لبرل بلاگرز کا اغواء اورعدم برداشت

لبرل بلاگرز کا اغواء اورعدم برداشت

تحریر:سرتاج خان

’پہلے پہل وہ سوشلسٹوں کے پیچھے آئے، میں کچھ نہ بولا،کیونکہ میں سوشلسٹ نہ تھا۔
پھروہ ٹریڈیونین والوں کے پیچھے آئے، اورمیں کچھ نہ بولا، کیونکہ میں ٹریڈ یونین والانہ تھا۔
تب وہ یہودیوں کے پیچھے آئے، اورمیں کچھ نہ بولا، کیونکہ میں یہودی نہ تھا۔
تب پھروہ میرے پیچھے آئے، اورکوئی نہیں بچاتھاکہ وہ میرے لئے کچھ بولتا۔‘
یہ ایک جرمن مارٹن نومیمولر(18921501984نے جرمن دانشوروں کی بزدلی پرلکھاجب جرمنی میں ہٹلرکی سرکردگی میں نازی مظالم وجبرکے خلاف آوازنہ اٹھائی گئی اورایک مشترکہ جدوجہد کے بجائے ہرایک نے اپنے بچنے کی فکرمیں خود کوجبرکاشکارپایا۔
جب سرمایہ دارممالک ترقی اورجنگ کے لئے آگے بڑھتے ہیں اور اسکی یکسواورمتحدہوکرمخالفت نہ کی جائے تواس کاخمیازہ سب کوہی بھگتناپڑتاہے اورپاکستان میں یہی ہورہاہے۔ سامراج کی دہشت کے خلاف جنگ میں اب چین کی ترقی کے پوداکی پیوندکاری بھی ہوگئی ہے۔اب اس پندرہ سالہ جنگ میں گزشتہ تین سال سے جاری سی پیک کی شاخ کی پیوندکاری کے بعد اس متضاد خصوصیات کے حامل درخت کی بڑھتوری کے لئے ضروری ہے کہ حقوق کی ہر جدوجہد اورہرمخالف آوازکوجبرسے خاموش کیاجائے۔ سرمایہ دارانہ اورجنگ اورترقی کے لئے ضروری ہے کہ ان بے لگام سرمایہ دارانہ منصوبوں کی قیمت عوام سے چکائی جائے اوریہ جبرکی شکاراقوام، چھوٹے فرقوں ومذاہب،مزدورطبقہ کے استحصال اورماحولیاتی تباہی کی قیمت پرہورہاہے۔
دہشت کے خلاف جنگ میں اسلام پرستوں کے خلاف ڈرون حملوں اورفوجی آپریشنوں کی حمایت یہ کہہ کرکی گئی کہ ہمارے پاس اس عفریت سے نمٹنے کی کوئی صورت نظرنہیں آرہی تھی۔ اگرچہ پاکستان کی سول سوسائٹی نے 2007تا 2010کسی نہ کسی شکل میں ایک عوامی مہم وکلاء4 تحریک کی صورت میں چلائی اورحکمرانوں کوکمزورکیا۔ مگرجیسے ہی یہ تحریک پسماندگی کی طرف مائل ہوئی حکمران لوٹ کرآگئے۔ سوات اورفاٹامیں فوجی آپریشنوں کی کھل کرمخالفت نہ کرنے کی وجہ سے صرف مالاکنڈ 35لاکھ بے دخل کئے گئے۔ بے دخلی اورقتل وغارت گری کایہ سلسلہ ہنوزجاری ہے۔
لبرل کے اس دلیل میں حقیقت ہے کہ سماج میں عدم برداشت بڑھ گیاہے۔ اگرسامراجی طاقتیں اورریاست کے روئے سخت ہوجائیں توظاہرہے اس کے سماج پرگہرے اثرا ت سے کون انکارکرسکتاہے۔ سامراجی طاقتیں، ریاست اپنے ہربحران کی قیمت جب عوام سے وصول کرنے نکلتے ہیں تویہ اپنے بنائے گئے قوانین کوناکافی سمجھتے ہیں اوران کی کھلی خلاف ورزی کے مرتکب ٹہرتے ہیں۔ اس کے جواب میں عوامی ردعمل بھی عدم برداشت سے باہرہونے پرچنداں حیرانی نہیں ہونی چاہئے۔ اس لئے مزاحمت کاروں کے لئے چے گیورا کی ‘گوریلاجنگ’ سے زیادہ رغبت اب فینن کی ‘افتادگان خاک’ میں پیداہوگئی ہے۔عدم برداشت کامنبع طاقتورہوتے ہیں مظلوم نہیں۔آپ جابرانہ قوانین اورآپریشنوں کی معضرت خواہی یہ کہہ کرنہیں کرسکتے کہ یہ سرجیکل ہوں گی،یعنی ان کانشانہ صرف وہ بنیں گے جن کے نام پریہ قوانین بنائے جاتے ہیں یا جن کے نام پرفوجی آپریشن ہوتے ہیں۔ یہ عمومی ہوتے ہیں۔ اوران کااثرپورے سماج پرپڑتاہے۔ ہمارے سامنے انسداد دہشت گردی کا قانون ہے جو مزدوروں، مظلوم اقوام سے لے کر لیڈی ہیلتھ ورکرزکے خلاف تک استعمال ہوا۔
چارلبرل بلاگرزکے اغواء کے بعد ان کے خلاف مذہبی منافرت کے پھیلانے جیسے قوانین کے استعمال کابھی ڈرپیداہوگیاہے۔ ریاستی اداروں کے ہاتھوں اغواء4 نے اس طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔ وہ سب جو پیپلزپارٹی کوسوشل ڈیموکرٹیک اورلبرل سیکولرسمجھ کراسکی حمایت کرتے ہیں یا وہ ترقی پسندجو نوازشریف کوقومی سرمایہ داروں کانمائندہ سمجھ کر ان کی ہرعوام دشمن پالیسیوں کی معذرت خواہی کرتے ہیں، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ چھوٹے مذاہب اوراقلیتی فرقوں سے لے کرآزادیوں پرقدغن لگانے والے تمام قوانین ایک یادوسرے بہانے سے انہی پارٹیوں نے پارلیمان سے منظورکروائے۔ اوراس کارخیرکی بنیاد ذوالفقارعلی بھٹونے اپنے دورمیں رکھی جس پردیوارضیاالحق نے تعمیرکی اوراس دیوارکی درستگی میں پی پی پی اورنوازلیگ 1988کے بعد سے لگی ہوئی ہیں۔
یارلوگ یہ کہہ کرامریکہ بہادر اوران کے حواریوں کی دہشت کے خلاف جنگ کی حمایت کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اسلامی بنیاد پرستی سے نجات دلادے گا۔ ان کویہ دیکھنے کے لئے افغانستان میں قوانین کاایک جائزہ لیناضروری ہے اورمشرقی وسطی میں سعودی عرب سے لے کرداعش اورالقائدہ کے گروہوں کی پشت پناہی کونظرمیں رکھناچاہئے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ اس غلط فہمی سے نکلاجائے کہ امریکہ بہادرکی جنگ، چین کے ترقیاتی منصوبے اورپاکستانی ریاست کے فوجی آپریشن کسی روشن خیالی پروجیکٹ، ترقی پسندی کے کسی اسکیم کاحصہ ہیں۔ ہمیں ان سب کے خلاف ہرعوامی جدوجہد کاساتھ دیناہوگا۔جبری گم شدگی ، ماورائے عدالت قتل چاہے کسی کابھی ہواس کی کھل کرمزاحمت اورمذمت کرنی ہوگی۔ تب وہ صورت پیدانہ ہوگی جس کاسامنا جرمنی میں نازی دورمیں ہواتھا۔اکسویں صدی کے آغازپرصورتحال 1916جیسی ہے جب پہلی جنگ عظیم کے آغازکے آثارنظرآرہے تھے۔ لیکن 1917وہ سال بھی ہے جس میں روسی انقلاب بھی برپاہوا۔ حالات دونوں طرف جاسکتے ہیں۔ کل ہی روزالکسمبرگ کی سالگرہ تھی جوجرمن انقلاب کے دوران جان سے گزرگئی تھی، اس نے کہاتھا: ایک رستہ سوشلزم اوردوسرابربریت کی طرف جاتاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *