ظفر عارف اور سوشل ازم

ظفر عارف اور سوشل ازم

تحریر: ریاض احمد

تیس مارچ اور یکم اپریل کو میری اور پروفیسر مہر افروز مراد کی پریس کانفرنس کی کوششیں بلآخیر ہماری گرفتاریوں پر ختم ہو گئیں۔ یعنی ہم پریس کانفرنس نہیں کر پائے۔ ایک بنیادی انسانی حق یعنی اظہارِ رائے کی آزادی کا حق جو چھ ماہ قبل ڈاکٹر ظفر عارف سے چھینا گیا تھا وہ اب ہم سے بھی چھین لیا گیا۔
اظہارِ رائے کی آزادی کے بغیر کسی بھی قسم کی عدم تشدد پہ مبنی سیاست کا وجود ہی ممکن نہیں رہتا۔ جب بات کرنا بھی مشکل ہو جائے تو اس کے بعد تشدد کا باب کھل جاتا ہے۔ جب ڈاکٹر ظفر عارف کو1984ئ میں یونیورسٹی میں مارشل لائ کی مخالفت میں طلبہ اور اساتذہ کو متحرک کرنے کے الزام پر نکالا گیا تو تشدد نہ یونیورسٹی میں تھا نہ ہی کراچی شہر میں۔ اس کے بعد کا دور سیاست میں تشدد کے بدترین استعمال کا دور ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہمارے جیسے یونیورسٹی میں پڑھانے والے اساتذہ اور یونیورسٹی سے نکالے گئے ظفر عارف اگر رائے کا اظہار آزادانہ طور پر نہیں کریں گے تو سماج میں درست اور غلط کی تمیز کس طرح قائم ہو گی؟ اگر استاد کو ایک اور استاد کی بلاجواز اور درازیِ عمر میں قید پر اعتراض کرنے کی آزادی نہ ہو گی تو پھر سماج میں بنیادی اخلاقی قدر یعنی بھائی چارے کا کیا بنے گا؟ کیا ہم اس بربریت کی طرح جو نوجوانوں پر توہین ، اقلیتوں کو انکے مذہب کے پرچار پر روا رکھی جاتی ہے اور خواتین کو محض کمزور سمجھ کر ان پر تشدد کو جائز قرار دیتی ہے خاموش رہیں اور اپنے استاد، ساتھی، دوست کے ساتھ ناروا سلوک پر کچھ نہ کریں تو یہی بے حسی بربریت ہماری باری آنے پہ ہمارا حصہ نہیں بن جائے گی؟
یہی وہ سوالات تھے جو میرے اور پروفیسر مہر افروز مراد کے ذہنوں میں تھے اور اسی دھن میں ہم ابتدائ سے ہی کسی اور کی مدد کے بغیر ایک پریس کانفرنس کو کر لینے کی سعی کو اپنا فرض سمجھتے ہوئے اداکرنے باربار نکلے۔ تاآنکہ کہ قید ہو گئے۔
رینجرز سینٹر، تھانے، جیل کی روداد لکھنے کے لیے ایک کتاب بھی شاید کافی نہیں ہو گی۔ مگر اس کا وقت کس کے پاس ہے؟
یہاں تو کئی نوجوان، طلبہ، طالبات، پروفیشنل خواتین، جیتے جاگتے صحافی، جیل میں بے گناہ قید، یونیورسٹی میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں کی زد میں اساتذہ، اردو یونیورسٹی عبدالحق کیمپس کے جزوقتی اساتذہ کے ساتھ اظہار ِ یکجہتی کرنے والے ہڑتالیوں کی امیدیں ہیں ،مردان میں بے ہیمانہ تشدد سے مشعال کا قتل ، حسن ابدال میں شاہ جہاں سالف کی جبری گمشدگی جیسی کتنی ہی رپورٹس آرہی ہیں جن سے دل میں یہ خیال ابھرتا ہے کہ جو مجھ پہ بیتی وہ سارے جگ پہ بیت رہی ہے۔اور سوال یہی ہے کہ کیا کیا جائے ؟
میرے خیال میں ابتک مجھ سے دو غلطیاں ہوئی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ مجھے اندازہ نہ تھا کہ 80 سالہ پروفیسر مراد کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔ دوسری غلطی یہ تھی کہ مجھے یہ ہرگز اندازہ نہ تھا کہ میری رہائی کے لیے ملک بھر میں نوجوان ، پروفیشنلز، لیفٹ، رائٹ، سینئر جونیئر صحافی، میڈیا اینکرز اور سب سے بڑھ کر کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ نکل پڑیں گے۔ پہلی بار میں نے سنا تو یہی گمان ہوا کہ جیل میں قید کو دیکھ کر حوصلہ بڑھانے کےلیے کہانی گھڑ لی گئی ہے۔ لیکن سچ یہی تھا کہ بہت بڑی تعداد میں لوگ نکلے۔ ان میں سے شاید ہی کوئی ایک شخص بھی ہماری ڈاکٹر ظفر عارف کے لیے پریس کانفرنس سے متفق نہ تھا۔ لیکن ہماری گرفتاری نے انہیں سب کچھ ، یہاں تک کہ سخت ترین اختلاف بھی، پس ِ پشت ڈال کر آواز بلند کرنے پر لاکھڑا کیا۔
وہ یکجہتی جو ہم ڈاکٹر ظفر عارف کی اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے شاید کبھی بھی نہ پیدا کر سکیں وہی استاد کے ساتھ یکجہتی کا جوش و خروش بدترین گرمی میں پریس کلب، سٹی کورٹ میں کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ نے صبح ساڑھے آٹھ بجے آکر پورے ملک پر واضح کر دیا۔ کیا ایک آواز دبی تھی، اس پر دو دبادی گئیں لیکن پھر یہ سیلاب رواں رک نہ سکا۔
ماحول بدل جائے تو معروض سمجھنے میں اچھے اچھوں سے غلطی ہو جاتی ہے، ہم کیا چیز ہیں۔ سب سے بڑی غلطی تو ان سے ہوئی جو بندوق کی طاقت کو ہی طاقت ِ کل سمجھتے ہیں۔ کراچی میں فوجی آپریشن کی کامیابی کے ترانے بجانے والے اس آپریشن کے کھوکھلے پن کو خود نہیں سمجھ پارہے۔ یونیورسٹی ہو یا شہر کی آواز دبانے سے دب تو جائے گی مگر عوام میں اترے بغیر سوچ تبدیل نہیں ہو سکتی۔ اسی لیے ہر طرح کا فوجی آپریشن دراصل اپنی ابتدائ میں اس بات کا اقرار ہوتا ہے کہ ریاست سیاسی طریقے سے عوام کو مطمئن کرنے میں ناکام ہے۔ فوجی آپریشن کی انتہائ پر بھی یہی سوال منہ چڑارہا ہوتا ہے کہ عوام مطمئن نہیں۔
گزشتہ ۸۲ سالوں کی آزاد منڈی کی معشیت کے نعرے کے ساتھ کھڑی سرمایہ داری نے نے طبقاتی تفریق بڑھا دی ہے اور جس طرح امیر اور غریب کا فرق خوفناک حد تک پھیل گیا ہے ،اس سب کچھ نے سماج میں زلزلہ پیدا کر دیا ہے۔ ایک جانب اس زلزلے کو انتشار وتباہی میں میں بدلنے والی گھنا?نی قوتیں ہیں اور دوسری جانب محنت کرنے والے، روزی روٹی کمانے والے لوگ۔
سرمایہ دار میگاپروجیکٹ، چینی سرمایہ کاری، تھر کول، مہنگی بجلی، مہنگی تعلیم، مہنگی صحت کر کے لوٹ مار کررہے ہیں اور ان کے ساتھ ریاستی ادارے بشمول عدالتیںاور پارلیمان۔ سیاسی پارٹیاں ہر ایک سرمایہ داروں کی ہی نمائندہ ہے۔ یہ انانوے فیصد آبادی کو مذہبی، فرقہ وارانہ،توہین، لسانی، گروہی لڑائیوں میں لگائے رکھ کر اپنی گھناﺅنی قوت میں اضافہ کر رہے ہیں۔سیاسی پارٹیوں نے سرمایہ داری کی لوٹ مار میں اب ریاستی ذمہ داریاں یا تو نجی سرمایہ داروں کے حوالے کر دیں جیسے بجلی، تعلیم اور صحت یا پھر یہ ذمہ داریاں فوج کے ہاتھ میں تھما دیں جیسے سیکورٹی اور دہشت گردی سے نمٹنا۔ نتیجہ یہ ہے کہ آمرانہ روش سماج کے ہر ریاستی پہلو میں عیاں ہے۔ امیر ہو تو انصاف ہے، غریب ہو تو قید۔ دولت مند ہو تو زندگی ہے، بے روزگار ہو تو موت۔
البتہ ایک چھوٹی سی اقلیت اب اس ناانصافی کے خلاف سوچنے لگی ہے۔ ہمیں اس قوت کو عوامی بنانا ہو گا۔
اور یہ کون ہیں ؟ جو درج ذیل چیزوں پہ سوچتے ہیں :
محنت کرنے والے کے لیے جاب سیکورٹی، پڑھنے والے لیے ٹیوشن اور فیسوں سے آزاد تعلیم، مریض کے لیے دوا اور ہسپتال، صحافی کے لیے لکھنے کی آزادی، سوشل میڈیا کے صارف کے کے لیے اظہار کی آزادی، مذہب کے لیے توہین سے نجات، فرقوں کے لیے خوف سے نجات۔
ہمیں ان جیسی بنیادی آزادیوں کے لیے مجتمع ہونا ہو گا۔ آزادی نہیں آزادیوں کی ایک تحریک بنانی ہو گی۔ ایک ایسی تحریک جو نئے معنوں میں سوشل ازم کی تحریک ہو گی۔سرمایہ داری کی موجودہ شکل ننگ دھڑنگ سرمایہ داروں کے لیے ریاست اور باقی سب کے لیے انسداد دہشت گردی ایکٹ ہے۔ سوشل ازم یعنی سماج کی ضرورت کے لیے ریاست ۸۹ فیصد کو سرمایہ داروں کی دہشت گردی سے نجات دلائے گی۔
ڈاکٹر ظفر عارف ایم کیو ایم میں گزشتہ سال جون میں شامل ہوئے۔ ان کے بعد انہی سے1980ءکی دہائی میںوابستہ کچھ اور افراد بھی ایم کیو ایم میں چلے گئے۔ یہ بڑا کڑا وقت تھا کہ جب یہ ایم کیو ایم میں شامل ہوئے۔ چند ہی ماہ میں ایم کیوایم لندن میں تبدیل ہو گئی اور اب سخت ترین فوجی آپریشن کا سامنا ہے۔ ایم کیو ایم پر ریاستی جبر کے خلاف استاد، شاگرد، محنت کش کو آواز ا ±ٹھانی چاہئیے۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آواز اٹھانا ایم کیو ایم کے سیاسی نظریہ سے اتفاق کرنا ہے۔
لیفٹ کی ایک بڑی اکثریت کو ڈاکٹر ظفر اور ساتھیوں کے ایم کیو ایم میں شامل ہونے پر جو اعتراض تھا وہ اعتراض انکی قید و بندش تک پر آواز ا ±ٹھانے سے انہیں روکتا رہا۔ یہ اعتراض بہت اہم ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ایم کیو ایم کی متشدد سیاست نے گزشتہ 30 سالوں سے کراچی اور شہری سندھ کو صرف غیر مہاجروں کے لیے ہی نہیں بلکہ خود مہاجروں کے ایک بڑے حصّے کے لئے جہنم بنائے رکھا۔ یہ فوج کی پیداوار ہوں یا نہ ہوں مگر ریاستی سرپرستی نہ صرف ماضی میں حاصل تھی بلکہ بہت قوی امکان ہے کہ مستقبل میں پھر حاصل ہو جائے گی۔
لوئر مڈل کی تمام تر سیاست ایک جانب تو ریاست سے حقوق کی لڑائی اور دوسری جانب اپنے سے کمزور پر جبر کی ہی سیاست ہوتی ہے۔ اور ایم کیو ایم کی سیاست کا ایک غالب پہلو یہی ہے۔
اظہارِ رائے کی آزادی کے متقاضی ڈاکٹر ظفر عارف، متشدد اور اظہاررائے کی آزادی کی مخالف ایم کیو ایم کے ماضی کوویسے ہی نظر انداز کرتے ہیں جیسے پاکستانی ریاست مشرقی پاکستان پر فوجی آپریشن کوتاریخ سے ہی ختم کرنا چاہتی ہے۔ غلطی اور منصوبہ سازی میں فرق ہوتا ہے۔ فرق محض شہری اور دیہی کا نہیں بلکہ یہ فرق ہے سرمایہ دارانہ استحصالی قوت اور استحصال کا شکار محنت کش کے درمیان۔ کراچی میں ایم کیو ایم کی سیاست نے مزدور طبقہ، طلبہ، محنت کش، بے روزگاروں کو بے پناہ تقسیم کیا جس کا سب میں بڑا فائدہ سرمایہ داروں کو ہوا۔ یہی وجہ ہے ریاستی سرپرستی اور ایم کیو ایم کی متشدد سیاست سے ہٹ کر ہی بنیادی حقوق کی سیاست دراصل ریاستی جبر اور سرمایہ دارانہ لوٹ مار سے نجات دلا سکتی ہے۔
اظہارِ رائے کی آزادی کے لئے آواز تحریک کا محض آغاز ہے، اس کے سامنے اور بڑے اہداف ہیں۔یہ بڑی قربانیاں مانگتی ہے۔اور اب معروض یہ ہے کہ عوام الناس اظہار رائے کی آزادی ، تنظیم ، جدوجہد اور ایثار چاہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *