بلوچستان:خاران، پنجگور، آوران گمشدگیوں کی نئی لہر!

بلوچستان:خاران، پنجگور، آوران گمشدگیوں کی نئی لہر!

بشکریہ حال حوال ڈاٹ کام

۳۰ مئی کو بی ایس او آزاد کے رہنماؤں نے بلوچستان میں جاری آپریشنز کے حوالے سے کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں فوجی کاروائیوں کا تسلسل گزشتہ 15 سالو ں سے زائد عرصے سے جاری ہے۔ بلوچستان میں فوجی آپریشن اور عام لوگوں کے اغوا کے خلاف لکھنے والے کئی لکھاری اور صحافی اغوا کے بعد قتل کیے جا چکے ہیں۔ طاقت کے استعمال نے ہزاروں انسانی جانوں کو نہ صرف ضائع کیا ہے، بلکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ روزانہ اغوا کیے جارہے ہیں، قیمتی سامان لوٹا جا رہا ہے اور گھر جلائے جا رہے ہیں۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ دنوں سے خاران، پنجگور، اور آواران کے مختلف علاقوں میں جاری کاروائیوں کے نتیجے میں سیکڑوں لوگوں کو فورسز نے گھروں سے اٹھا کر اپنے کیمپ منتقل کر دیا ہے، جن میں نصیر ولد حاجی، لیاقت ولد نصیر، سلام ولدنصیر، بور جان ولدمحمد، لعل جان ولد پیر محمد،.داد کریم ولدگہرام، نواز ولد داد کریم، فتح محمد ولد علی، الہیٰ بخش ولد احمد، خیر جان ولد نور محمد، ایوب ولد نور محمد، رحم دل ولد ایوب، ایوب ولد احمد، قادر بخش ولد شہداد، بشیر ولد قادر بخش، صدام طاہر، نور احمد عبدالرحمان سمیت درجنوں لوگ شامل ہیں۔
یہ تمام لوگ مزدور، زمیندار اور چرواہے ہیں۔ ان کاروائیوں کے دوران درجنوں گھروں کو سامان لوٹنے کے بعد فورسز نے نذر آتش کر دیا ہے۔ مشکے میں تین دنوں کے دوران فورسز نے کھندڈی میں حاجی یعقوب، جنگی خان اور اومیت خان، کالار میں محمد خان اور النگی میں داد محمد سمیت کئی لوگوں کے گھروں کو نذر آتش کر دیا ہے۔ گچک، راغے، اور بسیمہ میں ان کے علاوہ بھی درجنوں لوگوں کی گھروں کو نذر آتش کیا جا چکا ہے۔
ان علاقوں کے لوگوں کا گزر بسر یا تو گلہ بانی سے ہوتا ہے یا زمینداری کر کے لوگ اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ یہ دونوں بنیادی ذرائع لوگوں سے چھن چکے ہیں۔ وہ آزادی سے نہ اپنے مویشیوں کو چرا سکتے ہیں اور نہ اپنی زمینوں پہ کام کے لیے آزاد ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ عام لوگوں کا درد سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو محسوس نہیں ہوتا ہے۔ وہ لوگ جن کے دلوں میں یہ شک گزرتا ہے کہ ہمارے دعوے بے بنیاد ہیں، ہم انہیں بلوچستان کا دورہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں جاری مردم شماری کی آڑ لے کر بلوچ عوام کے خلاف بنائی گئی سازشی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں جاری اس مردم شماری کا مقصد بلوچ عوام کی انسانی آبادی کو کم ثابت کرنا ہے۔ حکومت بلوچستان نے اس بات کی تصدیق خود کی ہے کہ بلوچستان کے بہت سے علاقوں میں مردم شماری کا عمل مکمل نہیں ہوا ہے۔ دراصل صورت حال کی حقیقت یہ ہے کہ اندرونِ بلوچستان فوجی چوکیوں و کیمپوں کے قرب و جوار کے علاوہ بیشتر علاقے ایسے ہیں وہاں مردم شماری کا عملہ پہنچا ہی نہیں ہے۔ بلوچستان کی زیادہ تر آبادی دیہی علاقوں میں رہ رہی ہے جہاں مردم شماری کا عملہ شاید ہی پہنچ سکے۔ کیوں کہ عام لوگ اس مردم شماری کے عمل کو مسترد کرچکے ہیں۔
بی یس او آزاد کے رہنماؤں نے کہا کہ بطور طلبا آرگنائزیشن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں جہاں بھی کوئی غیر انسانی و غیر اخلاقی قدم اٹھایا جا رہا ہو، ہم اس کے خلاف عملاََ جدوجہد کریں گے۔ انہوں نے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ بلوچ مسئلے کے پرامن حل، جاری آپریشنوں کی بندش، اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے کردار ادا کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *