معیشت: ایکسپورٹ میں کمی سے مہنگائی میں اضافہ

معیشت: ایکسپورٹ میں کمی سے مہنگائی میں اضافہ

تحریر: ریاض احمد

اسٹاک ایکسچینج ، سی پیک اور پی ایس ایل فائنل کو معاشی خوشحالی کا پیمانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ نواز حکومت قریب ہر روز میڈیا پر تین یا چار بیانات اور تقریبات کے زریعے عوام کو یہی باور کر ا رہی ہے کہ معاشی خوشحالی کا دور دورا ہے۔ لیکن حقیقت خاصی مختلف ہے۔ نہ صرف یہ کہ ملک میں دولت کی پیداوار کم ہو رہی ہے بلکہ ملک کے اندر آنے والی حقیقی دولت کی پیداوار میں خاصی کمی آچکی ہے۔
یہاں گزشتہ چند سالوں کا جائزہ لیتے ہیں۔یہ ٹریڈنگ اکنامکس ویب سائٹ پر اسٹیٹ بنک کی رپورٹس پر مشتمل ہے۔ایکسپورٹ جو ۲۰۱۳ء کے آخیر تک ۲۸ ارب ڈالر تک جا چکی تھیں اب ۱۸ ارب ڈالر پر آن گری ہیں، یعنی ۱۰ ارب ڈالر کی کمی ہو گئی ہے جوسرمایہ داروں کے لیے معیشت کی ابتر صورتحال کی عکاس ہے۔امپورٹ کے لیے ڈالر کا انحصار اب بیرونِ ملک پاکستانیوں کی بھیجی رقم پر بڑھتا جا رہا ہے جو کہ بڑھتی ہوئی امپورٹ کے لیے ناکافی ہے۔یوں معیشت کو بیرونی اور اندرونی قرضوں پر چلایا جا نے کا واضع اظہار یوں ہوتا ہے کہ ۲۰۱۳ء میں بیرونی قرضوں کا ہجم ۶۵ ارب ڈالر تھا جو کہ اب ۲۰۱۶ء تک ۶۵ ارب ڈالر ہو چکا ہے۔
ٹریڈنگ اکنامکس کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کی شرح کی انتہاء زرداری حکومت میں تھی یعنی ۱۱ فیصد، البتہ یہ دو سال یعنی ۲۱۰۵ تک ۸ فیصد رہی اور اب ۲۰۱۶ء کے آخیر سے پھر سے بڑھ کر ۶ فیصد پہنچ رہی ہے۔ جبکہ فروری ۲۶ کا ڈان اخبار ایک اسٹیٹ بنک کی رپورٹ کے حوالے سے کہتا ہے کہ اشیاء ضروریہ اور سروسز کی قیمتوں میں تیز تر اضافہ ہو رہا ہے۔ رہائش، تعلیم اور ادویات مہنگائی کا اولین سبب ہیں۔ مہنگائی کی ذمہ دار ۱۵ اشیاء میں سے رہائش سرِ فہرست ہے، عام لوگوں کے گھر کے اخراجات میں ۳۴ فیصد مکان کے کرائے میں چلا جاتا ہے۔ کیونکہ مکانات کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اس لیے بعض لوگ تو کرائے میں ہی آمدنی کا نصف خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ماہانہ کرایوں میں ۶ فیصد کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔اسی طرح تعلیم ہے۔صرف جنوری میں تعلیمی اخراجات میں ۱۳ فیصد اضافہ ہوا۔ اشیائے ضروریہ میں تعلیم سے مہنگائی میں ۱۳ فیصد اضافہ ہوا۔ بڑے شہروں میں نجی اسکولوں نے جنوری میں ایک کے بجائے تین ماہ کی فیس لے رہے ہیں تا کہ جون جولائی کی فیس ابھی ہی حاصل کر لی جائے۔ان اسکولوں پر کوئی قانون نہیں نہ ہی فیسوں میں اضافہ پر کوئی سرکاری کنٹرول۔ اسی سبب اسکولوں کی چین کے نام پر کارٹیل بن گئے ہیں اور یہ اربوں روپے منافع بھی کماتے ہیں اور ٹیکس بھی نہیں دیتے۔ اسی طرح صحت کی صورتحال ہے جس میں صرف ایک ماہ میں ۲۳ فیصد مہنگائی ہوئی۔ شکر اور دالوں کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا اور یہ ۸ سے ۳۴ فیصد تک بڑھ گئیں۔


تین سال قبل نواز حکومت اعلان کر رہی تھی کہ ملک ترقی کی شاہراہ پر اس لیے گامزن ہو گیا ہے کہ صنعتوں کے لیے جی ایس پی پلس کا درجہ حاصل کر لیا گیا ہے۔ عالمی سرمایہ کاری کی جانب سے پاکستان کو جی ایس پی ملنا معیشت کے مستحکم ہونے کی دلیل قرار دیا جا رہا تھا۔۱۲ دسمبر ۲۰۱۳ ء کو یورپی پارلیمان نے کثرت رائے سے پاکستانی مصنوعات کے ۲۰ فیصد پر ڈیوٹی معاف اور ۷۰ فیصد کو ترجیحی ریٹ حاصل ہو گئے تھے۔ نواز شریف نے کہا تھا ’یورپی مارکیٹوں تک رسائی ہماری حکومت کی سب میں اولین ترجیح تھی کہ یہ معاشی ترقی کے ایجنڈے کا حصہ ہے اور اسی کا حصو ل وزارتِ خزانہ میں ہمارے وزیروں اور افسران کی انتھک محنت کا نتجہ ہے ‘۔اس طرح ایک ارب ڈالر کی مصنوعات عالمی منڈی میں ایکسپورٹ ہونا تھیں جن پر صرف ٹیکسٹائل کی صنعت کو ۱۰ کھرب روپے کا منافع حاصل ہونا تھا۔اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ جی ایس پی پلس سے ’پاکستانی ایکسپورٹ میں ۲ ارب ڈالر کا اضافہ ہو گا‘ ۔تین سال گزر گئے، ہوا کیا؟ ڈان اخبار کی ۲۶ فروری کی ایک رپورٹ کہتی ہے کہ جی ایس پی پلس سے ایکسپورٹ میں اضافہ میں ناکامی رہی۔ جی ایس پی کے تحت گزشتہ ایک سال میں ٹیکسٹائل ایکسپورٹ ۶ ارب ڈالر سے بڑھ کر ۲ء۶ ارب ڈالر ہی ہو پائیں۔ دو سال قبل جب جی ایس پی نافظ نہیں ہوا تھا تو ایکسپورٹ ۵ء۵ ارب ڈالر تھی۔ قریب پوری یورپی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی فروخت میں کمی آئی ہے۔ اس کی وجہ یورپی مارکیٹ میں شدید مالی بحران ہے، خرید میں کمی اور سرمایہ کاری میں بھی کمی ہو رہی ہے۔ ایکسپورٹ کی بنیاد پر معیشت کو آگے بڑھانے کا ماڈل تیزی سے پاکستان میں بھی اسی طرح ناکام ہو رہا ہے جس طرح چند سال قبل یہ مشرقِ وسطیٰ میں ناکام ہوا تھا۔ سرمایہ داروں کے منافع بیرونِ ملک زیادہ ملتے ہیں اس لیے سرمایہ دار حکومتی پالیسی کو ایکسپورٹ کی طرف کر دیتے ہیں، جہاں یہ ایکسپورٹ کرتے ہیں وہاں خرید میں کمی آجائے تو اس کا اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔ شماریات کے بیورو کی فروروی ۲۰۱۷ء رپورٹ کے مطابق جولائی تا جنوری ۲۰۱۷ء کے سات ماہ میں ایکسپورٹ میں تین فیصد کمی ہوئی اور یہ ۱۲ ارب سے گھٹ کر ۶ء۱۱ ارب ڈالر رہ گئی۔ اسی دوران امپورٹ میں ۱۳ فیصد اضافہ ہوا۔ یوں ملک کے اندر آنے والے ڈالر کم ہو گئے اور باہر جانے والے ڈالر زیادہ ۔اسی طرح بیرونِ ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجے گئے ڈالروں میں بھی کمی آرہی ہے۔ جولائی تا جنوری ۲۰۱۷ء کے ساتھ ماہ میں یہ رقم ۱ء۱ ۱ ارب ڈالر سے گھٹ کر۹ء۱۰ ارب ڈالر ہو گئی۔یوں ایکسپورٹ اور بیرون ملک پاکستانیوں سے حاصل ڈالروں میں کمی ہو گئی ۔سرکار کو ایکسپورٹ سے ڈالر چائییں تا کہ یہ ہتھیار اور تیل خریدے۔ملک کے اندر پیدا اشیاء کی بیرونِ ملک فروخت میں کمی سے ایکسپورٹ سے ڈالر کم ملتے ہیں۔ یوں ملک میں ڈالر کم آتے ہیں تو کرنسی کی قدر گرنے لگتی ہے۔ گزشتہ سال ایک ڈالر اوپن مارکیٹ میں ۱۰۲ روپے کا تھا، اب ۱۰۷ روپے کا ہے۔ایکسپورٹ سے آمدنی میں کمی کرنسی کی قیمت گرا رہی ہے۔ ایکسپورٹ کرنے پر معیشت کو کھڑے کرنے کانتیجہ سامنے ہے۔ سرمایہ داروں کا منافع کم ہواجس کا نتیجہ یہ کہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھ گیا۔


بڑے سرمایہ دار اب بڑے رئیل اسٹیٹ بزنس مین بھی) ہیں۔ یہ کاروبار پر ٹیکس نہیں دیتے اور اربوں کماتے ہیں۔ یہ منافع کے نام پر مزدوروں کی محنت اور ٹیکس چوری کرتے ہیں اسے رئیل اسٹیٹ میں ڈالتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ زمین اور یوں کرائے میں اضافہ ہورہاہے۔رئیل اسٹیٹ کی خرید و فروخت پر پرانے سرکاری ریٹ کے بجائے نئے ریٹ سے ٹیکس لگا کر گزشتہ سال بجٹ میں یہی کہا گیا تھا کہ اب کالا دھن سفید کرنا مشکل ہو جائے گا ۔ چار ماہ تک رئیل اسٹیٹ کا کاروبار ٹھپ رہا۔ پھر ستمبر میں حکومت نے مذاکرات کئے اور یوں غیر منقولہ پراپرٹی کی خرید و فروخت کو قانون کے تحت لانے کے لیے انکم ٹیکس ایکٹ ۲۰۱۶ء میں ترمیم کی گئی اور پھر سے پراپرٹی کو غیر قانونی طریقے سے خرید و فروخت کرنے کو قانون بنا دیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ کالا دھن سفید کرنے کا ایک اور دھندا شروع ہوا۔ جنگ اخبار کی ۲۶ فروری رپورٹ کے مطابق دسمبر تا فروری کے ۸۳ دنوں میں ۳۰ ہزار پراپرٹی کا لین دین ہوا جس کی قیمت ۲۳ ارب روپے پر ۷۰ کروڑ ٹیکس وصول ہوا۔ یوں ۲۳ ارب روپے کا کالا دھن سفید کر لیا گیا۔ ایکسپورٹ میں کمی کو سرمایہ داروں نے پراپرٹی پر ٹیکس اضافہ واپس کرا کر پورا کر لیا۔
ترقیاتی پروجیکٹوں کے نام پر غیر ملکی سرمایہ لا کر سرکار عوام کو ترقی کی نوید سناتی ہے۔سرمایہ دار ترقی کرتے ہیں اور عوام سرمایہ داروں کے دولت مند ہوجانے کے سبب غریب ہو جاتے ہیں۔ ٹیکس چوری کے نام پر اسکیمیں لا کر سرمایہ دار اپنا کالا دھن سفید کر لیتے ہیں۔ ملک کے اندر پیداوار کا مقصد ایکسپورٹ بنا دیا جائے تو پیداوار عوام کی ضرورت کے لیے نہیں خواص کی دولت کے لیے ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *