خوابوں کی سرزمین۔۔۔آرٹ اور زندگی کا رشتہ

خوابوں کی سرزمین۔۔۔آرٹ اور زندگی کا رشتہ

تحریر: ریاض احمد

’زندگی زیادہ تر ہمارے دماغ میں جاری رہتی ہے۔ دو گھنٹے تک ایک فلم کا کبھی کبھار اتنا اثر ہوتا ہے کہ جتنا دو ہفتے روزمرہ کی زندگی کا نہیں ہوتا۔ جس طرح کے اندرونِ خانہ منظر نامے لا لا لینڈ میں میا کے زریعہ سامنے لائے گئے ہیں یہ یقیناًاس تنگ نظر عوام تک محدود نہیں کہ جس پر ہالی وڈ کو ناز ہے۔ اور فلم از خود انہیں پہچاننے سے بھی قاصر ہے۔ ہمارے تخیل اور ہماری حقیقتوں کے بیچ موجود تصورمیں اس سے کہیں زیادہ ہوتا ہے جتنا کہ ہم اسے سمجھتے ہیں۔ اور یہ کہ آرٹ اور زندگی کا ایک حقیقی رشتہ ہو سکتا ہے یہ یقیناًاس کے لیے امید افزاء ہے کہ جو یہ محسوس کرتا ہو کہ اس کی زندگی نغموں کے ایک البم، پرانی فلم، ایک تصویر یا ایک ٹی وی شو نے بدل ڈالی ہے۔ دنیا کو دیکھنے کا یہ پراُمید طریقہ ہے، ایسا طریقہ جو کہ دیکھنے والے اورکردار ادا کرنے والے دونوں کے لیے برابر واضح ہے۔ ‘
یہ الفاظ ہیں لالا لینڈ‘ پر تبصرہ لکھنے والی برطانوی اینا لزکیویچ کے جو برطانیہ میں لیفٹ کے رسالے نیو اسٹیٹس مین بطور ایک مضمون چھپا ہے۔ کوئی شبہ نہیں کہ لالا لینڈ ایک خوبصورت فلم ہے۔ اسے بہترین فلم کا آسکر ایوارڈ غلطی سے نہ بھی ملا ہوتا تب بھی یہ ایک بہترین فلم ہے۔ تصوراتی فلم جس میں خواب بھی ہیں اور خوابوں کی تعبیر بھی اور ان سب سے بڑھ کر وہ رشتہ کہ جو بظاہر دو اشخاص کے بیچ ہے مگر اس رشتے کی وسعت جیسا کہ اینا کہتی ہے کہ کہیں وسیع ہے ، ایک دنیا اس میں سما دی گئی ہے۔ ایک خواب ’میا کا‘ ہے جو ایک اداکارہ بننا چاہتی ہے، جبکہ یہ حقیقی دنیا میں ایک ریسٹورنٹ میں ویٹرس ہے ۔ دوسرا خواب ہیر’و سیب‘ کا ہے جو ایک کلاسکیکی جاز کلب کھولنا چاہتا ہے جبکہ یہ ریستورانوں میں پیانو بجا کر اپنی روزی روٹی پوری کرتا ہے۔ دونوں کے خواب کس طرح حقیقت بنتے ہیں یہ فلم کے آغاز اور آخیر کے بیچ کی دو گھنٹے کی کہانی ہے، یعنی دنیا کی کہانی۔ میا کا خواب حقیقت بنتا ہے تو یہ نہ صرف جیب سے دور ہو جاتی ہے بلکہ یہ کمرشل دنیا کے سمندر میں اس قدر ڈوب جاتی ہے کہ فن کی پہچان بھی بھولنے لگتی ہے، فلمی دنیا میں کامیابی نے اسے امریکہ بھر میں ایک مانوس چہرہ تو بنا دیا لیکن یہ اپنے آپ تک سے دور ہو گئی۔ دوسری جانب جیب کو کمرشل میوزک بنانے والی ایک کمپنی مل جاتی ہے، یہ اس کے ساتھ دنیا بھر میں ٹور کرتا ہے ، نت نئی میوزک بنا کر اور گا نے ریکارڈ کرا کر یہ بھی بے پناہ دولت کما لیتا ہے مگر یہاں وہ بھی اس فن سے دور ہو تا چلا جاتا ہے جسے وہ اپنا اوڑھنا بچھونا سمجھتا تھا۔ البتہ جیب اپنے خوابوں کی دنیا میں لوٹ جاتا ہے، کمرشل میوزک چھوڑ کر یہ کلاسیکی جاز کا ایک ریسٹورنٹ کھول لیتا ہے، نیو یارک میں لوٹ آتا ہے۔ لا لا لینڈ میں واپسی پر جیب خوش ہے جبکہ میا جب اچانک اس ریستورنٹ میں پہنچتی ہے تو اسے ایسا لگتا ہے کہ جیسے وقت گزرا ہی نہیں، مگر وقت گزر چکا ہے۔
لا لا لینڈ جاندار ، بامعنی اور زندگی کی لطافتوں سے بھرپور سینوں پر مشتمل فلم ہے۔ بہت سوچ سمجھ کر ایک ایک سین فلمایا گیا ہے۔ فلم کا آغاز ہی ایک انوکھے انداز سے ہوتا ہے۔ ہائی وے پر ٹریفک رکی ہوئی ہے کہ میا کار سے اتر کر ایک گانا گانے لگتی ہے اور رقص شروع کر دیتی ہے، دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں کار سوا ر اپنی گاڑیوں سے اتر کر میا کی طرح رقص کرنے لگتے ہیں۔ ٹریفک کھلتی ہے تو سب جیسے کسی خواب سے چونکے بغیر جاگ کر دوبارہ سے گاڑیوں میں سوار ہو جاتے ہیں۔ فلم کا آغاز دراصل اس خواب کی طرح ہے جو بقیہ فلم میں حقیقی زندگی میں دیکھا جانے والا ہے۔ ایک اور سین جس کا تذکرہ کئی ایک نے کیا بھی ہے وہ ریسٹورنٹ ہے جہاں ابتداء میں جیب کام کرتا تھا۔ میا سین پر نمودار ہوتی ہے تو ایک تھیٹر کے دروازے پر کھڑی ہے اور تھیٹر کی دیوار پر مارلن منرو، چارلی چیپلن جیسے مہان فنکارایک بڑی تصویر میں ایک تھیٹر کے حاظرین کی مانند بیٹھے جیسے پردہ کو دیکھ رہے ہیں جبکہ حقیقت میں ان کا رخ سڑک کی طرف ہے جہاں یہ حاظرین کو دیکھ رہے ہیں۔ یعنی یہ کہ کرداروں کو ناظر اور ناظر کو کردار بنا کر پیش کیا گیا ہے۔کہانی کے اندر توجیح ، توجیح کے اندر کہانی جیسے کئی ایک آئینوں میں آئینے۔
یہ تو ہو گئی لالا لینڈ کی خوبصورتی کی بات۔ اب آتے ہیں کہ یہ فلم کن لوگوں نے بنائی، مطلب کن نے پروڈیوس کی، سرمایہ لگایا۔ یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ لالا لینڈ جیسی فلمیں جن کا موضوع ہی آرٹ اور موسیقی ہے انہیں بڑے امریکی یا یورپی اسٹوڈیوز جیسے یونیورسل، فاکس، وغیرہ گھاس نہیں ڈالتے۔ انہیں تو ایکشن مووی، اسٹار مووی، وائلنس میں کمانا ہے۔لیکن سب سرمایہ دار ایسا نہیں سوچتے۔ سرمایہ دار جانتے ہیں کہ انفرادی طور پر خوابوں کے پیچھے دوڑنے والوں کی کہانی کو کرداروں کے علاوہ ناظرین میں کروڑوں دوڑنے والوں کو دلچسپی ہوتی ہے۔ دنیا کتنی تیزی سے بدل رہی ہے اس کا اندازہ لالا لینڈ میں سرمایہ لگانے والوں سے ہوتا ہے۔ اس فلم کے تین پروڈیوسر ہیں، حنان ٹی وی چائنا، لائیز گیٹ امریکہ اورفیڈ ایکس کے مالکان کی بلیک لیبل میڈیا امریکہ۔ ۳۰ ملین ڈالر کی رقم ان تینوں نے مل کر لگائی۔ فلم نے چند ہفتوں میں ریکارڈ توڑ ۳۷۰ ملین ڈالر کا بزنس کیا۔ لیکن لائنز گیٹ نے لالا لینڈ پر سرمایہ لگانے کا فیصلہ کیا تو انہیں معلوم تھا کہ اس کے لیے غیر ملک سے سرمایہ آئے گا کہ انہوں نے فلم کی بیرونِ امریکہ تقسیم کے حقوق کی فروخت سے یہ رقم حاصل کر لی تھی۔ بقیہ میں سے ایک چوتھائی حنان ٹی وی چین نے دئیے ۔ لائنز گیٹ کا سرمایہ بھی چین سے آرہا تھا۔ مارچ ۲۰۱۵ء میں لائنز گیٹ نے حنان ٹی وی کے ساتھ معاہدہ کیا جس کے تحت دو سالوں میں حنان ٹی وی ۳۷۹ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری لائنز گیٹ میں کرے گا اور اس کے بدلے میں لائنز گیٹ کی تیار کردہ فلموں کی چین میں تقیسم کے حقوق حنان ٹی وی کو حاصل ہوں گے۔ حنان ٹی وی چین کی ایک بہت بڑی کمپنی ہے جس کے کئی چینلز اور کروڑوں کی تعداد میں دیکھنے والے ڈرامہ سیریل چلتے ہیں۔ یوں لائنز گیٹ میں لگا چینی سرمایہ، پھر حنان ٹی وی کا اپنا براہِ راست سرمایہ وہ سرمایہ ہے جس سے لالا لینڈ جیسی فلم تیار ہوئی۔ سرمایہ داروں کا مفاد مشترک ہے، ان کے بیچ نہ کوئی رنگ نہ نسل نہ زبان نہ مذہب۔ اگر کوئی رشتہ ہے تو سرمائے کا سرمائے سے رشتہ ہے۔ فلم امریکی ہے اور سرمایہ چینی اور بظاہر امریکی۔ اسی طرح لالا لینڈ میں بھی ہے۔ تنقید نگار اینا لزکیویچ کہتی ہے کہ ہم اکثر فلموں، کتابوں اور میوزک کو ایک دوسرے سے رابطہ میں آنے کے لیے بطور اوزار استعمال کرتے ہیں، اکثر انہی کے بل پر قائم رہنے والے رشتے بنا لیتے ہیں۔ لالا لینڈ کا ساؤنڈ ٹریک ’سم ون ان دی
کراؤڈ(مجمع میں کوئی شخص) ہے۔لالا لینڈ کا مرکزی خیال مجمع میں ایک شخص کا تجربہ نہ صرف تخلیقی کیریرکا سبب بنتا ہے بلکہ زندگی کے ہر شعبہ کو جلا بخشتا ہے۔ لا لا لینڈ نہ صرف ابھرتے ہوئے فنکاروں کی خوبصورت، تکلیف دہ، خوابوں کی دنیا کو حقیقت کا روپ دھارنے کی کوشش کی کہانی ہے بلکہ اس میں سرمایہ لگانے والے چینی سرمایہ دار بھی اپنی خوابوں کی دنیا کو حقیقت بنا رہے ہیں۔

ملین ڈالر کی لالا لینڈ نے چند ہی ہفتوں میں ۳۷۰ ملین ڈالر کا بزنس کر لیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *