مہنگی کھاد، مہنگی بجلی کے خلاف کسانوں کا اسلام آباد دھرنا، بدترین تشدد

مہنگی کھاد، مہنگی بجلی کے خلاف کسانوں کا اسلام آباد دھرنا، بدترین تشدد

رپورٹ :شفیق عوان

مئی کی شام جب وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار بجٹ پیش کر رہے تھے اسی وقت پاکستان کسان اتحاد کے تحت ڈی چوک پر کسانوں کا مظاہرہ جاری تھا۔کسان اپنے مطالبات کے حل کے لیئے ڈی چوک سے پارلیمنٹ تک مارچ کرنا چاہتے تھے لیکن اسلام آباد انتظامیہ نے اجازت نہ دی۔ اور آگے بڑھنے پر واٹر کینن اور آنسو گیس برسائے اور شیلنگ کی۔جس کے نتیجہ میں احتجاجی کسان زخمی بھی ہوئے۔ کسانوں کے مطالبات تھے کے ذراعت کے لیئے بجلی کے زائد بلوں کی وصولی بند کی جائے بقایا،جات معاف کیئے جائیں ، ذرعی مشینری پر عائد ڈیوٹی ختم کی جائے. ۔
شدید گرمی میں احتجاج کرنے والے کسان اپنے حقوق کے لیئے سراپا احتجاج تھے کہ اسلام آباد پولیس نے ان پر دھاوا بول دیا اور بد ترین تشدد کیا ۔جس کے نتیجے میں 50 سے زائد زخمی اور 200 کے قریب کو گرفتار کر لیا گیا۔ میڈیا میں خبر آنے کے بعد سیاسی پارٹیوں کے چند لیڈران بھی پارلیمنٹ سے نکل کر کسان اتحاد کے احتجاج میں پہنچ گئے اور حکومتی اقدام کی بھرپور مذمت کی ۔
اگلے روز کے جنگ اخبار نے وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کی خبر فرنٹ پیج پہ شائع کی کہ کسانوں کے حقوق کے لیئے سب کچھ کرونگا۔جب کہ کسان اتحاد کے احتجاج کی خبر آخری صفحے پر یوں شائع کی کہ مشتعل کسانوں کا احتجاج :ٹریفک سگنل توڑ دیئے اور پولیس افسران زخمی۔
160زخمی کسانوں کو ہسپتال پہنچایاگیا اور گرفتار شدگان کو حوالات ۔باقی ماندہ کسانوں نے اپنا احتجاج جاری رکھا اور اپنے ساتھ لائی گئی چینی کی بوریاں الٹ دیں۔
160میں نے پاکستان اتحاد کے نائب صدر شوکت سلطان سے رابطہ کیا اور ان سے پوچھا کے آپ کے مطالبات تسلیم ہوئے یا نہیں تو ان کا کہنا تھا کے کوئی مطالبہ پورا نہیں ہوا۔ صرف یہ ہوا کے ہمارے ساتھیوں کو رہا کیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے 50 سے زائد کسان زخمی ہوئے جن میں سے کچھ شدید زخمی ہیں اور مختلف ہسپتالوں میں زیرِعلاج ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ احتجاج میں تین ہزار کے قریب کسان تھے جن میں اکثریت چھوٹے کسانوں کی تھی ۔ہم اپنے حقوق کے لیئے مظاہرہ کر رہے تھے اور پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنا چاہتے تھے لیکن حکومت نے ہم پر وحشیانہ تشدد کیا۔
شوکت سلطان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ہم سے جو وعدے کیئے تھے وہ بھی پورے نہیں کئے۔ 2016-17میں حکومت نے ذراعت کے شعبے میں 40 ارب روپے کی کیش سبسڈی دینے کا وعدہ کیا تھا جو کہ پورا نہیں ہوا اسی طرح یوریا کی امپورٹ پر بھی سبسڈی دینے کا اعلان کیا گیا تھا جس پر عمل در آمد نہیں کیا گیا۔ڈی اے پی اب بھی پرانی قیمت پر دستیاب ہے ۔اس کی قیمت بھی کم نہیں کی گئی۔ان کا مزید کہنا تھا کے ہم جب بھی اپنے حق کی بات کرتے ہیں تو حکومت ہمیں کسان اصلاحات پیکج راگ لاپتے ہوئے نظر آتی ہے حالانکہ کسان اصلاحات پیکج صرف الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے اور کچھ نہیں۔
پاکستان کسان اتحاد کے شوکت سلطان کا کہنا تھا ڈی چوک میں ہونے والے مظاہرے میں جھنگ، فیصل آباد، خانیوال، ملتان، گجرانوالہ، وہاڑی اور دیگر شہروں سے کسانوں نے شرکت کی اور اب ہم لاہور میں احتجاج کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہماری اس سلسلے میں میٹنگز ہورہی ہیں اور ہم بہت جلد اپنا احتجاج کا دائرہ کار پورے پاکستان میں پھیلا دیں گے۔
ایک طرف حکومت دعوے کرتی ہے کہ وہ کاشتکاروں کے لیے سہولیات پیدا کر رہی ہے تا کہ پیداوار بڑھے اور دوسری طرف اس نے کاشتکاروں کی پیداوار کو خریدنا چھوڑ دیا ہے۔ یوں کاشتکاروں کی پیداوار اب منڈی کے رحم و کرم پر ہے۔ یہاں بڑے سرمایہ دار بیٹھے ہیں، کچھ آڑھتیوں کے روپ میں اور کچھ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے روپ میں ۔ کچھ تو ایکسپورٹرز بھی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کسان ۸۵ ہزار روپے میں کپاس پیدا کرتے ہیں اور اس کی قیمت مارکیٹ میں۵۸ ہزار روپے ہوتی ہے ۔ یوں کسانوں کو ۲۷ ہزار روپے فی ایکٹر کا نقصان ہوتا ہے۔ کسان اتحاد کے رہنما کھوکھر کہتے ہیں کہ حکومت نے بڑے ٹیکس لگا کر تیزی سے بڑھتی ہوئی ان پٹ قیمت یعنی کھاد، بیج ، کیڑے مار ادویات اور ڈیزل وغیرہ کی قیمت کو بڑھنے سے روک تو دیا مگر اس نے پیداوار کی قیمت کو بڑی مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔
پنجاب میں زمینوں کی تقسیم تیز ہورہی ہے کیونکہ آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔یوں بہت بڑی تعداد اب ان کسانوں کی بھی ہے جن کے پاس ۴ ایکڑ زمین ہے۔ یہ چھوٹے کسان ہیں جنہیں کسی قسم کا قرض نہیں مل رہا ۔ یہاں تک کہ یہ بیج، کیڑے مار ادویات، فرٹیلائیزر بھی خریدنے کے قابل نہیں۔
منڈی کی معیشت کے تیزی سے پھیلاؤ نے جہاں شہروں میں مزدوروں میں بے روزگاری اور اجرتوں میں بے پناہ کمی کر دی ہے وہیں شہری مزدوروں کیلیے اشیائیں مہنگی اور ان پر طرح طرح کے ٹیکس لگا کر زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔ اسی طرح دیہی کسانوں کو مہنگی بجلی اور کھاد کی وجہ بھی ان دواشیاء کی پیداوار کا کنٹرول نجی مالکان کے ہاتھ منتقل ہوجانا ہے۔ بڑی فرٹیلائیزر کمپنیاں جیسے اینگرو، فوجی اور فاطمہ فرٹیلائیزر کو حکومت سستی گیس، سستی بجلی اور امپورٹ پر ڈیوٹی کی چھوٹ دے رہی ہے۔ اسی طرح بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سے منہ مانگے داموں پر مہنگی بجلی خریدی جاتی ہے اور ساری بجلی صنعتی علاقوں میں دے کر دیہاتوں میں چودہ سے بیس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔ کسانو ں کی پیداوار پر سرکاری کنٹرول ختم کر دیا گیا ہے ۔ اسی لیے کپاس، گندم، گناوغیرہ کی قیموں کا تعین اب بیوپاری کرتے ہیں ۔یوں کسانوں کی زندگی بھی اب سرمایہ دارانہ معیشت کی منڈی کے ہاتھوں یرغما ل ہے۔ کسانوں کا کئی سالوں سے اس ابتر صورتحال کے خلاف احتجاج بتا رہا ہے کہ سرمایہ داروں کی پالسیوں کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ نواز حکومت کا کسانوں پر تشدد بتا رہا ہے کہ یہ اپنے سرمایہ دار بھائیوں کے منافعوں کی خاطر کسانوں کا خون کرنے کو تیار ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *