گلگت بلتستان کے عوام پرجبراوران کی زمینوں پرقبضہ بندکرو

گلگت بلتستان کے عوام پرجبراوران کی زمینوں پرقبضہ بندکرو

شوشلسٹ رپورٹ

پاکستان میں حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف (ایچ آر سی پی) نے گزشتہ سال اگست میں جی بی پراپنی حقائق جاننے والی کمیشن کی رپورٹ میں کہاہے کہ گلگت بلتستان میں خفیہ اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکا جائے۔بی بی سی کے مطابق گلگت بلتستان پر جاری ہونے والی اپنی تازہ رپورٹ میں کمیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان اداروں کی جانب سے نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قوانین کے بے جا استعمال کو روکا جائے۔
اسلام آباد میں رپورٹ کے اجراء کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ گلگت بلتستان کے جمہوری فورمز کو مزید اختیارات دے، مقامی لوگوں میں سے جج تعینات کرے اور یہاں کے آئی ڈی پیز کے مسائل حل کرے۔رپورٹ کے مطابق کئی سو نوجوان اور سیاسی کارکن انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت جیلوں میں ہیں اور گلگت بلتستان کی عوام کے حقوق کے لیے اٹھنے والی ہر آواز کو دبا دیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں کمیشن کہتاہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان راہداری یا سی پیک کے لیے گلگت بلتستان کی حکومت نے مبینہ طور پر مقامی شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انھیں زبردستی گھروں سے نکالا ہے اور ان کی زمینیں ہھتیا لی ہیں جبکہ چیف سیکریٹری نے شہریوں کی زمینیں ریاستی اداروں کو الاٹ کرنے کا نوٹیفیکشن بھی جاری کیا ہے۔
کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مقپون داس کے علاقے میں مقامی حکومت نے مبینہ طور پر لوگوں سے گھر اور زمینیں چھینی ہیں۔
عاصمہ جہانگیر کاموقف تھاکہ ‘گلگت بلتستان چھوٹا سا علاقہ ہے اور اسے مقامی لوگوں کے پاس ہی رہنے دیں۔ اور اگر سی پیک کی وجہ سے لوگوں سے زمینیں لی گئی ہیں تو انھیں اس کا معاوضہ دیا جائے۔ علاقے میں جو ترقیاتی کام ہے وہ حکومت پاکستان کرے، نہ کہ کوئی دوسرا ملک آکر کرے’۔رپورٹ کے مطابق نوجوان طبقے میں ان خلاف ورزیوں کی وجہ سے احساس محرومی پایا جاتا ہے۔ عاصمہ جہانگیر کہ مطابق ‘ گلگت بلتستان کا نوجوان سوال کرتا ہے کہ گلیشیئر پاکستان کے اور ہم گلگت بلستان کے، ایسا کیوں؟
رپورٹ میں شامل مزید تجاویز میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے شہریوں کو پاکستانی آئین کے مطابق فوری طور پر بنیادی حقوق مہیا کیے جائیں۔ بیوروکریسی ختم کرکے مقامی سیاسی کارکنوں کو اختیارات دیے جائیں تاکہ وہ عوام کے مسائل حل کر سکیں۔ نوجوان نسل کو سیاسی اور معاشی بحث میں شامل کیا جائے اور ان کے کالج اور یونیورسٹیز کا قیام عمل میں لایا جائے۔ ذہنی امراض کے مریضوں کے لیے ہسپتال بنایا جائے۔
دی نیشن کے مطابق تنظیم نے جی بی کے لئے آئینی طورپرخطے کے لئے صوبائی حیثیت کا مطالبہ کیا۔ عاصمہ جہانگیرکے مطابق جی بی کے سیاسی اورانتظامی امورکے لئے لازمی ہے کہ اس کوپاکستان میں پوری طرح ضم کیاجائے۔ان کے نزدیک اس طرح مقامی عوام کودرپیش مسائل کایہی حل نکالاجاسکتاہے۔یہ ایک بہت ہی عجیب منطق ہے۔ ایچ آرسی پی اس امرکوبالکل نظراندازکرگئی کہ یہ ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ اوراس تنظیم کے نزدیک یہاں کے عوام کے مسائل کاحل فاٹاکی طرح کاکوئی حل ہے۔یعنی اس کوصوبائی حیثیت دینا۔رپورٹ کوعام کرنے کے موقع پرعاصمہ نے کہاکہ آئین میں دئے گئے انسانی حقوق کادائرہ اس خطے تک وسیع کیاجائے۔اس نے کہاکہ 2009کے قوانین میں بہت ساری کمزوریاں جن کودورکرنے کی ضرورت ہے۔
عاصمہ نے کہاکہ جی بی کے خطے میں عدلیہ کوئی آرڈرپاس اورنہ کوئی ضابطہ نافذاورقدم اٹھاسکتی ہے۔ اس نے کہاکہ’یہ دنیاکانرالہ کیس ہے کہ جہاں ان لوگوں کوباغی قراردیاجاتاہے جواپنے خطے کوملک کاحصہ بنانے کامطالبہ کرتے ہیں۔گلگت بلتستان میں کوئی علیحدگی پسندی نہیں۔لوگوں کامطالبہ ہے کہ ان کی سرزمین کوپاکستان کے دوسرے حصوں کی طرح تسلیم کیاجائے۔’
سوال یہ ہے کہ کراچی جیسے شہرمیں دن دھاڑے پولیس جعلی مقابلوں میں عوام کوہلاک کرتی ہے۔ بلوچستان میں فوج لوگوں کواغواء کرتی ہے۔ پنجاب میں جیل سے لوگوں کولاکرجعلی پولیس مقابلے میں مارتی ہیں۔ان تمام علاقہ میں انسانی وآئینی حقوق اورآزاد عدلیہ کے باجود ایساہی ہورہاہے جیساکہ فاٹااورگلگت بلتستان میں ہوتاہے۔
عاصمہ نے کہاکہ اگست 2016میں اپنے دورے کے دوران اس نے ذاتی طورپریہ اس امرسے آگاہی حاصل ہوئی کہ خط کے نوجوانوں میں احساس محرومی پائی جاتی ہے۔جس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس نے خاص کرانسداددہشت گردی ایکٹ کے ‘غلط استعمال’پرتشویش کااظہارکیا۔اس نے معصوم اوربے گناہ افرادکی قانون نافذکرنے والے اداروں کی طرف سے فورتھ شیڈول میں شمولیت کا ذکرکیا۔اس نے قانون نافذکرنے والے اداروں کی اقدامات پرکڑی نگرانی اورکنٹرول کی ضروت پرزوردیا۔اس نے مزیدکہاکہ مقامی میڈیا کوکنٹرول کیاجارہاہے۔جولب کشائی کے مرتکب ہوتے ہیں یااپنی رائے کا اظہارسوشل میڈیا پرکرتے ہیں ان کوسائبرکرائم کے قوانین کے تحت پکڑاجاتاہے۔اس نے انکشاف کیاہے کہ خطے کے ہرچارمیں سے ایک خاندان کانوجوان کا فورتھ شیڈول کے تحت اندراج کیاگیاہے۔جس کی وجہ سے ان کی نقل وحرکت اورسرگرمیوں پراس کے گھراورعلاقہ میں بھی محدودکردی گئی ہے۔
بی بی سی اردو کی نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ‘نیشنل ایکشن پلان کے تحت خفیہ اداروں کو اختیارات دے دیے گئے ہیں کہ وہ لوگوں پر نظر رکھیں اور جب بیس بائیس برس کے نوجوان واچ لسٹ پر ہوں گے تو اس سے خوف کی فضا تو پیدا ہو گی۔ اگر کوئی ذرا سی بھی تنقید کرے ایجنسیاں انہیں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت فوراً گرفتار کر لیتی ہیں’
صحافیوں اورسرگرم کارکنوں کوہراساں کیاجارہاہے۔ انسداددہشت گردی کے قوانین کاغلط استعمال عام ہے۔اس نے کہاکہ وقت تقاضہ ہے کہ ان معاملات کی طرف فوری طورتوجہ دے کرپران کوحل کیاجائے۔
عاصمہ نے کہاکہ سی پیک کے منصوبوں کے لئے حاصل کی گئی زمینوں کے تلافی زرجلد اداکئے جائیں۔ عاصمہ نے کہاکہ ‘ان کے تحفظات اورمطالبوں ان فورم پرمناسب توجہ دی جائے جوسی پیک کے منصوبوں کونافذاوران کی نگرانی کرتی ہے۔’
عاصمہ نے حکومت نے ریاست کی طرف عام لوگوں کی زمین پرقبضہ کی کھل کرمخالفت نہیں کی بلکہ اس کوایک ناگزیرسمجھتے ہوئے متاثرین کے لئے زرتلافی کامطالبہ کیا۔
جہاں ایچ آرسی نے خطے میں عوام پائی جانے والی احساس محرومی کی طرف اشارہ کیاہے اورریاستی جبراورترقیاتی منصوبہ جیسے سی پیک کے لئے عوام کی زمینوں پرقبضہ کواجاگرکیاہے وہاں سرمایہ دارانہ جبرواستحصال کے نتیجہ میں پیداہونے والی محرومیوں کاعلاج انسانی آزادی اورخودمختیاری میں ڈھونڈنے کے بجائے گلگت بلتستان کے خطے میں مزید ریاستی مداخلت بڑھانے میں دیکھاہے۔جی بی کے عوام نے جبراورریاستی علمداری کے خلاف کامیاب عوامی تحریکیں چلائی ہیں۔ اس روایت کومزیدتقویت دے کرسوشلسٹ انقلاب کی راہ ہموارکرناہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *