علمی آزادی ارتقائی ہے یا نج کاری کے دیو کے خلاف جدوجہد سے ممکن ہو گی؟

علمی آزادی ارتقائی ہے یا نج کاری کے دیو کے خلاف جدوجہد سے ممکن ہو گی؟

تحریر: ریاض احمد

۳ مئی کو محترم استاد توصیف احمد خان کا مضمون اخبار ایکسپریس میںپڑھا۔ توصیف صاحب کی علمی اور ترقی پسندانہ خدمات کا کون معترف نہیں۔ البتہ مضمون میں بحث کو جس طرح اساتذہ کی منتخب انجمنوں اور یونیورسٹیوں میں ان انجمنوں کے کردار کو جس طرح پیش کیا گیا وہ نہ صرف یک طرفہ ہے بلکہ علمی آزادی، جمہوری رویوں، جدیدیت ، بیانیہ کی تشکیل، جنگوں کے اثرات ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں کے اثرات پر ترقی پسندی کی شکل میں از خود غیر جمہوری ہے۔پانچ نکات اس مضمون کے ہم زیر ِ بحث لاتے ہیں:
اول، توصیف صاحب کا کہنا ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن یونیورسٹیوں کو بین الاقوامی معیار تک پہنچانا چاہتا ہے لیکن اساتذہ کی انجمنیں اس راہ میں رکاوٹ ہیں کیونکہ یہ گروہی مفادات پر مشتمل عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ کر چکی ہیں اس لیے ایچ ای سی کی ترقی پسند پالیسیوں کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ایک لمحے کے لیے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ایچ ای سی کی پالیسیاں ہیں کیا اور یہ کس حد تک جمہوری طور پر تشکیل پائی ہیں کیونکہ مضمون کے آغاز میں توصیف صاحب یہ بیان کر تے ہیں کہ جمہوری رویوں کا ارتقاءہی علمی آزادی کا امین ہے۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی تشکیل ورلڈ بنک کی ۰۵۴ ملین ڈالر گرانٹ سے ۴۰۰۲ءمیں ہوئی جو دنیا بھر میں ترقی پزیر ممالک میں اعلیٰ تعلیم کو کمرشل آئیز کرنے اور سرکاری تعلیمی اداروں میں انرولمنٹ گھٹا کر اسے نجی تعلیمی اداروں میں منتقل کرنے کے لیے ۹۹۹۱ءمیں ورلڈ بنک کے لیے ہارورڈ یونیورسٹی کے دو پروفیسرز نے تیار کیا تھا۔ علمی آزادی ورلڈ بنک کے ان پروفیسرز کے نشانہ پر اس حد تک تھی کہ انہوں نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں یہ تحریر کیا کہ یونیورسٹیوں میں عملی آزادی کے نام پر دراصل انتظامیہ کے رستے میں رکاوٹ پیدا کی جاتی ہے جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
گزشتہ ۴۱ سالوں میں پاکستانی ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے ملک میں نجی یونیورسٹیوں کی تعداد کو دس گنا کر دیا ہے۔ سرکاری یونیورسٹیوں کے بجٹ میں کٹوتیاں کر کے یونیورسٹیوں کوگرانٹ صرف ملازمین کی تنخواہوں تک محدود کر دی ہے۔ یونیورسٹیوں میں اشرافیہ اساتذہ جیسے ٹینیور ٹریک پیدا کر کے طبقاتی تقسیم اور مقابلہ پیدا کر دیا۔ یونیورسٹیوں کو ایوننگ پروگرام، ویک اینڈ پروگرام اور سیلف فنانس کے نام پر لاکھوں روپے فیس بٹورنے اور کلاس روم و پاور پوائنٹ لیکچر سسٹم جیسی گھٹیا تعلیم تک محدود کر دیا۔ یونیورسٹیوں کے اندر کینٹین، ہاسٹلز، ٹرانسپورٹ ، رہائش کی نجکاری کر دی اور یونیورسٹیوں کے وسائل ان پر خرچ کرنے کے بجائے الٹا کرائے وصول کرنا شروع کر دئیے۔ بی ایس پروگرام ، پی ایچ ڈی پروگرام جیسی ناکام پروگرام شروع کرنے کا مقصد معیار کے نام پر یونیورسٹی تعلیم کا دورانیہ بڑھانا تھا۔ یہ محض چند اقدامات ہیں جبکہ ۴۱ سالہ ایچ ای سی کی تاریخ کا لب ِ لباب یہ ہے کر یونیورسٹیوں سے لوئیر مڈل کلاس کو بے دخل کر کے ان کی جگہ مڈل کلاس آگئی۔ ایچ ای سی نے ڈگری ویری فیکیشن اور گرانٹ روک کر پالیسیاں نافظ کروائیں۔ویری فیکشن اور گرانٹ کی بلک میل پالیسی استعمال کر کے یونیورسٹیوں میں علمی آزادی کے سب میں بڑے ادارے جیسے بورڈ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز، اکیڈمک کونسل، سنڈیکیٹ کے اختیارات محدود کر دئیے۔ اب یہ ادارے ایچ ای سی کی پالیسی کو نافظ کرنے کے نام پر وائس چانسلروں کے آمرانہ اڈے بن چکے ہیں۔
ہائیر ایجوکیشن کمیشن جنرل مشرف کی آمریت کی پیداوار ہے۔ سامراجی ورلڈ بنک کی پالیسیاںپر عمل درآمد کے لیے ایچ ای سی کی کمان علمی اشرافیہ کے پروفیسر عطا الرحمان جیسے لوگوں کے سپرد کی گئیں جو اپنی ہی یونیورسٹی میں از خود تاحیات ڈائرکٹر اور اپنے ہی ادارے کے قوانین میں خود ترامیم کر کے آج تک اس کے ’پیٹرن ان چیف‘ بنے ہوئے ہیں جبکہ ایسا کوئی عہدہ پاکستان کی کسی یونیورسٹی میں موجود نہیں۔ ایچ ای سی بھی ایسا ہی ایک ادارہ بنا۔ یہاں ڈائرکٹر کی مرضی سے پسندیدہ افراد کو تعینات کیا گیا، اربوں روپے سالانہ ان سینکڑوں افسران پر خرچ کیے جا رہے ہیں اور یہ کئی سال تک اپنا حساب کتاب پارلیمان کو بھی پیش نہیں کرتے تھے۔ آج ایچ ای سی کا بجٹ ۶۸ ار ب روپے ہے لیکن ملک کا کوئی جمہوری ادارہ ان کی کارکردگی پر سوال تک نہیں کر سکتا، انہیں جوابدہ نہیں کر سکتا۔ جبکہ ایچ ای سی ملک بھر کی تمام سرکاری یونیورسٹیوں سے نہ صرف حساب کتاب طلب کرتی ہے بلکہ اس کی بنیاد پر گرانٹ میں کمی بیشی کرتی ہے۔ جو یونیورسٹیاں ایچ ای سی کی داخلہ پالیسیوں سے انحراف کریں انہیں سزائیں جیسے ڈگری ویر فیکیشن روک دینا، طلبہ کی رسرچ گرانٹ روک دینا دی جاتی ہیں۔ ایچ ای سی کی جانب سے من پسند افراد کو ہزاروں کورسز تیار کرنے کے لیے لگایا جاتا ہے۔ پھر یہی کورسز اور پروگرام یونیورسٹیوں پر مسلط کر دئیے جاتے ہیں۔ جیسے حال ہی میں ایم فل سے پی ایچ ڈی میں داخلہ منتقلی ایچ ای سی نے ختم کر دی تو تمام یونیورسٹیوں کی ایڈوانسڈ ریسرچ بورڈز اور اکیڈمک کونسل جیسے اداروں جہاں یونیورسٹی کے پروفیسران موجود ہوتے ہیں انہیں وائس چانسلروں نے پابند کر دیا کہ وہ ایچ ای سی کی پالیسی کو تسلیم کر لیں۔ ظاہر ہے ایچ ای سی ایک غیر جمہوری ادارہ ہے ، یہاں عوام کی، یونیورسٹیوں کی، طلبہ کی کوئی نمائندگی نہیں اسی لیے یہ آمرانہ طو رپر عمل کرتا ہے۔ جبکہ یونیورسٹی کے ایڈوانسڈ ریسرچ بورڈ سے لے کر اکیڈمک کونسل اور سنڈیکیٹ میں یونیورسٹی سے منتخب اساتذہ اور پروفیسران موجود ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف یونیورسٹی کے مختلف کیڈر کے اساتذہ کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ وہ پروفیسران ہوتے ہیں جن کا یہ اولین کام ہے کہ یہ تعین کریں کہ یونیورسٹی کون سا نصاب، کون سی ڈگری اور کون سا پروگرام شروع کر سکتی ہے۔ علمی آزادی کی سب میں اولین شرط حکومت اور عوام کے دباﺅ سے ہٹ کر نصاب طے کرنے کی آزادی ہے ۔ ایچ ای سی ۳۱ سال سے یونیورسٹیوں پر نصاب مسلط کر کے یہی اولین علمی آزادی چھین رہی ہے۔ اسی طرح علمی آزادی کی ایک اہم شرط یہ ہے کہ یونیورسٹی کے اداروں جیسے ایڈوانسڈ ریسرچ بورڈ، اکیڈمک کونسل اور سنڈیکیٹ نے یہ طے کرنا ہے کہ کس شخص کو سند دی جائے اور کس کے مقالے پر اعتراض آئے تو چھان بین کر کے اس میں سرقہ کی تصدیق کرے اور ایسا ہو تو سند واپس لے لی جائے۔ اگر حکومت ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن یا دیگر اداروں کی جانب سے دباﺅ آئے کہ سند کی تصدیق یا تنسیخ کر دی جائے تو وہی علمی آزادی صلب ہوجاتی ہے جس کی بنیاد پر یونیورسٹیاں قائم ہیں۔
ٍٍٍ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے تعلیم مہنگی، لوئیر مڈل کلاس کی دسترس سے باہر، علم کو کاروبار، اداروں کو بے اختیار، گرانٹ کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا۔ علمی آزادی یہی تو ہے کہ تعلیم سب کے لیے ہو، اسے بیچا اور خریدا نہ جا سکے ، اس کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہو۔ یہ سب کچھ نہ ہو تو پھر کس طرح اظہارِ رائے کی آزادی میسر ہو سکتی ہے؟ نجی یونیورسٹیوں میں سے ایک بھی ایسی نہیںکہ جہاں اساتذہ یا طلبہ کی کوئی منتخب انجمن ہو۔ اگر طلبہ کی اکا دکا کونسلیں ہیں تو لمس میں ۵۱۰۲ءمیں بلوچ گمشدہ افراد کے لیے ماما قدیر کے لیکچر کو وائس چانسلر سہیل نقوی منسوخ نہ کرتے، اتفاق سے یہی سہیل نقوی صاحب ایچ ای سی کے پہلے ڈائرکٹر تھے۔ انہوں نے ہی ۲۱ مختلف ورژنز میں ماڈل یونیورسٹی آرڈیننس پاکستان بھر کی سرکاری یونیورسٹیوں میں نافظ کرنے کی کوشش کی جسے ۳۰۰۲ تا ۴۰۰۲ءکی ملک گیر اساتذہ اور طلبہ تحریک نے مسترد کر دیا۔ اتفاق یہ بھی ہے کہ توصیف صاحب کے ہی مولوی عبدالحق اردو کالج اور اردو سائنس کالج کو ملا کر جو یونیورسٹی ۴۰۰۲ءمیں بنی اس پر ماڈل یونیورسٹی آرڈیننس نافظ کر دیا گیا اور تب ، مجھے یاد ہے، توصیف صاحب نے ہی اسے خوش آمدید یہ کہہ کر کہا کہ یونیورسٹی اس صورت بن سکتی ہے۔ اس کے بعد کے ۰۱ سال اردو یونیورسٹی کے اساتذہ اپنی سینٹ میں نمائندگی کے حق سے ہی محروم رہے اور یونیورسٹی کو ایک کے بعد دوسرے بھیڑئیے وائس چانسلر کے حوالے کیا جاتا رہا جو نرم یا سخت آمریت ہی نافظ کر تے رہے۔ اگر علمی آزادی ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ترقی پسندانہ اور جدیدیت پر مبنی پالیسیوں سے ہی آرہی تھی تو ماڈل آرڈیننس میں ایچ ای سی اساتذہ اور طلبہ کو یونیورسٹی کے اداروں جیسے سینٹ، سنڈیکیٹ، اکیڈمک کونسل اور بی اے ایس آر میں براہ ِ راست نمائندگی کیوں نہیں دیتی۔ کیوں یونیورسٹی کے سب میں اعلیٰ ادارے یعنی گورننگ بورڈ یعنی سینٹ میں طلبہ کی کوئی نمائندگی نہیں، کیوں اساتذہ کی نمائندگی کے لیے اساتذہ جن کو منتخب کرتے ہیں ان میں اسے ایک کاانتخاب سرکاری طور پر نامزد ارکان کی مرضی سے ہوتا ہے؟
علمی آزادی محض یہ نہیں کہ ترقی پسند ، لیفٹ، مارکسسٹ سوچ پر مبنی اساتذہ کو ہی یونیورسٹی میں تعینات کیا جائے۔ علمی آزادی یہ نہیں کہ مذہبی رحجانات رکھنے والے طلبہ کو اساتذہ نہ بننے دیا جائے۔ علمی آزادی یہ ہے کہ سوچ اور فکر کو اختیار کرنے کے لیے ماحول فراہم کرنے کے لیے ریاست پابند ہو۔ ۳۷۹۱ءکا یونیورسٹی ایکٹ ، جس پر آج تک یونیورسٹیاں چل رہی ہیں اور اس کا سبب بھی یہی ہے کہ یہ یوینورسٹیوں کے چلانے میں ان کے اداروں میں اساتذہ اور طلبہ کو نمائندگی دیتی ہیں۔ طلبہ کی نمائندگی ۳۸۹۱ءسے ختم کر دی گئی ہے۔ یہ آمرانہ عمل تو تھا لیکن گزشہ ۷۲ سال کی مختلف قسم کے جمہوری اور ترقی پسندانہ مشرف آمریت کے دور میں، کہ جس میں ہائیر ایجوکیشن بنا بھی اور پھلا پھولا بھی، کوئی ایک قدم بھی طلبہ کی نمائندگی کے لیے نہیں بڑھایا گیا۔ سندھ میں تو شب خون پیپلز پارٹی نے ہی ۲۱۰۲ءمیں ۲۱ سیکنڈ میں ۳۷۹۱ءکے ایکٹ میں یک طرفہ ترمیم کر کے ہی مار ڈالا۔
اتنے برسوں کی جمہوریت میں یونیورسٹیوں میں جمہوریت کیوں نہ آسکی؟ اس کی اولین وجہ تو یہ ہے کہ حکمران طبقہ جو سرمایہ داروں اور افسر شاہی پر مشتمل ہے اس کے مفاد میں عام تعلیم نہیں ہے۔ ۱۹۹۱ءکے بعد سے بڑی سیاسی پارٹیوں نے ویلفئیر کے بجائے تعلیم کو کاروبار بنانے کی ہی پالیسیوں کو نافظ کیا ہے۔ جن شہروں میں ۰۹ فیصد بچے سرکاری اسکول میں جاتے تھے اب یہ نجی اسکولوں میں جاتے ہیں۔ جو لوئیر مڈل کلاس پہلے سرکاری یونیورسٹی میں جاتی تھی اب یہ تعلیم کے سسٹم سے ہی باہر بیٹھی ہوئی ہے۔ توصیف صاحب کو تو بخوبی یاد ہے کہ ۳۵۹۱ءاور پھر ۳۶۹۱ءکی طلبہ تحریک ہی تو تھی کہ جس کے پس منظر میں ۹۶۹۱ءکی طلبہ، اساتذہ اور مزدور تحریک ابھری تھی۔اس تحریک میں احتجاج ، جلسے ، جلوس نکلے ، اساتذہ برطرف ہوئے، طلبہ کے داخلے منسوخ ہوئے، گرفتاریاں اور تشد ہوا۔ لیکن اساتذہ اور طلبہ قربانیاں دیتے رہے اور اپنے مقصد کےلیے ڈٹے رہے۔جمہوری حق کے لیے لڑنا پڑا، علمی آزادی کا حق ارتقاءسے نہیں جدوجہد سے ممکن ہوا۔ اور اسی تحریک سے خوفزدہ تعلیم کو کاروبار بنانے کا حامی حکمران طبقہ مجبور ہوا کہ تعلیم عام کرنے کے اقدامات کرنے پڑے، نیشنل آئیزیشن، ہزاروں سرکاری تعلیم اداروں کا قیام اور ۳۷۹۱ءکا یونیورسٹی ایکٹ پارلیمان سے منظور ہوا۔ یہ عوام کی تحریک تھی جس کے دباﺅ میں یونیورسٹیوں کے اداروں میں اساتذہ اور طلبہ کو نمائندگی ملی اور یوں علمی آزادی کا ایک مختصر دور شروع ہوا۔ البتہ جیسے جیسے یہ تحریک پسپا ہوئی حکمران طبقہ حاوی ہوتا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کی بحالی نے نہ طلبہ حقوق بحال کیے نہ سرکاری تعلیمی اداروں کو بہتر کیا کیونکہ یہ کبھی بھی حکمران طبقہ کے مفاد میں نہ تھا۔
یوںسرمایہ داروں اور اشرافیہ کی جمہوریت کوئی ارتقائی عمل کا نام نہیں۔ اس میںعوامی مفاد، علمی مفاد میں ارتقاءتو تنظیم، یکجہتی، نظریہ کا مرہونِ منت ہے۔ اساتذہ کی منتخب ایسو سی ایشنز جیسے کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی ہی تو ہے کہ جو آئے دن ایچ ای سی اور یونیورسٹی انتظامیہ اور اس پر مسلط اداروں کے ناجائز اقدامات کے خلاف آواز بلند کرتی ہے۔ ہے کوئی اساتذہ کی منتخب ایسوسی ایشن کسی ایک بھی ان دو درجن نجی یونیورسٹیوں میں جہاں ڈیڑھ لاکھ طلبہ کو ۵ ہزار اساتذہ تعلیم دے رہے ہیں؟ کیا ان میں سے کسی ایک ادارے میں ملک میں مذہب پر تنقید یا سرکاری عدم برداشت کے حالیہ فلسفہ اور ماضی میں سرکاری مذہب پرستی یاجہاد کے فلسفہ کے علاوہ کوئی کچھ لکھ بھی سکتا ہے؟یہ کیسا ارتقائی عمل ہے کہ جو تعلیم کو کاروبار تو بنا رہا ہے مگر علمی آزادی کا نام و نشان تک نہیں؟
اسی لیے مافیا اگر ہے تو ہائیر ایجوکیشن کمیشن پر مسلط ورلڈ بنک، افسر شاہی اور یونیورسٹیز کے وائس چانسلر ز پر مشتمل نجی یونیورسٹیوں کے مالکان کی مافیا ہے جو بنیادی انسانی حق بھی دینے کو تیار نہیں۔ علمی آزادی کا سورج نجی تعلیمی اداروں میں ضرور طلوع ہو گا ، اس کے لیے سرکاری تعلیمی اداروں میں طلبہ کو اپنے جمہوری حقوق کی تحریک چلانا ہو گی اور اساتذہ کو ان کا ساتھ اور نجی اداروں کے طلبہ و اساتذہ کے حق کے لیے آواز بلند کرنی ہو گی۔تب ہی نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کی مافیا اور انکے مفاد میں سرکاری یونیورسٹیوں کی تباہی کا سلسلہ رک سکے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *