اردو یونیورسٹی کے اساتذہ و طلبہ کا ساتھ کیوں دیں؟

اردو یونیورسٹی کے اساتذہ و طلبہ کا ساتھ کیوں دیں؟

وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی کی دوسری بڑی یونیورسٹی ہے۔ دو کیمپسوں پر مشتمل یہ یونیورسٹی کراچی کے دس ہزار طلبہ کو۹۳ بیچلرز اور ۱۳ ماسٹرزپروگراموں میں تعلیم دے رہی ہے۔ اردو کی واحد یونیورسٹی ہونے کے ناطے اس کی تاریخی اہمیت بھی ہے۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق کی کاوشوں سے ایک ٹرسٹ کے تحت قائم یہ یونیورسٹی کراچی اور پاکستان کی پہچان ہے، اردو کی طرح اردو یونیورسٹی بھی تحریک ِ پاکستان کا ایک اہم حاصل ہے۔ البتہ گزشتہ چند سالوں میں پے درپے بدانتظامی نے اردو یونیورسٹی کو بحران سے دوچار کر دیا ہے۔اسلام آباد میں موجود نوکر شاہی من مانے فیصلے کر کے یونیورسٹی میں ایڈہاک ازم کو فروغ دیتی ہے تو کراچی میں موجود اعلیٰ انتظامیہ بشمول وائس چانسلروں کی تقرری میں ایسی فاش غلطیاں کی جاتی ہیں جن کا خمیازہ طلبہ ، اساتذہ اور ملازمین کو بھگتنا پڑتا ہے۔
حالیہ بحران کی وجہ عبدالحق (آرٹس) کیمپس میں۰۴ جز وقتی اساتذہ کی اچانک برطرفی ہے۔ انتظامیہ نے پیشگی اطلاع کے بغیر چار ماہ کی تنخواہیں بھی ادا نہ کیں اور اساتذہ برطرف کر دیا۔ گزشتہ ماہ انتظامیہ نے جزوقتی اساتذہ کی تقرری کے خطوط جاری کرنے سے انکار کرنے کے بعد اردو یونیورسٹی میں تعلیمی بحران کو تیز تر کر دیا ہے۔مثلا شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں ۴ مستقل اور ۴ جزوقتی اساتذہ ۱۴ مضامین پڑھا رہے تھے۔ اب اچانک ۴ اساتذہ کو برطرف کر کے کلاسز کا بحران پیدا کر دیا گیا۔ قام مقام عارضی وائس چانسلر کی اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری پر ہائیر ایجوکیشن کمیشن، سپریم کورٹ اور کراچی یونیورسٹی سرقہ ثابت کر چکی ہیں ۔ یہ اپنی کارکردگی دکھانے کےلیے طلبہ اور اساتذہ کو بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔ایوانِ صدر کو خوش رکھنے کے لیے بے بہا رقم خرچ ہوتی ہے لیکن کارکردگی دکھانے کے لیے اساتذہ کی ڈاﺅن سائزنگ علمی سرگرمیوں کو ناممکن بنانے کی قیمت پر کی جا رہی ہے۔ یہ اردو یونیورسٹی کے ساتھ سراسر ظلم ہے۔
جزوقتی اساتذہ کے ساتھ یکجہتی کے طو رپر مستقل اساتذہ سراپا احتجاج بن گئے۔ طلبہ بھی ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ جزوقتی اساتذہ کا ساتھ دینے پر اب مستقل اساتذہ کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ۰۲ مارچ سے مستقل اساتذہ نے عبدالحق کیمپس میں کلاسوں کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں تدریس معطل ہے اور یوں ہزاروں طلبہ کا مستقبل خطرے کا شکار ہو گیا ہے۔ یونیورسٹی میں ۲۱۰۲ءسے مستقل اساتذہ کا تقرر نہیں کیا گیا جب کہ اساتذہ کی ایک کثیر تعداد ریٹائرڈ ہو چکی ہے۔ مستقل اساتذہ کی تقرریاںنہ ہونے کے سبب مختلف شعبہ جات میں پی ایچ ڈی پروگرام بند ہو گیا ہے۔ یونیورسٹی کی فیسوں میں گزشتہ ایک سال میں تین گنا اضافہ کر دیا گیا اور اردو یونیورسٹی کے دروازے لوئیر مڈل کلاس پر بند کر دئیے گئے۔ اسی طرح فارمیسی کونسل اور پاکستان بار کونسل نے اساتذہ کی کمی اور انفرااسٹرکچر نہ ہونے کے سبب الحاق ختم کر دیا جس سے ہزاروں طلبہ کا مستقبل تاریک ہو گیااور طلبہ کو عدالتوں سے رجوع کرنا پڑ رہا ہے۔
بحران کا حل نکالنے کے بجائے صدر مملکت نے اردو یونیورسٹی کو بطور چانسلر ایک ریٹائرڈ بیوروکریسی پر مشتمل صدارتی ایڈوائزری کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ یونیورسٹی ایک جمہوری ادارہ ہوتی ہے اور اساتذہ کے نمائندوں کے زریعے سینٹ، سنڈیکیٹ، اکیڈمک کونسل، ایڈوانس اسٹڈیز بورڈ و دیگر دستوری اداروں کے زریعے چلائی جاتی ہے ۔ البتہ ان اداروں کے بجائے اردو ویونیورسٹی میں ریٹائرڈ بیوروکریسی کے زریعے مطلق العنانیت مسلط ہے، جس پر خود سرقہ کا الزام ثابت بھی ہو چکا ہے ، یہ اب اساتذہ کی آواز کچلنے کے لیے ایک کیمپس سیکورٹی فورس قائم کر چکی ہے جو احتجاج کو روکنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دے رہی ہے۔
وفاقی اردو یونیورسٹی کی تباہی و بربادی کے خلاف ہم شہریوں نے اردو یونیورسٹی بچاﺅ کمیٹی تشکیل دی ہے تا کہ اربابِ اختیار کی توجہ اس امر پر مرکوز کی جائے کہ وہ پاکستان کی واحد اردو یونیورسٹی کو مزید بربادی سے روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *