ویلنٹائن ڈے یا چینی تہوارمحبت: سی پیک اورنئی ثقافت کی آمد آمد

ویلنٹائن ڈے یا چینی تہوارمحبت: سی پیک اورنئی ثقافت کی آمد آمد
تحریر:سرتاج خان
ییار لوگ مذہبی جماعتوں اور لاہورہائی کورٹ کے ویلن ٹائن ڈے منانے پرپابندی پرسیخ پا اوربرہم ہیں۔ اورظاہرہے یہ ہماری بنیادی آزادیوں پرقدغن کی ایک کوششوں میں سے ہے جس کی طرف معاشرہ اورریاست جارہاہے۔
چین کا یوم محبت کا تہوارQixi Festival کہلاتاہے۔
چینی کلینڈرکے مطابق یہ سال کے ساتویں ماہ میں پڑتاہے ہمارے 9اگست کو۔ یعنی اگست میں دویوم سرشاری ۔ اوراس نام میں تھوڑی مشرقیت یوں ہے کہ اس میں شپ الفت کی چاشنی بھی ہے کہ اس کوڈبل سیون یعنی سات سات کہاجاتاہے یعنی ساتویں شب کی ملاقات۔۔۔۔یہ نوجوان غیرشادی شدہ لڑکیوں کا اپنے بر کوڈھونڈنے کادن ہے۔ ہمارے ہاں بر کی کمی نہیں اورچینی اس کوڈھونڈ نکالیں گے۔ اوراس میں استعارہ بھی ذرا دل لبھانے والا ہے کہ یہ جدائی کاکام توبادشاہ نے سرانجام دیاتھا مگران کوملانے کا کام کسی پروہت یا پادری انجام نہیں دیا۔ پادری اورمذہبی استعارہ ویسے بھِی ہماری ترقی، ترقی پسندی سے میچنگ نہیں ہے(پتہ نہیں سینٹ ویلنٹائن کو دیسی لبرل کیسے برداشت کرپارہے ہیں) بلکہ یہ ہمارے الف لیلوی داستانوں کی طرح ساتویں مہینے کی سات تاریخ کوملتے ہیں۔ دل چھوٹا کرنے چنداں ضرورت نہیں ۔اس لئے لعنت بھیجو مغربی ثقافت پراوراس کواپنے مشرق میں تلاش کرو۔۔۔۔راستہ صاف ہے اگرکچھ دھندلا ہے اوررکاوٹ ہے تو سی پیک کے منصوبہ سے صاف ہوجائے گا۔
ایک عام وجہ جواس پابندی کی بتائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ہمارے آقاوں کے ہاں منایاجاتاہے۔ جس سے ہمارے مذہبی اورسماجی فاصلے ہیں۔ تجارت، معاشی وفوجی امدادمیں کوئی حرج نہیں کہ یہ ہمارے سرمایہ داروں اورریاست کی اولین ضرورت ہے۔ تعلیم، سائنس اورٹکنالوجی کوبھی ایمپورٹ کرنے میں بھی کوئِی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے کہ اس سے ہی ہمارے طاقتورہونے کے ذرائع پیدا ہوتے ہیں۔ مگرمغربی ثقافتی یلغار کو روکنے کی کوشش ہونی چاہئے۔
لبرل اس کا حل کیانکالیں گے میں تجویز کردیتاہوں: چین کے محبت کے تہوار کے دن کومنانے کا اگلے اگست سے پروگرام منایاجائے۔ اس دن کومذہبی رہنماوں اورسرکاری سرپرستی میں منایا جانے کے امکانات روشن ہیں۔ کیونکہ چین سے ہمارے ہرقسم کے رشتے استوارہیں اس طویل فہرست کویہاں دہرانے کی ضرورت بھی نہیں اورنہ اس کےلئے کسی دلیل اورمنطق کی ضرورت ہے: چین اپنا یارہے۔
چین کے محبت والے دن کومنانےپریوں اعتراض نہیں ہوگا کہ سی پیک جو بن رہاہے۔ اب چینیوں سے ہمارے رشتے مزیداستوارہونے ہیں۔ پاکستانی سرمایہ دارکہتے ہیں کہ سالانہ 6لاکھ چینی بلوچستان آئیں گے اوراس سے زیادہ پاکستانی چین جائیں گے۔ چینی بلوچستان کے علاوہ دیگرعلاقوں میں بھی آئیں گے۔ یہ سڑکیں انہی کی آمد ورفت کے لئے توبن رہی ہیں اورانہی کے معاشی زونز اورہاوسنگ اسکیموں کوفراہم کرنے کے لئے وہ خود بجلی کے پلانٹ لگارہے ہیں۔
جب اتنی بڑی تعداد میں چینی آئیں گے اورا ن کے ساتھ سڑکوں اورتجارت سے رشتہ بن رہاہے تواسلامی جماعتوں اورپاکستانی ریاست کواس طرف جھکنے میں کیا تامل ہوسکتاہے۔ البتہ ویلنٹائن ڈے کے لئے زور یورپ اورامریکہ کے فنڈز سے چلنے والے این جی اوز اب بھی لگائیں گے۔ لیکن منچلوں کے لئے مغرب نہ سہی چین سہی! ان کو تودل کھول کرناچناگاناہے۔ ہم میں سے بہت کم اکثریت مغربی زبانوں اورثقافت سے اتنے ہی نابلد ہیں جتناکہ ہم چینی زبان اورثقافت سے۔
اب پاکستانی ریاست نے چین کے تعاون سے تمام یورنیوسٹیوں میں اس کا بندوبست کردیا۔ سندھ کی پی پی پی کی حکومت نے چینی زبان کواسکولوں میں شامل کرنے کی اسوقت حامی بھری تھی جب کراچی اورٹھٹھہ کے درمیان ذوالفقارآباد بنناتھا۔ اب پتہ نہیں کہ وہ دونوں منصوبے کہاں ہیں۔ بہرحال کراچی کے سرکاری پیلے اسکولوں میں جوبچے بدقسمتی سے پڑھتے ہیں انھیں انگریزی، اردو، سندھی اورعربی کے ساتھ اب چینی بھی پڑھنی ہوگی۔اس سے جوچیز برآمد ہوگی پتہ نہیں وہ کیاہوگی۔ ہمیں توسرکاری اسکولوں نے بے زبان بنادیا: کوئی زبان اچھی طرح بول سکتے ہیں اورنہ لکھ سکتے ہیں۔
جب برصغیرمغربی یورپی اوربعدازاں پاکستان امریکی غلبہ میں گیا تو سماجی اصلاح پسندوں جیسے سرسید ودیگراس کے لئے راہیں نکالیں کہ کس طرح تعلیمی سائنسی اورسماجی وثقافتی تفاوتوں کو کم کیاجائے کہ اس سے مسلح بغاوتوں اورتنازعات کی بیخ کنی کی جائے۔ یوں اس کی نظراس کے لئے روایتی مسلمان اشرافیہ کی سدھار پرٹہریں۔ لیکن وہ متحارب طبقات کویکجا نہ کرسکے۔ یہ کام کسی حدتک محمدعلی جناح نے ہندو سرمایہ داربننے اورمڈل کلاس کے رویے کی بناء پرپیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ مذہبی عناصرنے مغرب کے ساتھ کچھ مطابقت اپنے صحفیوں اورکتب میں شادی بیاہ کے لئے یہ نکالے کہ اہل کتاب کے ساتھ شادی جائزہے اوریہ عورت تک محدود کردی گئی یعنی مسلمان مرد کسی عیسائی یا یہودی عورتوں کی جتنی تعداد چاہےفتح کرلے تو مومن صادق کے درجے سے نہیں نکلے گا۔ اگروہ اس کوراہ راست یعنی مسلمان کرلے تودرجات میں اضافہ کی نوید سنائی گئی البتہ بچوں پرماں اوران کی فیملی اورمغربی ثقافت کے ممکنہ اثرات پرتحفظات کا اظہارکیاگیا۔ اس کاحل یہ نکالاکہ مغرب میں بسنے والوں کے لئے اسلامک سنٹر,مساحد اورکمیونٹی سنٹرزبنائے گئے کہ مسلمان وہاں جاکر راہ مستقیم سے بھٹک نہ جائیں۔
چونکہ اب ہمارا رخ کی چین کی طرف ہوگیاہے تو اس ملاپ کی صورتیں تلاش کی جائیں گی۔ ایک عام استعارہ تو شاہراہ ریشم یاسلک روٹ کی تاریخی وتجارتی اورثقافتی رابطہ کی تاریخ کوازسرنو تازہ کرناہے۔ دوئم ہماری مشترکہ ثقافت کی کچھ جڑیں بدھ مت میں پیوستہ ہیں۔ یہ افغانستان سے لے کرانڈیا،نیپال اورچین تک پھیلی ہوئِی ہیں۔ ہم اپنی سہولت کے لئے چاہیں توانڈیا اورافغانستان کواس میں حالات کے تقاضوں کے مطابق ڈالتے نکالتے جانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بدھ مت کامرکز دریائے سندھ کی وہ تہذہب ہے جوخاص کر صوبہ کے پی اورپنجاب میں ہے۔ یہ گندھارا تہذیب ہے اورٹیکسلا اس کامرکز۔ یوں یہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا مشترکہ مقصد کہاں سے پورا ہوسکتاہے۔
ایک عام خیال یہی ہے کہ خدا نے کسی قوم کواپنے پیغام اورپیامبرسے محروم نہیں رکھا۔ قبل اسلام بھی خدا کے پیامبر دیناکے ہرخطے میں وارد ہوئے ان کی تعداد کم بیش 140000بتائی جاتی ہے۔ اورظاہرہے چین کا خطہ اس سے کیسے محروم رکھاجاسکتاہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ یہ پیامبرتلاش کئے جاسکتے ہیں؟ یہ کام مورخین، مذہبی ماخذ کے مطالعہ کی معلمین، اورآثارقدیمہ کے ہیں کہ وہ اس فریضہ کوانجام دیں۔ سیاستدان، جرنلسٹ اس کا پروپگنڈہ کریں گے۔ اوریونیورسٹیوں اورریسرچ سنٹراس پرتحقیق کریں گے۔ چین جاکرتعلیم حاصل کرنے کے لئے ایک حوالہ توموجودہی ہے:’علم حاصل کرو چاہے اس کے لئے چین جانا پڑے’۔ اورچین جانے کے لئے تگ ودود پہلے ہی جاری ہے۔ وہ سب جو اپنی اردومیڈیم اورخراب تعلیمی کمزوریوں کی وجہ سے بڑے شہروں اورمغرب جاکرتعلیم نہیں حاصل کرسکتے وہ چین جارہے ہیں۔ ایک صاحب فرمانے لگے کہ وہ سب میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے چین جارہے ہیں جوکراچی میں نرسنگ میں داخلہ نہیں لے پارہے، خرچہ بھی کم ہے۔ بس مصیبت یہ ہے کہ ایسے چین پلٹ پی ایم ڈی سی کا ٹیسٹ پاس نہیں کرپاتے اورانھیں 5لاکھ سے اوپررشوت دے کرنکلناپڑتاہے۔ پیوستہ رہ شجرسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے مصداق پروہ دن دورنہیں جب پی ایم ڈی سی اس بات کا ادراک کرلے گاکہ اسے چینی ڈگری کی قدرکرنی چاہئے۔ یا پھرجیساکہ کہاجارہاہے کہ چین ایک اورایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح آرہاہے ۔۔۔اگریہ سچ ثابت ہواتوڈگری خود ہی بول پڑی گی۔
توویلنٹائن ڈے کے منچلوں کوزیادہ دیرانتظارنہیں کرناپڑے گا۔ مغربی تہواروں کی طرح بہت جلد چینی تہواروں بشمول تہوارمحبت Qixi Festiva کے منانا شروع کردیاجائے گا۔ ظاہرہے معاشی رشتے،ثقافتی تعلقات، تعلیم اورکاروبارکے آنے جانے سے انسانی رشتے شادی بیاہ اوردوستیاں تو شروع ہونی ہی ہیں جس کی ابتداء ہوچکی ہے۔ ایک خبرکے مطابق ایک پاکستانی نے چینی لڑکی سے شادی رچالی ہے۔ اب دوستیاں بھِی ہوں گی کہ مغرب اورامریکہ میں نسل پرستی بہت بڑھ گئی اورآنے جانے پرپابندیاں عائد کی جارہی ہے۔ اس سے بھی چین جانے کے رحجان میں اضافہ ہوگا۔ سی پیک کے روٹ کومنچلے اپنے لئے استعمال کرسکتے ہیں۔ توہمارا اگلا پڑاو چین میں ہے۔
جب مغرب سے پہلے مغل اورایرانی کلچر سے وابستہ حکمران براجمان تھے تو نوروز اسی عرصہ میں منایاجاتا۔ کچھ بسنت بھی ایساہی ہے۔ اس لئے تہوارمناناتوضروری ہے۔ ویلنٹائن ڈے کونہ ماننے سے کچھ کاروبارا ورکاروباریوں کونقصان ہواہوگا۔ مگرلاہورہائی کورٹ نے پابندی لگاکرمتبادل کی تلاش کی راہ ہموارکردی ہے۔
ابن انشاء نے کسی دورمیں ایک کتاب ‘چلناہے توچین چلئے’ لکھی تھی۔ اس کتاب کی گرد صاف کرنے کاموقع آگیاہے۔ میرامطلب یہ ہے کہ ایسے تمام کتب اورجانے کیاکیانکال کرلائے جائےگا۔ آپ کوزیادہ انتظارنہیں کرنا پڑے گا۔ یونیورسٹیوں میں ریسرچ سینٹرزقائم ہوچکے ہیں اورخوشی کی بات یہ ہے کہ گوادرمیں چینیوں نے اپنے نئے سال کی تقریب بھی بناڈالی۔ اب مغربی نہیں بلکہ چینی کلینڈرکے تحت تقریبات ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *