دی آرٹ آف لووننگ

دی آرٹ آف لووننگ

تحریر: ایرک فرام ، ترجمہ: روزاخان

انسانی وجود سے مسئلہ کا حل: محبت کے نظریے کا آغاز انسان کے وجود سے ہوناچاہیئے۔ہم جب محبت یا محبت جیسا کوئی جذبہ جانوروں میں دیکھتے ہیں تو ان کی یہ وابستگی ان کی جبلت کا حصہ ہوتی ہے، جس کی باقیات آج کے انسان میں دیکھی جا سکتی ہے۔انسانی وجود کی حقیقت یہ ہے کہ یہ جانوروں کی دنیا (اینیمل کنگڈم) سے نمودار ہوا ہے یعنی یہ اپنی جبلت سے مطابقت رکھتا تھا، جس نے فطرت کوماوراء کردیا،اگرچہ کبھی اس کونہیں چھوڑا،بلکہ وہ اس کاایک حصہ رہااورپھرایک مرتبہ جب یہ فطرت سے ہٹاتوپھرکبھی اس طرف لوٹ کرنہیں آیا،جب جنت سے باہرپھینک دیاگیا،فطرت میں اکیلے رہنے کی اصلی حالت ،کروبی جس کے ہاتھ میں دہکتے تلواریں تھیں نے اس کاراستہ روکا،اگروہ واپس مڑنے کی کوشش کرتا۔ انسان صرف اپنی دلیل (ریزن) کوترقی دے کرآگے بڑھ سکتاہے، ایک نئی ہم آہنگی ، ایک انسان کے طورپرنہ کہ ماقبل ازانسانی ہم آہنگی کے دورکہ جسے وہ کھوچکاہے۔
جب انسان پیدا ہوا تو اس نے خود کو ایک خاص نسل سے منسلک پایا۔اس کو اس کے مقرر یا قدرتی ماحول (جبلتی)سے نکال کر ایک ایسے ماحول میں پھینکا گیا جو کہ غیر واضح، غیر یقینی اور کشادہ تھی۔یہ صرف اپنے ماضی کے بارے میں پُر یقین ہے یاموت کی صورت میں اپنے مستقبل کے حوالے سے ۔
انسان کو عقل جیسا تحفہ ملا ہے جس کا اسے علم ہے۔اس کی مدد سے یہ خود اپنی ذات اور اپنے ساتھیوں کے حوالے سے شعور رکھتا ہے،اپنے ماضی کو سمجھ سکتا ہے اور اپنے مستقبل کے بارے میں بھی اندازہ لگا سکتا ہے۔اس کے علیحدہ وجود ہونے اور محدود زندگی کا شعور اسے اس حقیقت سے روشناس کرواتا ہے کہ یہ اپنی مرضی کے بنا پیدا ہوا اور بغیر اس کی مرضی کے اسے موت آدبوچے گی۔ اسے اپنے چاہنے والوں سے پہلے یا ان کے بعد موت کا سامنا کرنا ہے۔اس بات کا ادراک اس میں تنہائی اور دوسروں سے علیحدگی کا احساس پیداکرتی ہے۔قدرت اور سماج کی قوتوں کے سامنے خود کو بے بس پا کر اسے اپنا آپ ایک نا قابلِ برداشت قید میں بندھا محسوس ہوتا ہے۔جب یہ احساس کہ یہ اس قید سے خود کو آزاد کر کہ کبھی نکل نہیں سکتا ،اسے پاگل پن کی حد تک ستانے لگتا ہے تو یہ خود کو کسی نہ کسی شکل میں بیرونی دنیا سے جُڑنے کی طرف لے جاتا ہے۔
تنہائی کے اس تجربے سے یہ ذہنی اُلجھن(anxiety) کا شکار ہو جاتا ہے اور دراصل ہر طرح کی اُلجھن کی جڑ یہی ہوتی ہے۔تنہائی کا مطلب الگ تھلگ ہونے کے ہیں یعنی بنا استعداد کے اپنی انسانی صلاحیت کا استعمال۔پس تنہا ہونامطلب بے بس ہونا ،دنیا ،چیزوں اور لوگوں کو عملی طور پر سمجھنے کے قابل نہ ہونایعنی دنیا میری مزاحمت کرنے کی طاقت نہ ہونے کے باوجود مجھ پر حملہ آور ہوسکتی ہے۔اس کے ساتھ ہی شرم اور احساس جرم جیسے جذبات جنم لیتے ہیں۔تنہائی کے احساس کے نتیجے میں جنم لینے والے شرم اور احساس جرم کی اس داستان کو کتاب انجیل میں آدم اور حوا کے قصے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔جب انہوں نے نیکی اور بدی کے علم کے درخت کا پھل کھایا، انہوں نے نافرمانی کی(اصل میں وہ نیکی بدی نہیں نافرمانی کرنے کی آزادی ہونے کا علم تھا)،جب انہیں ان کے اصل گھر سے نکالا گیا اور انسان بنا کر دنیا میں بھیجا گیا تو اُنہوں نے خود کو نہتا اور شرمندہ پایا۔ کیا یہ مانا جا سکتا ہے کہ یہ قدیم اور بنیادی داستان انیسویں صدی کے دانشوروں کا چیزوں کو دیکھنے کا انداز تھا اوراس کہانی کا اہم نقطہ یہ نہیں کہ ہم تک یہ پیچیدگی پہنچانا کہ اُن کے جنس (حوا عورت اور آدم مرد)واضح تھے؟شاید ایسا نہ ہو اور ہم اس کہانی کو ویکٹورین وقت میں سمجھنے میں ایک اہم نقطہ نظر انداز کر دیتے ہیں وہ یہ کہ وہ جب انہوں نے ایک دوسرے کو جانا تو اُنہیں اس بات کا علم تھا کہ وہ مرد اور عورت ہیں ، علیحدہ علیحدہ ہیں ، اپنی جنس کے اعتبار سے مختلف ہیں۔لیکن اپنی ننہائی کے بارے میں جان کر بھی وہ انجان رہے کیونکہ انہیں محبت کرنا نہیں آتی تھا( جیسا کہ بہت صاف بتایا گیا ہے کہ آدم نے خود کو بچانے کی خاطر حواکی طرفداری کرنے کے بجائے سارا قصور حوا کے دامن سے باندھ دیا تھا)۔انسان کا شعورِتنہائی ،محبت کے زریعے ملن کے علم کے بغیر شرم کا باعث بنتی ہے۔اور شرم کا یہی احسا س، احساسِ جرم اور ذہنی تناؤ کو جنم دیتا ہے۔(جاری ہے )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *