اصل مسئلہ تبدیلی لانا ہے!

اصل مسئلہ تبدیلی لانا ہے!

تحریر: جان مالینو، ترجمہ روزا خان

قسط دوئم

باب اول: فلسفہ کیوں اہم ہے

یہ بات تویقینی ہے کہ کسی مظاہرے ،ہڑتال یا انقلابی اُبھار کا حصہ بننے کے لئے آپ کو فلسفے کی جانکاری کی ضرورت نہیں ہے یہاں تک کہ اچھی نوکری کے لئے بھی۔اگر آپ مزدوروں کی بڑی تعداد کی مارکس اور ہیگل، مظاہروں ، ہڑتالوں یا ذیادہ سے ذیادہ انقلابات کو پڑھنے کے انتظار میں ہیں تو ایسا نہیں ہوگا۔
دنیا کو بدلنے کی جدوجہد محض ان براہ راست مقابلوں پر مشتمل نہیں ہے۔ان عظیم مقابلوں سے پہلے یا ان کے دوران ہمیں روزانہ حکمرانوں کے نظریات کے خلاف نظریاتی جنگ لڑنی پڑتی ہے اور اس نظریاتی جدوجہد کے ساتھ ساتھ مزدوروں کو منظم کرنا، ان کی یونینز بنانا اور اسے بحال رکھنا،کمپین اور سیاسی پارٹی بنانا بھی روزانہ کے کاموں میں شامل ہیں۔اپنے سیاسی کام کولمبے عرصے تک برقرار رکھنا مشکل ہے جب تک کے سماج پر غالب نظریات جن سے ہم روزانہ لڑرہے ہوتے ہیں، کے خلاف ہم ایک معقول متبادل دنیا کا تصور نہ پیش کریں۔اس متبادل تصور کو پیش کرنے میں فلسفے کا اےک اہم کردار ہے۔فلسفے کے عین مطابق تعریف ایک مشکل اور لمبا کام ہے لیکن اس کتاب میںانسانوں کے بارے میں ©’عام‘ اور ’پیچیدہ‘ سوچ اور انسان کا فطرت اور سماج سے تعلق بتانا میرا مقصد ہے۔
میرے ایک دوست سے بحث کے دوران اُس نے کہا:’لیکن تم بھول رہے ہو کہ تم انسانی فطرت کو نہیں بدل سکتے یعنی امیر ہمیشہ امیر ہوتا رہے گا اور غریب ،غریب رہے گا۔ایسا ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے اور ہمیشہ ہوتا رہے گا۔‘ایک تحریک میں کوئی بولا:’اصل مسئلہ تو ٹوریز ہیں۔ ہمیں ان سے چٹکارا پانے کے لئے متحد ہونا ہوگا اورکام کرتے رہنا ہوگا اسی طرح سے حالات بدلیں گے۔‘ایک یونیورسٹی کے سوشیولوجی کورس میں پروفیسر کہتا ہے:’یقینا مارکس سمجھتا تھا کہ کمیونزم حتمی تھالیکن سوشل سائنٹسٹس کی حیثیت سے ہمیں ان خود رائے عقیدوں کو رد کرنا ہوگایا مارکسزم تمام چیزوں کو معاش اور کلاس پر تحلیل کر دیتا ہے لیکن آج کا سماج ذیادہ پیچیدہ اور خراب ہے۔‘اس طرح کے تمام بیانات معقول ہیں یعنی یہ عام فہم کے لئے پُرکشش ہیںکیونکہ یہ سب عام نظریات کی عین مطابق ہیںجسے حکمرانوں کی طرف سے فلسفیانہ اور منظم انداز میں قائم کیا گیا ہے۔یہ وہ نظریات ہیں جس کا پرچارسرمایہ دار طبقے اور اس کے دانشوروں (جو سماج کے ایک ایک کونے میں موجود ہے)نے کئی صدیوں سے مختلف طریقوں سے کیا ہے۔اس کے جواب میں ہمیں بھی اسی کے برابرمنطقی اور مضبوط فلسفے کی ضرورت ہوگی اور خوش قسمتی سے وہ موجود ہے یعنی مارکسزم۔ روزانہ کے بحث و مباحثے کے علاوہ ایک بڑا سوال جدوجہد میں قیادت کا ہوتا ہے جو کہ اخبار، جرنلز،کتابیں وغیرہ نکالے،مظاہرے اورہڑتال بلوائے،کمپین یا پارٹی کی حکمت عملی طے کرے۔جتنے ذیادہ سرگرم لوگ کمپین یا تحریک کی سربراہی یا قیادت میں شریک ہوںگے اور خاص کر نازک موقعوں پرتو ذیادہ مضبوط،جاندار اور گہرا متبادل سامنے آئے گا جس کے لئے فلسفے کے سوالات ذیادہ اہم ہوتے جائےں گے۔یہاں میں فلسفے کے تعلق کی ایک بہت ہی مضبوط اور مروج مثال دیتا ہوں۔فلسفہ ایک عالمگیر شکل میں مذہب کے طور پر موجود ہے جو کہ عام لوگوں کی بڑی تعداد میں اثر رکھتا ہے۔تمام مذاہب کے بنیادی عقائد میں فلسفے کے کچھ اہم سوال شامل ہیں جیسا کہ انسانی وجود کی ماہیت اور مقصداور انسان کی فطرت (جسے فلسفے کی زبان میں ontology کہتے ہیں )،علم کا ماخذاور سچ کا معیار(Epistemology)اور اخلاقیات(Ethics)۔اس کے علاوہ جب دہشگردی کے خلاف جنگ کا معاملہ ہوتا ہے تو مذہب سےاست کا مرکز بن جاتا ہے۔
بنیاد پرست سرگرم کارکن کو دلیل کے ساتھ جواب دینے کے لئے اور اپنی بات پر قائم رہنے کے لئے فلسفیانہ فہم کی ضرورت ہوتی ہے۔اسے پتہ ہونا چاہیے کہ مذہب کا کس طرح تجزیہ کیا جائے اور کیسے مذہبی معاملے میںاور مذہبی قوتوں کے ساتھ پیش آیا جائے۔اس کے لئے مذہب کی ماہیت اور ارتقا کی نظریاتی فہم کی ضرورت ہوتی ہیں اور مارکسٹ فلسفہ اس فہم کا اہم ذریعہ ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ جس کا سامنا کسی فرد یا تنظیم کو کرنا پڑسکتا ہے کہ مظاہرہ یا ہڑتال کیسے بلوائی جائے۔
اس مسئلے کا دارومدار اوبجیکٹو صورتحال (Objective situation)اورسبجیکٹو انیشیٹو(Subjective initiative)پر ہوتا ہے۔کوئی بھی کمپینر یا ٹریڈ یونین ماحول اور سیاسی صورتحال کو سمجھے بغیر اگر کوئی مظاہرہ یا ہڑتال بلوائے گی تو یقےنا بُری طرح ناکامی کا سامنا ہوگا۔اس کےساتھ ہی یونین میں موجود کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو ہمیشہ یہی بولیں گے کہ یہ سہی وقت نہیں ہے خاص کر یونین کے افسران۔یہ مسئلہ جوکہ کسی بھی مقامی کمپین کی جڑوں میں بسا ہوتا ہے، ہمیشہ رہتا ہے چاہے چھوٹی ہڑتال ہو یا انقلاب برپا ہوجائے۔اس طرح کے مسئلوں سے نمٹنے کی سیکھ عملی کام کرنے سے ملتی ہے لیکن مدد مارکسٹ فلسفے پر مضبوط گرفت سے ملتی ہے جس کا تعلق ہی اس امر سے ہے کہ لوگ اپنی تاریخ کیسے بناتے ہیں اوریہ وہ اپنی چاہت کے مطابق نہیں بناتے بلکہ حالات کے مطابق یہ تاریخ بنتی ہے۔
مختصراً یہ کہ فلسفہ اور خاص کر مارکسٹ فلسفہ بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دنیا بدلنے کی کسی بھی تحریک میں یہ ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

مارکسی فلسفہ کہاں سے آیا

مارکس نے اپنے دوست فریڈرک اینگلز کی مدد سے1843 سے 1846یعنی تین سال کے مختصر سے عرصے میں اپنے فلسفہ کی بنیاد رکھی جو کہ ایک حیرت انگیز کارنامہ ہے۔ آخر ایساکیسے ممکن ہوا؟اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ بیشک یہ ماضی کے عظیم فلسفیوں اور مفکرین کے کام کی مدد سے ممکن ہوا۔یقینا اس فلسفے پر جرمن کلاسیکی فلسفے کا اثر رہا ہے جیسے ہیگل اور اس پر تنقید کرنے والا فیورباخ،فرانس کی روایتی سیاسی سوچ جو انقلاب فرانس کے بعد پروان چڑھی خاص کر برائے نام یوٹوپیائی سوشلسٹ، فیورئراور سینٹ سائمن اورایڈم سمتھ اور ڈیوڈریکارڈوکی کلاسیکی سیاسی معشیت جس نے برطانیہ میں ترقی پائی۔
لیکن جب مارکس نے کھل کر یہ سب تسلیم کیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا تو وہ ان نظریات کو پوری طرح اپنا نہیں پایا۔ نہ ہی ان میں ربط پیدا کر پایا۔نئی ترکیب جو اُس نے بنائی وہ ہر لحاظ سے ان نظریات پر تنقید اور ان میں تغیر تھی۔پس سمتھ اور ریکارڈو سے اس نے نظریہ قدر لیا جس کے مطابق شے کی قدر(ویلیو) اس میں شامل مزدور کی اُس محنت سے طے ہوتی ہے جو اس کو بنا نے میں لگتی ہے۔سمتھ اور ریکارڈو چونکہ اس نظریے کو زمین مالکان کے ’ناپیداواری ‘ ہونے کے مقابلے فیکٹری مالکان کے ’پیداواری‘ ہونے کے لئے استعمال کرتا ہے،مارکس نے اس کااطلاق شے میں مزدور کی محنت پر کیا ۔ سرمایہ دارانہ صنعت میںمزدور طبقے کا استحصال وراثت میں ملتا ہے۔یوٹوپیائی سوشلسٹوں کے لئے سوشلزم ایک معزز عقلی نمونہ تھا جس کی طرف حکمرانوں کو راغب کرنے کے اُمید رکھی جائے لیکن مارکس کی نظر میں سوشلزم ایک طے شدہ حصول تھا جو کہ مزدور طبقے کے اقتدار کے لئے جدوجہد کے نتیجے میں آئے گا۔مارکس کے فلسفے میں جدلیات اس نے ہیگل سے لیا لیکن اس پر فیورباخ کا اثر بھی ہے۔مارکس فیورباخ کی مادےت پسندی کے جامد فلسفے کوانسان کے عمل کے فلسفے کی جانب لے گیا( اصطلاحات جدلیات اور مادیت پسندی کی وضاحت باب چہارم اور پنجم میں کی جائے گی)۔
مارکس نے اپنی اعلیٰ ذہانت سے نہ صرف نظریات میں اس انقلاب کو ممکن بنایا بلکہ فلسفے اور سوشل تھیوری کے تمام مسائل کو دیکھنے کے لئے ایک نیا موقف لے کر آیایعنی مزدور طبقہ۔
مزدور طبقے کا یہ موقف جو کہ مارکس نے 1843-44میں پیش کیا تھا،مزدوروں سے ہمدردی رکھنے سے کئی آگے کی بات کرتا ہے(جبکہ مارکس کی تحریروں میں کئی جگہ بورژ وا کے ہاتھوں مزدوروں پر ستم کا مارکس پر گہرے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں)۔اس سے مراد ہے کہ مزدوراپنی قوت کو سمجھ کر سرمایہ دارانہ نظام کا تختہ اُلٹ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ مزدورنہ صرف عامل ہے بلکہ انقلاب کا سپاہی ہے لیکن سربراہ کے طور پر۔دوسرے الفاظ میں مزدور اپنے موجودہ حالات سے نجات اپنے ہی عمل سے پا سکتا ہے۔یعنی اپنی آزادی کو سمجھتے ہوئے مزدورکو پوری انسانےت کی آزادی کے در کھولنے ہوں گے۔
ماضی کی تمام تحریکیں اقلیتوں کی تحریکیں تھی یااقلیت کے مُفاد کے لئے تھیں۔پرولتاری تحریک خود آگاہی،ایک بڑی اکثریت کی آزادی اور ان کے مفاد کی تحریک ہوگی۔پرولتاری، موجودہ سماج کی ایک نچلی پرت،اس میں خود تب تک کوئی ہلچل پیدا نہیں ہوسکتی جب تک کہ یہ پورا سماج مل کر ان ہواﺅ ں میں اُڑان بھرنا نہ شروع کر دے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ مارکس ایک فلسفی اور نظریہ دان ہونے کی حیثیت سے مزدورطبقے کا سماجی درجہ،اس کی زندگی،اس کے مفادات اور اس کی جدوجہدکے آغاز کےلئے سیاسی عمل اور سرمایہ داری ، تاریخ اور فلسفے کے تجزےے کو اہم سمجھتا تھا۔ یہ کام مارکس نے کیااور اسی لئے اس نے خود کو اور اینگلز کو بارہا’پرولتاریوں کے نظریہ دان‘ کہا۔
ایسا صرف مارکس ہی کر پایا کہ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے کے باوجود بھی اس نے مزدور طبقے کی طرفداری کی کیونکہ مزدوروں کی تاریخ بنانے والی تحریک کا آغاز ہوچکا تھا۔مارکس کی زندگی کے دو تجربات فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں: ایک 1843میں اس کا پیرس کے کمیونسٹ مزدوروں کا حصہ بننا اور دوسرا اینگلز سے ملنا جو کہ مانچسٹر میں اس کے والد کے فرم میں کام کرتا تھااورمارکس کو چارٹسٹ سے وابستگی کی رپورٹ کرتا تھا جو کہ دنیا کی پہلی بڑی تحریک تھی جس نے اس وقت ایک ڈراﺅ نی کزارش(آزادی)،ماس میٹنگ،ہڑتال، مظاہرے اور اُبھار وغیرہ منظم کیا تھا۔
پس مارکسزم کی 1840میں شمالی مغربی یورپ میں پھیلاﺅ کوئی حادثاتی نہیں تھا۔یہ وہ جگہ اور وقت تھا جہاں صنعتی انقلاب آ رہا تھا،جدید مزدور طبقہ قائم ہورہا تھا اور اپنے بازو ﺅں کو خم دے رہا تھا۔مارکسزم اور مارکسسٹ فلاسفی مزدور طبقے کی جدوجہد کی نظریاتی اصول سازی کر رہا تھا۔
(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *