کراچی حیدرآباد موٹروے کی تعمیر

کراچی حیدرآباد موٹروے کی تعمیر

تحریر: ریاض شاہ

سی پیک کے علاوہ بھی نواز حکومت کو ہائی ویز اور موٹر ویز بنانے کا شوق رہا ہے۔ یہ خاصی رقم بھی انہی پر خرچ کرتے رہے ہیں۔ نواز شریف ۲۰۱۳ء کے الیکشن سے پہلے یہ کہتے رہے تھے کہ میری دوسری حکومت کا یہ پروجیکٹ تھا کہ کراچی اور حیدرآباد کے درمیان موٹروے بنائیں گے۔ لیکن بعد میں حکومت آئی تو سی پیک کے تحت لاہور سے کراچی موٹروے کا پروجیکٹ دیا ۔ اس پروجیکٹ کے تین حصے ہیں ، کراچی سے حیدرآباد، حیدرآباد سے سکھر، سکھر سے ملتان ۔ پھر ملتان کو لاہور سے کنکٹ کرکے اس موٹروے کو مکمل کیا جائے گا۔جب کراچی حیدرآباد سیکشن پر کام شروع ہوا تو اسے کافی ہائپ دی گئی دو سال قبل اور کافی پزیرائی ملی نواز شریف کو ، خاص کر سندھ کے لوگوں کو، کہ زرداری حکومت پانچ سال رہی مگر کوئی بڑا میگا پروجیکٹ سندھ کے لوگوں کی سفری سہولیات کے لیے نہیں دیا۔ بلکہ موجودہ ہائی ویز پر حادثات بڑھتے جا رہے تھے۔ ایسے میں نواز شریف نے جب یہ پروجیکٹ شروع کیا تو اسے سراہا گیا۔
کچھ روز قبل میرا کراچی سے حیدرآباد کا سفر کیا تو یہ ۷۵ کلومیٹر کا سفر کیا جس پیچ کا نواز شریف نے ۲ فروری کو افتتاح بھی کیا تو پتہ چلا کہ یہ موٹر وے نہیں ہے۔ گاڑی اس پر چلتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ پرانا ہائی وے ہے جس پر نئی روڈ بنائی گئی ہے۔ پرانے کو ریپئیر کیا نظر آتا ہے۔ گاڑی ناہموار چلتی ہے۔ بالکل اس طرح نہیں ہے جیسے لاہور اسلام آباد موٹروے ہے۔ یہ تو کراچی کے شارع فیصل سے بھی خراب صورت میں ہے۔ لیاری ایکسپریس وے بھی اس سے بہتر ہے۔ روڈ بھی چوڑا نہیں ہے۔دھول مٹی اُڑتی رہتی ہے۔ بیچ میں جو ڈیمارکیشن ہے وہ بھی خراب تعمیر کی گئی ہے۔ پہلے ٹول گاڑیوں کا ۳۰ روپے تھا اب ۱۳۰ روپے لیا جا رہا ہے۔ ٹرک اور ٹرالر کے ۸ سو روپے ٹول لیا جا رہا ہے۔
نواز شریف نے جب کراچی حیدرآباد موٹروے کا اعلان کیا تھا تو سب سے پہلے کانٹریکٹ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے اس کا ٹھیکہ ملیشیاء کی کمپنی کو دیا گیا۔ بعد میں یہ کہا گیا کہ ملیشیاء کی کمپنی پیچھے ہٹ گئی۔ پھر اس کمپنی نے کہا کہ ہم پیچھے نہیں ہٹے بلکہ اس ہائی وے کو تعمیر کرنے کے معاہدہ ہوا تھا اس میں موٹروے کی لینز کے لیے جو زمین درکار تھی وہ حکومت نے حاصل نہ کی کہ اس میں پیچیدگیاں تھیں۔ زمین کے حصول کے بعد ہی ملیشیاء کی کمپنی تعمیر کرتی۔ لیکن حکومت لوگوں سے زمین خریدنے کے لیے حکومت رقم لگانے کو تیار نہ تھی۔ یوں چھ ماہ گزر گئے اور مکمل زمین حاصل نہ ہو سکی۔اس کے بعد یہ ٹھیکہ بناء کسی ٹینڈر اور پروسس کے فرنٹرئیر ورکس آرگنائزیشن کو ۲۷ ارب روپے میں دے دیا گیا۔ کیونکہ یہ فوج کا ادارہ ہے اور جبکہ زمین خریدنے اور ماحولیاتی اداروں اور دیگر سے این او سی چائیے ہوتی ہے تو اس قسم کے متنازعہ ٹھیکوں میں جہاں کورٹ بھی جانا ہوتا ہے اور ججز وغیرہ بھی ایف ڈبلیو او سے ڈرتے ہیں اور ان کے خلاف حکم امتناعی بھی نہیں دیتے اور لوگوں سے زبردستی زمین بھی چھین لیتے ہیں۔ اسی لیے پیپلز پارٹی اور ن لیگ دونوں ہی ایف ڈبلیو او کو ایسے متنازعہ ٹھیکے دے دیتی ہیں۔ بہت سی چیزیں ایف ڈبلیو او وہ کر گزرتی ہے جو چھوٹا ٹھیکہ دار نہیں کر سکتا ۔ اسی لیے تمام قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسے کراچی حیدرآباد موٹروے کا بھی ٹھیکہ دے دیا گیا۔
اس پروجیکٹ کو پبلک پرائیوٹ پاٹنر شپ کے تحت بنایا گیا ہے۔یہ بلڈ آپریٹ ٹرانسفر یعنی تعمیر کرو، چلاؤ اور پھر حکومت کو دو کے تحت بنائی گئی۔ یہ ۲۵ سال کا ٹھیکہ ہے۔ ایف ڈبلیو او نے ۷۵ کلومیٹر میں ۱۶ ٹول پلاز ۱ بنائے جائیں گے اور سارا ٹول ٹیکس ایف ڈبلیو او کو جائے گا۔ ۲۵ سال بہت بڑا عرصہ ہے۔ اور پھر ایف ڈبلیو او نے ۲۵ ارب روپے صرف بھی نہیں کیے۔ عمومی طور پر کنٹریکٹ کمپنیاں انجنئیر بھی ہائر نہیں کرتیں اور تجربہ کار کاریگروں کو رکھ لیتے ہیں ۔ چھ لین کی سڑک یوں ہے کہ روڈ کو ویسا ہی رہنے دیاصرف لین تقسیم کاسفید رنگ کر دیا۔
حال ہی میں پیپلز پارٹی کی جانب سے اس موٹروے پر مخالفت ابھری ہے۔ وزیر ناصر شاہ نے کہا ہے کہ ہم اس روڈ کو اکھاڑ پھینکیں گے کہ یہ دھوکہ ہے موٹروے نہیں ہے۔ البتہ افتتاح کے وقت وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نواز شریف کے ساتھ موجود تھے۔ اس موٹروے کا فائدہ کسے ہو گا؟ کیونکہ سی پیک کے تحت موٹرویز بنیں گے تو کراچی کی کنکٹی ویٹی سی پیک سے کمزور ہو گا اور اندرونِ سندھ یوں سی پیک سے باہر رہے گا۔ کراچی تو گوادر سے پہلے ہی گوادر موٹر ویز سے لنک کیا جا چکا ہے۔ لاہور سے سکھر کو لنک کر دیا جائے گا۔ یوں بیچ سندھ سی پیک سے جڑ نہ پائے گا۔ ویسے بھی موٹر وے اس پر ٹرالر اور ٹرک کراچی سے نکلتے ہیں اور یہی سرمایہ داروں کی ضرورت بھی ہے۔ ان کے لیے پرانی ہائی وے بھی کافی تھی کہ یہ لوڈڈ ہوتے ہیں اس لیے یہ تیز اسپیڈ میں نہیں چل سکتے۔یوں سندھ میں ناقص موٹر وے کی تعمیر کا ایڈونچر ناکام ہو گیا ہے۔ ایف ڈبلیو او کو موٹروے بنانے کا ٹھیکہ پہلی بار دیا گیا۔ جبکہ لاہور اسلام آباد اور لاہور پشاور ہائی وے کوریا کی کمپنی نے تعمیر کیا تھا۔ یوں موٹر وے سندھ کی مڈل کلاس کے کاروباریوں کی ضرورت تھاجو کہ نہیں بنایا گیا۔ اسلام آباد لاہور اور لاہور پشاور اسی طرح کے کاروباریوں کے مصرف میں ہے۔
یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ مڈل کلاس اور کاروباریوں و تاجروں کی ضرورت جب ایک معاشی حد کراس کر جائے تو ان کے مطالبات کو سرمایہ داروں کی سیاسی پارٹیاں اہمیت دینے لگتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سندھ میں تاجر اور کاروباریوں کا معاشی وزن ابھی اتنا نہیں کہ یہ سیاسی وزن میں تبدیل ہو اور اسی سبب ان تین سالوں میں ن لیگ سندھ کے اندر اپنی جڑیں مضبوط کرنے میں بھی ناکام رہی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *