اظہارِ رائے کی آزادی

اظہارِ رائے کی آزادی

تحریر: ریاض احمد

سرمایہ دارانہ سماج کی ایک اہم خصوصیت آزادی بتائی جاتی ہے۔ امریکہ سے لے کر فرانس تک کی تاریخ میں بادشاہت اور نوآبادیاتی آقاﺅں سے آزادی کی لڑائی دراصل سرمایہ دارانہ آزادی پر ہی منتج ہوئی۔ یہاں اہم پہلو یہی تھا کہ ایک جانب بادشاہت کے پاس قانون سازی اور حکمرانی دونوں کے اختیارات پھیلتی ہوئی سرمایہ داری کے رستے میں رکاوٹ تھے۔ دوسری جانب عوام الناس کی زندگی میں مسائل اور آلام کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا۔ یوں سختیوں اور بندشوں سے نجات کی امید سرمایہ داروں کے ساتھ عوام الناس اور کئی ایک مواقع پر مزدور طبقہ تک کو جوڑتی ہوئی نظر آتی ہے۔ لیکن پھر کیا ہوتا ہے؟
بادشاہت کے خاتمے، نوآبادیاتی آقاﺅں سے آزادی یا تو ایک پسماندہ سماج پیچھے چھوڑ جاتی ہے جیسے ہندوستان یا پھرمغرب کی طرح دیہاتوں سے شہروں میں کروڑوں عوام کی زبردستی منتقلی اور دیہی وسائل پر قبضے کی ایک نئی جنگ عوام پر مسلط کر دی جاتی ہے۔ پسماندہ سماجوں میں موجود مڈل کلاس دونوں دنیاﺅں سے لطف اندوز ہونے کے مزے لیتی ہے۔ ہمارا سماج بھی کچھ مختلف نہیں۔
پاکستان میں تحریک انصاف آج کرپشن سے آزادی کے لیے اظہارِ رائے کے ہر پہلو کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔ ٹوئیٹر، فیس بک، واٹس ایپ، کروڑوں عوام کو ایک ساتھ موبائل میسیجنگ کی ٹکنالوجی، اخبارات، چینلز سب ہی پر تو یہ چیخ چیخ کر اپنی بات ہم تک پہنچا رہے ہیں۔ اسی طرح پیپلز پارٹی بے نظیر، بھٹو اور زرداری خاندان کی شہادت و قربانی کا احسان ہر بل بورڈ، بجلی کے کھمبے، اخبارات میں آدھے صفحے کے اشتہارات اور گڑھی خدا بخش کے جلسے میں جتاتی نہیں تھکتی۔ ن لیگ کے تو کیا کہنے۔ ان کا تو ہر کام ملک کی ترقی میں سنگ ِ میل ہے اور ہر سنگ ِ میل ٹی وی چینلوں پر پانچ پانچ منٹ کے ہزاروں اشتہارات سے مزین۔ جماعت اسلامی ہو یا دیگر پارٹیاں انہیں مذہب کے ہر پہلو کی توہین، دنیا بھر میں چنیدہ مسلم ممالک میں مظالم کے خلاف ہر طرح کے مذہبی جذبات کو ابھارنے ، اقلیتوں کو نازیبا عنوانات سے پکارنے کی آزادی ہے۔ ایم کیو ایم کی اوقات تو اب کم ہیں لیکن ابھی تین سال پہلے تک تو ایک حکم پر تین تلوار پر تلوار چلانے کے اعلانات لندن سے اور ان پر عمل کراچی و حیدرآباد میں لمحہ بھر میں کر ڈالنے کی آزادی تھی۔ اسی طرح فرقہ پرستوں ، اہلِ تشیع، عیسائیوں، ہندﺅںکو نشانہ بنانے والوں کو آزادی ہے کہ وہ انتہائی منافرت پر مبنی یوٹیوب ویڈیوز سے لے کر بڑے شہروں کے چوراہوں پر جلسے کریں، جہادی ریلیوں کے نام پرنوجوانوں کو شام تک بھیجنے کے لیے ریکروٹ کریں اور انہیں ایسا کرنے کی آزادی میسر رہے۔ فوجی اداروں کی روزانہ نمائندگی تو اب ہر ٹی وی چینل پر ایک دفاعی ایکسپرٹ کی صورت میں ہو رہی ہے اور انہیں اداروں کے سربراہوں کی سوچ کی عکاسی کی کھلی آزادی ہے۔ پھر آئی ایس پی آر موجود ہے جو فوجی اداروں کی رائے کو داخلی اور خارجی وزارتوں کی راہنمائی تک کے لیے اظہارِ رائے کی آزادی رکھتا ہے۔
یوں دیکھا جائے تو پاکستان میں اظہارِ رائے کی آزادی کی کمی نہیں، بہتات ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ یہ آزادی کنہیں میسر نہیں۔
فیس بک پر کسی ادارے یا سیاسی طو رپر طاقتور پر تنقید کرنے سے نوجوان اب ڈرتے ہیں، سائبر کرائم ایکٹ حال ہی میں پارلیمنٹ نے پاس کیا ہے۔ فون پر احتجاج کے میسیجز بھیجنے والے اب واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ انھیں کوئی ریاستی ادارہ فالو کر رہاہے۔دفاتر میں کام کرنے والوں کو اپنی جاب کی فکر ہے، کچھ دیر لیٹ آنے یا غلطی سے چھٹی کرلینے پر تنبیہ اور منٹوں میں کئی سال کی ملازمت ختم کر دی جاتی ہے۔ سیلز اور مارکیٹنگ کا کام کرنے والوں کو کمپنیوں نے فون دئیے ہیں جنہیں ٹریک کیا جاتا ہے اور پھر ایفیشنسی نکالی جاتی ہے۔ فیکٹریوں میں کام کرنے والے ہوں یا پرائیویٹ اسکولوں میں ملازمین و اساتذہ کی فوج ظفر موج کہیں بھی بنیادی آزادیاں جیسے تنظیم، یونین، ایسوسی ایشن بنانے کی اجازت نہیں۔ بے روزگاری کا خوف محنت کشوں کو مجبور اور لسانی و فرقہ وارانہ تقسیم انہیں ایک دوسرے کے درد کے لیے اظہار سے دور رکھتی ہے۔پبلک ٹرانسپورٹ کا تو جیسے تصورہی ختم ہوتا جا رہا ہے ان کی جگہ تنگ و تکلیف دہ رکشوں میں پھنسی خواتین ہوں یا گھروں میں مردوں کے جبر کا شکار عورتیں انہیں جابجا اپنا آپ چھپانے پر مجبور کرنے والی قوتیں ہی انہیں گرتی ہوئی اخلاقیات کا سبب قرار دیتی ہیں ۔ مڈل کلاس کو جہاں پانی، بجلی ، ٹرانسپورٹ، تعلیم، صحت خریدنے کی آزادی ہے وہیں جب کبھی یہ طبقہِ اعلیٰ کے کرپشن کو فکس اِٹ کی طرح ایکسپوز کرے تو اس کی آزادی کی حد ڈنڈا ڈولی کر کے بتا دی جاتی ہے۔ اہلِ تشیع ہوں یا مذہبی اقلیتیں ان کے قتلِ عام پر سیاسی پارٹیاں مبہم انداز میں مذمت کرتی ہیں لیکن جن شہروں میں یہی سیاسی پارٹیاں حکمران ہیں وہاں گورنر ہاﺅ س یا چیف منسٹر ہاﺅس احتجاجی جلوس چلا جائے تو فوراً ریاستی رٹ کی بحالی کی آنسو گیس اور گرفتاریاں عمل میں لا کر صوبائی حکومت کی آزادی بچا لی جاتی ہے۔ ملک کے بیشتر حصے میں فوجی آپریشن اور اس کے جواب میں دہشت گردوں کے حملے ہوں تو دونوں میں عوام الناس کے قتل عام کو کولیٹرل ڈیمیج یا شہیدِ معرکہ قرار دے کر اگلی لڑائی کی طرف مارچ کر دیا جاتا ہے۔ کوئی مسنگ پرسن ، گمشدہ، اغواء، مقتول کا وارث اگر اس بیہمانہ تشدد کا حساب مانگے، انصاف مانگے تو اسے مہینوں سالوں عدالتوں کے چکر اور ملوث افراد کی دھمکیاں ہی نصیب ہوتی ہیں۔غرضیکہ کہ مزدور ہوں یا لوئیر مڈل کلاس یا مڈل کلاس ہماری آزادیوں پر سخت پہرے ہیں۔
اور یہ پہرے پولیس، فوج، ایجنسیوں ، عدالتوں نے نہیں لگائے۔ گزشتہ دس سال سے دو جمہوری حکومتوں نے یہ پہرے اینٹی ٹیرر ازم ایکٹ، پاکستان پروٹیکشن آرڈیننس، رینجرز خصوصی اختیارات، فوجی آپریشنوں کے لیے آل پارٹیز کانفرنسوں ، دہشت گردی کچلنے کے سرکاری بیانیوں اور سامراجی معاہدوں کے زریعے لگائے ہیں۔ سی پیک ہو یا گورانو ڈیم یہی سیاسی حکومتیں ہیں جو اب انہیں خصوصی قوانین، فوجی عدالتوں کو استعمال کر کے ہر قسم کی سیاسی آزادیاں صلب کر رہی ہیں۔ اگر کوئی فوجی حکومت یہ قوانین نافظ کرتی تو شاید اسے زیادہ پزیرائی نہ ملتی ۔ لیکن سینیٹ کے چیرمین کے آنسو بہتے رہے اور یہ فوجی عدالتوں اور بناءجواز ۰۹ دن تک حراست میں رکھنے کے قوانین پر دستخط کرتے رہے۔ سیاسی پارٹیاں نئی سرمایہ دارانہ سرمایہ کاری ، میگا پروجیکٹس، پڑوسی ممالک سے محاذ آرائی کی جس پالیسی پر گامزن ہیں اس میں ملک کے اندر اٹھنے والی ہر تنقید کو یہ ریاست کے خلاف غداری قرار دینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتیں۔ یوں توہین کے قوانین ہوں یا سائیبر کرائم ، کرپشن پر آواز ہو یا شہری مسائل پر احتجاج ، گمشدہ افراد کی بازیابی ہو یا ماورائے عدالت قتل ان سب کو انہی پارٹیوں نے قانون سازی کرکے جرم بنا دیا ہے۔ دو چار نہیں لاکھوں افراد کی بے دخلیاں اور دہشت گردی کے نام پر گمشدگیاں اور ٹارچر اب ریاستی ضرورت بن چکا ہے۔
بنیادی آزادیوں پر بندشوں کے خلاف ہمیں ایک مربوط تحریک کی ضرورت ہے۔اس تحریک کا مقصد ہر طرح کے آمرانہ قوانین کے ہاتھوں عوام الناس کے انسانی حقوق کی پامالی پر عوام کو آگاہ کرنا ، اظہارِ رائے کی آزادی پر بندشوں کے خلاف رائے عامہ تیار کرنا، رواداری اور برداشت کے کلچر کو عام کرنے کے لیے فرقہ واریت ، مذہبی بنیاد پر امتیاز کے خلاف آواز اٹھانا، سرمایہ دارانہ پروجیکٹوں کی زد میں ہونے والی ماحولیاتی اور انسانی تباہی کو طشت از بام کرنا اور مقامی تحریکوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا شامل ہونا چاہئیے۔ طلبہ ، کام کرنے والوں، مزدوروں، پروفیشل کلاس، اپنا کام کرنے والوں ، صحافیوں، اساتذہ اور دیگر پروفیشنلز کے لیے بنیادی تنظیم سازی اور یونین سازی کے حق کے لیے آواز بلند کر کے اس تحریک کو وسیع تر کیا جا سکتا ہے ۔
نیو لبرل سرمایہ داری نے اب پوری دنیا میں جمہوریت کی شکل میں یا براہِ راست آمریتوں ، دائیں باز و کی حکومتوں اور فاشسٹ حکومتوں کو جنم دے دیا ہے۔ نیو لبرل سرمایہ داری کا پھیلاﺅکی جگہ اب پروٹیکشن ازم لے چکا ہے۔ اس تبدیلی کا ایک مظہر امریکہ میں ٹرمپ کی حکومت اور اس کی نسل پرستانہ اور جنگجو پالیسیاں ہیں۔ دوسرا مظہر دنیا بھر میں حکومتوں کا بنیادی انسانی آزادیوں کو بیرونی خطرے کے نام پر صلب کر لینا ہے۔ بنیادی حقوق کی تحریک کو اس پسِ منظر میں اپنے مقاصد طے کرنے چاہئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *