پاکستان پیپلزپارٹی میں سندھی بااثر سیاسی گھرانوں کی شمولیت کا مطلب کیا ہے؟

پاکستان پیپلزپارٹی میں سندھی بااثر سیاسی گھرانوں کی شمولیت کا مطلب کیا ہے؟

تحریر:عامرحسینی

عرفان اللہ مروت سردار شوکت حیات کی بیٹی وینا حیات ملک ریپ کیس کے مرکزی کردار نے آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور ان کی پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کی خبریں سامنے آئیں تو ایک دم سے خود پاکستان پیپلزپارٹی کے اندر سے شور بلند ہوگیا اور بے نظیر بھٹو کی بیٹیوں نے بھی اس پہ آواز بلند کی اور معاملہ تھوڑا سا کھٹائی میں پڑگیا۔لیکن مدعا کچھ اور ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی کی سندھ میں حکومت بننے کے بعد سے لیکر ابتک یکے بعد دیگرے کئی ایک سیاسی گھرانے پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہورہے ہیں۔فنکشنل لیگ کے امتیاز شیخ، پی ٹی آئی کے نادر اکمل لغاری،جام صادق علی کے بیٹے جام معشوق علی ، مسلم لیگ ق اور اس سے پہلے پٹریاٹ ہونے والے خالد لنڈ اور کئی اور کی پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کی خبریں موصول ہوئیں،نبیل گبول بھی واپس پاکستان پیپلزپارٹی میں چلے گئے۔
اب سندھ کے اندر پاکستان پیپلزپارٹی کے حریف دیہی سندھ میں ایک تو فنکشنل لیگ کا پگاڑا خاندان ہے، جتوئی خاندان ہے۔اور دیگر چند ہیں لیکن اکثر دیہی علاقوں کی اشرافیہ پاکستان پیپلزپارٹی میں جمع ہوگئی ہے۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی میں سندھ کے سبھی جاگیردار چلے گئے ہیں اور یہ جاگیرداروں کی پارٹی ہی رہ گئی ہے۔ایسے لوگوں میں کئی ایک سماج واد کمیونسٹ اور لیفٹ والے بھی ہیں۔اور وہ زرا پرانی سیاسی لغت جو 80ء کی دہائی میں ہمارے ہاں رائج ہوئی تھی کا سہارا لیکر پاکستانی سیاست کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن میرے خیال میں پاکستان کی جو سندھی،سرائیکی جاگیردار و زمیندار سیاسی اشرافیہ تھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا پیداوار سے رشتہ کافی بدلا ہے۔ایک تو اب ان کی طاقت اور ان کی آمدن کا زریعہ صرف زمین نہیں رہی ہے۔ان میں سے اکثر مختلف قسم کے کاروبار میں شریک ہوگئے ہیں۔سرائیکی اور سندھی دیہی سیاسی اشرافیہ کے خاندانوں میں اکثریت جننگ فیکڑیوں، شوگرز مل، آئل اینڈ پریسنگ، فرنٹ مین کے زریعے ٹھیکے داری، سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری،ایل پی جی کوٹہ ، پٹرول پمپ ، سی این جی اسٹیشن ، سیڈ و کھاد سپرے بزنس ،بیوریجز، رئیل اسٹیٹ بزنس میں داخل ہے اور یہ سرمایہ کاری صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دبئی،چین، امریکہ ، فرانس اور دیگر ممالک میں بھی کئے ہوئے ہے۔
اس لئے سرائیکی و سندھی دیہی سیاسی اشرافیہ کو صرف زمین پہ انحصار کرنے والی یا ان کو کلاسیکل جاگیرداری کی شکل میں دیکھنا ایک فکری مغالطہ اور طبقاتی درجہ بندی کے مارکسی طریقہ کار سے انحراف ہے۔دوسری بات یہ اہم ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی میں آصف علی زرداری کیا سندھی جاگیرداروں کی نمائندگی کررہے ہیں۔ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا جب ہم نے آصف علی زرداری کے بارے میں سندھ کی دیہی سیاسی اشرافیہ کو بار بار ان کے سماجی۔معاشی کمزور پس منظر کا حقارت سے ذکر کرتے ہوئے بار بار دیکھا اور ان کی دولت اور کاروبار کے پھیلاؤ میں کرپشن ،لوٹ مار کی کہانیاں ہم نے بار بار سن?ں۔آصف علی زرداری جب سے سیاست میں سرگرم ہوئے ہیں 88ء4 سے لیکر ابتک وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے پاس ایسے لوگوں کی وافر مقدار کے حامی نظر آتے ہیں جن کے پاس بہت پیسہ ہو اور وہ اس پیسے کے بل بوتے پہ 80ء کی دہائی میں سیاست میں آنے والی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔وہ پنجاب میں بھی ایسے ہی لوگوں کو آگے لیکر آئے۔اور سندھ میں بھی ان کی توجہ اسی طرف ہے۔
2008ء میں جب پاکستان پیپلزپارٹی برسراقتدار آئی تو انھوں نے یہ کوشش کی کہ پاکستان کے اندر جتنی بھی سرمایہ کاری ہو اور جو بھی پروجیکٹ لگیں اس میں ان کی حصّہ داری ہو اور سندھ کے وسائل پہ زیادہ سے زیادہ ان کا کنٹرول ہو۔اپنی نجی محفلوں میں وہ اپنے اردگرد پائے جانے والے لوگوں کو اور سندھی انٹیلی جینٹیسیا کے ایک بڑے حصّے کو یہ تبلیغ کرتے پائے گئے کہ پاکستان کی مجموعی سرمایہ داریت میں سندھی سرمایہ داری اور سندھی مڈل کلاس جتنی زیادہ ہوگی اور سندھ کے اندر جو اکنامی کا پھیلاؤ ہے اور نئے پھلنے پھولنے والے سیکٹرز ہیں ان میں باہر سے آنے والی سرمایہ داری کے ساتھ جتنی سندھی سرمایہ دار کی جڑت ہوگی اتنا ہی پنجابی سرمایہ دار اور پنجابی بیوروکریٹس اور پنجابی مڈل کلاس کا مقابلہ کرنے میں آسانی ہوگی۔
ان کی سوچ کیا ہے اس کے کچھ اشاریے ہمیں تھر کول فیلڈ، سی پیک میں سندھ میں لگنے والے پروجیکٹس وغیرہ اور سندھ حکومت کے ڈویلمپمنٹ پلانز کا جائزہ لینے سے مل سکتے ہیں۔مراد علی شاہ جب فنانس منسٹر تھے تب اور آج جب وہ چیف منسٹر ہیں اب ان کے اقدامات اور بیانات کی روشنی میں ہم کافی کچھ کہنے کی پوزیشن میں ہیں۔آصف علی زرداری ترقی کے جس سرمایہ دارانہ ماڈل کے دل دادہ ہیں اس کے کچھ نشان ہمیں ملک ریاض کی سرمایہ کاری اور رئیل اسٹیٹ سے جڑی کاروباری سوچ سے بھی مل سکتی ہے۔یہ نیولبرل سرمایہ داری کا وہ ماڈل ہے جو کرونی کیپٹل ازم ، اقربا پروری سے زرا مختلف نہیں ہے اور اس میں جھگڑا مسلم لیگ نواز سے زیادہ تر اس کی حصّہ داری پہ ہے کہ جو سرمایہ اور اس سے پیدا ہونے والے مواقع ہیں وہ کس کو اور کتنے ملیں گے۔آصف علی زرداری سندھی دیہی علاقوں پہ اپنی گرفت مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ کراچی کی انتخابی پاور پالیٹکس میں خود کو بلوچ۔سندھی اکثریت کے علاقوں تک محدود کرنا نہیں چاہتے وہ اس کا دائرہ کار دوسرے علاقوں تک بھی بڑھانے کے خواہش مند ہیں۔کراچی میں عرفان مروت کا حلقہ پی ایس 114 اور کراچی کا این اے 251 پہ ان کی نظر ہے۔
ایسے ہی وہ جنوبی پنجاب کے اندر اپنی کھوئی طاقت کی بحالی چاہتے ہیں۔وہ علاقے جو پاکستان پیپلزپارٹی کا کبھی مضبوط گڑھ رہے ہیں اور یہاں رحیم یار خان میں مخدوم احمد محمود اور وڑائچ و ڈھلوں جٹ برداری کی کافی حمایت ان کے پاس ہے۔بہاولپور میں ان کے پاس پنجابیوں میں ارائیں برداری کے چوہدری ذکاء4 اشرف جوکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن م?ں بھی طاقتور ہیں اور کئی ایک اور دیہی مصافاتی۔شہری حلقوں کی سیاسی اشرافیہ کی حمایت ان کے پاس ہے۔مخدوم فیصل صالح حیات ان کے ساتھ آگئے ہیں۔اور اگر پاکستان مسلم لیگ نواز کا جہاز پانامہ گیٹ سمیت دیکر بحرانوں کی نذر ہوا تو اسے مزید سیٹ بیک دیکھنے پڑیں گے۔سندھ میں سیٹلڈڈ اربن لبرل کلاس کے اندر اور پنجاب میں ایک بڑے لبرل شہری سیکشن کے اندر پاکستان پیپلزپارٹی کی حمایت موجود ہے۔اور اس میں جو صوفی سنّی ، شیعہ ، احمدی بیک گراؤنڈ کا لبرل شہری سیکشن ہے وہ بھی پاکستان پیپلزپارٹی کا حامی ہے۔ تو اس ساری سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کو سندھی جاگیردار بمقابلہ سندھی شہری طبقات کی لڑائی بتانا بہت ہی سطحی سا تجزیہ ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی پہ تنقید کا جو پہلو بنتا ہے ایک اس کی نیولبرل ازم پہ مبنی سرمایہ داری سے مکمل ہم آہنگی اور اس کے اندر میگا پروجیکٹس کے زریعے سے ہونے والی بے دخلیوں، غربت میں اضافہ،اور ریاستی مشینری کے جبر میں اضافہ کرتے چلے جانے کی پالیسی کی حمایت اور سندھ و بلوچستان میں ہونے والے قومی جبر اور سرمایہ دارانہ جبر پہ خاموشی اور بار بار ملٹری اسٹبلشمنٹ سے ہم آہنگی کی اپنی سی کوشش پہ بنتی ہے۔سندھ کی دیگر پرتوں کے خلاف آپریشنوں کی زرداری جیسوں نے کھل کر حمایت کی ہے۔ سندھی نیشنلسٹ پر بھرپور ریاستی جبر اور کراچی میں ایم کیو ایم پر اآپریشن کا فائدہ پیپلز پارٹی کو ہو ا ہے۔ یعنی لوئر مڈل کلاس کی سیاست کو اس دور مِں بہت بڑا دھچکا لگا ہے اور سٹہ باز سرمایہ داروں کو ان آپریشنوں سے فائدہ ہو ا ہے۔ یوں سرمائے اور سیاست کا بہت بڑا گٹھ بنا ہے اور مسائل اور ریاست کی سیاست کرنے والوں کو کچل دیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *