پشتونوں/افغانوں کے خلاف نسلی تعصب جنگ کی پیداوار ہے

پشتونوں/افغانوں کے خلاف نسلی تعصب جنگ کی پیداوار ہے

تحریر:سرتاج خان

نئے فوجی آپریشن میں عام لوگوں کونشانہ بنانے پرزیادہ زورنظرآتاہے۔ نامعلوم دہشت گردوں کومارنے اورانھیں تلاش کرنے کے نام پرہرجگہ انکاوٹرز، چھاپے اورتلاشیوں کی لہرچلی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز، بازارکمیٹوں کی طرف سے ہدایات نامے اورخبریں واِئرل ہوئی ہیں جس میں پشتونوں اورافغانوں کو خاص کرپنجاب میں مارتے پیٹتے ، ہراساں اورذلیل ہوتے ہوئے دکھایاگیاہے۔ پولیس اورمارکیٹ کمیٹی کی طرف سے پٹھانوں کے بارے میں خبردارکیاگیاہے۔ یہ نئے فوجی آپریشن ‘ردالفساد’ کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ بظاہر ریاستی اداروں کی طرف سے افغانوں کونشانہ بنانے کا حکم ہے، کیونکہ افغانستان کے ساتھ سرحد بند کردی گئی ہے اوریہ پاکستان میں پے درپے بم دھماکوں کے بعد کیاگیاہے جس کاالزام افغان بھارت گٹھ جوڑمیں دیکھاجارہاہے۔
پشتون مڈل کلاس کی طرف سے بہت ہی زیادہ شورشرابہ دیکھنے میں آرہاہے۔ ایک صاحب نے مجھے اپنے موبائل فون پرپولیس کے ہاتھوں پنجاب یا لاہورمیں ایک جگہ کی ویڈیو دکھائی جس میں پشتونوں کوکاروں سے اتارکرمارا پیٹا جارہاتھا اورانھیں پولیس وین میں ذلیل کرکے ٹھونساجارہاتھا۔ پولیس کے سپاہی لاٹھیوں کے ساتھ ان کے کاروں پرحملہ آورتھی۔ اس نے ویڈیودکھاتے ہوئے کہا ‘یہ عام لوگ نہیں کاروباری پشتون ہیں’۔ اور واقعی میں بغوردیکھنے پرپتہ چلاکہ یہ سب بڑی لینڈکروزرگاڑیاں تک استعمال کررہے تھے۔

مڈل کلاس کاغم وغصہ
پشتون اولسی تحریک نے پنجاب میں پشتونوں کے ساتھ روا سلوک پراحتجاجی مظاہرہ کیا۔ اسلام آباد پریس کلب پراس کے خلاف اٹھائی گئی۔ یہاں دو اموراہم ہیں۔ اول تویہ کہ پشتون دانشوروں اورصحافیوں کوغصہ اس امرپرہے کہ افغانوں کے بجائے کے پی اورفاٹاکے پشتونوں کو ذلیل ورسواکیاجارہاہے۔ پشتون مڈل کلاس پشاوراورصوبہ کے پی سے لے کرکراچی تک سب جگہ افغانوں کے خلاف ہیں۔ یہ افغانوں کوتمام برائیوں اورفسادکی جڑقراردیتے ہیں۔ یہ افغانوں کوپاکستان سے نکالنے کے درپے ہیں۔ پشتون مڈل کلاس اس وقت افغانوں کے خلاف انتہائی نفرت اورتعصب سے بھرے جذبات سے لبریزہیں۔ اوریہی حال سرحد پارافغانستان کی مڈل کلاس کی ہے۔ میرے ایک جاننے والے نے بتایاکہ جب اس نے ننگرہار(طورخم سے جڑا افغان صوبہ جہاں جلال آباد کا شہربھی واقع ہے) میں اس نے ایک افغان دوست کے ساتھ مچھلی پکانے کاہوٹل کھولااور اس پرپاک افغان دوستی کے علامت کے طورپردونوں ممالک کے جھنڈوں سے بنے ہاتھ ملاتے ہوئے دکھانے کا پینافلکس لگایا تو علاقہ کے لوگ کلاشن کوف سمیت آگئے اورپاکستانی جھنڈے پرفائرنگ کی۔ میرے جاننے والے کا افغان دوست بہت مشکل سے اس مصیبت سے نکلا۔ یوں اصل دشمنی ریاستوں کے بیچ اورکاروباری، تاجراوردکانداروں کے بیچ ہے۔
میرے جاننے والے نے افغانوں کے خلاف انتہائی نفرت انگیزباتیں کیں اوران پرجنگ کے دوران کئے گئے احسانات دہرائے۔ اس نے انڈیا افغانستان گٹھ جوڑ کی کہانی دہراتے ہوئے کہا’ افغانیوں کی مجال تو دیکھو۔ مجھ سے کہنے لگے کہ انڈیا ہمارے لئے میڈیکل کپملکس بنارہاہے۔ اب تم لوگ علاج کرانے افغانستان آوگے۔’ میراجاننے والے پشاورکاایک کاروباری ہے۔ کہاں تووہ پاک افغان دوستی کے سائے تلے کاروبارکی سوچ رہاتھااوراب افغانوں کے خلاف زہراگل رہاتھا۔
معاشی بحران کے اس دورمیں دکانداروں کے منافع جات جب متاثرہوتے ہیں تو یہ بہت متعصب ہوجاتے ہیں۔ افغانی بہت تندھی اورمحنت سے کاروبار اورتجارت کرتے ہیں۔ انہوں گزشتہ بیس سالوں سے مارکیٹوں میں جگہ بنالی ہے۔ اب ان کومقامی تاجر،چاہے وہ پشتون ہوں یا پنجابی اچھی نظرسے نہیں دیکھتے۔ جب ریاست ان کے خلاف عمل کرنے نکلتی ہے توان کواپنے تعصب کاایک طرح سے جوازملتاہے، اوریہی ہورہاہے۔

دوغلاپن
پشتون سیاسی پارٹیاں اشرافیہ اورمڈل کلاس کی نمائندہ ہیں۔ یہ دیہی وشہری غریب کے خلاف فوجی آپریشن کا ہردم مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ یہ فاٹا، کے پی کے، کراچی اوربلوچوں کے خلاف فوجی آپریشن کی حامی ہیں۔
افراسیاب دی نیشن میں اپنے کالم میں 25فروری 2017 کولکھتاہے کہ افغان توایک طرف فاٹا اورمالاکنڈ کے آئی ڈی پیز کوبے دخل کیاگیاتوان کے ساتھ بھی یہی سلوک کیاگیا۔ افراسیاب یہاں یہ لکھناشائد بھول گئے کہ وہ اس وقت اے این پی کے صوبائی صدرتھے جب جولائی 2009میں مالاکنڈ کے 35لاکھ عوام کوزبردستی ان کے گھروں سے بمباری کرکے بے دخل کیاجارہاتھا۔اوراے این پی اس کامیاب فوجی آپریشن کاکریڈٹ اب بھی لیتی ہے۔۔ وہ یہ حقیقت بھی نظرانداز کرگیاکہ جب لوگوں کوزبردستی سے بے دخل کیاجاتاہے توریاست کامقصد ان کوہرطرح سے ذلیل وخوارکرناہی ہوتاہے۔ اسی لئے آئی ڈی پیز، مہاجرین کوہرجگہ ذلت ورسوائی کا سامناکرناہی پڑتاہے۔ اس نے پنجاب کی بیوروکریسی کوموردالزام لگایاہے، لیکن اپنے دورحکومت کوبالکل ہی نظراندازکردیا۔

ہمدردی
پشتون اشرافیہ کے برعکس نچلے لوئرمڈل کلاس سے تعلق رکھنے والیقوم پرست شعراء4 ، صحافی، ادیب، اساتذہ افغانوں کوہم وطن اوراپناخون سمجھتے ہیں۔ یہ پختونستان، عظیم ترافغانستان اورایک علیحدہ وطن کے جذبات سے لبریزہیں۔ ان کی طرح عام پشتون بھی جعلی مقابلوں، اغواء4 ، گرفتاریوں، بمباریوں، بے دخلیوں پرغم وغصہ رکھتے ہیں۔ ان کے جذبات فوجی آپریشنوں سے بے دخلی کے متاثرین کے لئے امدادی کاموں اورہمدردی کے جذبے سے دیکھے جاسکتے ہیں۔

اسی عطارکے لونڈے سے دوالیتے ہیں
لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ پختونستان یا عظیم ترافغانستان کی کوئی تحریک اس وقت وجود نہیں رکھتی۔ کوئی سیاسی پارٹی اس ایجنڈے کیلئے کام نہیں کررہی لیکن اس کے باوجود پشتون لوئرمڈل کے کلاس کے یہ قوم پرست انہی سیاسی پارٹیوں کوایک ناگزیربرائی کے طورپرقبول کئے ہوئے جن پریہ ہردم عدم اطمنان کا اظہاربھِی کررہے ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ قوم پرست لیڈران کوموقع پرست، بزدل، کرپٹ اوربکے ہوئے قراردینے کے باوجودان سے اپنا رشتہ مکمل طورپرتوڑنے بھی بظاہرتیارنظرنہیں آتے۔

قوم پرست، اسلام پرست اورافغان مہاجرین
لیکن مڈل کلاس کاروباریوں میں افغانوں کے بارے میں نفرت اورتعصب کا اظہارعام ہے۔ سب سیاہم نکتہ یہ ہے کہ افغانوں کے خلاف تعصب تاجر،کاروباری اوردکاندارطبقہ میں پایاجاتاہے۔ یوں اس کااظہارہرپارٹی کی سطح پریکساں ہے۔ قوم پرستوں سے لے کراسلامی جماعتوں کی پالیسیوں میں اس کاعکس نظرآتاہے۔ اسلامی اخوت کے نعرے اتنے ہی کھوکھلے ثابت ہوتے ہیں جتناکہ پشتونوں کوایک کرنے والے قوم پرستوں کے۔
اے این پی جب 2008تا2013تک حکومت میں تھی تو اس نے افغانوں کے بارے میں پاکستانی ریاست کی پالیسی کوہرطرح سے نافذکرنے کی بھرپورکوشش کی۔ امیرحمزہ صاحب کہتیہیں کہ افضل خان لالہ کی طرف سے ڈیورنڈ لائن پربلائی گئی ایک کانفرنس میں افغان سفارت کار/ناظم الامورنے شکایت کی کہ قوم پرستوں کی حکومت کے باوجود پشاوراورصوبہ بھرمیں افغانوں کوتنگ کیاجارہاہے۔ اس پرمیاں افتخارحسین (انفارمیشن منسٹر) اسٹیج پرآئے اورکہاکہ چاہے کوئی امریکی ہو یاافغان اگروہ کاغذات کے بغیرہوگا تواسے پکڑاجائے جائے گا۔ روزنا مہ ایکسپریس ٹریبون نے اے ایف پی کی ایک خبر 29جون 2012کوشائع کی جس میں افغانوں کی پاکستان سے واپسی کاذکرہے۔ خبرکے مطابق صوبہ کے پی، کے انفارمیشن منسٹر میاں افتخارحسین نے کہاکہ قانون نافذکرنے والے ایجنسیوں کوکہاگیاہے کہ وہ غیرقانونی مقیم افغانوں کی فہرست مرتب کرے۔ اورجب ایک مرتبہ 30جون کا ڈیڈلائن گزرجائے، گرفتاریوں کا حکم جاری کردیاجائے گا، گرفتارافرادکوکورٹ میں پیش کرنے کے بعد افغانستان ڈی پورٹ کردیاجائیگا۔ میاں افتخارحسین نے کہا ‘کوئی ملک غیرقانونی مہاجرین کواجازت نہں دیتا، یہ کیسے ممکن ہوسکتاہے کہ جوکچھ غیرقانونی ہے، اس کوقانونی شکل دی جائے؟’ میاں نے مزید کہا ‘ہم نے افغان مہاجرین کو 32سال سے جگہ دی۔ اب صوبائی حکومت ان کے بوجھ کومزید برداشت نہیں کرسکتی۔ ان کواب اپنے وطن جاناچاہئے۔’ میاں افتخارحسین نے دعوی کیا کہ غیرقانونی افغان جرائم میں ملوث ہیں۔
جب میں ایک کاروباری سے پوچھاکہ پشاورمیں افغانوں کوکیسے بے دخل کیاجاسکتاہے،یہ توبہت عرصہ سے مقیم ہیں اورشناختی کارڈ تک بنالئے۔ تواس نے جواب دیاکہ اول توپشاورمیں ہرگھرکاباقاعدہ سروے ہواہے، ریکارڈ تھانہ کے پاس موجودہے۔ ہرکرایہ دارکے بارے میں معلومات حاصل کی گئی ہے۔ دوسرایہ کہ مقامی لوگ توجانتے ہیں کہ کون کون افغان ہیں!
پشتون مڈل کلاس پرحملہ
بظاہرغم وغصہ اس بات پرعام ہے کہ غریب افغانی اورپشتون کوپنجاب وسندھ میں ذلت کاسامناہے مگریہ سکہ کاایک رخ ہے۔ قوم پرست پارٹیوں اوردانشوروں کوعام افغان اورپشتون کی حالت زارپرکف افسوس سے زیادہ برہمی پنجاب میں مڈل کلاس کے کاروباری اورتاجرکے ساتھ سلوک پرہے۔ ورنہ یہ خود بھی عام پشتون آبادیوں پرفوجی آپریشن کے حامی ہیں۔
بے دخل اورمہاجر
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق بہت سارے ممالک میں یہ اب ایک عام وطیرہ بن گیا ہے کہ اس کمیونٹی کوہی سزادی جائے جس سے دہشت گردوں کاتعلق ہے۔ لیکن دیگرسماجوں میں اس خطرے کوزیربحث لایاجارہاہے کہ اس سے ایسے کمیونٹیزمیں بیگانگی جنم لینے سے دہشت گردوں کے نیانیہ کوتقویت ملنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ رپورٹ کیمطابق نئے مبہم قسم کے انسداد دہشت گردی کے قوانین اورغیرملکی خطرات جیسے بیانیہ نے ہرطرح کی شہری آزادیوں اورانسانی حقوق کاخاتمہ کردیاہے۔
اگرریاست کامقصد پشتون اورافغانوں کی دہشت گردی کاقلع قمع ہے تویہ مقصد حاصل نہیں کیاجاسکتا۔ بعض ماہرین کہتے ہیں ریاستی کریک ڈاون سے متعدل عناصربھی ریڈیکلائزڈ ہوجاتے ہیں۔ لیکن ریاست کااصل مقصد دہشت کیجنگ کے نام پرپشتونوں اورافغانوں کونشانہ بناکر عوام میں تقسیم پیداکرناہے۔
جنگ اورفوجی آپریشنوں کی شکارعوام کے خلاف پاکستانی ریاست پروپگنڈہ کرتی ہے۔ افغان اورپشتون پٹی کے رہائشی 1980سے بیرونی مداخلتوں، قبضوں اوربمباریوں کے شکارہیں۔ یہ بڑی طاقتوں جیسے روس اورامریکہ اوران کے حواری ممالک کے خلا ف مزاحمت اورآزادی کی جنگ لڑرہے ہیں، یوں ان ممالک نے ان کوہرطرح سے ذلیل وخوار،قتل اورزبردستی بے دخلی جیسی پالیسیوں پرعمل کیاہے۔ لہذاء4 یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں کہ دنیا بھرمیں افغان اورپشتون فسادی کے طورپرنہ پہچانے جائیں۔
سیاست
اس پالیسی کاافغان اورپاکستانی ریاست وسیاسی پارٹیوں کوفائدہ ہے۔ افغانستان وپاکستان اپنے عوام کوتحفظ دینے میں جب ناکام ہوتے ہیں تویہ نہ صرف ایک دوسرے پرالزام دھرتے ہیں بلکہ یہاں جنگ سے بھاگے ہوئے عوام پرہی ہلہ بول دیتیہیں۔ پاکستانی ریاست جب افغانوں کوفساد اوردھماکوں کا ذمہ دارٹہراتی ہے تویہ عوام کادھیان اپنی ناکامیوں اورخراب اوردگرگوں معاشی وسماجی حالات سے موڑکرایک بیرونی دشمن کی طرف کردیتی ہے۔ یوں منظرنامہ میں افغان اورپشتون سماجاتے ہیں۔ یہ مقامی بازاری طبقہ اورقوم پرست سیاست کیلئے بھی کئی طرح سے سودمندثابت ہوتاہے۔ مثلا اے این پی اورپختونخوامیپ، پنجاب کی حکومت اورسندھ کی پی پی پی اورقوم پرست اس پرسیاست کرتے نظرآتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی قوم پرست سیاسی پارٹیاں اور دانشورایک طرف جنگ کے حامی ہیں اوردوسری طرف جب اس سے وابستہ مسائل پیدا ہوتے ہیں توان پرسیاست کرتے ہیں۔ جوافغانستان میں امریکی قبضہ اورپاکستان میں فوجی آپریشنوں کے حامی ہیں وہ یہ نظراندازکرتے ہیں کہ اس کے نیتجہ میں قتل وغارت گری، خونریزی، بے دخلی، دھماکے اورذلت وخواری توہوگی۔ لیکن ان کواصل تکلیف عام لوگوں کی نہیں بلکہ اپنے طبقہ کے ذلیل وخوارہونے کاہوتاہے۔ اس لئے جب عام لوگوں کے ساتھ مڈل کلاس کی پریشیانی سامنے آتی ہے تویہ شورمچاناشروع کردیتے ہیں۔
قوم پرست اورافغانستان
پشتون مڈل کلاس اوراشرافیہ کی واضح اکثریت افغانستان کوایک برباد ملک سمجھتے ہیں۔ یہ پاکستان میں پوری طرح ضم ہوچکی ہے۔ پشتونوں کی کوئی بھی سیاسی جماعت یا تحریک شمالی وجنوبی پشتونخوا یافاٹا کا افغانستان کے ساتھ الحاق یا علیحدہ وطن کے حق میں نہیں۔ ان کے مفادات پاکستان سے وابستہ ہیں۔ یہ قومی آزادی کی تحریکیں، نہیں بلکہ بطورایک ‘اتھنک’ پارٹی اپناوجودرکھتی ہیں جوپاکستانی حدودکے اندرجدوجہداورخاص کرپارلیمانی سیاست پریقین رکھتی ہیں۔ پاکستانی ریاست اوراسکی فوج، پولیس،عدلیہ ان کے جان ومال کی حفاظت اورسرمایہ میں اضافہ کی ضامن ہے۔
پشتون اشرافیہ کواپنے سے نیچے دیہی غریب کی دہشت گردی اوربغاوت سے بچانے والی پاکستانی ریاستی ادارے ہیں۔ اس لئے یہ دیہی وشہری غریب کی بربادی کے درپے ہیں۔ پشتون اشرافیہ امریکی ڈرون حملوں کی حامی ہے۔ یہ فوجی آپریشنوں کے بھی ساتھ ہیں۔ یہ ریاست میں پنجابی کے بعد سیکنڈ پارٹنرہیں۔ ان کوگلہ اس امرپرہے کہ ان کے ساتھ ان کے مرتبہ کے مطابق سلوک نہیں کیاجارہا۔ یعنی بڑا بھائی پنجاب ان کوبھی سندھی، کراچی کے مہاجروں اوربلوچی کی طرح ٹریٹ کررہاہے۔
سوشلسٹ جبرکے شکارعوام کے ساتھ ہیں
البتہ اشرافیہ اورمڈل کلاس کے دکانداروں کے برعکس پنجابی، سندھی، بلوچ، مہاجر،سرائیکی،ہزارے وال اورپشتون اورافغانی مزدور کے مسائل اورمفادات آپس میں جڑے ہوئے ہیں: یہ سب جبراوراستحصال کے شکارہیں۔ جنگ اوربربادی کی مخالفت سے دونوں ممالک کے عوام کے مفادات وابستہ ہیں۔ پنجاب وسندھ میں پشتونوں پرحملہ دراصل حکمرانوں کی جنگی پالیسیوں کا ایک حصہ ہے۔ نسل اورقومیت کی بنیادپرحملہ سے مزدورطبقہ میں تقیسم پیدا ہوتی ہے، اس لئے سوشلسٹ جبرکی ہرشکل کے خلاف ہیں۔ اس سے عوامی تحریکوں کونقصان ہوتاہے۔ اسلئے سوشلسٹ پشتونوں اورافغانوں کے خلاف عمل کوجنگوں کی پالیسی کے تناظرمیں دیکھتے ہیں۔
افغانستان سے امریکہ سمیت تمام ممالک کی افواج کی واپسی اوروہاں امن کاقیام اس خطے کے تمام عوام کے حق میں ہے۔افغانوں کواپنے تقدیرکاخودفیصلہ کرنے کااخیتارہوناچاہئے۔ سوشلسٹ مہاجرین کے خلاف ہرعمل کے خلاف ہیں۔ امریکہ ویورپ وخلیجی ممالک میں ایشیائی ومسلمانوں، پاکستانیوں اورافغانوں سے ریاستی تعصب اسی طرح قابل مذمت ہے جس طرح پاکستان میں افغانوں کے خلاف اقدامات۔
اس وقت دنیا بھرمیں مہاجرین کوموردالزام ٹہرایاجارہاہے، زیادہ حیرت کی بات نہیں کہ پاکستان میں بھی اسی نسخہ کیمیاکوآزمایاجارہاہے۔
‘جبر’ کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ استحصال کے برعکس یہ کراس کلاس ہوتاہے: یعنی اس کے شکارہرطبقہ کے افراد ہوسکتے ہیں۔ اس لئے جب ریاست افغانوں کے خلاف اقدامات کا اعلان کرتی ہے تواس کے شکارتمام پشتون ہوتے نظرآتے ہیں۔ اس لئے اس میں یہ خطرہ پوشیدہ رہتاہے کہ جبرکے شکارقوم کے مزدوروں کواپنے ہی قوم کے اشرافیہ کے ساتھ جوڑدے۔ اسی خطرے کے پیش نظرسوشلسٹ جبرکی ہرشکل کی مخالفت کرتے ہیں۔
ضرورت اس امرکی ہے کہ جڑ پروارکیاجائے۔ اور اس پورے فسادکی جڑایک طرف معاشی بحران ہے اوردوسری طرف اس خطے میں امریکی جنگ،قبضہ اوربربریت ہے۔ خطے میں جنگ اورفوجی آپریشنوں کی مخالفت کئے بغیرامن، زبردستی بے دخلیوں اورنسلی تعصب کاتدارک ممکن نہیں۔ اس لئے ‘اس جنگ کوروکو، ہرجنگ کوروکو’، کا نعرہ بلندکرتے ہوئے نسل پرستی،تعصب اورجبرکی ہرشکل کے خلاف تحریک کا آغازکیاجائے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *