اردوگان کا خواب کیسے تباہ ہوگیا

لیل ونہار/عامر حسینی

ترکی میں سال نو کے موقعہ پہ ایک نائٹ کلب میں ہوئی فائرنگ پہ مغربی میڈیا کے اندر شور زیادہ دیر نہیں چل سکا اور دنیا ترکی کے ساتھ ویسے کھڑی نظر نہیں آئی جیسے وہ پیرس ، برسلز میں ہوئی گھٹنا میں فرانس کے ساتھ اور برلن میں ہوئی گھٹنا میں وہ جرمنی کے ساتھ کھڑی نظر آئی تھی۔اور مغربی میدیا نے چند گھنٹوں سے زیادہ اس واقعے کو اپنی شہ سرخیوں میں جگہ نہ دی۔مجھے اس پہ کوئٹہ سول ہسپتال میں ہوئی گھٹنا بھی یاد آئی جس میں بلوچستان کے ذہین دماغ اور وکلاء کی ایک تجربے کار لاٹ ایک دھماکے میں اڑا دی گئی تھی۔لیکن یہ گھٹنا مغربی میڈیا میں چند گھنٹے بھی جگہ نہیں پاسکی تھی۔مڈل ایسٹ میں ڈیلی انڈی پینڈیٹ لندن کے وار رپورٹر رابرٹ فسک نے ترکی کے نائٹ کلب پہ ہوئی دہشت گردانہ فائرنگ پہ مغربی میڈیا کی اس امتیازی روش پہ تبصرہ کرتے ہوئے شاید ٹھیک ہی لکھا کہ ترکی ایک مسلم اکثریت کا ملک ہے اور ہمیشہ سے اتنا سفید کبھی نہیں رہا جتنے مغربی ہیں۔

ویسے رابرٹ فسک نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ ترکی میں نائٹ کلب گھٹنا میں مرنے والے زیادہ تر عرب تھے اور لبنان سے لیکر جہاں سے تعلق رکھنے والے تین لبنانی مارے گئے اور چار زخمی ہوئے پورے مڈل ایسٹ تک مرنے اور زخمی ہونے والوں میں کرسچن اور مسلمان دونوں ہی تھے۔ترکی سمیت مڈل ایسٹ کا لوکل الیکٹرانک میڈیا بھی اس واقعے پہ وہی کررہا تھا جو ہمارے یہاں دیکھنے کو ملتا ہے۔کٹی پھٹی لاشیں دکھائی جاتی رہیں،سنسنی خیزی،کراہت آمیز چیزیں اور مرنے یا زخمی ہونے والوں کے گھروالوں سے اوٹ پٹانگ اور گھٹیا جذبات پرستی پہ مبنی سوالات۔یہاں تک کہ لبنانی وزیراعظم کو سرکاری ٹیلی ویژن پہ آکر صحافیوں سے درخواست کرنا پڑی کہ برائے مہربانی متاثرہ خاندانوں کے افراد کو معاف کردیں اور ان کو تنہا چھوڑ دیں۔

ترکی نائٹ کلب گھٹنا پہ تنہائی کا شکار اس وجہ سے بھی کہ اس کے صدر رجب طیب اردوگان کی جو پالیسیاں ہیں انہوں نے کم از کم عالمی برادری کو اس امر سے روکا ہے کہ وہ ترکی کے صدر سے اظہار ہمدردی کریں۔کیونکہ یہ ترکی کی حکومت داعش ، جبہۃ النصرہ اور مغربی طاقتوں کے حمائت یافتہ نام نہاد اعتدال پسندوں کو اسلحہ اور پیسہ دیا۔رابرٹ فسک کہتا ہے کہ یہ شام کے ایسے اعتدال پسند ہیں جو خود کو جہادی ظاہر کئے بغیر گلے کاٹ سکتے ہیں اور معصوم شہریوں کی ہلاکتیں کرسکتے ہیں۔ترکی کے صدر نے نہ صرف ترکی میں کردوں پہ چڑھائی کی بلکہ اس نے شامی کردوں پہ بھی چڑھائی کی اور وہاں پہ اپنی فوجیں داخل کردیں۔ترکی نیٹو فورسز کا بھی حصّہ ہے اس کے فوجی دستوں نے ملکر پوری دنیا میں نیٹو کی کاروائیوں مین حصّہ لیا اور یہ افغانستان پہ امریکی حملے میں بھی نیٹو اور ایساف کا حصّہ تھے اور عراقی کردستان پہ بھی ترکی نے بھاری توپخانے سے بمباری کی۔تو جب آپ ہمسایہ ملکوں میں فوجی مداخلت کرتے ہیں اور وہاں آگ اور خون کا بازار گرم کرتے ہیں اور اس کے بعد آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ آپ کے اپنے شہر اور علاقے محفوظ رہیں گے؟

پاکستان میں بھی ایک فوجی آمر نے امریکہ کے ساتھ ملکر نام نہاد جہاد افغانستان پروجیکٹ میں سامراجیوں کے ساتھ ملکر شرکت کی تھی اور پھر ایک دوسرے آمر نے سامراجی کیمپ کے ساتھ ملکر نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ساتھ دیا اور نتیجے میں اپنے ہی ملک کو خوفناک دہشت گردی کے عذاب میں مبتلا کردیا۔مڈل ایسٹ میں شام کے اندر گھناؤنا کھیل کھیلنے والوں کے اپنے ممالک میں بھی آگ لگی ہوئی ہے اور یہ اب کسی سے پوشیدہ بات نہیں رہی۔یمن میں یہی کھیل سعودی عرب نے شروع کررکھا ہے اور اب یمن میں لگی آگ کی تپش اس کے اپنے ملک میں صاف محسوس ہورہی ہے اور 39 ملکوں کی افواج کا اتحاد سعودی عرب کے شاہی خاندان نے اس آگ کو بجھانے کے نام پہ بنایا ہے مگر درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی والی صورت حال کا سامنا ہے۔

ترکی جو کبھی یورپ کا حصّہ بننے کے لئے بڑا بے تاب تھا اور اس حوالے سے انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر بنانے کی فکر کررہا تھا اور ہمیں ترکی کی مسلم بنیاد پرست پارٹی جس کی فکری بنیادی اخوان المسلون کے بانی حسن البنّا اور جماعت اسلامی کے بانی سید مودودی سمیت پین اسلام ازم کے مفکرین کی تعلیمات پہ استوار ہیں ترکی کو ایک ماڈریٹ، ترکی یافتہ ملک بنانے کے دعوے کررہی تھی لیکن برا ہو نیولبرل ازم کے تحت سرمایہ دارانہ ترکی کے ماڈل کا اور اقربا پروری کی سیاست کا اور ساتھ ساتھ ترکی کو نئی عثمانی سلطنت بنانے اور اردوگان کے خلیفہ بننے کے خواب کا جس نے ترکی کا یورپ کا حصّہ بننے کا خواب چکنا چور کردیا۔رجب طیب اردوگان ایک جمہوری منتخب آمر کی صورت میں سامنے آگئے اور اب وہ یورپ کی نیو لبرل سرمایہ دار حکومتوں کے خوف اور اندیشوں کو کم کرنے والے متبادل بناکر اپنے آپ کو پیش کرکے یورپی حکومتوں سے مراعات مانگتے ہیں۔جیسے ترکی کے صدر نے وعدہ کیا کہ وہ شام ، عراق سے یورپ پناہ کی تلاش میں ترکی کے راستے یورپ کا رخ کرنے والوں کو ترکی ہی میں روک کر رکھیں گے اور اس کے بدلے ترکی کے سات کروڑ نوے لاکھ باشندوں کو جرمنی کا ویزہ لئے بغیر وزٹ کی سہولت حاصل ہوگی۔ترکی کے صدر اپنے ملک میں اٹھنے والی ہیجان انگیزی سے اسقدر دباؤ کا شکار ہیں کہ وہ روس ، چین ، اسرائیل ،ایران سب کے ساتھ ایسی ڈیل کرنے کی کوشش میں ہیں کہ جس سے زیادہ سے زیادہ مراعات مل سکیں اور وہ ترکی کے عوام کو شانت کرسکیں۔

مڈل ایسٹ اور ترکی کے سیاسی جوار بھاٹا پہ نظر رکھنے والے کہتے ہیں کہ حسن البنّا ، سید مودودی ، جمال الدین افغانی جیسوں کے افکار کا پیروکار جو پرانی ٹرکش سلطنت یعنی سلطنت عثمانیہ کے احیاء بارے بہت ہی رومانویت زدہ ہوچکا تھا جیسا کہ اس نے ایک شاندار طرز کا استبنول میں عثمانی فن تعمیر کا شاہکار محل بھی تعمیر کرکے پوری دنیا کو بتایا تھا اپنی فارن پالیسی / خارجہ امور ميں بہت زیادہ ‏‏عثمانی مخالف ہوچکا ہے یعنی وہ اپنے خطے کی عرب حکومتوں کی خواہشات اور آرزو کے خلاف جارہا ہے ۔یہ وہی عرب حکومتیں جن کے ساتھ اس نے 2011ء میں بہار عرب کے انقلاب کے بعد امریکہ اور دیگر سامراجی عالمی قوتوں کے ساتھ اتحاد کرلیا تھا۔

مڈل ایسٹ میں بدلتی صورت حال میں کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ رجب طیب اردوگان امریکی صدر رجب طیب اردوگان کے ساتھ بھی یاریاں ضرور لگائے گا جسے وہ اسلاموفوبیا کا شکار ذہنی بیمار قرار دے چکا تھا۔

مجھے جماعت اسلامی پاکسان کے حامی قلمکاروں پہ بہت ترس آتا ہے جو رجب طیب اردوگان کی حکومت کو اپنے اسلامی انقلاب کی ماڈل حکومت قرار دیتے نہیں تھکتے تھے اور جماعت اسلامی کے تین امیر مرحوم قاضی حسین احمد، پروفیسر منور حسن اور حالیہ سراج الحق نے تو بار بار پاکستان کو رجب کے دور کا ترکی بنانے کا ہمیں خواب بھی دکھایا۔اور کراچی کو استنبول بنانے کی بات بھی کی۔ویسے ہمارے محترم وزیراعظم نواز شریف اور ان کے برادر خادم پنجاب بھی ایسے دعوے اور اس تناظر میں اپنے اٹھائے گئے اقدامات کے زریعے ہمیں پاکستان کو ترکی بنانے کا کہتے رہے ہیں۔پاکستان کا شہر لاہور استنبول بننے کے چکر میں اپنا منہ مہاندرا کھوبیٹھا ہے اور پورا لاہور کھدا پڑا ہے جبکہ والڈ سٹی کی ساری تاریخی عمارتیں فلائی اوورز اور میٹرو کے پلوں کے نیچے اور پیچھے چھپ گئی ہیں۔اردوگان کبھی اوبامہ کو خوش کرنے کے لئے روسی جیٹ گرارہا تھا تو اب اسی روس کے صدر پیوٹن کے گھٹنے چھورہا ہے۔شام مین بہار عرب شروع ہوئی تو اسد کے ساتھ کھڑا تھا اور پھر اسد کا دشمن نمبر ون بنا اور آج کل روس ، ایران  اور چین کے زریعے سے بشار الاسد سے سودے بازی میں مصروف ہے۔

لیکن کیا کوئی ترکی کی قربت چاہتا ہے؟ مرا خیال ہے کہ نہیں بلکہ اب ترکی کے صدر کو بس ایک معمول کی طرح اپنے حال کے دوستوں کے کہے پہ چلنا ہے۔

وہ جو کردوں پہ بم برسائے اور پھر ان کا الزام داعش کو دے، تو ایسا کوئی یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ کوئی دوسری طاقت اس کے ملک میں مداخلت نہ کرے جبکہ اس کے فوجی دستے ہمسایہ ملکوں کے اندر بیٹھے ہوں اور ایسا آدمی یقینی بات ہے کہ ایک خطرناک راستے پہ چل رہا ہوتا ہے۔

طیب رجب اردوگان کا نیو اوٹمان /عثمان خلیفہ اعظم بننے کا خواب بہت ہی بری تعبیر لیکر آیا ہے۔اسلامی انقلاب کی معاشی تعبیر وہی نیولبرل اکنامی، نجکاری، اقرباپرور سرمایہ داری، بڑے پیمانے پہ سرکاری نوکریوں سے لوگوں کو نکالا جانا، مسلم امّہ کے اتحاد کی تعبیر فرقہ واریت اور محنت کشوں پہ زبردست جبر ، پریس پہ ناروا پابندیاں، درجنوں صحافی ، مدیر، بلاگر نظر بند اور ترکی میں کردوں پہ زبردست قومی جبر کی شکل میں سامنے آیا ہے۔اس سے پہلے ہم نے مصر میں اخوانیوں کی حکومت کا معاشی رہبر شاطر الخیرات کی صورت دیکھا تھا جس نے نیولبرل ازم کو ہی اسلامی رنگ چڑھا کر پیش کیا تھا اور دنیا بھر کے سرمایہ داروں کو خوش کرکے یہ پیغام دیا تھا کہ جسے اسلامی معاشی نظام کا نام اخوان دیتی ہے وہ سرمایہ داری کی ہی ایک اور شکل کا نام ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *