دی آرٹ آف لوننگ

دی آرٹ آف لوننگ

تحریر: ایرک فرام ، مترجم: روزاخان

زیرِ نظر مضمون نامور ماہرِنفسیات اور مارکسی دانشور ایرک فرام کی کتاب ’دی آرٹ آف لونگ ‘ کے ایک باب کے ترجمے کا پہلا حصہ ہے۔ اس شاہکار کتاب کو انگریزی میں پڑھنے کے لیے اس لنک پر جائیں: https://archive.org/details/TheArtOfLoving )
(ادارہ)
کیا محبت ایک آرٹ ہے؟تو پھر اسے علم اور محنت کی ضرورت ہوگی۔یا محبت ایک خوبصورت احساس ہے جو قسمت والوں کو ملتاہے ؟وہ جومحبت میں ’گرجائے‘خوش قسمت ہوتاہے؟اس کتاب کا مقصد وہ بنیادی مسئلہ جو آج کے دور میں زیادہ تر لوگوں کا ہے،کو اُٹھانا ہے۔
لوگ محبت کو ضروری سمجھتے ہیں اور اس کے خواہشمندہیں۔ وہ بہت سی کامیاب اور ناکام لو اسٹوریز پر مبنی فلمیں دیکھتے ہیں،رومانوی گانے سنتے ہیں لیکن مشکل سے ہی شاید کوئی سوچتا ہوگا کہ محبت کے بارے میں کچھ سیکھا بھی جائے۔
اس عجیب رویے کی بنیاد کئی ایک مسائل ہیں جو یا تو ایک ایک کر کے یا مل کر اس رویے کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔بہت سے لوگ محبت کرنے کے بجائے محبت کروانے کو اہم سمجھتے ہیں۔پس ان کا مسئلہ یہ ہے کہ کیسے محبت کروائی جائے، کیسے محبوب بنا جائے۔اس مقصد کے حصول کے لئے وہ کئی ایک طریقوں کا سہارا لیتے ہیں۔ایک طریقہ جسکا سہارا زیادہ تر مرد حضرات لیتے ہیں،ترقی یافتہ،طاقتور اور دولتمند ہونا ہے تاکہ سماج میں اپنا مقام منوایا جائے۔دوسرا طریقہ جس کا استعمال خصوصاً عورتوں میں زیادہ ہے،اپنے جسم اور لباس وغیرہ کو سنوار کے جاذب نظر(Attractive (بننا ہے۔ سلیقہ مند، دلچسپ گفتار ،مددگار،باحیا،بے غرض ہونا دونوں جنس کے جاذب نظر ہونے میں یکساں کارآمد طریقے ہیں۔زیادہ تر وہ طریقے جو کسی کو محبوب((loveableبناتیں ہیں وہی اسے کامیاب بھی بناتی ہیں جیسے ’دوستوں اور لوگوں کو متاثرکرنا‘۔ دراصل ہماری ثقافت میں لوگوں کی محبوب ہونے سے مرادبنیادی طور پر کامیاب اور سیکس اپیل ہوناہوتا ہے۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ محبت کرنا کچھ ایسا نہیں ہے جسے سیکھا جائے۔ اس کا تعلق شے سے ہے قابلیت سے نہیں۔لوگوں کامانناہے کہ اسے کرنا آسان ہے کسی صحیح شے کا ملنا جس سے محبت کی جائے یا کروائی جائے ، مشکل ہے۔اس روایے کی کئی وجوہات ہیں جس کی جڑیں جدید معاشرے کی ترقی کے عمل میں چھپی ہیں۔بیسویں صدی میں سماج میں ایک بدلاؤ آیا جس کے بعد ہر شخص کو اپنی پسند کی چیز چننے کی آزادی ملی۔وکٹورین دور میں ،جیسا کہ زیادہ ترروایتی ثقافتوں میں ہے،محبت کسی فرد کا خود اختیاری حق نہ تھا ۔ شادی کی صورت میں دراصل دولوگوں کے ساتھ رہنے کا ایک معائدہ ہوتا تھاجو یا تو خاندان کے زریعے ہوتا یا پر میرج بروکر کے زریعے، جو بنیادی طور پر سماجی منشا کے مطابق ہوتا تھا اور محبت کے بارے میں فرض کرلیا گیا تھا کہ یہ شادی کے بعد ہونی چاہیئے۔گزشتہ چند نسلوں سے رومانوی محبت کا تصور مغربی دنیا میں عالمیت کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ریاست ہائے متحدہ میں استدلال کے ذریعے روایتی نوعیت کے رشتوں کو مکمل طور پرتو رد نہیں کیاگیا ہے لیکن کافی حد تک لوگ ذاتی طو ر پر ایسی رومانوی محبت کی تلاش میں نظر آتے ہیں جس کو بعد میں شادی کے رشتے میں بدلا جا سکے۔محبت میں آزادی کا یہ جدید تصورشے کی اہمیت کو بہت زیادہ بڑھا رہا ہے۔
اسی عامل سے مضبوطی سے منسلک ایک اور صورت موجودہ ثقافت ہے۔ہمارے سماج کا رحجان خرید کی طرف ہے جوکہ دوطرفہ منافع بخش سودے کے نظریہ پر مبنی ہے۔اس جدیددورمیں انسان کی خوشی اس میں ہے کہ وہ دکان میں جاکر چیزیں دیکھے اور وہ سب خرید لے جو کہ خرید سکتا ہے چاہے فوری یا اقساط میں۔وہ لوگوں کو بھی اسی طرح دیکھنے لگ جاتا ہے۔محبت کے اس سودے میں ایٹریکشن(جاذب نظریت)کو قیمت کے طور پر دیکھتے ہوئے سمجھا جا سکتا ہے۔عموماًAttractive(جاذب نظر)‘ ہونے کا یہ مطلب ہے کہ ایسی خصوصیات کا ایک عمدہ پیکج جسے معاشرے میں کامیاب بھی سمجھی جاتی ہوں اور شخصیت کے بازار میں جس کی تلاش بھی کی جاتی ہو ۔وہ چیز جو انسان کو جاذب نظر بناتی ہے ،موجودہ وقت کا فیشن ہوتاہے ۔بیسویں صدی میں شراب نوشی اور تمباکو نوشی کرنے ،سخت جان اور سیکسی لڑکی جاذب نظر تھی،آ ج گھریلو اور حیادار دکھنا فیشن ہے۔ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں مرد کاغصیلا اور حوصلہ مند ہونا لازم تھا جبکہ آج سوشل اور چیزوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھنے والے کو جاذب نظر گردانا جاتا ہے۔انسان ہمیشہ اپنی جیب کو مدنظر رکھتے ہوئے سودا کرتاہے۔میں مول لگانے نکلا ہوں،شے میری پسند کی ہونی چاہیئے جوپسند معاشرے نے طے کی ہے اور جس شے کو پسند کرنے کی ڈیمانڈ یہ مجھ سے کرتا ہے اور جس کی قیمت میری جیب کے مطابق بھی ہو۔دو لوگ یہ محسوس کرنے کے بعد ہی محبت کرتے ہیں کہ انہیں اپنی جیب کے مطابق مارکیٹ میں ایک اچھی چیز مل گئی ہے۔ثقافت پر مارکیٹ غالب آچکی ہے جس میں شے کی بہت اہمیت ہے اوریہ تھوڑا عجیب ہے کہ اب محبت کے رشتے کو بھی اسی انداز سے دیکھاجاتا ہے۔
تیسرا مسئلہ جو کہ اس خیال کے ساتھ پیدا ہوتا ہے کہ محبت کو پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، محبت کرنے کے ابتدائی تجربے اور مستقل طور پر محبت کے احساس کو محسوس کرتے رہنے کے تجربے میں کنفیوژن پیدا کرتا ہے یا یہ کہنا بہتر ہوگا کہ محبت میں قائم رہنے کے تجربے میں۔ایک دوسرے سے بالکل انجان دو لوگ جب اچانک اپنے بیچ فاصلوں کو ختم ہوتے ہوئے محسوس کرتے ہیں، قربت کا ایسا احساس ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کو ایک ہی وجود ماننے لگتے ہیں تویک جان ہونے کا یہ لمحہ زندگی کے سب سے مسرور اور جذبات سے بھرپور لمحا ت میں سے ایک ہوتا ہے جو کہ تنہا اور سماج سے بیزار لوگوں کے لئے کسی معجزے سے کم نہیں ۔ اگر اس ملن کا آغاز جنسی کشش اور خلوت سے ہوجائے تواچانک ہوئے اس معجزے کو اور گہرائی مل جاتی ہے۔تاہم اس قسم کی محبت زیادہ پائیدار نہیں ہوتی۔جب یہ دو لوگ ایک دوسرے سے مکمل طور پر آشنا ہوجاتے ہیں اوربے تکلفی بڑھتی ہے توبنیادی احساسات ختم ہونے لگ جاتے ہیں یہاں تک کہ تنازعات، مایوسی اوردوطرفہ اُکتاہٹ جنم لے لیتی ہے۔ محبت کے آغاز میں یہ اس بات سے انجان تھے کہ ایسا بھی کچھ ہو سکتا ہے کیونکہ دیوانگی کا عالم یہ تھا کہ یہ ایک دوسرے کے لئے پاگل ہوئے جارہے تھے جوکہ ان کی امحبت کی شدت کا ثبوت تھا لیکن درحقیقت وہ محبت کی شدت نہیں بلکہ تنہائی کی شدت تھی۔یہ نظریہ کہ محبت سے آسان کوئی چیزنہیں،غلط ثابت ہونے کے باوجود بھی اسی طرح قائم رہتا ہے۔ ایسا شاید کم ہی کسی سرگرمی activity) (یامہم کے ساتھ ہوتا ہوگا کہ جس کا آغاز اتنی زبردست اُمیدوں اور خواہشات کے ساتھ ہو کر بھی ایسے تسلسل کے ساتھ ناکام ہو جائے جیسا کہ محبت کے ساتھ ہوا۔اگر ایسی ناکامی کسی سرگرمی میں ہوتی تو لوگ بیقرار ہو کر اس کی وجہ ڈھونڈتے اوراسکو کرنے کا طریقہ سیکھتے تاکہ کارکردگی کو بہتر کیا جاسکے یا پھر ہار کر سرگرمی کو چھوڑ دیتے۔جبکہ ایسا محبت کے معاملے میں نہیں کیاجاتا ۔محبت میں ناکامی کے مسئلے کو یوں دیکھا جاتا ہے کہ اس ناکامی کی وجوہات ڈھونڈی جائیں اور زیادہ سے زیادہ لفظ ’محبت ‘ کے معنی پڑھ لی جائے۔
اول تواس بات کو سمجھنا اہم ہے کہ محبت ایک آرٹ ہے۔اگر ہمیں اسے سیکھنا ہے تو اسی طریقے سے سیکھا جاسکتا ہے جس طرح دوسرے آرٹس کو سیکھا جاتا ہے جیسے میوزک، پینٹنگ، کارپینٹری،میڈیسن اور انجینیرنگ کا آرٹ وغیرہ۔آرٹ کو سیکھنے کے لئے کیاچیز ضروری ہے؟کسی بھی آرٹ کو سیکھنے کا عمل جسے عموماً دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے،نظریے کی مہارت اور مشق کی مہارت ہے۔اگر میں آرٹ آف میڈیسن سیکھنا چاہتا ہو ں تو مجھے انسانی جسم کی کارکردگی اور مختلف بیماریوں کے بارے میں پتہ ہونا چاہیئے۔اگر میرے پاس یہ علم ہے تو بیشک اس آرٹ میں میری سمجھ کا کوئی پیمانہ نہیں ہو سکتا لیکن میں اس میں اس وقت ماہر ہونگا جب میں اتنی سخت محنت کرو نگا کہ میرے نظریاتی علم اور میری مشق کا حاصل ایک ہوجائیگا۔میرا ادراک آرٹ میں مہارت کی جڑ ہے۔لیکن آرٹ میں مہارت حاصل کرنے کے لئے نظریے اور مشق کے ساتھ ساتھ تیسری ضروری چیز یہ ہے کہ اس مخصوص آرٹ کو اس قدر ترجیح دی جائے کہ جیسے اس کے سوا دنیا میں کچھ اور ہے ہی نہیں اور اپنی تمام تر توجہ اس پر مرکوز کرلی جائے۔اور یہی اصل طریقہ ہے میڈیسن،میوزک،کارپینٹری اور محبت کے آرٹ کو سیکھنے کا۔اب شاید یہ سوال اُٹھے کہ ہماری ثقافت میں لوگ محبت میں ناکام ہوکر بھی اس کی شدید خواہش ہونے کے باوجوداس آرٹ کو سیکھنے کو کیوں اتنا غیر ضروری سمجھتے ہیں؟تقریباًہر چیز کو اس سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے:ترقی، شہرت، پیسہ،طاقت۔ ہماری ساری صلاحیتیں ان کو حاصل کرنے میں لگ جاتی ہیں اور کوئی بھی ’آرٹ آف لوننگ‘ نہیں سیکھتا؟کیا یہ سمجھا جائے کہ وہی سب سیکھا جائے جس سے پیسہ اور شہرت ملتی ہو؟اور’ محبت‘ جوروح کا سکون ہے،اس دور میں اس کی اتنی بھی قدر نہیں کہ اس پر اپنی کچھ توانائی صرف کی جائے؟

تیسرا مسئلہ جو کہ اس خیال کے ساتھ پیدا ہوتا ہے کہ محبت کو پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، محبت کرنے کے ابتدائی تجربے اور مستقل طور پر محبت کے احساس کو محسوس کرتے رہنے کے تجربے میں کنفیوژن پیدا کرتا ہے یا یہ کہنا بہتر ہوگا کہ محبت میں قائم رہنے کے تجربے میں۔ایک دوسرے سے بالکل انجان دو لوگ جب اچانک اپنے بیچ فاصلوں کو ختم ہوتے ہوئے محسوس کرتے ہیں، قربت کا ایسا احساس ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کو ایک ہی وجود ماننے لگتے ہیں تویک جان ہونے کا یہ لمحہ زندگی کے سب سے مسرور اور جذبات سے بھرپور لمحا ت میں سے ایک ہوتا ہے جو کہ تنہا اور سماج سے بیزار لوگوں کے لئے کسی معجزے سے کم نہیں ۔ اگر اس ملن کا آغاز جنسی کشش اور خلوت سے ہوجائے تواچانک ہوئے اس معجزے کو اور گہرائی مل جاتی ہے۔تاہم اس قسم کی محبت زیادہ پائیدار نہیں ہوتی۔جب یہ دو لوگ ایک دوسرے سے مکمل طور پر آشنا ہوجاتے ہیں اوربے تکلفی بڑھتی ہے توبنیادی احساسات ختم ہونے لگ جاتے ہیں یہاں تک کہ تنازعات، مایوسی اوردوطرفہ اُکتاہٹ جنم لے لیتی ہے۔ محبت کے آغاز میں یہ اس بات سے انجان تھے کہ ایسا بھی کچھ ہو سکتا ہے کیونکہ دیوانگی کا عالم یہ تھا کہ یہ ایک دوسرے کے لئے پاگل ہوئے جارہے تھے جوکہ ان کی امحبت کی شدت کا ثبوت تھا لیکن درحقیقت وہ محبت کی شدت نہیں بلکہ تنہائی کی شدت تھی۔یہ نظریہ کہ محبت سے آسان کوئی چیزنہیں،غلط ثابت ہونے کے باوجود بھی اسی طرح قائم رہتا ہے۔ ایسا شاید کم ہی کسی سرگرمی activity) (یامہم کے ساتھ ہوتا ہوگا کہ جس کا آغاز اتنی زبردست اُمیدوں اور خواہشات کے ساتھ ہو کر بھی ایسے تسلسل کے ساتھ ناکام ہو جائے جیسا کہ محبت کے ساتھ ہوا۔اگر ایسی ناکامی کسی سرگرمی میں ہوتی تو لوگ بیقرار ہو کر اس کی وجہ ڈھونڈتے اوراسکو کرنے کا طریقہ سیکھتے تاکہ کارکردگی کو بہتر کیا جاسکے یا پھر ہار کر سرگرمی کو چھوڑ دیتے۔جبکہ ایسا محبت کے معاملے میں نہیں کیاجاتا ۔محبت میں ناکامی کے مسئلے کو یوں دیکھا جاتا ہے کہ اس ناکامی کی وجوہات ڈھونڈی جائیں اور زیادہ سے زیادہ لفظ ’محبت ‘ کے معنی پڑھ لی جائے۔
اول تواس بات کو سمجھنا اہم ہے کہ محبت ایک آرٹ ہے۔اگر ہمیں اسے سیکھنا ہے تو اسی طریقے سے سیکھا جاسکتا ہے جس طرح دوسرے آرٹس کو سیکھا جاتا ہے جیسے میوزک، پینٹنگ، کارپینٹری،میڈیسن اور انجینیرنگ کا آرٹ وغیرہ۔آرٹ کو سیکھنے کے لئے کیاچیز ضروری ہے؟کسی بھی آرٹ کو سیکھنے کا عمل جسے عموماً دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے،نظریے کی مہارت اور مشق کی مہارت ہے۔اگر میں آرٹ آف میڈیسن سیکھنا چاہتا ہو ں تو مجھے انسانی جسم کی کارکردگی اور مختلف بیماریوں کے بارے میں پتہ ہونا چاہیئے۔اگر میرے پاس یہ علم ہے تو بیشک اس آرٹ میں میری سمجھ کا کوئی پیمانہ نہیں ہو سکتا لیکن میں اس میں اس وقت ماہر ہونگا جب میں اتنی سخت محنت کرو نگا کہ میرے نظریاتی علم اور میری مشق کا حاصل ایک ہوجائیگا۔میرا ادراک آرٹ میں مہارت کی جڑ ہے۔لیکن آرٹ میں مہارت حاصل کرنے کے لئے نظریے اور مشق کے ساتھ ساتھ تیسری ضروری چیز یہ ہے کہ اس مخصوص آرٹ کو اس قدر ترجیح دی جائے کہ جیسے اس کے سوا دنیا میں کچھ اور ہے ہی نہیں اور اپنی تمام تر توجہ اس پر مرکوز کرلی جائے۔اور یہی اصل طریقہ ہے میڈیسن،میوزک،کارپینٹری اور محبت کے آرٹ کو سیکھنے کا۔اب شاید یہ سوال اُٹھے کہ ہماری ثقافت میں لوگ محبت میں ناکام ہوکر بھی اس کی شدید خواہش ہونے کے باوجوداس آرٹ کو سیکھنے کو کیوں اتنا غیر ضروری سمجھتے ہیں؟تقریباًہر چیز کو اس سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے:ترقی، شہرت، پیسہ،طاقت۔ ہماری ساری صلاحیتیں ان کو حاصل کرنے میں لگ جاتی ہیں اور کوئی بھی ’آرٹ آف لوننگ‘ نہیں سیکھتا؟کیا یہ سمجھا جائے کہ وہی سب سیکھا جائے جس سے پیسہ اور شہرت ملتی ہو؟اور’ محبت‘ جوروح کا سکون ہے،اس دور میں اس کی اتنی بھی قدر نہیں کہ اس پر اپنی کچھ توانائی صرف کی جائے؟ (جاری ہے،باقی اگلے شمارے میں)

One thought on “دی آرٹ آف لوننگ

  • February 9, 2017 at 3:30 pm
    Permalink

    بہت خوب پوری کتاب کا ترجمہ ضرور کرنا

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *