کراچی یونیورسٹی :مسائل اور اساتذہ کی یکجہتی

کراچی یونیورسٹی :مسائل اور اساتذہ کی یکجہتی

تحریر: ریاض احمد

آج کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ کئی ایک مسائل سے دوچار ہیں۔ ایک جانب ایچ ای سی کی نت نئی پالیسیاں ہیں جن کی نئی قسط ایم فل پی ایچ ڈی پروگرام کو ڈی ریل کرنے کے مترادف ہے۔جو ایم فل پی ایچ ڈی میں انرولڈ ہیں انہیں بتایا جا رہا ہے کہ انہیں ایم فل کی ڈگری لے کر پی ایچ ڈی میں دوبارہ داخلہ لینا ہو گا۔ جو پہلے سے پی ایچ ڈی ہیں انہیں بتایا جا رہا ہے کہ بیک ڈیٹڈ ایم فل لے لیں ۔ ایچ ای سی ریکاگنائزڈ پی ایچ ڈی سپروائزر کو بھی ایچ ای سی نے اپنی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔ دوسری جانب ایچ ای سی یونیورسٹیوں میں یونیفارمیٹی کے نام پر آنرز اور ماسٹر ز پروگرام ختم کر کے سب جگہ بی ایس پروگرام نافظ کر نا چاہتی ہے۔
ان پالیسیوں پر انتظامیہ کا موقف دہرا ہے۔ فورمز جیسے اکیڈمک کونسل میں باضابطہ ایچ ای سی کی پالیسیوں پر حرف بہ حرف عمل کر نے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ پھر جب مسائل کا انبار لگنے لگتا ہے تو دو قدم پیچھے ہٹ جاتے ہیں مگر کچھ ہی دن میں منترا دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ پالیسیوں پر عمل کرنے کا اعلان دراصل اساتذہ کو تقسیم کرنے کا سبب بنتا ہے۔ کچھ سمجھنے لگتے ہیں کہ اب تو یہ ہو گا ہی اس لیے بحث کیا کرنا۔ کچھ سمجھتے ہیں کہ نہیں یہ یونیورسٹی کی خودمختاری پر ضرب ہے ، ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ایچ ای سی کی ہر پالیسی پر آنکھ بند کر کے عمل کیا جائے۔ البتہ اساتذہ کی بڑی اکثریت ان دو انتہاﺅں کے بیچ ہے۔
ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیاں یونیورسٹیوں کی عمومی صورتحال کو نظر انداز کرکے معیار کے نام پر مرکزیت پسندی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ چھوٹی یونیورسٹیاں ان پالیسیوں کے آگے بے بس ہیں، نجی یونیورسٹیاں ہر طرح کی جعل سازی اور خانہ پوری کرنے میں ملکہ رکھتی ہیںان کے لیے یہ پالیسیاں محض کاغذی احکامات ہیں۔ البتہ بڑی سرکاری یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی نہ صرف نمائندگی ہے بلکہ اسٹیٹوری اداروں جیسے سینیٹ ، سنڈیکیٹ، اکیڈمک کونسل ، ایڈوانسڈ اسٹڈیز ، فیکلٹی اور شعبہ جاتی بورڈز میں یہ منتخب ہو کر یا سینیارٹی کی بنیاد پر آتے ہیں۔ یوں جب ان اداروں کے اجلاس ہوتے ہیں تو ان میں اساتذہ اور طلبہ کو درپیش تحقیق کے لیے گرانٹس کی کمی اور ان کی غیر متوازن تقسیم اور ایچ ای سی کی پالیسیوں پر عمل کر نے کے مضر اثرات سامنے آجاتے ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور یونیورسٹیوں کی ایسی انتظامیہ جو ترقی کی منازل کو بیک جنبش قلم طے کرنے کی خواہش رکھتی ہیں ان ہی اداروں اور ان میں اساتذہ کی نمائندگی کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ ان اداروں میں جب یہ خود تشریف فرما ہوتے ہیں تو ان کا انداز آمرانہ ہو تا ہے۔ جب مسائل ان کے سامنے آتے ہیں تو یہ ماضی میںان اداروں کے فیصلوں کو کوسنے لگتے ہیں۔ بی ایس پروگرام کا واپس ہونا ، ایم ایس پی ایچ ڈی میں کورس کے نام پر سیمینار اور ان سیمیناروں کے بغیر مارکس شیٹس کا اجرائ، ریکاگنائزڈ جرنلز کی کئی قسطیں اور ان میں من مانی ردوبدل، ایچ ای سی کو کچھ بتانا اور یونیورسٹی میں کچھ اور کرنا۔ یہ سب پالیسیاں سب میں پہلے اسٹیٹوری اداروں سے رولر کوسٹر کی طرح گزروا دی گئیں اور پھر جب ان کے نفاذ سے لاقانونیت پھیلی تو انہیں واپس لینے کے بجائے ان میں مزید بگاڑ ہی پیدا کر کے سسٹم چلایا جاتا رہا۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ یہ کڑا وقت کس طرح کٹے گا۔ سوال یہ ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں میں مرکزی نکتہ یعنی مرکزیت پسندی دراصل یونیورسٹیوں کے خودمختار اداروں کی خودمختاری چھین لیتی ہیں۔ جب ایچ ای سی کی پالیسیاں مکمل یا جزوی طور پر نافذ ہوتی ہیں تو نتیجہ وقتی، جزوقتی اور طویل مدتی بحران کی شکل میں ابھرنے لگتا ہے۔ یونیورسٹیاں چاہے کیسی بھی ہوں دنیا بھر میں انہیں کوئی بھی مرکزی ادارہ ریگولیٹ یا کنٹرول نہیں کرتا۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے پاس ریگولیٹری اختیارات دراصل تمام تر بگاڑ کے ذمہ دار ہیں ۔ ۳۰۰۲ءسے قبل یونیورسٹی گرانٹس کمیشن ہوا کرتا تھا جو یونیورسٹیوں کو گرانٹ طلبہ کی تعداد کے مطابق دیا کرتا، یہ سالانہ کارکردگی رپورٹ شائع کرتا اور یوں یونیورسٹیوں کی کارکردگی پر ایک عمومی بیانیہ ٹیکس ادا کرنے والوں کے سامنے آجاتا۔ البتہ ایچ ای سی کی بنیاد سے ہی اسے گرانٹ فراہم کرنے کے علاوہ ریگولیٹری اختیارات بھی دے دئیے گئے۔ اب کونسا کورس پڑھایا جائے، کونسی ڈگری کتنے سال میں دی جائے، کس پروگرام میں داخلے کی کونسی شرائط ہوں اور کونسا ٹیسٹ ہو یہ ملک گیر بنیاد پر یکساں کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ گزشتہ ۴۱ سالوں میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں کا سب میں زیادہ نقصان سرکاری یونیورسٹیوں اور سب میں زیادہ فائدہ نجی یونیورسٹیوں کو ہوا ہے۔ ایک واضع مثال پی ایچ ڈی پروگرام کے لیے پی ایچ ڈی اساتذہ کی شرط ہے۔ ریٹائرڈ اساتذہ کی بڑی تعداد ان نجی یونیورسٹیوں میں محض اس لیے بھرتی کر لی جاتی ہے کہ یہ پی ایچ ڈی ہیں۔ اس یونیورسٹی میں ان پی ایچ ڈی اساتذہ کی ریسرچ تو کیا ان کے پڑھانے کے لیے گریجویٹ کورس تک نہیں ہوتا مگر ان کا نام نجی مالکان کو درکار ہوتا ہے۔ اسی طرح ایم بی اے، ایم کام، انجنئیرنگ میں داخلوں کے لیے یہ یونیورسٹیاں ہر روز اشتہار دیتی ہیں اور صبح شام ہی نہیں ان کی اکثریت ہفتہ اتوار کو ہی کریش کورس کرا کر ریسرچ ڈگریاں تک ایوارڈ کر رہی ہیں۔ ان کے معیار کو جانچنے کے لیے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے کاغذات بھرے ہوئے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے قیام میں ہی نجی یونیورسٹیوں کا فروغ پنہاں ہے اور ہر پانچ دس سال بعد ورلڈ بنک کی جانب سے چار پانچ سو ملین ڈالر کی گرانٹ کے ساتھ وہی فیتے لگے ہوتے ہیں جیسے ورلڈ بنک کی اسکولوں کو گرانٹ کے ساتھ نجی اسکولوں کوہر قسم کے ریگولیشن سے آزاد رکھنے کی ہدایات آتی ہیں۔
یونیورسٹیاں اگر احکامات سے چل رہی ہوتیں تو کیا ہی اچھا ہوتا۔ ایک بنیادی بات یہ ہے کہ یونیورسٹی کا استاد وہی پڑھا سکتا ہے جس چیز میں یہ ریسرچ کرتا ہے۔ریسرچ کرنے کے لیے موجود وسائل کی براہِ راست ذمہ دار مالی وسائل فراہم کرنے والے ادارے جیسے ایچ ای سی ہیں۔ ان کی پالیسی یہ ہے کہ یہ معیار پر ریسرچ وسائل فراہم کرتے ہیں۔ یعنی یہ وسائل فراہم کرنے کے بعد معیار نہیں جانچتے۔ کیونکہ ان کا اولین مطمع نظر یہ ہے کہ اساتذہ کے درمیان مقابلہ کی فضاءپیدا کی جائے۔ اسی طرح یہ یونیورسٹیوں میں رینکنگ کر کے ان کا مقابلہ کراتے ہیں۔ یوں بار بار ایچ ای سی معیار سے شروع کرتی ہے اور رینکنگ پر ختم کرتی ہے۔ یعنی کوالٹی سے ابتداءاور کوانٹٹی یعنی تعداد پر انتہائ۔ مقابلہ کی فضاءپیدا کرنے کے پیچھے سوچ یہ ہے کہ لوگ کام تب ہی کرتے ہیں جب انہیں انعام کی فکر ہوتی ہے۔ یعنی یہ سوچ کہ آپ محنت تب ہی کریں گے جب آپ کو محنت کے بغیر کچھ نہ ملے گا۔ لیکن مقابلہ کی سوچ نے ہائیر ایجوکیشن میں تباہی پھیلا دی ہے۔ وسائل کم ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ گھٹتے جا رہے ہیں۔ دنیا بھر میں مقابلہ کی فضاءپیدا کرنے کے انتہائی مضر اثرات سامنے آئے ہیں۔ بڑے اور طاقتور سائنسدان، بڑی یونیورسٹیاں، باوسائل ادارے مزید طاقتور اور کمزور یونیورسٹیاں اور ادارے مقابلے سے باہر کچرا دان میں ۔ پاکستان جیسے سماج میں جہاں پسماندگی شعبہ سے لے کر شہر تک ہے وہاں معیار کا کوئی بھی ماپ دراصل مقابلہ نہیں تقسیم پیدا کر دیتا ہے۔ معیار تو تب جانچتے جب آپ بنیادی ریسرچ کی سہولیات اور ماحول فراہم کر چکے ہوتے۔ یہاں تو شعبہ جات کے پاس انڈر گریجویٹ کے لیے لیب رننگ گرانٹ سال میں چند لاکھ مل رہی ہے تو ریسرچ کے لیے سہولیات تو ابھی بہت دور ہیں۔ یوں پسماندگی اور ناہموار صورتحال میں معیار کی جانچ کے چاہے کتنے ہی سنہری اصول اور ضوابط بنا لیے جائیں ان کا نتیجہ یہی رہے گا کہ چند کروڑ کی گرانٹ سات سو میں سے چند درجن اساتذہ کو ہی نصیب ہو گی۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی بنیاد میں ہی یہ خرابی ہے کہ یہ معیار کی جانچ کے لیے کوالیٹیٹو طریقہ کار کو استعمال کرتے آرہے ہیں اور یونیورسٹیوں میں موجود ناہمواریوں کا علاج میرٹ سے کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی پالیسیاں چاہے یہ بی ایس پروگرام ہو یا پی ایچ ڈی اوپر سے نافذ کردہ پالیسیاں ہیں جن کا زمینی حقائق سے دور پرے کا بھی کوئی تعلق نہیں۔
۴۰۰۲ءمیں جب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا قیام عمل میں آیا تو یہ وہ دور تھا جب ملک بھر میں اساتذہ اس کمیشن اور اسکی پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔ ورلڈ بنک نے ۹۹۹۱ ءمیں ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسران ہنری روزو وسکی اور ڈیوڈ بلوم کی قیادت میں ترقی پزیر ممالک کے لیے ہائیر ایجوکیشن پر ایک رپورٹ تیار کی ۔ اس رپورٹ کا اولین مقصد اسی رپورٹ میں درج ہے کہ یہ پسماندہ ممالک میں یونیورسٹی تعلیم کو سرکاری تحویل سے نکال کر نجی اداروں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔ ری اسٹرکچرنگ کے زریعے یہ یونیورسٹیوں میں موجود طلبہ کی تعداد کو ۰۸ فیصد سے گھٹا کر انہیں نجی یونیورسٹیوں میں دھکیل دینا چاہتے ہیں۔ ورلڈ بنک نے پاکستانی سرکار کو لالچ دی کہ یہ ۰۵۴ملین ڈالر کا قرض محض ہائیر ایجوکیشن کے لیے دے گا اور یوں ۳۰۰۲ءمیں نجی یونیورسٹیوں کے سربراہان یعنی لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے مالک بابر علی اور آغا خان یونیورسٹی کے صدر شمس قاسم لاکھا کی سربراہی میں ایک ٹاسک فورس آن ہائیر ایجوکیشن قائم کی۔ اس فورس کا مقصد یونیورسٹیوں میں روا ۳۷۹۱ءکے ایکٹ کی جگہ ماڈل یونیورسٹی ایکٹلاگو کرنا اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا قیام تھا۔ ماڈل یونیورسٹی ایکٹ کا اولین مقصد وائس چانسلر کے ہاتھ میں کل فیصلہ کن اختیار، یونیورسٹی سنڈیکیٹ سے اساتذہ اور طلبہ کی نمائندگی کا خاتمہ اور انکی جگہ نجی یونیورسٹیوں کے مالکان کو براجمان کرانا اور یونیورسٹیوں کی نج کاری کی راہ ہموار کرنے کے لیے فیسوں میں اضافہ کرکے لوئیر مڈل کلاس کے لیے یونیورسٹی تعلیم کے دروازے بند کر دینا۔ جون ۳۰۰۲ءسے مئی ۴۰۰۲ءتک ملک بھر کے اساتذہ جن کی اولین قیادت کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ نے کی، نے ایک زبردست تحریک چلائی اور ماڈل یونیورسٹی آرڈیننس نافذ نہ ہونے دیا۔ البتہ اساتذہ کی پوری قوت کیونکہ ۳۷۹۱ءکا ایکٹ بچانے میں لگی اور یہ یونیورسٹیوں کو فنڈ دینے والے ادارے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن سے عاجز تھے اس لیے جہاں سرکار ماڈل یونیورسٹی ایکٹ نافذ کرنے سے پسپا ہوئی وہاں اس نے بزور طاقت ہائیر ایجوکیشن کمیشن قائم کر دیا۔ اس کے سب میں پہلے سربراہ پروفیسر عطاالرحمان تھے جو پہلے ہی اساتذہ میں ریسرچ کی بنیاد پر مقابلے کے تصور سے متفق تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اب یونیورسٹیوں کے اندر موجود اسٹیٹوری اداروں کے اختیارات صلب کیے جانے لگے اور اساتذہ میں ایک تفریق یوں پیدا کی گئی کہ ایک جانب ایک چھوٹی سے اقلیت کو بڑی گرانٹس اور پروڈکٹی وٹی الاﺅنس جیسی کیش رقم انعام میں دی جاتی تو دوسری جانب ۰۹ فیصد اساتذہ کسی بھی قسم کی گرانٹ سے محروم رہتے۔ ۰۰۶ طلبہ کو پاکستان بھر میں پی ایچ ڈی اسکالرشپ دے کر یہ ظاہر کیا جاتا کہ ریسرچ کے لیے یہی سب میں بڑی کاوش ہے۔ یوں مقابلہ اساتذہ اور طلبہ کی سطح پر بڑھا دیا گیا۔ فیکلٹی، ایڈوانسڈ ریسرچ، اکیڈمک کونسل کے فیصلہ کن اختیارات کی جگہ ایچ ای سی کی نت نئی پالیسیوں نے لے لیں۔ ادھر اسلام آباد میں درجنوں کمیٹیوں میں یونیورسٹیوں کے ہی چنیدہ پروفیسران کو مدعو کر کے ان کے روابط اور مراسم قائم کرنے دئیے جاتے اور یہی پروفیسران لوٹ کر ایچ ای سی کے گُن گاتے۔ اساتذہ میں معیار اور مقابلے کے نام پر تقسیم بڑھتی گئی اور بہت جلد یہی چھوٹی سی اقلیت یونیورسٹی کے مالک کل خودمختار بننے لگے۔ یوں بی ایس پروگرام، پی ایچ ڈی اپرووڈ سپروائز لسٹ، پی ایچ ڈی کے لیے ایچ ای سی منظور شدہ لسٹیں، ایم فل کورس ورک اور پھر پی ایچ ڈی کورس ورک جیسے ناکام پروگرام مسلط کیے گئے۔ جب اساتذہ فورمز پر اعتراض کرتے کہ ہماری صورتحال میں یہ پروگرام مضر ثابت ہوں گے تو یہی بتایا جاتا کہ ایچ ای سی کی شرائط نہ مانی گئیں تو پھر یہ ہماری تنخواہوں کی گرانٹ روک لیں گے، بجٹ میں کمی کر دیں گے۔ ۴۰۰۲ءسے ۹۰۰۲ءتک یہ سلسلہ جاری رہا کیونکہ کئی ایک یونیورسٹیوں کو کئی کئی ارب روپے کی اضافی گرانٹ دی گئیں اور لالچ یہی رہا کہ ایچ ای سی کی پالیسی جو بھی من و عن نافذ کرے گا اسے اضافی گرانٹ دی جائے گی۔ کراچی یونیورسٹی میں مزاحمت سب سے زیادہ رہی تھی اس لیے یہاں یونیورسٹی سطح پر سب میں کم گرانٹ دی گئی، جبکہ ہمارے پڑوس میں این ای ڈی کو تین بار دو ارب روپے سے زائد کی گرانٹ ملی جس سے بے بہا ایکوپمنٹ اور عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ لیکن پھر ۸۰۰۲ءمیں ورلڈ بنک کا معاہدہ ختم ہو گیا۔ ایچ ای سی کو ملنے والے فنڈ اچانک بند ہو گئے۔ اب انہیں سرکار صرف یونیورسٹیاں چلانے کی رقم دے رہی تھی ۔اور یوں یونیورسٹیوں پر بوجھ ڈالا گیا کہ یہ اپنے وسائل سے خود ہی اپنا بجٹ پورا کر لیں۔ آج عالم یہ ہے کہ کراچی یونیورسٹی کا بجٹ ۵ئ۳ ارب روپے کا ہے، ایچ ای سی گرانٹ ۷ئ۱ ارب روپے اور یونیورسٹی کی فیسوں میں آمدنی ۷ئ۱ ارب روپے ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ یونیورسٹی کا انفرااسٹرکچر تباہ حال ہے۔ عمارتیں تباہی کے دہانے پر ہیں، لیب اور لائبریاں برباد ہو کر ایک کھنڈر کی صورتحال پیش کرتی ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیاں اگر معیار بڑھانے کے لیے ہوتیں تو ہماری یونیورسٹی میں ایوننگ پروگرام اور ویک انڈ پروگرام میں تعلیم کا کاروبار نہ ہو رہا ہوتا۔ ہم کہ جو معیار تھے اب نجی یونیورسٹیوں میں کمرشل آئیزیشن کو اپنا ماڈل سمجھنے لگے ہیں۔
ایم فل پی ایچ ڈی پروگرام ہو یا آنرز پروگرام کے خاتمے کی کوشش یا یونیورسٹی کی گرانٹ میں کٹوتیوں کا مسئلہ ، تمام مسائل کی جڑ ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور یونیورسٹیوں میں موجود اسٹیٹوری ادارے ہیں جو ان تباہ کن پالیسیوں کو من و عن تسلیم کر لیتے ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی آنکھ نجی یونیورسٹیوں کے لیے بند ہے اور تنقید اور کٹوتیوں کا قلم سرکاری یونیورسٹیوں کے لیے ہر دم سزا وار ٹھراتا رہتا ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں یونیورسٹی تعلیم کو لوئیر مڈل کلاس کے لیے قابل دسترس بنایا جائے۔اس کے لیے یونیورسٹیوں کے اندر اداروں کی خودمختاری بحال کرنا ضروری ہے۔ ایسا کرنے کے لیے ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے ریگولیٹری اختیارات واپس لینا ہو ں گے۔ ایچ ای سی کے یونیورسٹیوں کو مالی گرانٹ دینے کے فارمولے کو ازسرِ نو ان بنیادوں پر ترتیب دینا ہو گا کہ یونیورسٹی تعلیم عوام کی ضرورت ہے نہ کہ دولت مندوں کا شغل۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ازسرنو تشکیل کے لیے ہمیں ایک طویل تحریک کی ضرورت ہے۔ ایسی تحریک جس میں اساتذہ، طلبہ اور ملازمین ملک بھر کی یونیورسٹیوں کی سطح پر ساتھ ہوں۔ عوامی رائے عامہ بنانے کے لیے ہمیں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ناقص کارکردگی کو ایک دانشورانہ چیلنج کے زریعے سامنے لانا ہو گا۔ اس کے لیے اخبارات، میڈیا، سوشل میڈیا اور کلاس رومز کی سطح تک مضامین، کتابچے، ویڈیوز، پروگرامز، سیمینارز کے زریعے آگاہی مہم چلانی ہو گی۔ اساتذہ میں موجود اجلت پسندی اور ایچ ای سی کی جانب سے رکاوٹوں کے فوری حل کی سوچ سے آگے نکل کر یونیورسٹی سطح پر تعمیر و ترقی کے لیے سوچ بچار کرنی ہو گی۔ ہمارا ماضی تحریکوں سے روشن ہے، وہ تحریکیں جو ہم نے انفرادی ترقی کے لیے نہیں بلکہ سماجی ضرورت کے تحت دانشورانہ ذمہ داری سمجھتے ہوئے چلائیں تھیں۔ ۳۵۹۱ئ، ۳۶۹۱ئ، ۳۷۹۱، ۴۸۹۱ءاور ۳۰۰۲ءکی تحریکیں آمرانہ قوانین اور یونیورسٹیوں کی خودمختاری کی بحالی کی تحریکیں تھیں، ہم آج جن آزادیوں کے ساتھ یونیورسٹیوں میں پڑھا رہے ہیں یہ سب انہی تحریکوں کے مرہونِ منت ہوا تھا۔ اسی لیے آج وقت ہم سے سوال کرتا ہے کہ آنے والی نسلوں کے لیے ہم کون سے قربانیاں دینے کے لیے تیار ہیں۔ یونیورسٹیاں آج بھی آزادیوں کی علم بردار ہیں اور ہمارا علم آج بھی ان آزادیوں کا امین ہے ۔کیونکہ ہم استاد ہیں اور ہم ہی نے فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کیا پڑھا سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *