فوجی عدالت اوران کی توسیع نامنظور

فوجی عدالت اوران کی توسیع نامنظور

تحریر:سرتاج خان

فوجی عدالتوں پرتوسیع کے معاملہ پربلائی گئی پیپلزپارٹی کی آل پارٹیزکانفرنس ناکام ہوئی تواس اگلے دن آصف زرداری نے فوجی عدالتوں کی پارلیمان میں توسیع اورحمایت کواپنے نونکاتی ایجنڈے سے جوڑدیا۔ یوں بظاہرایک تعطل پیدا ہوگیاہے۔ فوجی عدالتیں کی دوسال کے عرصہ کے لئے منظوری اس وقت دی گئی جب آرمی پبلک اسکول پرطالبان نے حملہ کرکے بچوں سمیت ۱۴۴لوگ مارے۔ بی بی سی کے مطابق فوجی عدالت کی شفافیت پرکئی سوال اٹھائے گئے۔انسانی حقو ق کے ملکی اورعالمی تنظیموں نے فوجی عدالتوں کے قیام کوشہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی قراردیا۔ اسکے علاوہ ان عدالتوں کی منطوری پرپارلیمان کوبھی شدیدتنقیدکانشانہ بنایاگیا۔پی پی پی کے ترجمان فرحت اللہ بابرتک نے کہاکہ’یہ ایک سبق ہے ہم سب کے لئے کیونکہ فوجی عدالتیں جس مقصدکے لئے بنی تھیں وہ پورے نہیں ہوئے ۔پارلیمان کی جانب سے دوسال پہلے ان کی منطوری نے پارلیمان پربھی سوالیہ نشان لگایاہے۔‘ یہ ایک جمہوری
ملک،اس کی پارلیمان اورعدلیہ کے لئے انتہائی المناک ہے کہ اس نے ایک یادوسرے طریقے سے فوجی عدالت کی ضرورت کوناگزیرجانتے ہوئے اسے قبول کیا۔تمام سیاسی پارٹیوں نے اس کی منظوری دی،پارلیمان نے ۲۱ویں آئینی ترمیم پاس کیاتوسپریم کورٹ کی ۱۷رکنی بینچ نے ۲۱ویں آئینی ترمیم کے خلاف تمام درخواستوں کواگست ۲۰۱۵میں مستردکیا۔
فوجی عدالتوں ہی کیاریاست نے دہشت گردی سے نمٹنے کے نام پرپرانے قوانین میں ترمیم کی اورنئے قوانین بنائے۔ لیکن اس کے باوجودسرعام جعلی مقابلے اوراغواء بھی جاری رہے۔اس کے باوجود فوجی عدالتوں کے قیام کی وکالت کی گئی۔
ڈان کے مطابق ۱۱فوجی عدالتوں جس میں صوبہ بلوچستان میں ایک اورباقی صوبوں میں تین تین عدالتوں نے دوسالہ دورمیں ۱۴۷مقدمات نمٹائے جن میں ۱۶۱کوعمرقید، ۷کوعمرقید،۱۱۳کودیگرسزائیں اور۱۲کولٹکایا۔جبکہ روزنامہ آزادی کوئٹہ کے مطابق بلوچستان میں صرف فروری ۲۰۱۷کو۴۲افرادماردئیے گئے اور۲۰۰،اغواء کئے گئے۔ اس سے زائد ملک بھرمیں نئے فوجی آپریشن کے ساتھ جعلی مقابلوں میں مارے گئے۔
سوال یہ ہے کہ جب ریاستی ادارے دن دھاڑے سرعام افرادکواصلی اورجعلی مقابلوں میں مارسکتی ہے توفوجی عدالتوں کی ضرور ت کیاہے جودوسالوں میں کہیں کم تعدادمیں ریاست کے مخالفین کولٹکاتی ہے؟نوازشریف ،عمران خان اورزرداری کیوں اسے ناگزیرسمجھتے ہیں؟انسانی حقوق اور انصاف کے قومی اوربین الاقوامی ضابطوں سے متصادم اس عمل کوکیوں پارلیمان اورخوداعلی عدلیہ کیوں ایک یادوسرے طریقے سے جوازفراہم کرتے ہیں؟ یہیں پرفوجی عدالتوں کی ضروت سیاست سامنے آتی ہے۔
فوج نے فوجی عدالتوں کے قیام سے پہلے ہی باقاعدہ اپنامحکمہ قانون ’ڈائریکٹرجنرل لاء افیئرزڈائریکٹوریٹ‘کے نام سے قائم کیاتھا۔فوج نے ان عدالتوں سے سب سے زیادہ ان افرادکوسزائیں دیں جوکسی طرح فوج کے خلاف صف آراء تھے۔
اس کامطلب یہ ہے کہ پاکستانی ریاست اس طرف پہلے قدم بڑھانے کی طرف بڑھ رہی تھی ،آرمی پبلک اسکول پرحملہ نے اس کوحتمی شکل دینے کاموقع فراہم کردیا۔فوج کوپہلے وکلاء تحریک کی شکل میں عدلیہ،وکلاء اورعوام کاگٹھ جوڑکاسامناکرناپڑا۔ اس وقت ریاستی اداروں میں تقسیم تھی۔ جس نے وکلاء تحریک کوجنم دیاجس سے جنرل مشرف آمریت کاخاتمہ ممکن ہوسکا۔ عوام نے عدلیہ کوآزادکرایا۔ جس سے ریاست میں تقسیم بڑھ گئی تھی اورعدلیہ عوامی دباواورحکمران طبقہ کے ایک حصہ کے طورپرپارلیمان اورفوج سے مقابلہ میں آیا۔ لیکن زرداری ،نوازشریف اورعمران خان کی کوششوں سے یہ عوامی اتحادپارہ پارہ ہوا۔
فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہوئی تومسلم لیگ کی حکومت نے پروپگنڈہ کیاکہ فوجی عدالتوں میں توسیع کے بجائے ایک متبادل طریقہ کاراپنایاجائے گا۔جس میں امریکہ کے نقش قدم پرچلتے ہوئے اقدامات اٹھانے کی منصوبہ بنایاگیاتھا۔جس کے تحت ججوں اورگواہوں کی شناخت چھپائی جائے گی۔ ایک طرح سے اندھاقانون ہی کی تجویزہے۔حکومت نے اس کے لئے برطانیہ کے ماہرین سے رابطہ بھی قائم کیاتھا۔
لیکن آخرمیں پھرحکومت اورپیپلزپارٹی نے کچھ تردداورترمیمات کی شکل میں فوجی عدالتوں کی منظوری کی بات کی ۔
دہشت کے خلاف جنگ، نیولبرل پالیسیوں پرعملدرآمد اورپاکستان میں نئی چینی سرمایہ ایک بہت آہنی اورجابرانہ شل کاتقاضہ لئے ہوئے ہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ جنگ اورسرمایہ داری کی ترقی کوخونخوارقسم کے اداروں کی ضرورت ہے۔ یہیں پرروایتی ادارے ناکافی بن کرسامنے آتے ہیں۔
پاکستان میں دبئی اورچین کی طرز کی سرمایہ کاری ا س امرکی متقاضی ہے کہ ہرقسم کے انسانی،جمہوری ،آئینی حقوق کاقلع قمع کیاجائے۔ سخت قسم کے قوانین کااجراء اورفوجی عدالتوں کاقیام اسی جانب ایک قدم ہے۔ چونکہ تما م سیاسی پارٹیاں ترقی اورجنگ کے موجودہ ماڈل سے سہمت ہیں اس لئے وہ ہرقیمت پراس کوآگے بڑھانے چاہتی ہیں ۔
فوجی عدالتیں جہاں ایک طرف ریاست میں فوج کے طاقتورہونے اوران کی ادارتی شکل کوسامنے لاتی ہے ،وہاں یہ اس سے کچھ بڑھ کربھی ہے: یہ ریاست کے جبری شکل کااظہارہے۔ فوجی عدالتوں کودیہی وشہری غریب کی تحریکوں کے خلاف ہتھیارکے طورپراستعمال کرتے ہوئے پوری سوسائٹی کوخوف ودہشت کاشکارکرناہے۔اسی لئے جب سرمایہ دارفوج کواقتدارمیں لاتی ہے تواس کے سخت گیری کوسامنے لانے کے لئے فوجی عدالتیں قائم کرتی ہے اس کاصاف مطلب یہی ہوتاہے کہ مروجہ سرمایہ دارانہ حصول انصاف کوبائی پاس کیاجارہاہے کیونکہ نچلے طبقات کوہرحال میں کوئی صفائی کاموقع دئے بغیرسزادینی ہے۔
اہم یہ نہیں ہے کہ زرداری کواس دفعہ حکومت کوبلیک میل کرکے سودابازی کاموقع نہ ملاتواس نے ایک نام نہادعمدہ ترامیم سامنے کردی ۔اس طرح زرداری نے اپنی ناکام اے پی سی پرزیادہ قیمت لگادی۔اہم معاملہ فوجی عدالت کی منطق کوایک یادوسرے طریقے سے قبول کرنے کاہے۔ اورپی پی پی سمیت دیگرپارٹیاں یہی کرتی ہیں۔فوجی عدالتوں سے بڑھ سرمایہ دارانہ طریقہ اورحصول انصاف پربھرپورتنقیدکرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اس نظام میں انصاف بطورطبقہ مزدورکوحاصل نہیں ۔ یہ سرمایہ داروں کانظام اوران کی عدالتیں ہیں اورانہی کواس میں انصاف ملتاہے مزدورطبقہ کونہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *