سامراج کے انفراسٹرکچرز اور مزاحمت

سامراج کے انفراسٹرکچرز اور مزاحمت

تحریر ڈی بوراہ کوون، تلخیص وترجمہ ریاض احمد

اکتوبر2016میں میں نے اپنا سامان باندھا اور بیرون ملک سفر کے لیے روانہ ہو گئی۔ میں اپنے پیچھے ایک ایسا خطہ چھوڑے جا رہی تھی جہاں تشدد کے نوآبادیاتی انفراسٹرکچراور نسلی تشدد کے خلاف جدوجہد ابھی اپنے ابتدائی دور میں تھی۔ کینیڈا کے مختلف شہروں جیسے اسٹینڈنگ راک، فلنٹ، مسکراٹ فالز، ٹورانٹو اور بالٹیمور میں تنازعات کی شکل توانائی، پانی، سرحدات اور عوام کے تحفظ کے نام پر اقدامات جیسے حملوں کی شکل میں تھے۔ سیاہ فام افراد کے تحفظ کے لیے تحریکیں، تارکین وطن کے حقوق اور مقامی آبادی کی خودمختاری کے لیے جاری تھیں۔ اسی طرح معاشی اور ماحولیاتی انصاف کے لیے تحاریک تیزی کے ساتھ ان پرتشدد انفراسٹرکچر کے نظاموں کواپنے براہِ راست اقدامات اور تجزیات کی صورت میں سامنے لا رہی تھیں ۔ پانی کی حفاظت کے لیے لگائے گئے کیمپوں میں بڑی تعداد میں بڑھتا ہوا جوش و خروش تھا اور جب انہوں نے ڈکوٹا اکیسس پائپ لائن کا رستہ روکا توجنتی بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے اتنی بڑی تعداد میں پہلے کبھی نہ ہوئے تھے۔
دنیا بھر میں مقامی زمین اور پانی کی گزرگاہوں کو مجوزہ پائپ لائن،ٹینکر لائن ، ریل پروجیکٹ اور ہائی ویز سے بچانے کے لیے ہر طرح کے متاثرین سرگرم ہو رہے ہیں۔ یوں ڈیموں، پورٹ، ہائی ویز اور ریل انفرااسٹرکچر کی خبریں ترقی کے طورپر پیش کی جاتی ہیں تو انہی کے خلاف تحریکیں بھی قریب ہر جگہ ہی عام ہیں۔ اسی طرح جنگوں، دہشت گردی اور غربت سے در بدر ہونے والے تارکینِ وطن کے ساتھ ملک کی سرحدوں کی دفاع اور اندرونی خطرات کا بہانہ بنا کر جو سلوک ہو رہاہے اس کی وحشت نے انہی ملکوں کے عوام کو یکجہتی کے لیے متحرک بھی کیا ہے۔ اس کا ایک بڑا اظہار آج کل یورپ اور امریکہ میں ائیر پورٹوں پر تارکینِ وطن کے حق میں مظاہروں سے ہو رہا ہے۔
یہاں معاملہ محض یہ نہیں کہ لوگ دور افتادہ ممالک سے ترک وطن کر کے خوشحال کا رُخ کر رہے ہیں۔ نہ ہی بات یہاں تک محدود ہے کہ یہ سب ناہموار ترقی کی پیداوار ہیں کہ اتنے افراد کو جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ نہ معاملہ اس تعدادکا ہے اور اس میں لوگوں کی اقسام کا کہ کن کن کو کسی ملک میں خوش آمدید کہا جا سکتا ہے۔ یعنی یہ بھی نہیں کہ بوڑھے اور بچے کسی کام کے نہیں ہوتے اس لیے انہیں نہ لو اور جوان اور پروفیشنل ہنرمند ہوتے ہیں انہیں لے لو۔ یا یہ کہ سیاہ اور کاروباری ویزے جاری رہیں کہ ان سے کسی ملک میں دولت آرہی ہے اور امیر ملکوں کے صحت و تعلیم کے نظام پر بوجھ بننے والوں کو دور ہی رکھا جائے کہ مقامی ملک کے نظام پر مزید بوجھ ڈالنا ممکن نہیں۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ طاقت اور اقتدار کے رشتے ایک سماجی و تکنیکی نظام پر انحصار کرتے ہیں۔ اور یہی تیزی کے ساتھ جدوجہد کا مرکز ہیں۔
انفرااسٹرکچر کا بحران
انفرااسٹرکچر کے زریعے ایک وسیع پیمانے پر سیاسی تنازعات کا تسلسل قائم ہو جاتا ہے۔ یہ انفرااسٹرکچر نہ ہو تو یہ تنازعات خاصے مختلف اور دورافتادہ نظر آئیں۔ مثلا اب بحران یہ ہے کہ دنیا بھر میں سرحدوں کو سخت تر کیا جا رہا ہے تو ایسے میں مہاجرین کے حقوق پر ضرب پڑ رہی ہے۔ اسی طرح ملٹی نیشنل کمپنیاں کان کنی کی صنعت لے کر مسلط ہوتی ہیں تو مقامی آبادی کی زمین اور خودمختاری کا بحران ہے۔ دور دراز علاقوں کو تیز تر تجارتی نظام سے جوڑ دینے سے مقامی سطح پر روزی روزگار کا معاشی بحران پیدا ہوجاتا ہے۔ میگا پروجیکٹ کے لیے پانی کی فراہمی کا بندوبست مقامی کمیونٹی کے لیے پانی کا بحران پیدا کر دیتی ہے۔ پولیس کا تشدد اور ریاستی اداروں کی جانب سے نسلی و علاقائی بنیاد پر امتیازی سلوک ریاستی اداروں پر عدم اعتماد کا بحران پیدا کرتا ہے۔ ان تمام جدوجہدوں کے مرکز پر وہ نظام ہے جو سماجی و فطری دنیا کے نظم ونسق کو کنٹرول کرتا ہے۔ انفرااسٹرکچر کے خلاف جدوجہدیں نئی نہیں۔ البتہ یہ اس لیے وسیع تر ہوتی جا رہی ہیں کیونکہ دنیا کا انحصارتیزی کے ساتھ مالیات، سیکورٹی اور لاجسٹک پر ہوتا جارہا ہے۔
انفرااسٹرکچر ایسے نظام ہیں جنہیں مل جل کر تعمیر کیا جاتا ہے تا کہ انسانی زندگی کی تعمیر و ترتیب ممکن ہو۔ ہم انفرااسٹرکچر کی تعمیر کرتے ہیں اور انفرااسٹرکچر ہماری تعمیر کرتا ہے۔ انفرااسٹرکچر محض پائپ، روڈ، ریل ہی نہیں بلکہ یہ ہمارے تخیلات پر اجارہ داری حاصل کر لیتا ہے۔ سماجی انفرااسٹرکچر بھی اسی طرح تعمیر کیے جاتے ہیں اور دوراست نتائج کے حامل ہوتے ہیں۔ جب انفرااسٹرکچر کام کرتے ہیں تو ہمارے لیے خوراک، پانی، وسائل ، کنزیومر اشیاء، انفارمیشن، سیکورٹی اور ہمارے چاہنے والوں سے تعلق ممکن ہوتا ہے۔ لیکن جہاں انفرااسٹرکچر انسانی ضروریات کی تقسیم ممکن بناتے ہیں وہیں یہ از خود غیر ہموار طور پر تقسیم ہیں اور یہی ہمارا تعلق بناتے بھی ہیں بننے سے روک بھی سکتے ہیں۔ انفارمیشن کی کہانی بھی کچھ یونہی تو ہے کہ یہ ہمارا تعلق مقطع رکھتی ہے، گھیر کے رکھتی ہے اور ہم سے اپنا چھین لیتی ہے۔ انفرااسٹرکچر کی ہی وجہ سے نظام میں وہ ناانصافی رچ بس جاتی ہے جو سیاسی نظر آنے کے بجائے تکنیکی وجوہات کی وجہ سے ناانصافی نظر آتی ہے۔ اور یوں یہ ناانصافی تعلقات کو فطری بنا ڈالتی ہے۔ اور انفرااسٹرکچر محض موجودہ عدم برابری کا عکس نہیں بلکہ یہ نئی شکلوں کو رچا بسا دیتی ہے اور مزید بگاڑ پیدا کردیتی ہے۔
انفرااسٹرکچر کی ناانصافی صرف اس کی کمی کی وجہ سے نہیں۔ اکثر جب لوگوں کو صاف پانی نہیں ملتا تو اس کی وجہ پانی کی کمی نہیں ہوتی۔ جب ٹرانسپورٹ شہروں کی اکثریت کے لیے دستیاب نہیں ہوتی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ شہر میں مراعات یافتہ بھی ٹرانسپورٹ سے محروم ہیں۔ بعض اوقات یہی انفراسٹرکچر ضرورت سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ مثلا سیکورٹی اور عوام پر نظر رکھنے کا انفرااسٹرکچر ہی ہے جو مقامی افراد اور امتیاز کا شکار کمیونٹیوں پر نظر رکھنے کے لیے بہت زیادہ ہے۔ یا پھر ہائی وے کا انفرااسٹرکچر لوگوں کی بود و باش چھین کر انہیں بے دخل کر کے بنایا جاتا ہے۔ یوں انفرااسٹرکچر کی یہ صلاحیت کہ یہ لوگوں کو محدود بھی کر رکھتا ہے اور انہیں رابطے میں بھی لاتا ہے ایک اہم خصوصیت ہے۔ چاہے بڑے کنال پروجیکٹ ہوں یا پھر چھوٹے ہائیڈرو ڈیم ان میں ہم بارہا یہ دیکھتے ہیں کہ انفرااسٹرکچر پروجیکٹ وسائل، جگہ اور رشتے تو لاتے ہیں لیکن یہ کچھ کی پہنچ میں ہوتے ہیں اور بڑی اکثریت انہی کی دسترس سے باہر۔
آج ہم مخصوص انفرااسٹرکچر کے گرد جو اُبال دیکھ رہے ہیں، اور جو سماجی تحریکیں گزشتہ کچھ سالوں سے اسی کے گرد تعمیر ہو رہی ہیں یہ اس بابت اشارہ ہے کہ انفرااسٹرکچرکے تشدد اور عدم برابری نہ صرف طویل مدتی ہیں بلکہ یہ ابھی بھی جاری ہیں۔انفرااسٹرکچر وقت کے پار چلے جاتے ہیں، یہ ماضی اور مستقبل میں ناہموار رشتے تعمیر کر دیتے ہیں اور اسی ناہمواری کو برقرار رکھنے کا سبب بھی ہوتے ہیں۔ نوآبادیاتی اور سیٹلر نوآبادکاری کے پیرائے میں انفرااسٹرکچر عوام سے چھین لینے کا زریعہ رہااور اسی طرح وہ مادی قوت بن جاتا جس کے زریعے نوآبادکار معیشتوں اور سماجوں کو مسلط کیا جاتا۔

گزشتہ دو صدیوں سے مغربی لبرل ریاستوں میں سیاسی زندگی کو قومی جغرافیہ کے گرد پیش کیا جاتا اور یہ مان کر چلا جاتا کہ ریاست ہی طاقت کا اصل سرچشمہ ہے اور بعض جگہ تو یہ تک کہ مقامی زمینوں و وسائل تک پر ریاست کو بالادست قرار دے دیا گیا۔ اور جہاں انفرااسٹرکچر سرحدی ریاستوں کی تاریخی تشکیل کا جواز بنتا یہی ان ریاستوں کے آر پار اور اندر باہر بھی بنتا چلا جاتا اور یوں مختلف النوع سیاسی زندگی اُبھرنے لگتی۔ جس طرح پانی کی پائپ لائنوں کا جال ہوتا ہے اسی طرح بجلی کے گرڈ اسٹیشن ایک جال پر اہم مقامات ہیں اور اسی طرح مواصلاتی نظام بھی۔ایسا ہی جال یا نیٹ تجارت کا بھی ہے ۔ یہ قومی ریاستوں کے اوپر تلے اور ان کی سرحدات کے آر پار ہے چاہے یہ شہری ہوں، صوبائی ہوںیا قومی سرحدات ان سب کے اطراف یہی تجارتی نیٹ ورک ہے۔ شہروں میں عمارتوں کا جال ملٹی نیشنل نیٹ ورک کے نکتے سمجھے جا سکتے ہیں۔
اور آج جب اسی انفرااسٹرکچر کا بحران پیدا ہوتا ہے تو یہقومی اجارہ داری کی شہریت ،حیثیت اور حاکمیت پر ہی سوال اُٹھا دیتا ہے۔ یہ سوال اُٹھنے لگتا ہے کہ آیا ہم قومی ریاست کے پیرائے میں یکجا ہیں یا پھر ہم اوپر تلے حدود، ملٹی نیشنل کے چنگل یا تیزی سے اربن آئیزیشن کے جال میں یکجا ہیں۔ یہ تو ہے کہ سیاسی شناخت اور قانونی ڈھانچہ ابھی بھی ایک شہری کو قومی سرحد کا پابند بنائے ہوئے ہے۔ لیکن جو چیلنج ہمارے ارد گرد ہے وہ یہ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ مختلف قسم کے تانے بانے ہیں جو حقیقتا، مادی طور پر ، لوگوں کو آج یکجا کیے ہوئے ہیں۔
انفرااسٹرکچرمیں سرمایہ کاری
کم و بیش سب ہی یہ کہتے ہیں کہ انفرااسٹرکچرکو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ جو بھی چیز چلتی ہے اس کا دارومدار انفرااسٹرکچرپر ہی ہے۔ تیل، کھانے پینے کی اشیاء، فوجی ساز و سامان اور روزمرہ کی ٹرانسپورٹ سب ہی انفرااسٹرکچرکے بغیر ممکن نہیں۔تیز تر تجارت اور بروقت اور لامحدود فاصلوں کو طے کرنا اب نہایت ضروری ہو گیا ہے۔ اسی لیے عالمی مالیات اب بہت بڑے پیمانے پر وسیع تر انفرااسٹرکچرپروجیکٹس پر صرف کیے جاتے ہیں۔ پورٹ، ہائی ویز، جیل خانے، توانائی کے ڈھانچوں پر سرکاری اور نجی انوسٹمنٹ فنڈ موجود ہیں۔ دس سال قبل عالمی مالیاتی بحران آیا تو اسی انفرااسٹرکچرکے زریعے ہی اس بحران سے نکالنے کے لیے سرمایہ کاری کی گئی۔ کان کنی کی صنعتوں اور کاروباری ریاستوں کے بیچ اس بات پر اتفاق ہے کہ ان کا مشترکہ مفاد اور منازل انفرااسٹرکچرپر ہی منحصر ہیں۔ بناء انفرااسٹرکچرزندگی وہ نہ رہے گی جسے ہم آج گزراتے ہیں۔
اور روزمرہ زندگی کو یہی خطرہ ہی ہر سطح کے انفرااسٹرکچرکی بابت بہت بڑے پیمانے پر تشویش ابھار دیتا ہے۔ پھر اسے تقویت نجی سرمایہ کار کمپنیوں سے ملتی ہے کہ ان کا مفاد یہ ہے کہ یہ اپنا سرمایہ اسی طرح کے معاملات میں لگاتے جائیں۔ شہری حکومتیں تو انفرااسٹرکچربہتر کر کے ہی رہنے والوں کے معیار کو بلند ہوتا دیکھتی ہیں، ٹریفک کا رش کم ہو جائے، وغیرہ وغیرہ۔ صوبے اور ریاستیں دوڑ دوڑ کر سڑکوں اور شاہراہوں کی از سرِ نو تعمیر کر تی ہیں۔ قومی حکومتیں تو اپنی ریاست کے تمام مسائل کا حل انفرااسٹرکچر میں ہی دیکھتی ہیں، یوں اونچی اونچی دیواریں اور پل تعمیر ہو رہے ہیں جن کی نجکاری کر دی جاتی ہے اور انہیں نجی سرمایہ ہی سرمایہ فراہم کرتا ہے۔ ورلڈ بنک نے تو انفرااسٹرکچرکے میلان کو ہی اپنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ملٹی نیشنل تجارت کی دنیا میں قومی معیشتوں کا مقابلہ ہی اسی انفرااسٹرکچرکی دوڑ میں ہو گا۔چین نے نہ صرف یہ کہ دنیا بھر میں ڈرامائی انداز میں انفرااسٹرکچرپروجیکٹس میں سرمایہ کاری کی ہے بلکہ اسی نے ایشیائی انفرااسٹرکچربنک کو ورلڈ بنک کے مدِ مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ اسی طرح اب کینڈا کا اپنا انفرااسٹرکچربنک ہے جو متحرک انداز میں نجی سرمایہ جمع کر رہا ہے تا کہ اہم ترین عوامی انفرااسٹرکچراثاثے جیسے ہوائی اڈوں کی خرید ممکن بنا سکے۔
جس طرح سے ریاستی اور کارپوریٹ سطح پر انفرااسٹرکچرکے منصوبے سامنے آرہے ہیں ان سے خطرہ یہی ہے کہ مستقبل ایک نوآبادیاتی حکمرانی، زیرِ زمین ایندھن کے بڑھتے ہوئے استعمال اور مالیاتی سرمائے کا ہی ہے۔ یقیناًیہی وجہ ہے کہ موجودہ سیاسی اُبال اسی لیے انفرااسٹرکچرکے گرد پیدا ہو رہا ہے۔ اور جہاں تنازعات موجود ہیں وہ ضروری نہیں کہ نئے تنازعات بھی ہوں۔ انفرااسٹرکچرہی وہ زریعہ ہے کہ جس سے پرانے امپائر اپنے ماضی کے نوآبادیات کو چلائے رکھنے کی جدوجہد میں مصروف رہتا ہے۔ جب کوئی نوآبادیات سے آزاد ملک ماضی کے ظلم و ستم کا مداوا چاہتا ہے تو اسے اس کے بدلے میں انفرااسٹرکچرکا ہی دلاسا دیا جاتا ہے۔قومی زخم کا علاج بھی انفرااسٹرکچر۔
بڑے پروجیکٹوں کے لیے گزرگاہوں اور زمینوں پر قبضے کے بدلے میں ریاستیں عوام کو انفرااسٹرکچرکے ہی وعدے کرتی ہیں۔ ہائی وے کے بدلے اسکول، کالج، ہسپتال، روزگار کے مواقع۔ یہ رقم خرچ کر کے سمجھا جاتا ہے کہ انفرااسٹرکچرسے جو مسائل ہیں ان کا حل تکنیکی ہے جبکہ ان کا حل سیاسی ہے۔یوں یہ گارا نہیں جسے ہموار کرنا ہے، پائپ نہیں جسے سیدھا لگانا ہے یا تار نہیں جسے تبدیل کرنا ہے۔ بلکہ انفرااسٹرکچرتو انصاف اور ناانصافی کے لبادے میں موجود ہے اور جو جدوجہدیں اسکے خلاف ہیں وہ یہی بتلا بھی رہی ہیں۔ مقامی آبادی کو بہت بڑے پیمانے پر بے دخل اور بے سروساماں کیے بغیر کوئی بڑا منصوبہ تعمیر ہی نہیں ہو سکتا۔
(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *