فاشزم کیاہے؟

فاشزم کیاہے؟

تحریر:ٹراٹسکی

 

امریکہ میں ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد تارکینِ وطن سے لے کر ہر طرح کے مظلوم عوام کے خلاف ریاستی اقدامات کا خوفناک سلسلہ جاری ہے۔ اس بربریت کے خلاف بہت بڑے پیمانے پر امریکی اور یورپی عوام احتجاج کر رہے ہیں۔ امریکہ میں حکمران طبقہ بہت بری طرح سے تقسیم بھی ہے۔ بڑے کاروباریوں کی بہت بڑی پرت امریکہ کو دنیا سے کاٹ کر الگ کرنے اور امریکی بالادستی میں ٹرمپ کی پسپائی پر سخت برہم ہے۔ یوں امریکہ کا معاشی زوال اب سیاسی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ حکمران طبقہ کی تقسیم سے مزدور طبقہ اور مظلوم عوام نے فائدہ اُٹھا کر ایک بڑی تحریک کھڑی کر دی تو ٹرمپ نہ صرف پسپاء ہو گا بلکہ ایک متبادل انقلابی سیاست جو سرمایہ داری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کو اپنا ایجنڈا بنائے ممکن ہے۔ کئی دانشور ٹرمپ کو فاشسٹ قرار بھی دے رہے ہیں۔ اور کئی معنوں میں جس طرح امیگریشن کنٹرول اور مسلمانوں پر قدغنیں لگانے کے اعلانات ایک چھوٹی سی دائیں بازو کی اقلیت کو اعتماد دلانے کی کوشش ہے تا کہ یہ ریاستی قوت کی پشت پناہی میں ٹرمپ کے مخالفین کو سڑکوں پر چیلنج کریں اور یوں عوام الناس یعنی عام امریکی کو دائیں بازو کے خوف و دہشت میں مبتلا کر کے مزدور طبقہ اور محنت کشوں پر حملہ کیا جائے۔ اسی طرح امریکی سرمایہ دار اپنے معاشی بحران سے نکل سکتے ہیں۔ جو آج امریکہ میں ہو رہا ہے اس کو سمجھنے کے لیے ٹراٹسکی کی یہ تحریر راہنما ہو سکتی ہے۔ (ادارہ)

فاشزم کیا ہے؟
فاشزم کیا ہے؟ اس لفظ کا آغاز اٹلی میں ہوا۔ جہاں یہ انقلاب دشمن آمریت کی تمام قسموں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ چاہے وہ فاشسٹ تھیں یا نہیں تھیں(اس کا مطلب یہ ہے کہ اٹلی میں فاشزم کی پہچان سے پہلے) اسپین میں پرائموڈی ریور(1923-30 ) کی سابقہ ڈکٹیٹر شپ کو کمیونسٹ انٹرنیشنل(کومینتران) نے فاشسٹ ڈکٹیٹر شپ قرار دے دیا ہے، کیا یہ درست ہے؟ ہمارے خیال میں یہ درست نہیں۔
اٹلی کی فاشسٹ تحریک وقتی ابھار کی عوامی تحریک تھی جس کی نئی قیادت نچلی صفوں سے ابھری تھی عوام سے پھوٹنے والی اس تحریک کو بڑی سرمایہ دار طاقتوں نے مالی امداد اور رہنمائی فراہم کی اس میں پیٹی بورژوا (درمیانے طبقے) کے کچلے ہوئے پرولتاریہ اور محنت کش عوام کی ایک مخصوص تعداد نے شرکت کی۔ مسولینی جو پہلے ایک سوشلسٹ تھا ایک خود ساختہ شخص کی حیثیت سے اس تحریک کے دوران ابھر کر سامنے آ گیا۔ سپین میں پرائموڈی ریورا مرائے حکومت میں سے تھا۔ فوجی اور انتظامی امور میں اسے اہم حیثیت حاصل تھی۔ اور کٹیالونیا کا چیف گورنر تھی تھا۔ اس نے حکومت اور فوج کی قوتوں کے ساتھ مل کر حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اٹلی اور سپین کی آمریتیں۔ ڈکٹیٹر شپ کی دو مختلف شکلیں ہیں۔ اور یہ ضروری ہے کہ ان کے درمیان موجود ہ فرق کو سمجھا جائے مسولینی کو اپنی بے قاعدہ فاشسٹ فوج کے ساتھ روائتی فوج کے بہت سے پرانے اداروں کو کنٹرول کرنے میں کافی مشکل پیش آئی ۔ لیکن پرائموڈی ریورا کو ایسا کوئی مسئلہ در پیش نہ تھا۔جرمنی کی تحریک بہت حد تک اٹلی کی تحریک سے ملتی جلتی ہے۔ یہ بھی ایک عوامی تحریکتھیجس کے لیڈروں نے سوشلسٹ نعرہ بازی کا ڈھونگ رچایا کیونکہ عوام کو متحرک کرنے کے لیے سوشلزم کا نام استعمال کرنا ضروری تھا۔
فاشزم کے لیے حقیقی بنیاد پیٹی بورژوا طبقہ فراہم کرتا ہے۔
اٹلی میں اس طبقے کی بنیادیں بہت گہری ہیں یعنی شہروں قصبوں اور کسانوں میں یہ طبقہ عام پایا جاتا ہے اسی طرح جرمنی میں بھی اس طبقے کی اکثریت ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے اور یہ کسی حد تک درست بھی ہے کہ نیا درمیانہ طبقہ بھی فاشزم کی بنیادوں کو مزید وسیع کر رہا ہے یہ طبقہ حکومتی امور اور پرائیویٹ ادارے چلانے والوں پر مشتمل ہے لیکن یہ ایک نئی صورت حال ہے جس کا تفصیل تجزیہ کیا جانا ضروری ہے۔ فاشزم کے حوالے سے مزید گفتگو کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ فاشزم کی تعریف کی جائے۔ کہ یہ کیا ہے؟ اس کی بنیاد ہیت ترکیبی اور خصوصیات کیا ہیں؟ اور یہ کس طرح نشوونما پاتا ہے۔اس مقصد کے لیے یہ لازم ہے کہ ہم اس کا سائنسی اور مارکسی تجزیہ کریں یہ اقتباس ٹراٹسکی کی طرف سے 15 نومبر1931 ء کو ایک انگریز کامریڈ کو لکھے گئے خط سے لیے گئے جو16 جنوری1932 ء کو جریدہ دی ملیٹنٹ(انگلینڈ) میں شائع ہوا۔

مسولینی نے کیسے فتح حاصل کی؟
جب کسی بورژوا ڈکٹیٹر شپ کی پولیس اور فوجی ذرائع اپنے تمام تر پارلیمانی اختیارات کی آڑ میں کسی معاشرے کوروانی کے ساتھ چلانے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ تو فاشسٹ حکومت اقتدار میں آجاتی ہے سرمایہ داری اب فاشزم کی آڑ میں ناراض بورژوا(درمیانے طبقے) اور کچلے ہوئے مایوس لمپن پرولتاریہ(جرائم پیشہ غنڈا گرد محنت کش طبقہ)کو نئے سرے سے جوش دلا کر اپنے حق میں متحرک کر دیتی ہے ۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ ان گنت انسانوں کو مصائب اور محرومیوں میں مبتلا کرنے والا سرمایہ دارانہ نظام انہیں فاشزم کے روپ میں ایک مرتبہ پھر جکڑ لیتا ہے۔ فاشزم کے ذریعے بورژوازی(سرمایہ دار طبقہ) ایک مخصوص کام‘‘ سر انجام دینے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ ایک طویل سیاسی بے چینی اور خانہ جنگی کے بعد یہ طبقہ کچھ سالوں کے لیے’’مکمل امن‘‘ کا نعرہ لگا دیتا ہے۔اس ’’مخصوص کام‘‘ کو سرانجام دینے کے لیے فاشسٹ ادارے پیٹی بورژوا طبقے کو تخریبی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنے راستے کی تمام رکاوٹیں دور کر لیتے ہیں اور فاشزم کی فتح کے ساتھ ہی تمام سرمایہ فوری طور پر براہ راست اس کے ہاتھوں میں آجاتا ہے یہی نہیں بلکہ ریاست کے تمام ادارے ،انتظامیہ،تعلیمی ادارے،فوج،بلدیاتی ادارے،پریس،ٹریڈ یونین اور کو آپریٹو سوسائٹیاں وغیرہ فاشزم کے قبضے میں آجاتی ہیں جنہیں فاشسٹ ایک آہنی طاقت کے طور پر استعمال کرتے ہیں کسی بھی فاشسٹ حکومت کے لیے ضروری نہیں کہ وہ حکومت کرنے کا وہی طریقہ کار اپنائے جو مسولینی کا تھا کیونکہ حکومت کا روپ اور طریقہ کار ایک ثانوی حیثیت رکھتا ہے لیکن بنیادی چیز یہ ہے کہ فاشزم میں محنت کش تنظیموں کو تباہ و برباد کر دیا جاتا ہے اور انہیں ایک محدود دائرے میں سمیٹ دیا جاتا ہے دریں اثناء انتظامیہ کا ایک ایسا نظام مرتب کیا جاتا ہے جو عوام کی صفوں میں گھس کر انہیں محنت کشوں کے’’آزادانہ وجود‘‘ کے خلاف اکساتا ہے۔ اور یہی فاشزم کا بنیادی کردار ہے۔
’’اطالوی فاشزم‘‘ اس ملک کے محنت کشوں کی بغاوت کے دوران اصلاح پسندوں کی غداری کا فوری نتیجہ تھا۔ جنگ عظیم اول کے بعد اٹلی میں انقلابی تحریک کا فی زور پکڑتی جارہی تھی جو 1920 ء میں فیکٹریوں اور دیگر صنعتی اداروں کی بندش پر ختم ہوئی اس وقت محنت کشوں کی ڈکٹیٹر شپ کا خواب پورا ہوتا نظر آرہا تھا۔ کمی تھی تو صرف اس تحریک کو منظم کرنے اور اس کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی عین اس موقع پر سوشل ڈیموکریسی ڈر کر پیچھے ہٹ گئی اور محنت کش طبقہ اپنی دلیرانہ جدوجہد اور قربانیوں کے باوجود سوشل ڈیموکریٹوں کے بھاگ جانے سے پیدا ہونے والے خلاء کی وجہ سے اکیلا رہ گیا۔ انقلابی جدوجہد پیدا ہونے والی یہی رکاوٹ فاشزم کی افزائش کا باعث بنی۔ ستمبر میں محنت کشوں کی انقلابی پیش قدمی بالکل رک گئی اور نومبر میں فاشسٹوں نے اپنی طاقت کا سب سے بڑا مظاہرہ کر دیا جو سقوطِ بلوگنا کہلاتاہے۔

ستمبر میں ہونے والے سانحے کے باوجود محنت کش ابھی اس قابل تھے کہ وہ کافی عرصہ تک مزاحمتی جنگ جاری رکھ سکتے لیکن سوشل ڈیموکریٹوں کو صرف ایک ہی چیز سے غرض تھی کہ کچھ رعایتوں کے عوض وہ محنت کشوں کو اس جنگ سے باز رکھ سکیں ان کا خیال تھا۔ کہ ورکرز کا مظلومانہ رویہ بورژوازی کو فاشسٹوں کے خلاف کر دے گا۔ اس کے علاوہ انہیں شہنشاہ وکٹر عماتویل سے بھی مدد کی بہت توقع بھی چنانچہ انہوں نے ورکرز کو پوری قوت کے سے دبائے رکھا اور مسولینی کو جنگ جیتنے میں مدد دی لیکن اس سے انہیں کچھ بھی نہ ملا۔ بادشاہ اور امراء (بالائی بورژواطبقہ) فوراً   ستمبر میں ہونے والے سانحے کے باوجود محنت کش ابھی اس قابل تھے کہ وہ کافی عرصہ تک مزاحمتی جنگ جاری رکھ سکتے لیکن سوشل ڈیموکریٹوں کو صرف ایک ہی چیز سے غرض تھی کہ کچھ رعایتوں کے عوض وہ محنت کشوں کو اس جنگ سے باز رکھ سکیں ان کا خیال تھا۔ کہ ورکرز کا مظلومانہ رویہ بورژوازی کو فاشسٹوں کے خلاف کر دے گا۔ اس کے علاوہ انہیں شہنشاہ وکٹر عماتویل سے بھی مدد کی بہت توقع بھی چنانچہ انہوں نے ورکرز کو پوری قوت کے سے دبائے رکھا اور مسولینی کو جنگ جیتنے میں مدد دی لیکن اس سے انہیں کچھ بھی نہ ملا۔ بادشاہ اور امراء (بالائی بورژواطبقہ) فوراً فاشسٹوں کے ساتھ مل گئے جب آخری وقت میں سوشل ڈیموکریٹوں کو یقین ہو گیا کہ فاشزم کو اطاعت کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تو انہوں نے محنت کشوں کو عام ہڑتال کرنے کو کہا ۔ لیکن وقت گزر چکا تھا۔ چنانچہ ان کا یہ اعلان بے سود ثابت ہو اصلاح پسندوں نے بارود کو پھٹنے کے خوف سے اتنی دیر تک دبائے رکھا کہ جب خود انہوں نے کانپتے ہاتھوں سے آگ لگانا چاہی تو وہ بے کار ہو چکا تھا۔
فاشزم اپنے آغاز سے صرف دو سال بعد اقتدار میں آچکا تھا۔ یہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ اپنے ابتدائی سالوں میں معاشی بہتری کی وجہ سے اسے کافی استحکام مل گیا اور (1921-22 ) میں پیدا ہونے والی معاشی مایوسی کا خاتمہ ہو گیا۔ فاشسٹوں نے آگے بڑھتی ہوئی پیٹی بورژواطاقتوں کے ساتھ مل کر پیچھے ہٹتے ہوئے محنت کشوں کو کچل کر رکھ دیا۔ لیکن یہ مقصد ایک ہی ہلے میں حاصل نہیں ہواتھا۔ اور قتدار میں آنے کے باوجود مسولینی بڑی احتیاط سے آگے بڑھتارہا ابھی اس کے پاس بنے بنائے ماڈلوں کی کمی تھی۔ چنانچہ اپنے اقتدار کے ابتدائی دو سالوں میں اس نے آئین میں بھی کوئی ترمیم نہ کی۔ بلکہ اس نے اور لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے مخلوط حکومت کی شکل اختیار کئے رکھی اس دوران فاشسٹ گروہ لاٹھیوں،چاقوؤں اور پستولوں کے ساتھ اپنے کام میں مصروف تھے چنانچہ آہستہ آہستہ حقیقی فاشسٹ حکومت نے جنم لینا شروع کر دیا جس کا مقصد تمام عوامی تنظیموں کا گلا دبانا تھا۔
مسولینی یہ سب کچھ کرنے میں اس لیے کامیاب ہو گیا کہ اس نے فاشسٹ پارٹی کے ارکان کو بیوروکریسی میں داخل کر دیا۔ اور پیٹی بورژوازی کو استعمال کرنے کے بعد توڑ پھوڑ دیا ۔جب فاشزم بیوروکریسی میں شامل ہو جاتا ہے تو وہ فوج اور پولیس کی دوسری قسم کی آمریتوں کے بہت زیادہ قریب ہو جاتا ہے اب اسے وہ سابقہ عوامی حمایت حاصل نہیں رہتی اور فاشزم کا سب سے بڑا حمایتی گروہ (پیٹی بورژوا) بھی اس کا ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔ اب صرف’’تاریخی جمود‘‘ ہی فاشسٹ حکومت کو اتنی طاقت دے سکتا ہے کہ وہ پرولتاریہ کو بے یقینی اور مایوسی کی حالت میں رکھ سے ۔
جہاں تک ہٹلر کی سیاست کا تعلق ہے تواس ضمن میں جرمن سوشل ڈیموکریٹوں کا کردار اطالوی اصلاح پسندوں سے کچھ مختلف نہیں ۔ جنہوں نے فاشزم کو زمانہ جنگ کے بعد کا ذہنی خلفشار کا بحران قراد یا۔ جبکہ جرمن سوشل ڈیموکریسی نے اسے (2)* ’’ورسیلز‘‘ یا ذہنی خلفشار کا بحران‘‘ کہا ان دونوں صورتوں میں اصلاح پسندوں نے فاشزم کے اس انتہائی اہم کردار سے آنکھیں بند کر لیں جو اس نے اس وقت اپنا یا جب عوامی تحریکیں سرمایہ داری کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کی تیاری کر رہی تھی۔
محنت کشوں کے متوقع انقلابی اقدامات سے خوفزدہ اطالوی اصلاح پسندوں نے ان کی ساری امیدیں مملکت یعنی سٹیٹ کے ساتھ وابستہ کر دیں۔ کہ سٹیٹ کے تمام دکھوں کا مداوا بنے گی۔ ان کا نعرہ تھا۔’’مدد !وکٹر عمانویل مد! ہماری مدد کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرو‘‘۔
لیکن جرمن سوشل ڈیموکریٹوں کو ایسی کسی جمہوری پناہ کی ضرورت نہ تھی کیونکہ ان کا آمر مطلق آئین سے وفا دار تھا۔ اس لیے وہ محض اس نعرے پر ہی اکتفا کر لیتے تھے۔ کہ مدد،(3)* ہنڈن برگ!ہماری مدد کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرو۔‘‘
مسولینی کے ساتھ جنگ کے دوران پسپائی کے وقت اٹالین سوشلسٹ پارٹی کے راہنما ٹوراٹی(TURATI ) نے اپنا سنہری مقولہ پیش کیا’’آدمی کو اتنا جواں مرد ہونا چاہیے کہ وہ بزدل بن سکے‘‘جرمن اصلاح پسند نعرے بازی کے معاملے میں کچھ زیادہ پر جوش نہیں تھے البتہ ان کا مطالبہ تھا کہ’’غیر مقبولیت‘‘ کے لیے تہمت چاہیے‘‘ جس کا مطلب بھی اول الذکر مقولے جیسا ہی ہے یعنی آدمی کو دشمن کے مقابلہ میں بزدلی کی وجہ سے جو غیر مقبولیت ملتی ہے اس سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔
یکساں مقاصد یکساں اثرات پیدا کرتے ہیں۔ اگر واقعاتی تسلسل سوشل دیموکریٹ پارٹی کے لیڈروں کا مرہون منت ہوتا تو ہٹلر کا مستقبل محفوظ ہو چکا ہوتا۔ تاہم اس حقیقت کو بھی ماننا پڑتا ہے کہ جرمن کمیونسٹ پارٹی نے اطالوی تجربے سے کچھ نہ کچھ ضرور سیکھا تھا لیکن بہت کم۔
اطالوی کمیونسٹ پارٹی تقریباً فاشزم کے ظہور کے ساتھ معرض وجود میں آئی لیکن انقلابی اتار چڑھاؤ کی جن کیفیات نے فاشزم کو اقتدار تک پہنچا دیا انہوں نے ہی کمیونسٹ پارٹی کے ارتقاء کو روکے رکھا۔
اس پارٹی نے فاشزم کو خطرے سے نپٹنے کے لیے کبھی بھی اپنا احتساب نہ کیا بلکہ اس نے خود کو انقلابی خوابوں میں الجھائے رکھا۔ اس کا یہ طریقہ کار متحدہ محاذ کے لائحہ عمل سے بالکل الٹ تھا۔ غرضیکہ یہ پارٹی اپنے ابتداء ہی میں’’تمام طفلانہ بیماریوں‘‘ کا شکار ہو چکی تھی۔ یہ قدر ے حیرت کی بات تھی کہ دو سال پہلے قائم ہونے والی اس پارٹی کی نظروں میں فاشزم کا ظہور’’سرمایہ داری کا عمل ‘‘ تھا۔کمیونسٹ پارٹی محنت کشوں کے خلاف پیٹی بورژوازی کی کاوشوں سے جنم لینے والے’’فاشزم‘‘ کے مخصوص کردار کو بھی سمجھنے میں ناکام رہی کچھ اطالوی کامریڈوں نے مجھے اطلاع دی ہے کہ (4)* گرامچی کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی کا کوئی فرد فاشزم کے خاتمے کے امکانات کے بارے میں بھی غور کرنے کے لیے تیار نہیں جب ایک مرتبہ محنت کشوں کا انقلاب ناکام ہو جائے سرمایہ داری اپنی جڑیں مضبوط کر لے اور اس کے حق میں ہونے والا جوابی انقلاب کامیاب ہو جائے تو اس کے خلاف ایک نئے جوابی انقلاب کے کیا امکانات رہ جاتے ہیں؟ استحصالی طبقہ (بورژوازی ) اپنے ہی خلاف کیوں کر اٹھ سکتا ہے؟ یہ وہ بنیادی امور تھے جن پر اطالوی کمیونسٹ پارٹی کے سیاسی کردار کا دارومدار تھا۔ اس کے علاوہ یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اطالوی فاشزم اس وقت ایک نیا عمل یا ایک نئی چیز تھا۔ جو ابھی اپنی تکمیل کے مراحل طے کر رہا تھا۔ چنانچہ ایسی صورت حال میں ایک بہت زیادہ تجربہ کار پارٹی کے لیے بھی اس کے ’’مخصوص کردار‘‘ کو سمجھنا بہت مشکل کام ہوتا جبکہ اطالوی کمیونسٹ پارٹی تو ابھی خود ابتدائی مراحل میں تھی۔
آج جرمن کمیونسٹ پارٹی کے لیڈروں نے عین وہیں سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا ہے جہاں اطالوی کمیونسٹ پارٹی نے اسے چھوڑا تھا۔ دونوں کے نقطہ نظر میں حیرت انگیز یکسانیت پائی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ ’’فاشزم سرمایہ داری کے خلاف رد عمل کے سوا کچھ نہیں‘‘ لیکن محنت کشوں کے نزدیک سرمایہ داری کے رد عمل کے اختلافات کوئی معنی نہیں رکھتے۔ اس قسم کی واہیات بنیاد پرستی تو بالکل ہی ناقابل معافی ہے ،کیونکہ اطالوی کمیونسٹ پارٹی کی نسبت جرمن پارٹی بہت پرانی ہے۔ نیز اٹلی میں رونما ہونے والے سانحے کے بعد مارکسزم کا علمی دامن اور بھی اور بھی وسیع ہو چکا ہے۔ جرمن پارٹی کا یہ کہنا کہ فاشزم تو یہاں پہلے سے موجود ہے اور ساتھ ہی اس حقیقت سے انکار کرنا کہ فاشزم کے اقتدار میں آنے کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں دراصل سیاسی طور پر ایک جیسے رویے کو ہی ظاہر کرتا ہے اس طرح فاشزم کے کردار کو سمجھے بغیر اس کے خلاف لڑنے کی خواہش خود بخود’’مفلوج ‘‘ ہو جاتی ہے۔
کمیونسٹ انٹرنیشنل بھی ان غلطیوں میں برابر کی شریک ہے کیونکہ اطالوی کمیونسٹ کا فرض یہی تھا۔ کہ وہ اسے ان خطرات سے آگاہ کرتے لیکن سٹالن نے (5 )* مانسکی کے ساتھ مل کر انہیں مجبور کر دیا کہ وہ خاموش تماشائی کی حیثیت سے اپنی تباہی کا تماشا دیکھتے رہیں اس سے پہلے ہم دیکھ چکے ہیں۔6 * ایر کولائی نے کس ہوشیاری اور چالاکی سے سوشل فاشزم کی پوزیشن تبدیل کر دی تھی۔ یعنی اسے اس مقام پر لے آیا تھا۔ جہاں وہ لاشعوری طور پر جرمنی میں فاشزم کی فتح کا منتظر تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *