کراچی میں بنگالی مزدوروں کے خلاف نسلی تعصب عروج پر

کراچی میں بنگالی مزدوروں کے خلاف نسلی تعصب عروج پر

تحریر: ریاض احمد

خبروں میں پنجاب میں پشتونوں کے خلاف نسل پرستی کی خبریں آرہی ہیں۔ پختونوں کو بلاشبہ نسلی تعصب کا سامنا ہے۔ لیکن کراچی میں جاری آپریشن میں ہر طرح کی چھوٹی قوموں اور خاص کر تارکین وطن کو مزدوروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان میں سرِ فہرست بنگالی بولنے والے مزدور ہیں۔ کراچی میں واقع فشریز میں کئی ماہ سے کام ٹھپ ہو گیا ہے۔ یہاں کام کرنے والے ۸۰ ہزار سے زائد مزدورو بے روزگار ہو گئے ہیں ۔ ان کی بڑی تعداد بنگالیوں کی ہے جو کئی دہائیوں سے کراچی میں آباد ہیں اور انہیں پاکستانی شہریت بھی حاصل ہے۔ لیکن جب سے کراچی میں آپریشن شروع ہوا تب سے شناختی کارڈ کی تجدید روک دی گئی۔ یوں ایکسپائرڈ شناختی کارڈ والوں کا فشریز کارڈ نہیں بناتی ۔کارڈ نہ ہو تو پورٹ پر ہی نیوی والے گرفتار کر لیتے ہیں اور کوسٹ گارڈ رستے میں اٹھا لیتے ہیں۔ بے روزگار بنگالیوں کے خاندان بنا ء روزی کے فاقہ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ صرف لانچوں پر کام کرنے والے ہیں نہیں ، ان کے شکار کے بعدمچھلیوں کی صفائی، اسٹوریج ، پروسسنگ سے وابستہ لاکھوں مزدور بھی بے ورزگار ہو گئے ہیں۔
جنوری کے وسط میں کراچی میں شناختی کے اجراء کے لیے بنگالی بولنے والے پاکستانیوں نے مظاہرہ کیا۔ فشرمین کا یہ مظاہرہ کریو کارڈ بنگالیوں کو جاری نہ کرنے کے خلاف بھی تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ انہیں نارا کارڈ جاری کیے جائیں تا کہ فش ہاربر اتھارٹی انہیں گہرے پانیوں میں شکار کے لیے کریو کارڈ جاری کر سکے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ قریب ۳۰ فیصد لانچیں نہیں چل رہیں کیونکہ ان کے لیے کریو نہیں ہے۔ مظاہرے میں دوہزار سے زائد افراد نے شرکت کی جبکہ انکی قیادت لانچ مالکان کر رہے تھے۔ مظاہرے سے ن لیگ کے شفیع محمد جاموٹ نے بھی خطاب کیا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فشریز شے وابستہ لاکھوں افراد میں کتنی بڑی تعداد بنگالیوں کی ہے کہ جن کے ووٹوں سے شفیع جاموٹ انتخابات جیت سکتے ہیں۔ ان مالکان کا کہنا تھا کہ کارڈ جاری نہ کیے گئے تو فشریز کا کاروبار ٹھپ ہو جائے گا۔ اور یہی ہوا۔
فروری کے آخیر تک دو سے ڈھائی ہزار لانچ فشریز سے نکل رہی ہیں جبکہ عام دنوں میں ۱۲ ہزار لانچیں مچھلی کے شکار کو جایا کرتی تھیں۔ یوں قریب دس ہزار لانچیں ہاربر پر کھڑی ہیں۔کوئی پرسانِ حال نہیں۔ ایک لانچ پر ۲۰ سے ۲۵ مزدور کام کرتے ہیں۔ یوں ڈھائی لاکھ سے زائد افراد اور انکے خاندانوں کو بے روزگار کر دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مچھلی کا ریٹ بڑھ گیا ہے۔ ایک نمبر پامفلیٹ مچھلی اب سات سو روپے کلو ہو گئی ہے، سفید پامفلیٹ ۱۸ سو روپے کلو، مشکا جو ساٹھ ستر روپے کلو تھی اب ساڑھے تین سو چار سو روپے کلو ہو گئی ہے۔ زیادہ تر مال ایکسپورٹ ہوتا تھا۔
بنگالیوں میں سے اکثریت ان کی ہے جو پچاس، ساٹھ، ستر کی دہائی میں کراچی آئے یا ان کی پیدائش کراچی میں ہی ہوئی۔ اب ان کے کارڈ نہیں بن رہے۔ ۲۰ سے ۲۵ ہزار روپے کی رشوت مانگتے ہیں نادرا والے۔ نہ دو تو کہتے ہیں والد کی وفات کے ثبوت کے طور پر قبرستان کا سرٹیفیکیٹ لاؤ، اندرونِ سندھ جن لوگوں کے والد کا انتقال ہوا تو وہاں تو یونہی قبرستان میں دفنا دیا جاتا ہے کوئی سرٹیفیکیٹ نہیں بنتا اب وہ لوگ کہاں سے لائیں۔ یوں ان لوگوں کے کارڈ نہیں بن رہے۔ ڈھائی سال سے یہ سلسلہ جاری ہے لیکن اس میں تیزی اب آگئی ہے۔ جو بے روزگار ہیں وہ نہ پاکستان میں کام کر سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں بنگلہ دیش جانے دیا جاتا ہے۔ آئے دن پولیس والوں سے یہ بنگالی چھپتے پھرتے ہیں کہ پولیس والے ایکسپائرڈ شناختی کارڈ والے کو پکڑ لیتے ہیں اور پانچ سو ہزار روپے رشوت لے کر چھوڑتے ہیں۔ لوگ بہت پریشان ہیں۔ نہ دو تو موٹر سائیکل تھانے میں بند۔ پرچی کاٹنے کے دو ڈھائی سو دو، پھر گاڑی تھانے سے چھڑانے کے الگ دو۔
دوسری جانب اگر ان بنگالیوں کو بلاوجہ پاکستان سے بنگلہ دیش بھیجا جاتا ہے تو اس کے جواب میں کروڑ سوا کروڑ پاکستانیوں کو کئی دہائیوں سے بنگلہ دیش میں مقیم ہیں انہیں بنگلہ دیش سے پاکستان بھیجا جائے گا۔ یوں بنگالیوں پر پاکستان میں مظالم کا خوفناک ردعمل آنے کا خدشہ ہے۔ ایک بار پھر پاکستانی ریاست نسلی تعصب پھیلا کر جنگ کو پھیلانے کا جواز گڑھ رہی ہے۔ آئے دن ہونے والے بم دھماکوں کا ذمہ دار جب بنگالی، برمی، افغانی پر لگایا جاتا ہے تو اس میں ریاست کا فوری مفاد یہ ہوتا ہے کہ وہ ریاست کے خلاف تشدد کرنے والوں کو غیر ملکی قرار دے کر اپنے سر سے الزام اتروا دے۔
کچھ ہی دن میں یہ نسل پرستی کی پالیسی بیک فائر کرنے لگتی ہے۔ ایک جان لاکھوں افغان، بنگالی ، ازبک، تاجک کو پاکستان میں تنگ کیا جاتا ہے اورپولیس ان کی زندگی اجیرن بناتی ہے تو دوسری جانب جن ملکوں کا شہری ہونے کا ان پر الزام ہے وہاں پاکستانیوں پر زمین تنگ کی جانے لگتی ہے۔ جنگ کے پھیلاؤ کے لیے پاکستانی ریاست کی نسل پرست پالیسی کا خمیازہ پاکستان میں محنت کر کے کمانے والے تارکین وطن اور بیرون ملک پاکستانیوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب گندے کام کے لیے سستی افرادی قوت درکار ہوتی ہے تو سرکار جان بوجھ کر غیر ملکیوں کو پاکستان آنے دیتی ہے اور ان کے شناختی کارڈ بھی بن جاتے ہیں۔ یہ غریب سخت محنت کر کے روزی کماتے اور انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں زندگی گزار تے ہیں۔ محنت کر کے یہ پاکستان میں جب بس جاتے ہیں تو ریاست انہیں ہی نشانہ بنا کر اپنا الو سیدھا کرتی ہے۔
اس لیے سوشلسٹوں کا دنیا بھر میں یہی موقف ہے کہ جب سرمائے پر ایک ملک سے دوسرے میں جانے پر پابندی نہیں تو مزدوروں پر یہ پابندی کیوں لگائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشلسٹ نسل پرستی اور نسلی تعصب کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ سرمایہ داروں کو جب سستے مزوور چاہئیے ہوتے ہیں تو یہ تارکین وطن کو اندر آنے دیتے ہیں، جب ان کی ریاست بحران کا شکار ہو تو یہ انہی تارکین وطن کے خلاف نسلی تعصب استعمال کر کے عوام کی توجہ مسائل سے ہٹاتے ہیں۔ بنگالی اور افغانی اور دیگر وطن چھوڑنے والے محنت کشوں کو سوشلسٹ اپنا ساتھی مزدور سمجھتے ہیں۔ ان کے خلاف نسلی تعصب ہو تو سوشلسٹ ان کے ساتھ اور نسلی تعصب کرنے والوں کے خلاف صف آراء ہوتے ہیں۔ یہ مزدور کسی مقامی مزدور پر بوجھ نہیں، بوجھ ہیں تو وہ سرمایہ دار جو تمام مزدوروں سے منافع چھین رہے ہیں اور مزدوروں کو سرمایہ داروں کے خلاف متحد ہونے سے روکنے کے لیے مقامی اور غیر مقامی، بنگالی اور سندھی کی تقسیم پیدا کرتے ہیں۔

He urged the government to form a committee to resolve the Bengali fishermen146s issues.Sindh trawler owner and Fishermen Association146s Patron Sarwar Aijaz Siddiqui claimed that 90 per cent launches were lying idly at the har bourdue to the non-issuance of crew cards to the Bengali fishermen.

On the occasion, Fishermen Association President Habibullah Khan and general secretary Akbar Khan said that around 5 to 6 million families were associated with this profession. The Karachi fish harbor made exports of around $500 million and sell sea food worth Rs 70 billion in local market. They said that if the crew cards were not issued the local market as well as country146s export might suffer a critical loss.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *