مارکسی فلسفہ کاتعارف:اصل نکتہ دنیا بدلنے کاہے

مارکسی فلسفہ کاتعارف:اصل نکتہ دنیا بدلنے کاہے

تحریر: جان مولینو ، ترجمہ: روزاخان

جان مالینوکے مارکسی فلسفہ پرکتاب کاقسط واراردوترجمہ شائع کیاجارہاہے۔ جہاں یہ کتاب مارکسی فلسفہ سے بحث سے کرتی ہے ،وہاں اس کا ایک اہم مقصد ایسے جدیدفلسفوں کی مارکسی تفہیم اورتنقیدہے جوسرمایہ داری کے خلاف عمومی عوامی جدوجہد پراثراندازہوتی ہے۔ یہ کتاب طلبہ،اساتذہ، صحافیوں، ادیبوں اوردانشوروں کے علاوہ سرگرم سیاسی کارکنوں کے لئے انہتائی مفیدہے۔ ادارہ

فلفسہ کیوں اہم ہے؟

یہ بات تویقینی ہے کہ کسی مظاہرے ،ہڑتال یا انقلابی اُبھار کا حصہ بننے کے لئے آپ کو فلسفے کی جانکاری کی ضرورت نہیں ہے یہاں تک کہ اچھی نوکری کے لئے بھی نہیں۔اگر ہم مزدوروں کی بڑی تعداد سے توقع رکھیں کہ وہ مارکس اورہیگل کوپڑھ کر مظاہروں ، ہڑتالوں اور انقلابات میں حصہ لیں تو ایساکبھی نہیں ہوگا۔
دریں اثناء ایک بہتر دنیاکا حصول کی جدوجہد محض ان براہ راست مقابلوں کے لمحات پر مشتمل نہیں ۔ان عظیم مقابلوں سے پہلے یا ان کے دوران ہمیں روزانہ حکمرانوں کے نظریات کے خلاف نظریاتی جنگ ہوتی ہے جس کاپروپگنڈہ ہمارے حکمران کرتے ہیں۔ اور اس نظریاتی جدوجہد کے سنگ سنگ مزدوروں کو منظم کرنا، ان کی یونینز بنانا اور اسے بحال رکھنا،مہمات یاسیاسی پارٹی بنانا بھی روزانہ کے کاموں میں شامل ہیں۔ سیاسی کام کوطویل عرصے تک برقرار رکھنا مشکل ہے جب تک کے سماج پر غالب نظریات جن سے ہم روزانہ (کام کی جگہ ، اسکول،کالج وغیرہ)لڑرہے ہوتے ہیں، کے خلاف ہم ایک معقول متبادل دنیا کا تصور نہ پیش کریں۔اس متبادل تصور کو پیش کرنے میں فلسفے کا ایک اہم کردار ہے۔اس نقطہ پرفلسفے کاکوئی معین یاصحیح تعریف کی سہی ایک مشکل اور طوالت پرمبنی کام ہے جوہمیں اصل موضوع سے ہٹادے گا۔لیکن اس کتاب میں،میرا اس سے مقصدانسانوں کے بارے میں ’عام‘ اور ’پیچیدہ‘ سوچ اور انسان کا فطرت اور سماج سے تعلق بتانا ہے۔
کسی دوست کام کی جگہ کاساتھی سے بحث کے دوران وہ باراس مدعہ پرلوٹے گاکہ :’لیکن تم ایک چیز بھول رہے ہو کہ تم انسانی فطرت کو نہیں بدل سکتے : امیر ہمیشہ امیر ہوتا رہے گا اور غریب ،غریب رہے گا۔ایسا ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے اور ہمیشہ ہوتا رہے گا۔‘ ایک تحریک میں کوئی بولے گا:’اصل مسئلہ تو رجعت پسند ہیں۔ ہمیں ان سے چٹکارا پانے کے لئے متحد ہونا ہوکرلیبرپارٹی (پاکستان کی پیپلزپارٹی کی طرح ایک جماعت) کوخیرآبادکہنا ہوگا۔ اسی طرح سے حالات بدلیں گے۔‘ایک یونیورسٹی کے سوشیولوجی کورس میں پروفیسر کہتا ہے:’یقیناًمارکس سمجھتا تھا کہ کمیونزم ناگزیر تھالیکن سوشل سائنٹسٹس (سماجی ماہرین) کی حیثیت سے ہمیں ان خودساختہ اڑیل نظریات کو رد کرنا ہوگایا مارکسزم تمام چیزوں کو معاش اور کلاس تک محدودکر دیتا ہے لیکن اس وقت کے مقابلے میں آج کی سوشیالوجی زیادہ پیچیدہ اورجدید ہے۔ ‘ اس طرح کے تمام بیانات معقول ہیں یعنی یہ عام فہم کے لئے پُرکشش ہیں کیونکہ یہ سب عام نظریات کی عین مطابق ہیں جسے حکمرانوں کی طرف سے فلسفیانہ اور منظم انداز میں پیش کئے گئے ہیں۔یہ وہ نظریات ہیں جس کا پرچارسرمایہ دار طبقے اور اس کے دانشوروں نے کئی صدیوں سے مختلف طریقوں سے کیا ہے۔اس کے جواب میں ہمیں بھی اسی کے برابرمنطقی اور مضبوط فلسفے کی ضرورت ہوگی اور خوش قسمتی سے وہ موجود ہے یعنی مارکسزم۔ روزانہ کے بحث و مباحثے کے علاوہ ایک بڑا سوال جدوجہد میں قیادت کا ہوتا ہے:کسی مہم کیلئے اخبار، جرنلز،کتابیں وغیرہ نکالنا،مظاہرے اورہڑتال بلوانا،کمپین یا پارٹی کے طریقہ کاراور حکمت عملی طے کرنا۔جتنے زیادہ سرگرم لوگ کمپین یا تحریک کی سربراہی یا قیادت میں شریک ہوں گے اور خاص کر نازک موقعوں پرتو زیادہ مضبوط،جاندار اور گہرا متبادل سامنے آئے گا ،اتنے ہی زیادہ سرگرم کارکن کے دنیاکے بارے میں نظریات کاٹیسٹ ہوگا اتناہی زیادہ فلسفے کے سوالات زیادہ اہم ہوتے جاتے ہیں۔
مجھے فلسفے کے تعلق کی ایک بہت ہی پختہ اوربر موقعہ مثال دینے کی اجازت دیں۔فلسفہ ایک بہت پھیلے ہوئی شکل میں مذہب کے طور پر موجود ہے جو کہ عام لوگوں کی بڑی تعداد میں اثر رکھتا ہے۔تمام مذاہب کے بنیادی عقائد میں فلسفے کے کچھ اہم سوال شامل ہیں جیسا کہ انسانی وجود کی ماہیت اور مقصداور انسان
کی فطرت (جسے فلسفے کی زبان میں ontologyکہتے ہیں )،علم کا ماخذاور سچ کا معیار(Epistemology)اور اخلاقیات(Ethics)۔اس کے علاوہ جب دہشگردی کے خلاف جنگ کا معاملہ ہوتا ہے تو مذہب سیاست کا مرکز بن جاتا ہے۔
ریڈیکل سرگرم کارکنوں ان سوالوں کاجواب دینے کے لئے فلسفیانہ فہم کی ضرورت ہوتی ہے۔اس سے بڑھ کراسے پتہ ہونا چاہیے کہ مذہب کا کس طرح تجزیہ کیا جائے اور کیسے مذہبی گروہوں کے ساتھ پیش آیا جائے جوکہ ایک سماجی اورسیاسی قوت بن چکی ہیں۔اس کے لئے مذہب کی ماہیت اور پیش رفت اوراس کے بنیادی ماخذ اورذرائع کی فہم مارکسی فلسفہ میں پڑی ہوئی ہیں۔
ایک اور اہم مسئلہ جس کا سامنا کسی فرد یا تنظیم کو کرنا پڑسکتا ہے کہ مظاہرہ یا ہڑتال کیسے بلوائی جائے۔اس مسئلے کا دارومدارمعروضی صورتحال (Objective situation)اورموضوعی پہل(Subjective initiative)کے کردارکے توازن کی جانچ پر ہوتا ہے۔کوئی بھی کمپینر یا ٹریڈ یونین والا حالات اور سیاسی موڈ کو سمجھے بغیر اگر کوئی مظاہرہ ،ہڑتال یافیکٹری پرقبضہ قوت اراد ی کے بل بوتے کرے گا تو یقیناًبُری طرح ناکامی کا سامنا ہوگا۔اس کیساتھ ہی یونین میں موجود کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو ہمیشہ یہی بولیں گے کہ یہ سہی وقت نہیں ہے خاص کر یونین کے عہدیداران۔یہ مسئلہ جوکہ کسی بھی مقامی کمپین کی جڑوں میں بسا ہوتا ہے، ہمیشہ رہتا ہے ، چاہے چھوٹی ہڑتال ہو یا انقلاب برپا ہوجائے۔اس طرح کے مسئلوں سے نمٹنے کی تربیت عملی کام کرنے سے بھی ملتی ہے لیکن مدد مارکسی فلسفے پر مضبوط گرفت سے ملتی ہے جس کا تعلق ہی اس امر سے ہے کہ کیسے’ لوگ اپنی تاریخ بناتے ہیں لیکن ایسی نہیں کہ جیساوہ چاہتے ہیں، بلکہ ان حالات میں رہ کربناتے ہیں جوان کی اپنی منتخب کردہ نہیں ہوتے۔‘ مختصراً یہ کہ فلسفہ اور خاص کر مارکسٹ فلسفہ بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دنیا بدلنے کی کسی بھی تحریک میں یہ ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ (جاری ہے،باقی اگلے شمارے میں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *