کراچی میں تشدّد کی بدلتی شراکت داریاں

کراچی میں تشدّد کی بدلتی شراکت داریاں

تحریر:علی ارقم

وسیم اکرم نے ایک انٹرویو میں مغربی میڈیا کی پاکستان کے بارے میں رپورٹنگ کو لے کر سوال کے جواب میں کہا تھا کہ انہیں تو پاکستان میں ہمیشہ جلتا ہوا ٹائر ہی دکھانا ہوتا ہے۔ اب وسیم اکرم کی اس شکایت کو محل نظر سمجھیں یا اتفاق کریں لیکن اگر کراچی کے حوالے سے پاکستان کے اپنے میڈیا کا مجموعی رجحان دیکھا جائے تو ایسی ہی صورت حال نظر آتی ہے۔ جس کا نام پچھلی کئی دہائیوں سے بْری خبروں کے ساتھ ہی جڑا نظر آتا ہے اور اس کا نام تشدد، جلاؤ گھیراؤ اور مرنے والوں کے بڑھتے گھٹتے اعداد و شمار کا عترادف ہی ٹہرتا رہا ہے۔
کراچی باقی ماندہ پاکستان کی طرح اْفقی و عمودی تقسیم کا شکارتو ہْوا ہی ہے لیکن یہاں اس تقسیم کے بیچ کی لکیریں اکثر خون سے کھینچی جاتی رہی ہیں ، تقسیم ہند کے بعد سے پھلتے پھولتے اور تسلسل سے پھیلتے کراچی کی جانب رْخ کرتی ہجرتوں اور نقل مکانیوں نے اس شہر کے مکینوں میں جس تنوّع اور رنگارنگی کو جنم دیا تھا، وہاں سیاسی ضرورت، طاقت و اختیار کی کشاکش ، بنتی بگڑتی شراکت داریوں اور نئے رولز ا?ف گیم طے کرنے کے خاطر بروئے کار لائے جانے والے تشدّد نے اس تنوّع کو تصادم کی راہ پہ لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا ہے۔
پھر ریاست کی جانب سے یہاں اپنی ضرورتوں کی خاطر تشدد کی اجارہ داری کا دائرہ مْختلف اوقات میں مْختلف فریقوں تک پھیلایا جاتارہا ہے اور اگرکوئی فرق رونما بھی ہوا تو وہ اس تشدد کی ریاستی اجارہ داری میں شراکتوں کی نوعیت اور دورانئے کا ہے۔کبھی یہ شراکت ایک خاص موقع پر ردعمل کے اظہار تک رہی تو کبھی اس کا سلسلہ سالوں پر مْحیط ہوا کسی کے ساتھ ٹرانزکیشنل ریلشن شپ قائم رہی تو کسی سے طویل یا مستقل ربط وضبط رہا۔ کوئی متلون مزاج فریق تھا یا اْس کی سودے بازی کی پوزیشن مْستحکم ہوئی تو وہ مْقابل بھی آگیا جسے قابو کرنے کے لئے ریاست کو زیادہ پْختہ کار کھلاڑی میدان میں لانے پڑے۔
بات بہت بڑھی تو ریاست حرکت میں آگئی اور باہم مْتصادم فریقوں کو کٹ ٹو سائز کرنے لگی جس کی ریسیونگ سائڈ پر موجود فریقوں نے اگر ہیڈ آن ٹکراؤ کی راہ پکڑی توسرکشی پر مائل فریق کی سرکوبی کے لئے نئے شراکت دار ڈھونڈ ے گئے اور جیسے ہم نے کہا کہ یہاں تو اجارہ داری کی خاطر بھی شراکت داریاں بنانے کا چلن عام رہا ہے۔یوں تھوڑی سی تگ و دو، کچھ جبر اور کچھ طاقت واختیار کا لالچ سو جلدہی پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے کی مصداق کبھی نئے فریق اْتارے گئے تو کبھی پرانے فریقوں کے درمیان سے نئی دعاوی کے ساتھ لوگ اْٹھے اور پولیس موبائلوں اوربکتر بند گاڑیوں کی جلوس میں علاقے فتح کرنے پہنچ گئے۔ اسی لئے ایوب دور کے سانحہ لیاقت آباد، ستّر کے اوائل کے لسانی تشدّد، علی بستی کے گھیراؤ، سہراب گوٹھ کی فتح ، سانحہ علی گڑھ، سانحہ پکّا قلعہ، بانوے کی پْر آشوب دہائی، ایم کیو ایم حقیقی کا اْبھرنا، سیاسی کارکنوں کا ماورائے عدالت قتل، کراچی سے دوسرے صوبوں میں بھیجے جانے والے تابوت، پولیس افسران اور سپاہیوں کی ٹارگٹ کلنگ، شیعہ نسل کْشی کا نہ رْکنے والا عمل،عبادت گاہوں پر حملے، بیت الحمزہ کا انہدام، بارہ مئی، بے نظیر بھٹّو کی شہادت کے بعد کا تشدّداور لوٹ مار ، رضا حیدر کی شہادت کا پْرتشدّد ردّعمل ، رئیس امروہوی کالونی پر چڑھائی، کوئٹہ ہوٹلز پر حملے، پشتونوں کا معاشی قتل عام، امن کمیٹی کا عروج،مْخالفین پر بہیمانہ تشدد کی ویڈیوز کا اجراء ، معاشی جرائم کا بڑھتا ہوا گراف، طالبان کی آمد، سیاسی جماعتوں کے عہدے داروں اور کارکنوں کا قتل، مائیکل ٹاؤن میں مسیحی بستی کے مکانوں کو نذر آتش کیا جانا ،غرض ماضی کی دہائیاں ہوں یا حالیہ لسانی تشدّد کے بدترین سات سال، ان کے درمیان اگر کوئی قدر مشترک ہے تو وہ دفعتاً واقع ہوجانے والے بیشترواقعات کے پس منظر میں کارفرماواضح رجحانات اور مْنظّم عمل کی موجودگی ہے جس کے لئے فرنچ ماہر بشریات اور کراچی پر لکھی گئی کتاب کے مْصنّف لارینٹ گائر ‘آرڈرڈ ڈس آرڈر(منطم بدنظمی)’ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔درحقیقت یہ تشدّد کے اس پورے عمل میں ریاست کی اجارہ داری، شراکت داری ، خاموشی یا کسی خاص قسم کے تشدّد کے لئے برداشت پیدا کرلینے کاواضح اظہار بھی ہے۔
الغرض بنتی بگڑتی شراکت داریوں کے اس طولانی سلسلے ،ریاستی اور غیرریاستی تشدد کی اس آگ کا ایندھن یہاں بسنے والی متنوع قومیتی اکائیاں ہی رہی ہیں جن کے حصّے میں اس کھنچا تانی کے بیچ کئی دہائیوں پر پھیلے مْنظم تشدّد کے اْن ڈھیر سارے واقعات کی یادیں ہی ہیں جو ایک دوسرے کے خوف کو اور باہم بداعتمادی کومہمیز دینے کا کام کرتی رہی ہیں۔ اس خوف کے زیرسایہ علاقے الگ ہوئے اور سڑکیں بانٹی گئیں ، نقل مکانیاں ہوئیں، مکان، دْکان اور جائیدادیں اونے پونے بکیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کراچی کی طرف دہشت گردی کی زد میں آئے علاقوں کے لوگوں کا بہاؤ سْسست روی کا شکار بھی ہوا، بہت سے لوگ اپنے آبائی علاقوں کو لوٹے یا مْتبادل مقامات کا رْخ کیا،پھر معاشی بنیادوں پر نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد پر بھی فرق پڑا ہے۔ کراچی سے صنعتوں کی مْنتقلی اور نتیجتاً لیبر فورس کا دوسرے شہروں کا رْخ کرنے کی رپورٹیں گاہے گاہے سامنے آتی رہتی ہیں۔
دو ہزار بارہ میں جب کراچی میں پاکستان کی صنعتی تاریخ کا سب سے بڑا حادثہ رونما ہوا جس میں لگ بھگ تین سو لوگوں کو جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا تو ایک ماہنامے کے لئے انہی دنوں لکھے گئے ایک مضمون میں، میں نے لکھا تھا ، ‘کراچی کا منظر جو جلتی ہوئی منی بس یا رکشہ، تالے پڑی ہوئی دْکانوں کی تصویروں ، فلاحی تنظیموں کے لیبلز لگے کفن اور تابوتوں، ایمبولینسز کے سائرنز کے ساتھ پیش کیا جاتا تھا اب اس میں ایک جلتی ہوئی فیکٹری کی فوٹیج بھی شامل ہوگئی ہے’۔وہ شہر جوبدلتی سیاسی حقیقتوں ،لسانی تقسیم اور تشدد کے ہاتھوں بارہا تاراج ہوااور لیبر تحریکات دفن ہوئیں، اب کے بار وہاں صنعتی بدعنوانی کے ہاتھوں مزدوروں کی اجتماعی قبریں بن گئیں۔ جو لوگ مزدوروں کو مذہبی اور لسانی حوالوں سے شناخت دینے کے آرزو مند رہے ہیں، انہیں بھی شاید ایک لمحے کو فیکٹری کے ملبے سے برآمد ہونے والی ان چھبیس ناقابل شناخت لاشوں نے ضرور مشکل میں ڈال دیاہوگا، کہ نہ ان کے رنگ کی پہچان ممکن تھی نہ قومیت کی، نہ ہی ان کا مذہب و مسلک پہچانا جاسکتا تھا۔
پھر لیبر رائٹس کے عنوان تلے کام کرنے والی چند این جی اوزنے قانونی جنگ کا راستہ اختیار کیا۔ جب کہ عوام کی نمائندہ جماعتوں کی سرگرمیاں شروع کے دنوں میں متاثرین اور پسماندگان کو لسانی شناخت اور سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے لئے فیکٹری کے باہر قناتیں کھڑی کرنے اور بعض مواقع پر امداد کے طور پر دی جانے والی رقوم کی تقسیم میں شراکت تک رہی اور کچھ سیاسی قائدین نے جائے وقوعہ کے دورے کرکے مالی اعانت کے وعدوں پر اکتفا کیا( جن میں سے پیشتر ایفاء نہ ہوئے)۔
جب سانحے کی وجوہات ڈھونڈنے کی باری آئی تو سیاسی فریقوں کی جانب سے حادثے کی تحقیقات مینی پولیٹ کئے جانے کے الزامات لگے، فیکٹری کے مالکان کی لاڑکانہ سے ضمانتیں کرائی گئیں ، وزیر اعظم گیلانی کی جانب سے سفارشی کالز کے تذکرے پارلیمینٹ میں زیر بحث آئے۔ اورپھرشواہد کے بجائے تاثر کو بنیاد بناکر واقعے کو سازشی مفروضوں اور چہ مگوئیوں کی نذر کردیا گیا۔گزشتہ برس اس واقعے کی بازگشت تب سْنائی دی جب سیاسی قوتیں زیر عتاب آئیں اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی رو میں بہ کرایم کیو ایم پر آگ لگانے کا الزام دھر کر پورے حادثے کوسبوتاڑ کا عنوان دے دیاگیا۔ اس نئے بیانیے میں مرنے والے مزدورپس منظر میں چلے گئے اور فیکٹری مالکان مظلوم قرار پائے۔ ان کے بیانات لئے گئے تاکہ حسب منشاء رْخ پر معاملہ پھیرا جاسکے۔ اس پر بھی بات آگے نہ بڑھی لیکن اتنا ہوا کہ مالکان کی جانب سے فیکٹری کے ڈیزائن سے لے کر تعمیر ، مزدوروں سے کم اْجرت پر کام لینے سے لے کراْنہیں بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی اور سیفٹی کے تقاضوں سے غفلت تک ہرمعاملے میں بے ضابطگی، کوالٹی اور سیفٹی کی سرٹییفیکیشن اور اس کمپنی کے ساتھ کاروباری شراکت داری کرنے والی کثیر القومی کمپنی کو ہرطرح کی ذمہ داری سے بری الذمہ قرار دئیے جانے کی راہ کْھل گئی
اب ریاست کے اداروں کی جانب سے تشدّد بروئے کار لانے کے لئے مروّجہ ضابطوں کو خاطر میں نہ لانا اور اس حوالے سے کسی اندرونی جواب طلبی کا نظام نہ ہونا انہیں کسی طور ان قوتوں سے برتر اور بہتر ثابت نہیں کرتا جن سے لڑنے کے لئے وہ میدان میں اْترے تھے۔اسی لئے کراچی میں اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اقدامات کے باعث امن عامہ کی صورت حال بہتر ہوئی ہے تو دوسری جانب ان اداروں کو کْھلی چھوٹ مل جانے کے باعث عام لوگ اگر ان کی زد پر آتے ہیں تو ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔جیسے پولیس تھانوں کے گرد بْنا ہوا بھتّہ خوری کا نظام جس میں بعد ازاں سیاسی جماعتوں کی شرکت اور حالیہ برسوں میں طالبان کی شمولیت کے باعث پولیس کا کردار محدود ہوگیا تھا۔ ان دنوں ان قوتوں کے کمزور پڑجانے سے دوبارہ سے بحال ہوگیا ہے اور اس کا دائرہ بڑھ کریہ سلسلہ ٹھیلے والوں ، خوانچہ فروشوں اور کیبن اور کھوکے چلانے والوں تک پھیل گیا ہے۔ پولیس کے براہ راست رول کے باعث اس کی شرح افسوس ناک حد تک زیادہ ہے جیسے ایک پان، گٹکا اور چھالیہ کیبن والے نے استفسار پر بتایا کہ وہ دن کے تین سو روپے پولیس کو ادا کرتا ہے ، چوں کہ علاقہ دو تھانوں کی حدود کی سرحدپر ہے اس لئے انہوں نے کلیکشن کے اوقات کار بانٹ لئے ہیں ایک تھانے کی موبائل صبح ڈیڈھ سو لے کر جاتی ہے جبکہ دوسری شام کو آتی ہے جو پان، گْٹکا اور چھالیہ جاتا ہے اس کا کوئی حساب نہیں ہے۔
ایسا ہی کچھ حال کراچی میں تشدد و بدامنی کے واقعات ، اس کے پس پردہ کارفرما عوامل ، مختلف ذمّہ داروں کے ناموں کی تکرار، چھاپوں، گرفتاریوں ، پولیس مْقابلوں اور سیاسی اختیارات کی نئی کھینچا تانی تلے دب جانے والی مقتولین کی طویل فہرست کا ہے۔ جو صرف ماہ و سال کے عنوان تلے ترتیب دیئے گئے اعداد و شمار تک محدود ہے جسے یہ سال اچھا ہے کی روایتی گردان کے لئے تقابلی موازنہ کرنے کے لئے پیش کیا جاتا ہے۔جس طرح حالیہ برس کے جاری کئے گئے اعداد و شمار پر اس لحاظ سے خوشی کا اظہار کیا گیا کہ نامعلوم قاتلوں کی گولی کا نشانہ بننے والے افراد کی تعداد میں قابل ذکر حد تک کمی آئی ہے لیکن ان اعداد و شمار کے مقابل قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں نامعلوم جرائم کی پاداش میں قتل ہونے والوں یعنی جعلی پولیس یا رینجرز مقابلوں میں ہلاکتوں یا مار کر لاشیں پھینک دینے کے واقعات میں نمایاں اضافہ سوائے ایک آدھ نیوز رپورٹ کے کسی خاص توجہ کا مستحق نہیں ٹہرا۔ اگرچہ ایسے اکثر واقعات میں مقتولین یا تو نامعلوم ہیں یا ان کے کوائف کچھ خاص اہمیت نہیں رکھتے چوں کہ انہیں کسی کالعدم تنظیم سے جوڑ دئیے جا نے کا چارج اور پولیس پارٹی کو لیڈ کرنے والے افسران کی شہرت یہ جاننے کے لئے کافی ہے کہ ان کا یہ انجام کیوں کر ہوا۔
بہت سے لوگوں کے لئے پولیس مقابلوں کی خبریں یا عام لوگوں سے روا رکھا گیا رویہ کوئی خاص اچنبھے کی بات نہیں کیوں کہ یہ شاید کوئی نئی بات نہیں ہے۔پھر دہشت گردی کی جنگ کے نام پر کی گئی صف بندی میں لکیر کے دونوں طرف صف آراء اور رجز پڑھتے جنگجو یا ان کی پشت پر جوش وجذبے کو مہمیز دینے والے نغمہ سراء طبلچی اور قصیدہ خواں احباب اس جنگ میں کسی قسم کے ضابطوں یا اْصولوں کو خاطر میں لائے جانے کے ہرگز حق میں نہیں ہیں اور اس حوالے سے کسی بھی دلیل کو مْخالف فریق کی جانب سے کئے گئے کسی اقدام کا حوالہ دے کر پس پْشت ڈال دیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *