مظلوم کشمیریوں سے حقیقی عملی یکجہتی کیا ھے؟

 مظلوم کشمیریوں سے حقیقی عملی یکجہتی کیا ھے؟

تحریراحسان علی ایڈوکیٹ

کشمیریوں سے یکجھتی کے نام پر ھر سال 5 فروری کو ریاستی سطح پر حکمران اور اپوزیشن سمیت تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں جلسے جلوس ریلیاں کانفرسیں وغیرہ منعقد کرکے کشمیریوں سے ریاست پاکستان کی یکجہتی کا اظھار کیا جاتا ھے.مگر حریت پسند کشمیریوں پر اس مصنوعی اور دکھاوے کی یکجہتی کا کوئی مثبت اثر نہیں ھورھا ھے یہاں تک کہ عالمی رائے عامہ پر بھی اس exercise کا کوئی اثر نہیں ھوتا. صاف ظاھر ھے پاکستان کاکشمیر کی آزادی کے حوالے سے جو نقطہ نظر ھے وہ خالصتا” منافقت اور توسیع پسندی پرمبنی ھے پاکستان کی کشمیر سے متعلق موقف میں کھلا تضادھے ایک طرف وہ کشمیریوں کی حق خودارادیت کی حمایت کرتا ھے مگر دوسرے سانس میں تنازعہ کشمیر کوتقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا قرار دیکر مذہبی بنیاد پرکشمیر کو اپنا شہ رگ قرار دیتا ھے اور اسی سوچ کی بنیاد پرآزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو براہ راست اپنے آھنی شکنجے میں جکڑ کے رکھا ھوا ھے.ایک طرف ھندوستان پرuno کی قراردادوں کی خلاف ورزی کا الزام لگاتا ھے اس میں کوئی شک نھیں کہ ھندوستانی سرمایہ دار ریاست نے کشمیر کو اپنا کالونی بنا کر رکھا ھوا ھے اور کشمیر کی آزادی کی تحریک کو ننگی طاقت سے کچلنے کیلیے 7 لاکھ فوج کشمیریوں پر مسلط کیا ھوا ھے اور انگنت معصوم کشمیریوں کی خون سے ھندوستانی حکمرانوں کے ھاتھ رنگے ھوئے ھیں مگر دوسری طرف خود پاکستانی حکمران بھی شروع دن سے uno کی کشمیر سے متعلق قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کررھا ھے 13 اگست 1948 کی uncip کی قرارد کے مطابق تا حتمی تصفیہ کشمیر دوبوں آزاد شدہ خطوں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں uno کی نگرانی میں داخلی طور پر مکمل مقامی عوام کی خودمختار حکومتیں قائم کرنے میں مدد دینا تھا اور ان دونوں آزاد شدہ خطوں کی دفاعی ضروریات کیلیے مقامی حکومتوں کی کمانڈ میں فوج فراھم کرنا تھا مگر اس قرار دار کی صریحا” خلاف ورزی کرتے ھوئے مقامی خود مختار حکومتوں کی جگہ براہ راست اپنے کنٹرول میں لے کر ان کو اپنی کالونی کی شکل دے دی خاص کر گلگت بلتستان کو آج 70 سال بعد بھی اسلام آباد کی افسرشاھی کی طرف سے مسلط کردہ انتظامی حکم گورننس آرڈر 2009 کے تحت ایک مکمل نوآبادی کی طرح رکھا ھوا ھے بنیادی انسانی جمہوری آئنی حقوق سے یہاں کے عوام محروم ھیں برطانوی سامراج کی غلامی میں ھندوستانی غلاموں کی طرح آج کے گلگت بلتستان کے عوام پاکستانی حکمرانوں کی وجہ سے حقوق سے محروم ہیں۔ یہ دوھری پالیسی کشمیری عوام کے ساتھ عالمی رائے عامہ کے سامنے کھلی کتاب کی طرح ھے اس لیے اب وقت آگیا ھے کہ پاکستان اپنی اس دوغلی پالیسی کو تبدیل کرے اور کشمیریوں سے حقیقی یکجھتی کا اظھار کرنے کیلیے uncip کی قرار دادوں پر عمل درآمد کرتے ھوئے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے اپنی فوج اور سویلینز واپس بلوا لیں اور گلگت بلتستان سے اپنا گورننس آرڈر 2009 اور دیگر کالے قوانیں ختم کرکے یہاں کے عوام کو uno کی نگرانی میں مکمل داخلی خودمختاری دینے میں مداخلت نہ کرے اسی طرح آزاد کشمیر کو بھی ریموٹ سے چلانے کی پالیسی ختم کرے یھی کشمیریوں سے حقیقی یکجہتی ھو گی.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *