فاشزم کاسیاسی کلچر

فاشزم کاسیاسی کلچر

تحریر: جیرس بناجی ، ترجمہ : ریاض احمد ،عامرحسینی

(جیرس بنا جی نے یہ لیکچر جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی میں 11 مارچ 2016میں’ ینشنل ازم لیکچرز سیریز کے حصّے کے طور پہ دیئے۔جیرس بنا جی، یونیورسٹی آف لندن کے ڈیپارٹمنٹ آف ڈویلپمنٹ اسٹڈیز میں ریسرچ پروفیسر ہیں۔2016ء میں ان کی کتاب
Exploring the Economy of Late Antiquity: Selected Essays (Cambridge)
شائع ہوئی۔ اور آج کل وہ ایک کتاب “بریف ہسٹری آف کیپٹل ازم ” لکھ رہے ہیں۔ادارہ)

میں آج فاشزم بارے آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ اس کی اقسام کی جو ترکیب، باہمی ربط اور ان کا ایک دوسرے کے ساتھ گھلنا ملنا ہے اسے تاریخی سیاق و سابق میں آپ سے بیان کروں اور اس کا مقصد آپ کے سامنے یہ سوال رکھنا ہے کہ کیا اس سے آج کے ہندوستان کے جو حالات ہیں کوئی مماثلت یا ملتی جلتی صورت حال آج موجود ہے؟ تین تصورات ہیں جن پہ میں بات کرنا چاہتا ہوں جو کہ مرے خیال میں فاشزم کی سیاسی ثقافت کو سمجھنے کے لئے بنیاد کی حثیت رکھتے ہیں۔
پہلا تصور/تھیم ہے قوم پرستی/نیشنل ازم کی بنت کار/ساختہ فطرت، آپ اسے فاشزم اور متھ آف نیشن ” بھی کہہ سکتے ہیں۔دوسرا تھیم/تصور پدر سریت ،مطلق العنان خاندان کا سرمایہ داری معاشرے میں ریاست کی پاور سے رشتہ کا ہے اور یہ ولہم ریخ جرمن ماہر نفیسیات کے نفسیاتی تجزیہ پہ مشتمل ہے جس کی تحریروں کا اثر مابعد جنگ/پوسٹ وار فیمن ازم پہ کافی اثر تھا۔ریخ کا کہنا یہ تھا کہ پدرسریت اور تحکمانہ خاندان سرمایہ دارانہ معاشرے میں سٹیٹ پاور/ریاستی طاقت کے بنیادی سرچشمے ہیں۔اور یہ بنت کاری ہمیں مارکس ازم اور فیمن ازم کو ایک دوسرے سے ویسے مربوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے جیسے یہ عام طور پہ ایک دوسرے سے مربوط نظر نہیں آتے۔ریخ کا یہ جو “مطلق العنان خاندان” کا تصور ہے یہ عمودی کارخانہ ہے رجعت پسند آئیڈیالوجی اور ڈھانچے کا اور ایسے ہی یہ سرمایہ دارانہ معاشرے میں ریاست کی طاقت کا اہم ستون بھی ہے۔لیکن فاشزم میں خاص طور پہ ان دونوں کے درمیان یہ رشتہ صاف اور واضح طور پہ سامنے آجاتا ہے۔اور تیسرا تصور جسے فاشزم کے تیسرے جزو کے طور پہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ ہے سارتر کا تصور جسے
Manipulated Seriality
کہتے ہیں۔نوٹ: سیریلٹی ایک ایسا سماجی بنت کاری (سوشل کنسٹرکٹ ) ہے جو افراد کے گروہ سے الگ ہوتا ہے اور ایسی سماجی بنت کاری میں افراد پہ یا تو زبردستی کچھ لیبل تھونپے جاتے ہیں یا افراد خود ہی رضاکارانہ طور پہ ان کو اپنالیتے ہیں۔
میں اس کی وضاحت بعد میں کروں گا کہ اس سے مری مراد کیا ہے؟ فاشسٹ سیاست بنیادی طور پہ سارتر کے نزدیک ایسی درجہ بندی ہے جو کہ ہیراپھیری کا نتیجہ ہوتی ہے۔ہمیں اس ٹرم “سیریلیٹی /درجہ بندی کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمیں کسی بھی سرمایہ دارانہ ریاست میں سیاست کی حرکیات سمجھ میں آسکے۔تو استدلال کے یہ تین دھاگے یا تین جوڑ ہیں جن پہ میں آج مختصر بات کرنا چاہتا ہوں۔پہلے فاشزم اور متھ آف نیشن پہ بات کرتے ہیں جوکہ نیشنلزم کا ایک ساختہ فطرت پہ بات کرنا ہے۔اس بارے جرمن مارکسی دانشور آرتھر روزنبرگ نے 1934ء میں اپنی شائع ہونے والی کتاب میں بات کی اور اس کتاب کے شایع ہونے کے فوری بعد اسے جرمنی سے بھاگنا پڑا تھا۔روزنبرگ کمیونسٹ پارٹی آف جرمنی کی جانب سے جرمن پارلیمنٹ ریستاخ میں ڈپٹی تھا۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ انڈین لوک سبھا/قومی اسمبلی کی طرح جرمنی کی لوک سبھا کا رکن تھا کیونکہ جرمنی میں ہماری طرح کا وفاقی پارلیمانی نظام تھا۔وہ نہ صرف کیمونسٹ تھا بلکہ جرمن کمیونسٹ پارٹی کے پی ڈی کا لیفٹ ونگ کا ممبر بھی تھا اور اسے برلن لیفٹ کہا جاتا تھا اور فلسفی کارل کروخ بھی اس کا رکن تھا۔1927ء4 میں اس نے کے پی ڈی سے استعفا دے ڈالا کیونکہ یہ جرمن پارٹی میں روس کی بڑھتی ہوئی مداخلت سے ناراض تھا۔

روزنبرگ کے مضمون کا عنوان تھا ” فاشزم: ایک ماس موومنٹ ” اور یہ عنوان ہی فاشزم کو سمجھنے میں لیفٹ ونگ کے کردار کی وضاحت کرنے کے لئے کافی ہے۔انٹرنیشنل کمیونسٹ تحریک کامنٹرن کا خیال تھا کہ فاشزم بطور ایک تحریک کے کھڑا رہ سکے گا۔وہ اس کی جڑوں کو گہرائی میں اندر تک پیوست نہیں سمجھتے تھے۔کامنٹرن کا خیال یہ تھا کہ یہ فنانس سرمایہ کی ایک سازش ہے گویا ان کا خیال تھا کہ جرمن بینکار کسی جگہ بیٹھ کر فاشزم کو واقعہ بناسکتے ہیں۔گویا ہٹلر فنانس سرمایہ/مالیاتی سرمایہ کی ایک کٹھ پتلی تھا۔اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ ان کی نظر میں نازی پارٹی کے لئے اتنے بڑے پیمانے پہ پیدا ہونے والی سیاسی کشش اور ہمدردی جو 1920ء اور 1930ء کے درمیان پیدا ہوئی اس کی جڑیں صرف فنانس سرمایہ میں تھیں معاشرے کے اندر پیوست نہ تھیں۔یہ بہت ہی مضحکہ خیز تجزیہ ہے کیونکہ یہ فاشزم کی بنیادوں کو بہت ہی سطحی انداز میں دیکھتا ہے جبکہ یہ دائیں بازو کی تحریکوں کے کئی ایک پہلوؤں کو سرے سے دیکھنے سے ہی قاصر رہ جاتا ہے۔تو فاشزم بطور ایک ماس موومنٹ کے کامنٹرن کے فاشزم بارے فہم کے لئے ایک چیلنچ سے کم نہیں تھا۔دوسرے لفظوں میں سوویت یونین پہ آفیشل لائن یہ تھی کہ فاشزم کی جڑیں گہری نہیں ہیں۔اور یہ کہ اسے کلچر سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہی بڑے پیمانے پہ لوگوں کے تحرک سے اس کا کوئی تعلق ہے۔تو روزنبرگ کا کیا کہنا تھا؟
روزنبرگ کے مطابق فاشزم تبھی کامیاب ہوتا ہے جب یہ ایک عوامی تحریک بنے۔سیاسی طور پہ یہ معاشرے میں باقی رہ سکتا ہے کسی بھی سیاسی نظام میں لیکن اس صورت میں یہ کمتر حالت میں رہے گا اس وقت تک جبتک یہ بہت بڑے پیمانے پہ عوام میں اپنی بنیاد نہ بنالے۔(میں نے کہا تھا کہ میں ہندوستان بارے بات نہیں کروں گا لیکن مجبور ہوں زرا دیکھیں کہ 1980میں کیا ہوا تھا۔1984ء میں ریاست نے بڑے پیمانے پہ منظم قتل عام کی اجازت دی اور اس نے بڑی دہشت گردی کو ایک طرح سے جواز دیا اور فرقہ وارانہ قوتوں کو معاشرے کو اور زیادہ دائیں جانب لیجانے کا موقع فراہم کردیا) تو روزنبرگ کے مضمون کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ فاشزم ایک عوامی تحریک بن جائے تو کامیاب ہوگا۔لیکن اس سے آگے سوال یہ جنم لیتا ہے کہ فاشزم اور دایاں بازو کیسے ایک اپنی تحریک کو عوامی جڑیں فراہم کرسکتا ہے اور وہ عوامی بنیادوں پہ اسے کس طرح سے استوار کرپاتا ہے؟یہ بہت ہی اہم سوال ہے اور ہمیں اس سوال کا جواب اپنے ملک ہندوستان کے تناظر میں سمجھنا ہوگا۔لیکن اس کا جواب بھی بہت دلچسپ ہے۔اس کا جواب تھا کہ آئیڈیالوجی جسے لوگ فاشسٹ کہتے ہیں پہلے ہی 1914ء میں پورے یورپ کے اندر بڑے پیمانے پہ پھیل چکی تھی۔یہاں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ نازی پارٹی تو 1920ء میں بنی تھی۔اور 1920ء کے آخر تک نازی پارٹی اور اس کا لیڈر ہٹلر اہم بن تھا۔اور یہ اس وقت ہوا جب معاشی بحران نے پوری طاقت سے جرمنی میں دھماکہ کیا تھا۔تو جب روزنبرگ یہ کہتا ہے کہ فاشسٹ آئیڈیالوجی تو پہلے ہی 1914ء میں پھیل چکی تھی تو وہ اصل میں سیاست اور آئیڈیالوجی کے باہمی تعلق کو الٹ کررہا تھا۔وہ کہہ رہا تھا کہ آئیڈیالوجی سیاسی پارٹی کی خالق نہیں ہے،سیاسی پارٹی یا تحریک اصل آئیڈیالوجی کی خالق ہے۔تو وہ یوروپی سیاست اور معاشرے میں آہستہ آہستہ حرکت پذیر پروسس کی جانب اشارہ کررہا تھا جس کے نشانات 1870ء4 سے لیکر 1880ء4 تک چلے جاتے ہیں۔جب یورپ میں پارلیمانی جمہوریت پھیلنا شروع ہوئی تو یہ یوروپ کی روائتی اشرافیہ جوکہ بڑے کاروباری اور زمیندار اشرافیہ تھے کے مفادات کی نمائندہ تھی تو سوال یہ ہے کہ وہ کیسے عوام کے لئے پرکشش بن گئی جبکہ وہ ورکنگ کلاس پہ جبر کرنے والے طبقات کے مفادات کا تحفظ کررہی تھی۔اور یہی وہ نکتہ ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ کہاں جبر کرنے والوں کی آئیڈیالوجی اہم ہوجاتی ہے۔اس کی وجہ وہ سیاست تھی جو 1870ء4 اور 1880ء4 کے اندر ابھری اور رونزبرگ اسے “نئی تحکمانہ قدامت پرستی” قرار دیتا ہے۔اس طرح کا کنزرویٹوازم پورے یورپ میں پھیل گیا۔ اور یہی نیا آمرانہ کنزرویٹوازم 19ویں صدی کے فاشسٹ آئیڈیالوجی کا پیش رو تھا جو بعد میں اور غالب آگیا۔
تو فاشسٹ آئیڈلوجی پس پردہ محرکات کی بناوٹ ہے۔یہ مختلف آئیڈیالوجیکل لہروں سے ملکر بنی ہے اور خود اپنے آپ میں یہ بہت کم مربوط ہے۔تو اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ کو فاشسٹ آئیڈیالوجی کے اجزاء4 کو ایک ایک کرکے دیکھنا پڑتا ہے۔اور یہ آج بھی ہمارے لئے واضح ہونا چاہئیے۔مثال کے طور پہ سامیت مخالف نظریہ اینٹی سیمیٹ ازم اور نسل پرستی کی دوسری اشکال ایک مضبوط ریاست کی حمایت کرتے ہیں جوکہ ان کی خواہش کے مطابق بیرونی طور پہ عمل کرسکتی ہو۔ جیسے جرمن سرمایہ جرمن سامراجیت میں بدلا تاکہ یہ عالمی سرمایہ دار منڈی پہ زیادہ موثر انداز میں اثرانداز ہوسکے۔تو یہاں سامراجیت کی حمایت بیرونی طور پہ زیادہ جارحیت کی پیاس کا نتیجہ تھی اور یہ یہ لیبر کے خلاف بھی جارح ہوئی اور آخرکار پوری منظم ورکنگ کلاس کے خلاف جارحیت میں بدل گئی۔اور پھر یہ پدرسریت کے ساتھ جڑی آمریت کا شاخسانہ بن گئی۔اور اس کا آخری اور سب سے طاقتور ترین حصّہ نیشنلزم بنا جس سے ملکر یہ فاشسٹ آئیڈیالوجی جنم پذیر ہوئی۔
یورپ میں دائیں بازو کی کامیابی کی چاپی 1870ء4 سے مسلسل آگے جانے والے ایک نئے قسم کے نیشنل ازم کی سیاست کے پاس رہی اور یہ اس سے پہلے یورپ میں کبھی دیکھنے کو نہیں ملی تھی۔1848ء4 میں یورپی منظر نامے میں ہمارے پاس ایک جارح قسم کا شاؤنسٹ نیشنل ازم نہیں تھا۔یہ 1860ء4 میں بھی نہیں تھا جب کارل مارکس “سرمایہ ” لکھ رہا تھا۔یہ تو زیادہ جارح بلکہ بہت ہی زیادہ جارج کہیں 1870ء4 میں ہونا شروع ہوا۔اور اس کا جزوی طور پہ نوآبادیات کے قیام کی جانب بھاگ دوڑ سے بھی تھا سب جنونی افریقہ کی تقسیم کی جانب دوڑے اور اس کے ٹکڑوں کو ہڑپنے کی دوڑ شروع ہوگئی۔لیکن یہ صرف اس سے ہی جڑا ہوا نہیں تھا۔میں صرف معشیت پسندی کو ہی نیشنل ازم کی واحد وجہ قرار دینا نہیں چاہتا۔تو میری نیشنل ازم کی نوعیت کی ساختگی سے کیا مراد ہے؟ اور میں اسے فاشزم کیوں کہتا ہوں؟ کیا قومیں ایسے ہی وجود رکھتی ہیں جیسے طبقات۔مجھے آپ سے یہ سب پوچھنا ہے۔میں جانتا ہوں کہ جیسے میں دیکھتا ہوں ایسے طبقہ ہے کیا ؟ میں جانتا ہوں کہ ممبئی جیسے شہر میں مڈل کلاس کیا ہے؟اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آج کے ہندوستان میں مڈل کلاس کس کلچر کی تجسیم کرتی ہے؟تو میں مڈل کلاس اور اس کے کلچر کو،اس کی سیاست کو دیکھتا ہوں اور اگر میں ہندوستان میں شہروں کی بجائے کسی اور علاقے میں رہ رہا ہوتا جیسے مضافاتی علاقے ہیں تو میں دوسرے طبقات کا سامنا بھی کرسکتا تھا۔میں جانتا ہوں کہ ورکنگ کلاس کیسی دکھائی دیتی ہے۔میں جانتا ہوں کہ ورکنگ کلاس کہاں ملازمت کرتی ہے۔اور ورکنگ کلاس کی بہت سی پرتیں ایسی بھی ہیں جو کسی بڑے پیمانے کے پروڈکشن یونٹ میں کام نہیں کرتیں۔وہ گھر پہ ملازم ہیں یا کہیں اور۔لیکن طبقہ/کلاس بارے نکتہ یہ ہے کہ یہ حقیقی کمیونٹیز/برادریاں ہیں۔یہ حقیقی طور پہ موجود ہیں اور اس وقت بھی موجود ہوتی ہیں جب ان کو اپنے ہونے کا شعور بھی نہیں ہوتا۔کیا اس دھرتی پہ کوئی ایسا ہے جو اس بات پہ دلیل دے کہ قوم بھی ویسے ہی موجود ہوتی ہے جیسے ایک طبقہ اور قوم بھی بھی ویسے ہی اسی سینس میں موجود ہے جیسے طبقہ موجود ہے؟جبکہ نیشنلزم اس طرح کے لیکچرز کا ایک مرکزی خیال ہے تو مجھے نیشنل ازم بارے آج کل تسلیم شدہ دو نمونوں کے مقابلے میں اپنے موقف کی وضاحت کرنے دیں۔پہلا ماڈل ارنسٹ گیلنر کا ہے اور اس پوزیشن کی حمایت ہابس کرتا ہے۔دوسری پوزیشن جو 1980ء4 سے پاپولر ہوئی ہے اس کی حامی نظریہ ساز بینڈیکٹ اینڈرسن ہے جو تصوراتی کمیونٹییز یا برادری کی بات کرتا ہے۔اینڈرسسن کے نزدیک قوم ایک تصور کرلی گئی کمیونٹی ہوتی ہے لیکن وہ اپنے لفظ “تصور کرلی گئی ” کو ایک مثبت رنک دینا چاہتا ہے جوکہ گیلنر کے تصور نیشنز اور نیشنلزم سے مختلف ہے۔ہابس اسی لئے اسے نیشنل ازم کی ساختہ فطرت یا بنالی گئی فطرت کہتا ہے۔گیلنر کی طرح میں بھی دستکاری،ایجاد اور سوشل انجینئرنگ کے عنصر پہ زور دوں گا جس کا قوم کی تشکیل میں بڑا عمل دخل ہے۔جیسے گیلنر کہتا ہے کہ قوموں کو فطری کہنا اور اسے خداداد قرار دینا ایک افسانہ،مائتھ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور اسے خدا کی جانب سے لوگوں کے درمیان تقسیم کا ایک طریقہ بتلانا بھی ایک افسانہ ہے۔اور اسے لوگوں کا سیاسی نصیب بتانا بھی ایک افسانہ ہے اور فاشزم نیشنل ازم کی اسی متھ کی عکاسی کرتا ہے۔نیشنل ازم بعض اوقات ماقبل موجود ثقافتوں کو لیتا ہے اور ان کو اقوام میں بدل دیتا ہے اور بعض اوقات ان کو خود ایجاد کرتا ہے اور اکٹر ماقبل موجود ثقافتوں کو میخ کرتا ہے جو حقیقت ہے وہ ہابس کے الفاظ میں یہ ہے کہ نیشنل ازم اقوام سے پہلے آتا ہے۔قوم ریاست اور نیشنل ازم نہیں بناتیں بلکہ یہ نیشنل ازم ہے جو قوم اور ریاست بناتا ہے۔گیلنر اور ہابس کے ان دلائل سے میں مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ اینڈرسن اس سے ہٹ کر یہ کہتا ہے گیلنر جب یہ کہتا ہے کہ نیشنل ازم قوموں کو جگاکر ان کو خود شعوری تک لیکر جاتا ہے تو وہ دراصل قوموں کو اپنے طور پہ وہاں موجود دکھاتا ہے جہاں وہ ہوتی ہی نہیں ہیں۔اینڈرسن کہتا ہے کہ ایسی ترکیب کا ایک نقص یہ ہے کہ اس میں نیشنلزم مغالطہ آمیز تصورات کا نقاب پہن کر آتا ہے اور گیلنر اسے ہی دکھانے کے لئے خودکو ہلکان کرتا ہے اور وہ اختراع میں بناوٹ کو جذب کرتا ہے اور تصور گری و تخلیق سے کہیں زیادہ فکری مغالطے کو ملاتا ہے۔تو اب یہاں خط فاصل کو دیکھیں یعنی تقسیم کرنے والی لیکر کو سمجھیں: ان میں سے ایک کہہ رہا: قومیں مصنوعہ یعنی بنالی گئی چیز ہیں، اور دوسرا کہہ رہا ہے: نہیں ،بالکل نہیں وہ تو تصوراتی ہیں۔تو اینڈرسن اسے تخیلیاتی اور خلق کی ہوئی جیسی شئے سمجھتا ہے۔اس طریقے سے اینڈرسن یہ کہہ رہا ہے کہ گیلنر کے ہاں سچی کمیونٹیز/برادریاں موجود ہیں جن کو اقوام کے مساوی کردیا جاتا ہے۔تو اینڈرسن کے ذہن میں کیا تھا؟ بہت واضح ہے کہ طبقہ۔یہ صاف ظاہر ہے کہ اس کے ذہن میں طبقہ/کلاس تھا۔اس کے ہاں طبقہ بھی ایسے ہی تخیل کا نتیجہ ہے جیسے قوم ہے۔تو جب وہ امیجننگ کہتا ہے تو اس سے اس کی مراد کیا ہے؟قوم بطور ایک کمیونٹی ایک تصور کرلی گئی شئے ہے کیونکہ یہ ہمیشہ انتہائی گہری افقی کامریڈشپ/بھائی چارے کے طور پہ ادراک میں لائی گئی شئے ہوتی ہے۔حیران کن بات ہے۔۔۔۔اینڈرسن یہاں ویسی صورت حال سے دوچار جیسے کسی کمرے میں ہاتھی گھس آئے اور کمرے میں موجود آدمی کو جس صورت حال کا سامنا ہو۔سوال یہ ظاہر ہے بنتا ہے کہ یہ تخیل کرتا کون ہے، امیجننگ کون کرتا ہے؟تو اگر قومیں امیجننگ کا نتیجہ ہیں تو اس کرہ ارض پہ یہ تصورگری کرتا کون ہے؟جہاں تک میری زاتی رائے ہے تو اس کے مطابق اینڈرسن نے اس سوال کا جواب نہیں دیا ہے۔ایک ایسا ملک جس میں نابرابری بہت زیادہ ہو اس میں رہنے والوں کے درمیان کامریڈشپ/بھائی چارے کی بنیاد آخر ہوگی کیا؟اور افقی سطح پہ گہری کامریڈشپ ایک قوم میں کیا ہوگی؟مجھے اچھی طرح اندازہ ہے کہ طبقہ یا کلاس کو ان معنوں میں سمجھا جاسکتا ہے اور اس پہ بحث ہوسکتی ہے لیکن قوم نہیں۔
یہاں پہ ایک اور مفکر ہے جسے اس تصویر میں لانا مری خواہش ہے۔اور خاتون مفکر کا نام ہے لحیہ گرین فیلڈ۔انھوں نے ایک کتاب لکھی ہیجس کا عنوان ہے: نیشنل ازم :جدیدیت کی جانب پانچ راستے اور اس میں انھوں نے فرانس،روس اور جرمنی وغیرہ کے سیاق و سباق میں نیشنل ازم کا جائزہ لیا ہے۔وہ ایک بہت ہی دلچسپ ایک نکتہ اٹھاتی ہے جو براہ راست انڈیا پہ منطبق ہوتا ہے۔اکثر و بیشتر نیشن/قوم کی تعریف ایک کمپوزٹ شئے کے طور پہ نہیں ہوتی۔اس کا مطلب کوئی چیز ہے جو افراد سے بنتی ہے۔بلکہ اجتماعی فرد کے طور پہ جس کو ایک اختیار اور اس کا اپنا مفاد ودیعت کیا گیا ہو اور یہ دونوں چیزیں اس قوم کے اندر موجود افراد کے زاتی مفادات اور ترجیحات سے اوپر اور آزاد ہوں( یہ خوفزدہ کرنے والی تعریف ہے بلکہ یہ مجھے ارناب گوسوامی۔اینکر و ٹی وی ریپبلک کے مالکان میں سے ایک۔ کی یاد دلاتی ہے۔)۔وہ انسان جن کی بات کی جارہی ہے آپ اور میں، حقیقی لوگ ،حقیقی وجود رکھنے والے ہیں لوگ ہیں،ہم ایک دوسرے سے ملتے ہیں،ہم باہمی گفتگو کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔لیکن نہیں ارناب کے پاس ان میں سے ایک بھی نہیں ہے،اس کے لئے صرف “مہا فرد ” سپریم فرد ہی ہے جو اس کے لئے اہمیت رکھتا ہے اور وہے “قوم”: ?”قوم جاننے کا مطالبہ کرتی ہے” ارناب گوسوامی ہر شام ہمارے کان کھاتا ہے۔تو گرین فیلڈ ایسے نیشنل ازم بارے کیا کہتی ہے؟ وہ کہتی ہے ایسے نیشنل ازم کو
Collectivistic Nationalism
اجتماعیت پسندانہ قوم پرستی
کہتے ہیں۔اجتماعیت پسندانہ قوم پرستی ایک بہتر اصطلاح ہے اور آج ہم ہندوستان میں ایسی ہی قوم پرستی کا سامنا کررہے ہیں۔ اجتماعیت پسندانہ قوم پرستی آمریت کی طرف بڑھتی ہے اور یہ ایک بنیادی غیر مساوی پن قوم کی مرضی و منشاء4 کی تشریحات کرنے پہ خود ساختہ طور پہ مامور ایک چھوٹے سے گروہ۔۔۔۔جیسے لیڈر ہیں۔۔۔۔۔اور عوام کے درمیان قائم کرتی ہے، عوام وہ جن کو اشرافیہ کی تعبیرات اور تشریحات کو اپنانا ہے بس۔ قوم کی منشاء4 اور مرضی کے تعین اور تشریح کا خودساختہ منصب سنبھالے ہوئے اشراف وہ مسئلہ ہیں جس کے خلاف آج ہم ہندوستان میں کھڑے ہوئے ہیں۔جیسا کہ گرین فیلڈ کہتی ہے کہ یہ قوم پرستی اندر سے ہی آمرانہ ہے۔ہندوستان میں اجتماعیت پسندانہ، آمرانہ قوم پرستی بالکل وہی ہے جو آج ہمارے حلق سے جے این یو کے طلباء4 کے خلاف باہر آرہی ہے۔یہ روزنبرگ کے استدلال کا ایک حصّہ ہے، ایسا استدلال جوکہ قوم کے افسانوی یا بناوٹی پہلو/وصف بارے ہے۔اس استدلال کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جس پہ توجہ کرنا ضروری ہے۔یاد کریں کہ اس نے کہا تھا کہ آج جسے فاشسٹ آئیڈیالوجی کہا جاتا ہے وہ 1914ء4 سے ہی پھیل رہی تھی،تو ایک معنی میں نازی ازم اس آئیڈیالوجی کی پیداوار تھا نہ کہ نازی ازم کی پیداوار آئیڈیالوجی تھی۔لیکن روزنبرگ نے ایک اور نکتہ دریافت کیا اور اس نے کہا کہ جدید فاشزم کے ساتھ جو خاص چیز وابستہ ہے وہ ہے اس کی
Stromtrooper tactic
سٹرام/شاک ٹروپس ہتھکنڈا استعمال کرنے کی صلاحیت۔اور آج ہمیں ہندوستان میں ایسے طوفانی ہلادینے والے ٹروپرز کا کافی تجربہ ہوچکا ہے۔
نوٹ: پہلی جنگ عظیم میں جرمن فوج میں ایک سپیشل سیکشن فوجی دستوں کا تھا جو بہت تیزی سے اور خوفناک طرز پہ حملہ آور ہوتے اور اپنا مقررہ ہدف حاصل کرتے تھے۔ان کو شاک ٹروپرز کہا جاتا تھا۔
سٹرام ٹروپرز کی اصطلاح ایک جنگی اصطلاح ہے۔یہ وہ ایلیٹ اسکواڈ تھے جو دشمن کے مورچوں پہ طوفان کی طرح حملہ آور ہوتے تھے۔خندقیں /مورچے بناکر لڑنا پہلی جنگ عظیم کی ایک اہم حکمت عملی تھی، اگر آپ نے انتہائی شاندار فلم
War Horse
دیکھی ہو تو یہ ساری مورچہ بند اور خندق ساز جنگ کے گرد گھومتی کہانی پہ مبنی ہے۔اور اسے ہم جنگ کی سب سے خون آشام قسم کہہ سکتے ہیں۔ایسی روایتی خون آشام جنگ جتنا کہ ہم تصور کرسکتے ہوں۔سچ کہ بمبار طیاروں نے خون آشام کھیل پہلے ہی شروع کردیا تھا لیکن اصل قتلام تو میدانوں میں ہوا۔یہ خندقوں میں ہوا اور مورچوں پہ طوفانوں کی طرح دھاوا بولا گیا۔اور اب یہ سیاست میں داخل ہوگیا ہے۔یہ ہے وہ جو سٹرام ٹروپرز کرتا ہے۔لیفٹ نے پولیٹکل سٹرام ٹروپر کے تصور کو ایجاد نہیں کیا،بلکہ یہ رائٹ ونگ تھا جس نے یہ ایجاد کی۔اٹلی میں سٹرام ٹروپر وہ اسکواڈ تھے جو
Squadristi
کہلاتے تھے۔انھوں نے اطالوی جاگیرداروں کی مزارعوں کی ہڑتالیں توڑنے میں مدد کی ،ان ہڑتالوں کو توڑا،جنوبی اٹلی میں مزارعوں کی یونین کے لیڈروں کا قتل کیا۔جب شمالی اٹلی کے صنعت کاروں نے جنوبی اٹلی میں سٹرام ٹروپرز کو دیکھا کہ وہ کیا کررہے ہیں تو جب ان کو شمال میں مزدروں کی شورش کا سامنا ہوا تو انھوں نے جنوبی اٹلی کے سٹرام ٹروپرز کو بلالیا۔
اب اہم نکتہ یہ ہے جیسا کہ روزنبرگ ان سٹرام ٹروپرز کے بارے میں کہتا ہے۔۔۔۔۔۔ اور میں اسے اس کی کتاب سے یہاں درج کرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ بالکل ٹھیک طرح سے ہندوستان میں ہوئے گزشتہ چھے ہفتوں کے سیاسی منظرنامے کو گرفت میں لیتا ہے۔تو یہ ہے وہ جو سٹرام ٹروپرز کے بارے میں کہتا ہے:
سٹرام ٹروپر کی فاشسٹ ٹائپ سرگرمیاں قانون کی مکمل خلاف ورزی ہے۔قانونی طور پہ سٹرام ٹروپرز کو جیل بھیجنے کی ضرورت ہے۔لیکن حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔عدالتوں میں ان کی سزائیں صرف دکھاوا ہیں،یا تو وہ یہ ?سزا بھگتیں گے نہیں یا جلد ان کو معاف کردیا جائے گا۔اس طرح سے حکمران طبقہ یہ دکھاتا ہے کہ وہ اپنے ہیروز سٹرام ٹروپرز کا کتنا شکر گزار ہے اور کتنا ان سے ہمدردی رکھتا ہے۔
بنیادی طور پہ یہاں دلیل یہ ہے کہ فاشزم بورڑوازی جمہوریت/سرمایہ دارانہ جمہوریت میں ریاست کی ملی بھگت اور سرگرم تعاون سے پھلتا پھولنا شروع ہوتا ہے۔ہم نے گزشتہ چھے ہفتوں میں اس کا تجربہ کیا ہے،ہم نے دیکھا کہ ریاستی اداروں نے کیسے ردعمل دیا اور کیسے واقعات ایک ایک کرکے ہمارے سامنے کھلتے چلے گئے۔ریاست کا تعاون اور ملی بھگت جوکہ سٹرام ٹروپرز کو فری ہینڈ/کھلی چھٹی دیتی ہے اس کہانی کا ایک حصّہ ہے جس میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ فاشسٹ تنظیمیں آخر منظر سے غائب کیوں نہیں ہوتیں۔ان کو خفیہ طور پہ موجودہ ریاست سرپرستی فراہم کرتی ہے اور اس وقت بھی جب ریاست ظاہری طور پہ ایک آئینی جمہوریت کے نمائندہ کے طور پہ بول رہی ہوتی ہے یا اپنے آپ کو پیش کررہی ہوتی ہے۔مثال کے طور پہ جرمنی میں ویمار جمہوریہ یا ہماری اپنی جمہوریت ہندوستان میں۔تو میرے خیال میں روزنبرگ کے یہ دو یا تین مشاہدات بہت زیادہ قابل قدر ہیں۔
اب میں ولہم ریخ کی جانب آتا ہوں اور یہ روزنبرگ کی
Xenophobic Nationalism
ایسی قوم پرستی جو کچھ لوگوں کو غیر ملکی،اجنبی قرار دیکر ان سے نفرت کے اظہار پہ مبنی ہو
کی جارحانہ تصویر سے بالکل مختلف قسم کی تفہیم پہ مبنی ہے۔ریخ کے تھیسس کا بنیادی خیال یہ ہے کہ پدرسریت اور آمرانہ خاندان یعنی
Patriarchy and the authoritarian family
ریاست کی قوت کا بنیادی ستون ہیں۔تو ایک سینس میں، ایک معنی میں ریخ نیشنلزم کے تھیم/مرکزی خیال سے دور نہیں جارہا۔اور وہ اسی تھیم کو مخاطب کررہا ہے۔وہ جو کہہ رہا ہے وہ نوعمری سے ہی قوم پرستی کا پڑھایا جانے والا پاٹھ/تلقین/اپدیش ہے۔
ریخ نے 1933ء4 میں اپنی کتاب “دی ماس سائیکالوجی آف فاشزم ” شایع کی۔یہ روزنبرگ کی کتاب سے ایک سال پہلے کا واقعہ ہے۔اس نے اپنی کتاب کو 1931ء4 میں مرتب کرنا شروع کیا تھا اور اسے جس مسئلے کا سامنا تھا وہ یہ تھا کہ کیوں ورکنگ کلاس عوامی طبقات نے اپنے آپ کو ایسی تحریکوں کے ساتھ متحرک ہونے کی اجازت دی جوکہ ان کے معاشی مفادات کی مخالفت کرنے والی تھی۔
یہ ایک پہلی ،چیستان ہے۔کیوں محنت کش لوگوں نے خود کو دائیں بازو کے رتھوں کے پیچھے لگالیا؟ یہ واقعی ایک پہیلی ہے کیونکہ یہ تحرکیں ورکنگ ماسسز /عوامی طبقات کو کچھ بھی دینے والی نہیں تھیں۔یہ پہیلی معاشیاتی طریقے سے تو بوجھی نہیں جاسکتی تھی۔اس نے کسریت پسندی
Reductionism
کی کسی بھی شکل کو مسترد کردیا۔اس پہیلی کا معاشی حل تو تھا نہیں ،اور نہ ہی اس کی کوئی معاشی تشریح یا وضاحت موجود تھی۔دوسری طرف اگر اس کی کوئی وضاحت آئیڈیالوجی میں تھی تو ہمیں یہ وضاحت کرنی ہوگی کہ یہ کہنے کا مطلب کیا ہے؟اور ریخ جب خاندان کو فاشزم میں پہلے سے فرض کی گئی کسی موضوعیت کی قسم مرکزیت دیتا ہے تو وہ کیا چاہتا ہے؟ تو اب لفظ
Subjectivity
تصویر میں داخل ہوتا ہے۔تو ایک فاشسٹ سبجیکٹویٹی ہے۔فاشزم میں ایک سبجکیٹویٹی پائی جاتی ہے۔نہ صرف فاشزم میں یہ موجود ہے بلکہ جس طرح سے یہ کام کرتا ہے اس میں بھی یہ موجود ہوتی ہے۔ دی ماس سائیکالوجی آف فاشزم میں ریخ جو تصورات/تھیمز پیش کرتا ہے اس کا خلاصہ تین تھیمز میں کرسکتے ہیں جو کہ اس کی کتاب کے پہلے دو ابواب میں چلتے ہیں۔
ریخ کی کتاب کا سب سے اہم حصّہ آئیڈیالوجی کا بطور ایک مادی قوت کے تصور ،خاندان،روایت اور کچلی ہوئی اکثر بری طرح سے مسلی گئی جنسیت سے بنے سائیکی سٹرکچرز میں آئیڈیالوجی کے نفوز کا تصور ہے۔دوسرے لفظوں میں آئیڈیالوجی کوئی تجریدی معنی میں تصورات نہیں ہوتے اور نہ ہی یہ ایک ذہنی مظہر ہے،بلکہ اس کی جڑیں بہت اندر تک ہوتی ہیں، بائیو۔سائیکالوجیکل طور پہ ان سٹرکچرز میں ہوتی ہیں جوکہ خاندان، روایت، اور کچلی مسلی گئی جنسیت سے بنتے ہیں۔دوسرے لفظوں میں آئیڈیالوجی ایک مادی قوت ہے اور اس کی جڑیں خاندان میں ہیں۔ دوسرا تھیم ریخ کا یہ تصور کہ پدرسریت ریاستی قوت کا بنیادی ستون ہے۔میں نے اس کا پہلے بھی زکر کیا۔اور تیسرا تصور ریخ کا یہ دعوی ہے کہ آمرانہ کردار پہ مبنی سٹرکچرز جو پدر سری خاندان کے اندر پنہاں ہوتے ہیں اور فیوہرر آئیڈیالوجی کے درمیان مماثلت ہے اور یہ تمام دائیں بازو کی تحریکوں کی کرداری خصوصیت ہے۔
فیوہرر کی آئیدیالوجی ماس لیڈر کے گرد گھومتی ہے ،ایسا لیڈر جو مضبوط اور حکم دینے والی قوت ارادی اور عوام پہ چھاجانے کی قابلیت رکھا ہو۔تو کیا اس معنی میں اندرا گاندھی ایک فیوہرر تھا؟
بالکل بھی نہیں۔وہ ایک آمرانہ لیڈر تھی ، ایک مضبوط قوت ارادی اور تحکمانہ سیاسی شخصیت کی مالک تھی۔وہ پورے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی اہل تھیں۔لیکن ہندوستان میں پھر وہ کون سی شخصیت ہے جسے ہم فیوہرر شخصیت کہہ سکیں؟ عوام کے ارادوں پہ کنٹرول کرنے والا اور بہت رعب دار وغیرہ وغیرہ؟بلکہ سوال تو یہ بھی ہے فیوہرر کو پیدا کون کرتا ہے؟لوگ جو فیوہرر کو سپورٹ کرتے ہیں،فیوہرر ان لوگوں کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔تو ریخ عوام اور فیوہرر کے درمیان جو جدلیات ہے اس کی وضاحت کررہا ہے۔تو ہم?ں ایک خاص ٹائپ کے کریکٹر سٹرکچر کو تلاش کرنا ہوگا،ایسا کریکٹر سٹرکچر جوکہ جبر زدہ اور آمرانہ کریکٹر سٹرکچر ہو اور پھر اس کی بازگشت ہم فیوہرر سٹرکچر میں دیکھیں۔یعنی ایک دوسرے کو تخلیق کرتا ہے یا کم از کم اس کی پیروی کرتا ہے۔ایک مرتبہ پھر علت الٹ جاتی ہے،اس سمت میں الٹاؤ جس میں اثر حرکت کرتا ہے۔ایک بار پھر یہ عوام ہیں جو سب سے پہلے آتے ہیں،یہ ماس /عوامی کلچر ہے جو پہلے آتا ہے اور سیاست اس کے بعد آتی ہے۔سیاست کسی نہ کسی معنی میں ماس /عوامی کلچر کا عکس ہوتی ہے۔تو میں اب مزید ریخ بارے کچھ نہیں کہتا۔
مرے خیال میں خاندان کا تصور بطور رجعت پسند نظریات کے کارخانے کے ، تمام خاندان نہیں بلکہ صرف روایتی،آمرانہ خاندان ،پدر سری خاندان رجعت پسند آئیڈیالوجیز کے کارخانے بنیادی تصور ہے۔اور خاندان وہ جنگ کا میدان ہے جہاں پہ بچہ یا تو بطور آزاد فرد کے بعد میں زندگی کے رہ پاتا ہے یا پھر مستقل طور پہ بچپن میں زخم خوردہ ہوکر،طفولیت میں میدان جنگ میں زندگی میں شکست کھاکر اور خاندان میں ایک شکست خوردہ کے طور پہ رہتا ہے۔ایک شاندار فلم ہے جو
Theidor Kotulla
نوٹ: تھیوڈور کوٹیولا ایک پولش فلم ڈائریکٹر،رائٹر اور پروڈیوسر تھا اور یہ میونخ جرمنی میں 2001ء4 میں فوت ہوا۔
نے بنائی تھی اور اس کا نام تھا
Death Is My Trade,1967
یہ کانسین ٹریشن کیمپ کمانڈر کے بارے میں ہے اور اس کی ذاتی زندگی بارے بتلاتی ہے۔
نوٹ:نازی جرمن افواج نے بڑے پیمانے پہ ایسے کیمپ بنائے تھے جس میں لوگوں کی بڑی تعداد کو قید رکھا جاتا تھا اور ان کیمپوں میں قیدیوں کو رکھے جانے کے جو ضابطے اور اصول اس وقت مروج تھے ان کا زرا خیال نہیں رکھا جاتا تھا یہ بربریت اور ظلم کی اپنی مثال آپ تھے۔
یہ آدمی 1940ء4 میں ایک نازی کیمپ میں موت کی جانب بڑھنے والی قیدیوں کی قطاروں میں کھڑے ایک اجتماع کے سر پہ کھڑا دکھایا جاتا ہے۔تو گویا ڈائریکٹر یہ سوال کررہا ہے کہ ایسے فرد کو کیسے اس کردار کے ساتھ ڈھالا جاسکتا ہے؟وہ کون سا پروسس ہے جو اس طرح کے کردار کے شخص کی تشکیل کرتا ہے۔اپنی زندگی کے پورے پروسس اور وجودی طور پہ کیسے ایک شخص ایسے نازی کیمپوں کا منتظم بن جاتا ہے اور وہ موت کا انتظار کرتی قطاروں پہ کام کرنے لگتا ہے؟تو فلم اس کے بچپن سے شروع ہوتی ہے، یہ ایک متشدد بچپن ہے ،ایک روا?تی لوئر مڈل کلاس ،دیہاتی پرشیائی خاندان،جس میں خاندان کا ایک آمر سربراہ ہے جو والد کی شکل میں ہے اور یہ پہلی شکل ہے جس سے ایک بچّہ ریاست سے نبردآزما ہوتا ہے۔زمانہ طفولیت میں اگر آپ اپنی ماں کو اپنے باپ کے خلاف نہیں کرپاتے،اگر آپ اپنے والد کی وائلنس کے خلاف مزاحمت نہیں کرپاتے،تو ایک خاص قسم کا احساس آپ میں جڑپکڑلیتا ہے کہ آپ جنگ ہار گئے ہو۔جب آپ بڑے ہوتے اور بلوغت میں قدم رکھتے ہو تو آپ حاکمیت اور اتھارٹی کے خلاف جنگ میں بچنے کے قابل نہیں رہتے،آپ اپنے ملازمت دینے والے کے سامنے جھک جاتے ہو،ریاست کی پوجا کرتے ہو،ریاستی حکام کی پوجا کرتے ہو اور اس پاور کے سامنے ڈھے جاتے ہو جو وہ رکھتے ہیں۔اور جب آپ بڑے ہوچکتے ہو تو آپ اس اتھارٹی کے ساتھ خود کو شناخت کرتے ہو اور یہ سوچنے لگتے ہو کہ یہ تم ہو،جو جیت چکے ہو۔اور اب ایک قدم مزید فاشسٹ سیاست کے میدان میں بڑھائیں آپ دیکھ لوگے جہاں فیوہرر شخصیت نمودار ہوتی ہے۔ریخ کی کتاب میں ایک شاندار پیرا ہے جہاں ریخ ان افراد بارے بات کرتا ہے جو فیوہرر کی سپورٹ اور پوجا کرتے ہیں ایسے افراد کے طور پہ جنھوں نے بچپن میں خود کو بالکل ہی بے یارومددگار محسوس کیا ہوتا ہے۔اس کا اصرار ہے کہ یہ مجبوری اور بے بسی کیونکہ ان کے بچپن میں نموپذیر ہوتی ہے تو وہ اس خاص شکل میں مداوا ڈھونڈتے ہیں۔ان کے اندر خود سے اپنی کسی آزادی کی کمی ہوتی ہے۔وہ آزادانہ تنقید کے ساتھ سوچ نہیں سکتے۔ان پہ جذبات کا غلبہ ہوتا ہے اور وہ بچپن میں بہت زخم خوردہ ہوتے ہیں۔تو اس بارے سوچیں۔کریکٹر سٹرکچر کی اہمیت بارے سوچیں، ایسے سٹرکچرز کی قسم جوکہ ہندوستان اور ہرجگہ آمرانہ روایتی خاندانوں کی صورت گری کرتی ہے۔اور پھر دوبارہ فیمنزم ایک بڑا کردار ادا کرتا ہے،یہاں فیمن ازم اور لیفٹ پالیٹکس کو ملانے والے پل ہیں۔ خاندان بارے بات کرتے ہوئے اسے پہلی طبقاتی جدوجہد،پہلی لڑائی ،حاکمیت و اتھارٹی کے ساتھ پہلی جنگ کی جگہ کے طور پہ لینا ہے۔
اب سارتر اور اس کے تصور
Manipulated Seriality
کے تصور کی جانب آتے ہیں۔جوکہ فاشسٹ سیاست کا قلب/مرکز ہے۔معاشرے میں طبقات ہیں اس بات سے سارتر کو اختلاف نہیں ہے۔لیکن وہ معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ایک وہ جو منظم ہیں۔ان کو یہ گروپس کہتا ہے اور جو منظم نہیں ہیں ان کو یہ سیریز کہتا ہے۔
یہ بہت سیدھی سوشیالوجی ہے۔اگر آپ منظم ہیں تو آپ چیزیں کرسکتے ہو،آپ کے پاس کسی نہ کسی درجے کی پاور/طاقت ہے،اگر آپ منظم نہیں ہو تو آپ کچھ نہیں کرسکتے۔اور آپ پہ کوئی بھی کام ہوسکتا ہے۔تو یہ جو منظم گروپوں اور غیر منظم عوامی جتھوں کے درمیان تقسیم ہے وہ اسے سیریلٹی کہتا ہے۔جب آپ ایک بس سٹاپ پہ بس کا انتظار کرتے ہیں تو آپ کا بس کے انتظار میں کھڑے دیگر لوگوں کے ساتھ کوئی اندرونی تعلق/کنکشن نہیں ہوتا سوائے بذات خود بس کے۔یہ بس ہے جو آپ سب کو جوڑے ہوئے ہے اور بس آپ کے درمیان یونٹی/اتحاد کی خارجی وجہ ہے لیکن اس سے ہٹ کر آپ کے درمیان کوئی داخلی ربط نہیں ہے۔تو وہ بس کے لیے لگی قطار کو لیتا ہے اور اس سے نتائج نکالتا چلا جاتا ہے۔تو یہاں ہم جس قسم کی مماثلت کی بات کررہے ہیں وہ سیریز بارے ہے اور اس سیریز کے ہونے کی شرط سیریلٹی ہے۔
گروپ سیریز پہ چھاجاتے ہیں کیونکہ وہ منظم ہیں اور ان میں اجتماعی طور پہ عمل کرنے کی صلاحیت ہے۔کسی بھی جدید معاشرے کی اکثر اشکال ان جامد سٹرکچرز پہ مشتمل ہوتی ہیں جن کو سارتر سیریز کہتا ہے۔اور یہاں
Inert
یعنی جامد کا سادہ سا مطلب عمل سے محروم بے اختیار ،طاقت سے خالی ہونا ہے۔سارتر کے نزدیک ریاست منظم گروپوں پہ مشتمل ہے جن میں سے اکثر بہت پہلے ادارے بن چکے ہیں۔ہم بیوروکریسی /نوکر شاہی ،فوج،میڈیا،سیاسی جماعتوں وغیرہ بارے بات کرتے ہیں۔لیکن کیا آپ کو تجسس ہوتا ہے اس بارے کہ یہ گھمبیر حقیقتیں کن چیزوں کی نمائندگی کرتی ہیں؟وہ جو انسٹی ٹیوشنلائزڈ ہوگئی ہیں اور خودکار مشینوں کی طرح کام کرنے والی بن گئی ہیں۔
یہاں اہم پوائنٹ ان مشینوں بارے یہ ہے کہ یہ اس وقت تک اپنی میکانکیت سے آگے باشعور دکھائی نہیں دیں گی جب تک ہم ان کے بارے میں یہ نہ جان لیں کے یہ منظم گروپوں سے ابھری ہیں۔بالکل ایسے گروپ جو خود کو سیریز /سیریلیٹی سے ابھارتے ہیں جیسے کہ ہر ایک گروپ کرتا ہے۔حکمران طبقہ حکمرانی کرتا ہے کیونکہ اس کا قلب اور مرکز منظم گروپ ہیں جن کے پاس کنٹرول کرنے اور عوام پہ چھاجانے کی صلاحیت ہے۔اسی لئے تو ٹریڈ یونین مزدروں کے لئے بہت اہم ہیں۔یونین اجتماعی قوت اور یک جہتی کا پہلا تجربہ ہے جو مزدروں کو حاصل ہوتا ہے۔بطور منظم گروپ کے یہ دوسرے منظم گروپوں سے نبردآزما ہونے اور ان کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔جو اجرتی مزدوری دینے والے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بہترین طرز پہ منظم ہوتے ہیں۔ایسے ہی میڈیا ہے۔منظم گروپ جو میڈیا کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور بطور مالکان کے وہ ان بڑے گروپوں کا حصّہ ہیں جو ریاست کی طاقت بناتے ہیں۔
ایک مسخ کردہ سیریلٹی (سماج میں موجود تقسیم کی مسخ شدہ صورت ) کا کیا مطلب ہے؟سارتر کا کہنا ہے : منظم گروہ مستقل کام کرنے والی سیریلٹی ہیں۔اس کا کہنا ہے فعال سیریلٹی کا مطلب سیریلٹی پہ کام کرنا یا سیریز پہ کام کرنا ہے ایسے پروسس کے زریعے سے جسے
Extero۔Conditioning
نوٹ: آپ اسے خارج سے کنٹرول کرنے والی انجینئرڈ اسٹریٹجی بھی کہہ سکتے ہیں۔خارج سے کنٹرول کرنے کے لئے پیدا کئے جانے والے حالات۔
کہتا ہے۔

اس نے یہ اصطلاح ایک امریکی نڑاد سوشیالوجسٹ ریس مان سے لی۔ریس مان نے اسے
The Lonely Crowd
کتاب میں استعمال کیا۔مثال کے طور پہ لاکھوں “نیوز صارفین” جو کہ ایک طرح کے ٹیوی چینل دیکھتے ہیں ان کے درمیان ایک ہی خارجی ربط ہے اور وہ ہے اینکر اور وہ خبریں جو وہ دیکھتے ہیں۔اسی پہ یقین کررہے ہوتے ہیں جس پہ دوسرے یقین کررہے ہیں اور گویا وہاں کوئی حقیقی طور پہ دوسرے بھی موجود ہیں جو اس سب پہ یقین کرتے ہیں اور یہ مسخ شدہ سیریلٹی کی ایک قدرے زیادہ مکمل مثال ہے۔جیسے جیسے سوشل میڈیا الگ سے منظم ہورہا ہے تو اس مسخ شدگی کا خطرہ کم ہوتا جارہا ہے۔منظم گروپوں کو سیریز(غیر منظم لوگوں ) پہ غلبہ پانے کا پروسس وہ ناگزیر پروس ہے جس کے زریعے حکمرانی کی جاتی ہے۔حکمران طبقہ کیسے حکمرانی کرتا ہے؟یہ ایسے ہی اس طریقے سے حکمرانی کرتا ہے کہ منظم گروپ غیر منظم پہ یعنی سیریز پہ غالب آتے ہیں۔خارجی کنٹرول کرنے والی انجنیئرڈ حکمت عملیوں سے پیدا کردہ حالات کا دباؤ غیر منظم جتھوں کو منظم گروپوں کا معمول بنادیتا ہے۔اور یہ جو سیریل کردار والی وائلنس ہے جیسے منظم قتل عام، زندہ جلادینا،فسادات وغیرہ یہ منصوبہ بند کام ہے منظم گروپوں کی پروڈکٹ ہے جو کہ غیر منظم لوگوں/سیریز پہ کام کرنے سے سامنے آتی ہے۔جب سارتر کہتا ہے کہ ایک مسخ شدہ سیریلٹی فاشسٹ سیاست کا قلب/دل ہے اور اس کے دماغ میں یہی گروپ /سیر?ز ریلشن۔تعلق ہوتا ہے۔منظم قتلام ایک مقتدر گروپ (ریاست) یا غیر ریاستی منظم گروپ کرتا ہے جو سیریلٹی (سماجی تقسیم )کو ایسی جانب لیجاتا ہے جس سے خود سیریو سے ہی ایسے اقدامات سرزد ہوتے ہیں۔قتل عام کوئی ایسے ہی اچانک کسی ہیجان کا نتیجہ نہیں ہوتے۔سیریز کو باہر سے ایسے خراب کیا جاتا ہے کہ وہ ایسے کام کرے جس سے یہ ایک گروپ کا نامیاتی عمل لگے نا کہ سیریز کی مفعولی سرگرمی لگے۔ جرم کی سزا دینے کا اختیار جو کا تشدد م?ں ملوث لوگوں کے خلاف کاروائی کرتا ہے اور اس کا دائرہ پردے کے پیچھے بیٹھ کر حقیقی کمانڈ کررہے لوگوں تک نہیں ہوتا ایک پرائمری جوڈیشل کلچر کی عکاسی کرتا ہے جوکہ بین الاقوامی مانی تانی پریکٹس ہے۔

سیاہ پرست سٹرام ٹروپرز جو ریاست کی مکمل اشیرباد کے ساتھ بظاہر حب الوطنی کے غیظ وغضب کے ساتھ طلباء4 پہ حملہ آور ہیں اور تشدد کی جو فضاء4 آج ہندوستان میں پیدا کی جاچکی ہے یہ باقاعدہ مینوفیکچرڈ ہے۔جیسا کہ روزنبرگ نے اظہار کیا تھا۔نیشنل ازم/قوم پرستی کو ایسے نعروں کے ساتھ متشدد فضا کی طرف لے جایا جاتا ہے ۔۔۔۔۔تم نے میرے وطن کی تذلیل کی ہے،تم ملک دشمن ہو،تم غدار ہو،وغیرہ وغیرہ۔میں اس حوالے سے اور کئی دوسری چیزوں بارے بات کرنا چاہتا ہوں لیکن میرا خیال ہے کہ مجھے اسے یہیں پہ چھوڑ دینا چاہئیے

One thought on “فاشزم کاسیاسی کلچر

  • March 21, 2017 at 8:17 am
    Permalink

    بہت خوب

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *