تھرکول فیلڈپروجیکٹ ترقی یاتباہی کامنصوبہ؟

تھرکول فیلڈپروجیکٹ ترقی یاتباہی کامنصوبہ؟

رپورٹ: رشید آزاد، عامر حسینی

کوئلے سے بجلی پیدا کرنے سے پھیلنے والی آلودگی کے سبب دنیا کے کئی بڑے ترقی یافتہ ملکوں نے 2030ء تک اپنے سارے کول پاور پلانٹس بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ان ملکوں میں برطانیہ ، فرانس ، فن لینڈ ،ہالینڈ ، آسٹریا ،جرمنی شامل ہیں۔جبکہ برطانیہ میں آخری کول پاور پلانٹ 2025ء میں ختم ہوجائے گا۔جبکہ چین پہ دباؤ میں اضافہ ہورہا ہے اور چین نے اقوام متحدہ کے سامنے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ بھی کول پاور پلانٹس کو متبادل انرجی فراہم کرنے والی مشینری سے بدل دے گا۔

جب دنیا بھر میں فوسل فیول فیز آؤٹ کے نام سے آلودگی پھیلانے والے ایندھن سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کے خلاف منظم مہم چل رہی ہے اور خود چین میں بھی اس حوالے سے زبردست ردعمل پیدا ہورہا ہے تو پاکستان میں تھر کے اندر ان منصوبوں کا بنایا جانا یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ ریاست اور سرمایہ دارانہ طبقات کی جانب سے ترقی کا جو ماڈل پیش کیا جارہا ہے اس میں ماحول کی تباہی اور مقامی آبادی کی بے دخلی اور ایک گندی ماحول دشمن ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانا اس لئے ضروری ہے کہ اس سے سرمایہ دار کم پیسہ لگاکر زیادہ منافع کما لیتے ہیں جبکہ ریاست میں حکومتی اہلکاروں ، بابو شاہی کو مراعات اور پیسے دیکر اپنے حق میں کرلیا جاتا ہے۔اس منصوبے میں بھی یہی ہتھکنڈے بروئے کار لائے جارہے ہیں۔منصوبہ تھر کے گاؤں اور گوٹھوں کی ہندؤ آبادی کے لئے انتہائی تباہ کن ہے گوڑانو گوٹھ سمیت جو گوٹھ بلاک 2 کے آپریٹ کئے جانے سے متاثر ہورہے ہیں ان میں 90 فیصد سے زائد ہندؤ آبادی ہے جن میں 99 فیصدی آبادی کا تعلق دلت ہندؤ زاتوں سے ہے اور اس میں 10 فیصدی آبادی مسلم بھی ہے جو آپ بھی انتہائی غربت کا شکار ہے۔یہ ساری آبادی بے دخل ہوگی اور ان کا مقدر بڑے شہروں میں دیہاڑی دار مزدوری کرنے اور اربن سنٹرز کے سلم ایریاز کا باسی بن جانے کے سوا کچھ اور نہیں ہوگا۔اور 12 بلاک اگر آپریٹ ہوئے تو تھر پارکر ضلع کو ہندؤ آبادی کی بڑی تعداد کی بے دخلی اور کئی گوٹھوں کے مٹ جانے کی صورت میں برداشت کرنا پڑے گا اور اس سے پورے تھر کی تہذیب ، ثقافت پہ تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔تھرپارکر ڈسٹرکٹ پہلے ہی علاقے میں سوشل ورک کی آڑ میں جماعت دعوہ، سپاہ صحابہ پاکستان جیسی جہادی و فرقہ پرست تنظیموں کی سرگرمیوں کا گڑھ بنا ہوا ہے اور یہاں پہ دھونس اور لالچ کے زریعے سے ہندؤں کو تبدیلی مذہب کی طرف مائل کیا جارہا ہے۔سعودی فنڈڈ مدرسوں کی تعداد بھی ضلع تھرپارکر،ضلع عمر کوٹ میں تیزی سے بڑھتی جارہی ہے اور یہاں کی نہ صرف ہندؤ آبادی کو زبردست مشکلات کا سامنا ہے بلکہ اس سے مقامی مسلم آبادی پہ بھی سعودی سٹائل مذہبیت کو اپنانے پہ مجبور کیا جارہا ہے اور ایسے میں تھر کول پاور فیلڈ میں شروع ہونے والے یہ کالونیل سٹائل ترقیاتی پروجیکٹ تھر میں اور غربت ، پسماندگی ، بدحالی کو لیکر آرہے ہیں اور اس سے پھیلنے والی غربت سے پہلے سے مضبوط یہاں جہادی و فرقہ پرست نیٹ ورکوں کو اور مضبوط بنائے گا۔نیولبرل ازم ، فرقہ واریت اور سرمایہ دارانہ ترقی مل کر غریبوں پہ اپنا ستم ڈھانے کو تیار ہیں۔

کیا کیا جائے ؟

پاکستان کی سول سوسائٹی ، صحافیوں ، انسانی حقوق کے کارکنوں ، سیاسی ورکرز ، دانشوروں اور لکھاریوں کو فوری طور “تھربچاؤ تحریک” شروع کرنے کی ضرورت ہے جوکہ نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پہ اس حوالے سے رائے عامہ کو بیدار کریں۔ہمیں ترقی کے نام پہ کالونائزیشن ، چینی مداخلت کاری اور سی پیک کی تباہ کاریوں کے خلاف ایک بڑے پیمانے پہ تحریک منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں ترقی کے نام بیوقوف بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔اور کبھی قومی سلامتی کے نام پر ، کبھی قومی مفاد کے نام پہ ، کبھی سامراجی سازشوں کے نام پہ اور کبھی ہندوستان ، امریکہ اور کبھی ایران کے نام سے کنفیوز کرکے بڑے پیمانے پہ بے دخلیوں ، لوگوں کو بے گھر کئے جانے، جبری گمشدہ بنائے جانے، کمزور نسلی اور مذہبی فرقوں کی نسل کشی ، ان کے مذہبی احتساب اور عورتوں پہ جاری ظلم اور اقوام پہ کئے جانے والے جبر اور ظلم پہ خاموش رہنے کو کہا جاتا ہے۔اب بھی تھر کے اندر اس وقت گوڑانو گوٹھ سمیت بارہ گوٹھوں کے ساتھ جو کھیلواڑ ہورہا ہے اسے ترقی کے نام پہ اور قومی مفاد کے نام پہ جاری رہنے دئے جانے کی بات ہورہی ہے۔وہاں پہ بے دخلی اور اپنی آبائی زمینوں اور سب سے بڑھ کر اپنی دھرتی کی تباہی پہ آواز اٹھانے والی ہندؤ آبادی سے تھانہ اسلام کوٹ میں ایک حلفیہ بیان لیا گیا ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے پاکستانی ہونے، تھر کا رہائشی ہونے کا ثبوت دیں اور انڈیا کے ایجنٹ نہ ہونے کی نفی کریں۔لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اور بعض کو لالچ دیکر خاموش کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔خفیہ ایجنسیاں ، پولیس ، رینجررز اور یہاں تک کہ اپنی جہادی اور فرقہ پرست پراکسیز کو بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ہمیں اس ساری صورت حال پہ اربن سنٹرز پہ بیٹھے لوگوں کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے طالب علموں،سیاسی کارکنوں، انسانی حقوق کے ورکرز، ادیبوں ، صحافیوں ، وکلاء4 سمیت معاشرے پہ اثر انداز ہونے والے طبقات کو متحرک اور باخبر کرنے کی اشد ضرورت ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *