بجٹ۲۰۱۷:سرمایہ داروں نے قرض لے کر آپس میں بانٹ لیا!

بجٹ۲۰۱۷:سرمایہ داروں نے قرض لے کر آپس میں بانٹ لیا!

تحریر: روزا خان

وفاقی بجٹ ۲۰۱۷ء ۲۶ مئی کو پیش کیا گیا۔ ہر بجٹ کی طرح یہ بجٹ بھی نام کو ترقی کے لیے اور حقیقت میں سرمایہ داروں کے درمیان ہم عوام سے حاصل کیے گئے ٹیکس کی رقم کی تقسیم کا اعلان ہے۔ سرمایہ داروں کے لیے اپنی معیشت چلانے کے لیے تین اہم اخراجات ہیں۔ اول قرضوں کی قسط چکانا، دوئم دفاع پر خرچ کرنا، سوئم بجلی کی کمپنیوں اور بجلی پیدا کرنے اور سڑکیں بنانے پر اخراجات کرنا ہے۔ سرمایہ دار منافع تو بنا رہے ہیں لیکن معیشت کی حالت ان کی منافع خوری نے خراب کر رکھی ہے۔ ایکسپورٹ کم ، امپورٹ زیادہ، ترقی کے نام پر اخراجات زیادہ اور اس کے لیے قرضے بھی زیادہ۔ عوام اس میں صرف نام کو ہیں، سرکاری ملازمین کی اجرتیں بھی نام کو کیونکہ ان سے بھی زیادہ ٹیکس وصول کیا جانا ہے۔
ڈان اخبار میں وفاقی بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ناصر جمال کا کہنا ہے کہ اس بجٹ کا دارومدار آمدنی اور اخراجات میں توازن پیدا کرنا اور اخراجات کر کے ہی معاشی پیداوار یعنی نمو میں اضافہ کرنا ہے۔عمومی طور پر تمام سرمایہ داروں کو خوش کرنے کا طریقہ ہے۔کسانوں اور ایکسپوٹرز کو جو چھوٹ دینے کا وعدہ کیا گیا ہے البتہ بجٹ میں ان کے لیے کچھ نہیں۔بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کا زیادہ حصہ بڑے انفراسٹرکچر پروجیکٹس اور سی پیک کے لئے مختص کیا گیا ہے ۔آمدنی اور اخراجات میں توازن برقرار رکھنے کے لئے ایک جانب ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے تو دوسری جانب چھوٹ بھی دے دی گئی ہے۔ جیسے گاڑیوں کی رجسٹریشن سے وودہولڈنگ ٹیکسز میں کمی،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ،چھوٹے کارویوں کے لئے لونز اسکیمیں،زراعتی اورصنعتی اداروں میں ٹیکسز کی چھوٹ دے دی گئی۔
اقتصادی تجزیہ نگار اصغر پوناوالہ کا کہنا ہے کہ یہ کوئی ایسا کوئی بہترین بجٹ نہیں ہے کہ زیادہ چل پائے گا بلکہ اس کا اصل مقصد تو گذشتہ چار برسوں کی طرح آمدنی اور اخراجات میں توازن برقرار رکھنا ہے۔تا کہ نوٹ چھاپنا نہ پڑیں اور یوں مہنگائی یعنی افراطِ زر میں اضافہ نہ ہو۔بجٹ آیندہ سال ہونے والے الیکشن کو مدنظر رکھ کر ہی بنایاگیا ہے۔
دی نیوز میں صحافی فرخ جمیل کہتے ہیں کہ جی ڈی پی یعنی شرح نمو اب ۵ فیصد کراس کر چکی ہے اوراگر پی پی پی حکومت سے موازنہ کیا جائے تو یہ 25فیصد اضافہ بنتا ہے۔مطلب یہ کہ بڑے سرمایہ داروں کے لیے نواز حکومت محنت کشوں سے سرمایہ داروں کے لیے زیادہ دولت پیداکروانے میں کامیاب ہے۔البتہ فرخ سلیم یہ بھی بتاتے ہیں کہ نواز حکومت نے جہاں بجلی اور گیس کی کمپنیوں کے منافع میں اضافہ کروادیا ہے وہاں یہ انہی کمپنیوں سے زیادہ بجلی یا زیادہ گیس پیدا کروانے میں ناکام رہی ہے۔ یہ جتنی رقم بجٹ سے بجلی اور گیس کے لیے لگاتے گئے اس سے پیداوار میں اضافہ نہ ہوا۔یوں سرمایہ داروں کے لیے تشویش کی بات ہے کہ جن منصوبوں پر اخراجات کیے جارہے ہیں ان سے پیداوار میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ پچھلے بجٹ میں گیس اور بجلی کے سیکٹرز کو مر کز بنا کر بجٹ پیش کیا گیا۔ایکونومک سروے 2016-17سے معلوم ہوتا ہے کہ گیس اور بجلی سیکٹرز کے منافع میں 3.5فیصد اضافہ ہوا ہے۔لیکن اگر پاکستا ن میں لوڈشیڈنگ کی حالت کو دیکھا جائے تو اس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔دوسری طرف ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ایکونامک سروے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ انرجی سیکٹر 2016میں جہاں 22.9ملین میگا واٹ بجلی پیدا کرسکتا تھا اب 2017میں 25.1میگا واٹ پیدا کرسکتاہے لیکن اگر دیکھا جائے تو بجلی کی پیداوار گذشتہ سال کے101,970GW/hسے گٹھ کر 85,206GW/hکو پہنچ گئی ہے۔جہاں انرجی سیکٹر میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت زیادہ ہے وہاں حکومت کا کہنا ہے کہ لگانے کو پیسہ نہیں ہے۔اب اس سال کے بجٹ میں پبلک سیکٹر ڈولپمنٹ پروگرام کو مرکز بنا یا گیا ہے اور حکومت بجٹ کا بہت بڑا حصہ اس پر لگانے جارہی ہے لیکن پچھلے بجٹ میں کروڑوں روپے کی لاگت سے لگائے گئے پروجیکٹس کو فعال بنانے کا کسی قسم کا کوئی ذکر نہیں۔
تجزیہ نگاروں نے بھی بجٹ کو سرمایہ داروں کی نظر سے ہی دیکھا ہے۔ توازن سے کیا مطلب ہے؟ سرمایہ داروں کو فکر رہتی ہے کہ کرنسی ریٹ میں زیادہ اتار چڑھاؤ نہ آئے کیونکہ اس سے انکے مستقبل کے سودے متاثر ہوتے ہیں۔ روپے کی قدر میں کمی بیشی کا تعلق خزانے میں ڈالروں سے ہے، ان میں کمی ہو رہی ہے کیونکہ ایکسپورٹ کم اور امپورٹ زیادہ ہو رہی ہے۔ اس لیے قرض لیے جار ہے ہیں، چین سے سرمایہ کاری کروائی جا رہی ہے۔ لیکن اس کی قیمت زیادہ ٹیکس کی صورت میں عوام اداکر رہی ہے۔ جی ایس ٹی بجلی، گیس، پیک اشیاء، فون کارڈ، انٹرنیٹ ، الیکڑونک اشیاء کے زریعے ہی وصول کیا جا رہا ہے ۔ یوں اخباری تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ اگر حکومت مہنگائی کو کنٹرول میں رکھے تو سرمایہ داروں کے لیے اخراجات اور آمدنی میں توازن برقرار رہے گا ۔اسی لیے اس بجٹ میں پانی ، گیس،بجلی وغیرہ کے لئے سبسڈی یعنی غریبوں کے لیے ریٹ میں کمی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ۲۰۱۳ کی اپنی تقریر میں اسحاق ڈار نے پاکستان کی جس ڈوبتی معشیت کا ذکر کیا تھا، دراصل یہ بجٹ اس دوبتی نئیاں کا ایک مستقل نہیں لیکن عارضی حل ہے۔
دیکھنے کی ضرورت یہ ہے کہ سرمایہ داروں نے بجٹ کے زریعے رقم کو آپس میں کس طرح تقسیم کیا ہے۔
اگلے سال ٹیکس سے آمدنی 4750ارب روپے ہے۔ ٹیکسوں سے آنے والی رقم 4330ارب روپے ہوگی ۔اس میں سے لگ بھگ 4000ارب روپے فیڈرل بورڈآف ریونیو(ایف بی آر)جمع کرے گا۔پھر یہ رقم تقسیم ہو گی۔ صوبوں کا حصہ 2,384ارب روپے ،دفاعی رقم 920.2ارب روپے ،قرضوں پر سود 1400ارب روپے ،ترقیاتی پروجیکٹس پر1001ارب روپے خرچ ہوں گے۔ یوں باٹنے کو رقم کم ہے۔ قرضوں، دفاع اور سرکاری اخراجات کو ملا لیں تو ٹیکس سے آمدنی انہی پر ختم ہوجاتی ہے۔ جسے ترقیاتی اخراجات کہا جا رہاہے وہ دراصل ملک کے اندر نجی بنکوں سے لیا گیا قرضہ ہو گا جس سے یہ اخراجات کیے جائیں گے۔ یعنی ترقیاتی اخراجات کے نام پر سرمایہ دار آپس میں رقم بانٹ لیں گے۔بجلی گیس کی کمپنیوں کے منافع جاری رہیں گے۔ البتہ ترقیاتی پروجیکٹس کے نام پر اب اسٹیل امپورٹرز اور سیمنٹ تیار کرنے والوں اور ذیلی ٹھیکہ داروں کی بھی جیب بھری جائے گی۔ اس کا بڑا اظہار گزشتہ ایک سال سے اسٹاک مارکیٹ میں ہو رہا ہے کہ سرمایہ دار جانتے ہیں کہ انہی کمپنیوں کے منافع بڑھ رہے ہیں۔بڑھتی ہوئی بے روزگاری میں ا سٹاک مارکیٹ کا پچاس ہزار پوائنٹ کراس کر جانا جہاں یہ بتاتا ہے کہ غریب غریب ہو رہاہے وہاں یہ بھی کہ امیر امیر تر ہو رہے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ تین سالوں میں ۱۸ ہزار پوائنٹ سے بڑھ کر ۵۰ ہزار پوائنٹ پر آگئی۔ کسی ایک دن جب ۲۰۰ پوائنٹ کا اضافہ ہوتا ہے تو اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ داروں کو ۴۰ ارب روپے کا فائدہ ہوتا ہے۔ یوں ایک سال میں اگر اسٹاک مارکیٹ میں دس ہزار پوائنٹ کا اضافہ ہوا تو سرمایہ داروں کو ۲۰ ہزار ارب روپے کا فائدہ ہو چکا ہے۔ لیکن یہ سرمایہ دار اسٹاک مارکیٹ پر آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں دیتے۔ حکومت غریبوں پر ٹیکس لگا کر امیروں کو چھوٹ دیتی ہے۔ اس طرح ٹیکسٹائل، لیدر، سرجیکل ، کارپیٹ کے ایکسپورٹرز کو ایک ہی سال میں ۴۱۵ ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی۔ ترقیاتی پروجیکٹوں کے لیے ۱۰۰۰ ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ گزشتہ سال ۸۸۰ ارب روپے رکھے گئے اور خرچ ہوئے ۷۰۰ ارب روپے۔ یوں اب کی ایک ہزار ارب میں سے تین تین سو ارب روپے ہائی ویز اور انرجی پر رکھے گئے ہیں۔ اس طرح بجلی کے منصوبوں اور ہائی ویز کے لیے اسٹیل اور سیمنٹ خریدا جائے گا جس سے انہیں پیدا کرنے والی کمپنیوں کو منافع ہو گا۔ اسٹیل کے امپورٹرز اور سیمنٹ بنانے والے سب ہی بڑے نجی سرمایہ دار ہیں۔ یوں ٹیکسٹائل، لیدر، اسٹیل، سیمنٹ کے بڑے سرمایہ داروں کی جیب بھرنے کا کام بجٹ کے زریعے کیا جا رہا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *