روپے سالانہ منافع کمانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ مگر یہ منافع اسی وقت بن سکتا ہے جب ہزاروں مزدور سلطان شمون کے لیے غلاموں کی طرح کام کریں اور یہ انہیں کوڑیوں کے مول اجرت دے اور ذرا سا حق مانگنے پر نکال باہر کرے۔مزدور حق مانگیں تو کرنل بشیر جیسے غنڈے کو ایڈمن لگا کر ان پر تشدد کرائے۔ سرمایہ دار بتاتے یہی ہیں کہ وہ اپنے وژن ، اپنی انٹرپرونرشپ یعنی کاروبار کرنے کی صلاحیت، سرمایہ لگانے کے ذہن جیسی چیزوں سے ترقی کرتے ہیں لیکن ان کی ترقی کی اصل سیٹرھی مزدوروں کا استحصال اور جبر و تشدد ہے جس میں ریاست ان کی معاون ہے۔ زیادہ منافع کمانے کی جستجومیں کھاڈی کی کوشش ہے کہ یہ کم سے کم خود تیار کرے اور زیادہ سے زیادہ آوٹ سورس کرے۔آوٹ سورس کا مطلب یہ کہ مال تو کھاڈی کا ہی بنے مگر یہ کام کوئی اور کہیں اور کروائے۔ یہی ٹھیکہ داری نظام ہے۔ کھاڈی کے مالک سلطان کہتے ہیں کہ اس وقت کھاڈی ۲۰ سے ۳۰ فیصد مال خود تیار کرتا ہے، ہماری کوشش ہے کہ یہ گھٹ کر ۵ فیصد رہ جائے۔ یعنی یہ کہ کھاڈی ۹۵ فیصد مال ٹھیکہ پر بنوانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ اس طرح ٹھیکہ پر مال تیار کروانا غیر قانونی ہے، لیکن سرمایہ دارقانون کی خلاف ورزی کھلے عام کر رہے ہیں اور اس کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ اسی لیے ان کا جھوٹ پکڑا جاتا ہے۔ایک جانب یہ کہتے ہیں کہ نکالے گئے مزدور ان کے ملازم نہیں اور دوسری جانب یہ وعدہ کرتے ہیں کہ مزدوروں کو نکالا نہیں جائے گا۔
البتہ کھاڈی میں سلطان شمون کی اجارہ داری کا پردہ اب چاک ہو رہا ہے۔ ۲۹ مئی کو لاہور میں ایم ایم عالم روڈ پر کھاڈی کے بڑے اسٹور کے باہر مظاہرین جمع ہو گئے۔ یہ کھاڈی کراچی سے نکالے گئے ۳۲ مزدروں کی بحالی کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ ایک مزدور سلمان نے نمائندہ سوشلسٹ کو بتایا کہ رمضان کی آمد آمد ہے اور ہمارے ساتھیوں کو بلاجواز برطرف کیا جا رہا ہے۔ مزدور صرف یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں منصفانہ اجرتیں دی جائیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ کمپنی یہ بتائے کہ آخر اجرتوں میں اضافے کا مطالبہ کیوں جرم بنا دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ #BoycottKhaadiکا بھی بہت زور ہے اور ٹوئٹڑ پر عوام کو کھاڈی کا ملک گیر بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ کھاڈی کے ملبوسات دیگر برانڈز کی طرح رمضان عید پر زیادہ فروخت ہوتے ہیں اور کمپنی اس وجہ سے پریشان ہے کہ احتجاج کا اثر اسکی سیلز پر پڑ رہاہے۔ لیکن یہ بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ ایک جانب اخبارات کو جاری کھاڈی بیان میں کہا گیا ہے کہ نکالے گئے مزدور وں کا کھاڈی سے کوئی تعلق نہیں یہ ٹھیکہ دار کے ملازم تھے۔ دوسری جانب ڈان اخبار کی رپورٹ کہتی ہے کہ کمپنی کی نمائندہ کہتی ہیں کہ انہیں یقین نہیں کہ یہ کھاڈی کے ملازم تھے بھی یا نہیں۔ تیسری جانب نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے ناصر منصور کا کہنا ہے کہ اگر یہ کمپنی کے ملازم نہیں تو پھر نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن کے سامنے کھاڈی کے وکیل نے ماہِ مئی کی پیشی میں یہ بیان کیوں دیا کہ کمپنی ۳۲ مزدوروں کو نہیں نکالے گی۔ مزدوروں نے یونین سازی کے لیے کمیشن میں درخواست دے رکھی ہے اور یہی بات کھاڈی انتظامیہ کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ کھاڈی میں ٹھیکہ داری نظام چل رہا ہے۔ کہنے کو پوش برانڈ جو اب ایک ملٹی نیشنل برانڈ ہے قانون کا پاسدار ہے لیکن عملی طور پر قانون توڑتا ہے۔یہ کسی مزدور کو اپائنٹمنٹ لیٹر نہیں دیتے اور اسی سبب کس کو کس وقت کس بناء پر نکالا جائے یہ کمپنی کی مرضی پر منحصر ہے۔ جب لیٹر ہی نہیں تو کون ملازم ہے اور کون نہیں اس کا فیصلہ کمپنی خود کرتی ہے۔ جسے نکال دیا وہ کمپنی کا تھا ہی نہیں۔ یوں مزدور وں کے حقوق پامال کیے جارہے ہیں۔ نہ ہی کمپنی ملازمین کی سوشل سیکورٹی سوشل سیکورٹی ادارے سیسائی میں جمع کراتی ہے۔ نہ یہ کسی مزدور کو سوشل سیکورٹی کارڈ جاری کرتی ہے۔ یوں مزدوروں کو کسی قسم کا سوشل سیکورٹی تحفظ بھی نہیں ملتا۔ نہ کمپنی ملازمین کا اولڈ ایج بینیفٹ جمع کراتی ہے جبکہ یہ مزدوروں کی اجرتوں میں سے اولڈ ایج بینیفٹ کاٹتی بھی رہتی ہے۔ یوں ایک طویل عرصے کام کرنے کے بعد بھی ملازمین کو ریٹائرمنٹ پر کچھ نہیں ملے گا۔ بارہ گھنٹے کام ، چھٹی اور اتوار کو کام زبردستی کرایا جاتا ہے۔ نہ ہی پینے کا صاف پانی ملتا ہے۔ کوئی مزدور اگر زخمی ہو جائے تو اسے کوئی ہرجانہ نہیں ملتا جبکہ قانون یہی کہتا ہے کہ کمپنی نے ادا کرنا ہے۔
کھاڈی پاکستان کا تیزی سے ابھرتا ہوا برانڈ ہے ۔ چند سال قبل کراچی میں تین اسٹورز تھے۔ اب ملک بھر میں ۳۸ اور بیرونِ ملک دس اسٹورز ہیں۔ کھاڈی کی ابتداء ۳۰ لاکھ روپے سے ہوئی تھی۔ اب یہ کمپنی سالانہ دس کروڑ ڈالر یعنی ایک ارب روپے سالانہ کی اشیاء فروخت کرتی ہے۔ یوں آسان حساب سے اس کا سالانہ منافع ہی کئی سو کرروڑ ہے۔ کھاڈی کا مالک سلطان شمون ہے۔ یہ کہتا ہے کہ اگر عالمی برانڈ مینگو کے تین ہزار اسٹور ہو سکتے ہیں تو پھر کھاڈی کے پاکستان میں ۱۲ سو اسٹور کیوں نہیں ہوسکتے۔ یعنی پاکستان میں سرمایہ داری کی نوعیت بدل رہی ہے۔ ٹھیکہ پر کام کا رواج بڑھا یا جا رہا ہے۔ کھاڈی اس کی اہم مثال ہے۔ یہ ایک عالمی برانڈ بننے کے لیے مزدوروں کے حقوق کی پامالی کو اپنا رستہ تصور کرتا ہے۔ البتہ آج کھاڈی کے مزدور اور اس کے خریدار سوال کر رہے ہیں کہ منافع خوری کے رستے میں حقوق کیوں پامال کیے جا رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *