فوجی عدالتوں میں توسیع اورسیاسی پاٹیوں کی منطوری کاپس منظر

فوجی عدالتوں میں توسیع اورسیاسی پاٹیوں کی منطوری کاپس منظر

تما سیاسی پارٹیاں تمام معذرت خواہی کے ساتھ اورناچاہتے ہوئے بھی فوجی عدالتوں میں توسیع کرنے جارہے ہیں۔ بعض پارٹیاں کچھ تردد، ہچکچاہٹ اورلے دے کر، کچھ مزاحمت دکھاکراس کی توسیع کوایک یادوسرے طریقے سے قبول کرنے اوراسے ایک ‘ناگزیربرائی’ کے طورپرقبول کرنے کی حجت پیش کرتے ہوئے منظوری کی حامی بھررہی ہیں۔ اس میں عوام دوست جمہوری پارٹیاں، قوم پرست اوراسلام پسند پارلیمانی پارٹیاں شامل ہیں۔ اوروہ بھی جواپنے آپ کوحکومت کا حقیقی اپوزیشن کے طورپرپیش کرتی ہے۔
پارلیمانی سیاسی پارٹیوں کی ظاہری مزاحمت، معذرت خواہی، ہچکچاہٹ اوروضاحتیں اس کی بات کی نشاندھی کرتی ہے کہ عوام میں فوجی عدالتوں کوکتنی پذیرائی حاصل ہے اوریہ کہ یہ فیصلہ ان پارٹیوں کے اپنے منشور سے کس قدرمتصادم ہے جس پراس نے عوام سے ووٹ حاصل کئے تھے۔ حکومت اوراپوزیشن دونوں کی طرف سے اس کے لئے معذرت خواہی اس بات کی غمازی ہے کہ رائے عامہ ہموار کی جارہی ہے۔
صرف یہی نہیں کہ فوجی عدالتوں پرانسانی حقوق کی قومی اوربین الاقوامی تنظیموں اورانصاف کے اداروں کی طرف سے تنقید ہورہی ہے بلکہ ان پارٹیوں میں سے انفرادی سطح پرجیسے پیپلزپارٹی میں بائیں بازوکے سمجھے جانے والے رضاربانی کی طرف سے ناپسندیدگی اظہارکیاگیاجب پہلی باراس نے 21ویں ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالتے ہوئے کہاکہ میں نے اپنے ضمیرکے برعکس فیصلہ دیتے ہوئے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، وہ رویا بھِی اورکہاکہ وہ اس غم کی وجہ سے ساری رات نیند نہ کرسکا۔ یہاں یہ سوال جنم لیتاہے کہ پارلیمان کس کی نمائندگی کرتاہے؟ یہ عوام کی نمائندہ ہے یاپھرسیاسی پارٹیوں کا؟ اوریہ کہ اراکین کس کی نمائندگی کرتے ہیں؟ ملکی عوام یا پھراپنے حلقہ کے عوام، اپنے ضمیریاپھرکسی سیاسی پارٹی کی؟ اوراس سے بڑھ کریہ کہ سیاسی پارٹیاں کس کی نمائندہ ہیں؟
صورتحال کاجائزہ لینے سے یہ بات توآسانی سے سمجھ میں آتی ہے کہ پارلیمان سیاسی پارٹیوں کی نمائندہ ہے۔ ناہی یہ عوام، اراکین کے حلقہ کے عوام یا ان کے اپنے انفرادی ضمیرکی آوازہے۔ پاکستان کی پارلیمان کے اکثریتی ممبران سیاسی پارٹیوں پرمشتمل ہے۔ یوں ممبران ناچاہتے ہوئے بھی اپنے پارٹی کے فیصلے کے پابندہیں۔ہارس ٹریڈنگ اورلوٹا کریسی کے خاتمے اوروفاداریوں کی تبدیلی کوبہانہ بناکر 18ویں ترمیم کےبعد پارٹیوں پرپارٹی سربراہ کی گرفت مزید مضبوط بنادی گئی۔ اب یہ اراکین اسمبلی کے لئے بہت مشکل بنادیا گیاہے کہ عام حالات میں وہ عوام کی مرضی، اپنے حلقہ کی منشاء اوراپنے ضمیر کے مطابق کوئِی آوازاٹھائے۔ اب اس سے بہت کم فرق پڑتاہے کہ اسمبلی میں کس قسم کے فرد کوبیچتے ہیں۔ فیصلے تووہی ہونے ہیں جس کی منظوری نوازبرداران، زرداری فیملی، فضل الرحمن یا عمران خان کریں گے۔ اراکین ان سے روگردانی کے مرتکب بہ مشکل ہی ہوسکتے ہیں۔ سب سے زیادہ ریڈیکل رکن پارلیمان زیادہ سے زیادہ رضا ربانی کی طرح روکراورمعذرت خواہی کرکے اپنا ووٹ کاسٹ کرسکے گا، بصورت دیگر اپنی رکنیت کھوئے بیھٹےگا۔
چونکہ اراکین پارلیمان سیاسی پارٹیوں کی نمائندگی کرتے ہیں اس لئے حکومت اورماہرین ترمیم پرپارٹیوں سے وابستہ اراکین پارلیمان کی گنتی اوراعداد وشمارکی جمع تفریق کرتے نظرآتے ہیں۔ اورآخری تجزیہ میں، عام حالات میں، ایساہوجاتاہے۔
اس سے یہ نتیجہ اخذکیا جاتاہے کہ گویا سیاسی پارٹیاں عوام کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اوریہی پیچیدگی کا باعث ہے کہ کیا واقعی سیاسی پارٹیاں عوام کی نمائندہ ہیں اورترمیم کا حق رکھتی ہیں؟
سب سے آسان دلیل یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں یوں عوام کی نمائندہ ہیں کہ یہ عوامی ووٹ حاصل کرتی ہیں یعنی اراکین پارلیمان ان کے ٹکٹ ہولڈر یا اس میں باقاعدہ شامل ہیں اوراس کی نمائندگی پرآمادہ ہیں۔ اس قضیہ کوچھیڑے بغیرکہ ملک کے کتنی فیصدی آبادی ووٹرزہیں، کتنےفی صدی نے پچھلے انتخابات میں ووٹ ڈالے اورجواراکین پارلیمان میں بیھٹے ہِیں وہ واقعی میں اس حلقہ میں عوام کی اکثریت کے نمائندے ہیں یا ووٹ حاصل کرکے آئے ہیں؟ آیا ان کواب بھی عوام کی اکثریت حاصل ہے؟
سب سے اہم یہ ہے کہ کیا یہ سیاسی پارٹیاں جواس وقت فوجی عدالتوں کوایک ‘ناگزیربرائی’ کے طورپرقبول کرنے پرآمادہ ہیں، انھوں نے اپنے انتخابی منشورمیں اس طرح کی کوئی بات کی تھی، جس پراس نے عوام سے ووٹ حاصل کئے؟ یا اس نے سویلین رول کواہمیت دی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں نے جمہوریت اورآمریت کی مخالفت اورآزادعدلیہ اورانصاف کے سستے حصول کوانتخابی منشورکاحصہ بنایاہوگا۔ توکیا اس طرح اس طرح یہ سیاسی پارٹیاں عوامی نمائندگی کی دعویداری کرسکتی ہیں؟
اب یہ کہ تمام سیاسی پارٹیاں عوامی نمائند گی کاحق اداکئے بغیر اوراپنے تمام ترباہمی اختلافات، مخالفت اوراپوزیشن کو ایک طرف رکھ کرکیوں ایک مدعہ جمع ہوکرفوجی عدالتوں کی منطوری پرکمربستہ ہیں؟ کیوں وہ عوامی نمائندگی اوراپنے اختلافات کوپس پشت ڈال کرفوجی عدالتوں پریکجاہیں؟
یہ بہت آسان ہے جیساکہ پرویزعلی ہودبھائی اورعائشہ صدیقہ پیش کرتی ہیں کہ فوج کے اپنے مفادات اورمقاصدہیں۔ اوریہ بطورادارہ ایک ‘ویسٹڈ انٹرسٹ’ رکھتے ہیں۔ یوں فوج ایک مفاداتی گروہ کے طورپرسامنے آتاہے جس کے سب سے الگ اپنے مفادات ہیں۔ اس خیال سے پورا لبرل لیفٹ اورتجزیہ نگارمتفق نظرآتے ہیں۔
یہ سیاسی پارٹیوں جیسے مسلم لیگ ن، پی پی پی، قوم پرستوں اوراسلام پرستوں سب کے لئے ایک بہانہ تراشتا ہے: سارا الزام فوج کے سرباندھ لیں۔ یوں فوج کے طاقتورہونے کی معذرت خواہی کرکے پنجاب میں ن لیگ، سندھ میں پی پی پی، بلوچستان میں بلوچ قوم پرست، پختونخواہ میں تحریک انصاف اورفاٹا میں اسلام پرسٹ بری الزمہ ہوجاتے ہیں۔ یوں فوج کے طاقتورہونے کا پروپگنڈہ اس معذرت خواہی کالازمہ ہے جوعوام دشمن اقدامات کوسیاسی جنتافروغ دیتی ہے۔ لیکن معاملہ اتناسیدھا سادا بھی نہیں۔
پاکستانی ریاست کہتی ہے کہ دہشت گردی پاکستان میں تمام فساد کی جڑہے: ترقی، بیرونی سرمایہ کاری،میگاپروجیکٹوں کے لئےیہ خطرہ ہے۔ اس کے باوجود حکومت دعوی کرتی ہے ملک ترقی کررہاہے اورشرح نمو بڑھ رہاہے۔ سی پیک کی ترقی جاری ہے۔ یوں حکومت دومتصاد دعوے ایک ساتھ کرتی ہے۔ اور اسکے ساتھ کہتی بھی ہے کہ یہ ایک دوسرے کی ضدہیں۔
اگرواقعی میں دہشت گردی، امن وامان،ترقی اورسرمایہ کاری میں رکاوٹ اورضد ہے توپھرسوال یہ ہے کہ پاکستان کی ترقی کے دعوے میں کتنی سچائی ہے؟درحقیقت ناصرف یہ صورتحال موجودہے بلکہ ایک دوسرے کی مددگاربھی ہے!
جنگ، فوجی آپریشن، نسلی، لسانی، فرقہ ورانہ تعصب کےتصآدات جو دہشت گردی کے نام پراٹھنے والے مسائل کو فوجی عدالتوں کے ذریعے دبانے کی کوشش ہے۔ یہی پردیہی و شہری غریب کےخلاف فوجی آپریشن اورفوجی عدالت کی ضرورت اجاگرہوتی ہے۔
پاکستانی سرمایہ دارجب اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے فوجی آپریشن کوناگزیرسمجھتے ہوئے سرمایہ کے راستہ میں حائل رکاوٹوں کودورکرنے کے لئے استعمال کرتی ہےتوفوج اختیارات اوریوں فوجی عدالتوں کامطالبہ کرتی ہے۔ اس لئے جوفوجی آپریشن کے حق میں ہیں وہی، ایک یادوسرے، طریقے سے فوجی عدالتوں کوناگزیرسمجھتے ہیں۔
ریاست کے تینوں ستون پارلیمان، عدلیہ اورانتظآمیہ جب ایک مدعہ پرایک ہوجاتے ہیں تواسے عام طورپروسیع تر’قومی مفاد’ کانام دیاجاتاہے۔ مارکسی نظریہ کے مطابق قومی مفاد سرمایہ داروں کے مشترکہ مفاد کےعلاہ کچھ نہیں۔
مارکس کہتاہے کہ سرمایہ داروں کی مثال ‘متحارب برادران ‘ کی سی ہے۔ اس کا اظہارریاستی اداروں اورسیاسی طورپرہوتاہے۔ سرمایہ داروں کامشترکہ مفاد سیاسی پارٹیوں کواپنےتمام تراختلافات کے باجودایک کردیتاہے۔ اسی لئےسیاسی پارٹیاں کہتی ہیں کہ قومی مفاد میں فوجی عدالتوں کوقبول کیاجارہاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *